جرمنی میں ستارہ داؤد جلانا آزادی رائے نہیں

جرمنی کھلے پن اور باہمی برداشت والا ملک ہے۔ جو کوئی جرمنی میں رہنا چاہتا ہے، اسے ان متفقہ ملکی اقدار کا احترام بھی کرنا ہو گا، جن میں سامیت دشمنی کے خلاف جنگ بھی شامل ہے۔ ڈی ڈبلیو کی چیف ایڈیٹر اِینس پوہل کا لکھا تبصرہ

جرمنی میں عوام کے مظاہرہ کرنے کے حق کو بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے۔ اس حق کو بہت سخت شرائط کے تحت ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے جرمن جمہوریت کو اس وقت بھی بہت زیادہ صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، جب سڑکوں پر ایسے نعرے لگائے جاتے ہیں، جو اپنی اصل میں غیر جمہوری ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ غیر خوش کن نعرہ: ’’غیر ملکیو! یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘۔

جرمنی نے نازی آمریت کے دور سے یہ تکلیف دہ سبق سیکھا ہے کہ جب ریاست اپنے ناقدین کے منہ بند کر دے اور عوام کو سڑکوں پر احتجاج کی اجازت بھی نہ دی جائے تواس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اسی لیے یہ بات بغیر کہے ہوئے خود بخود یقینی سمجھی جاتی ہے کہ مثال کے طور پر میرکل حکومت کے ناقدین کو بھی احتجاج کا حق حاصل ہے اور جرمنی میں ان فلسطینیوں کو بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے اپنے غصے کے اظہار کا حق حاصل ہے، جو اس فیصلے پر ناراض ہیں کہ واشنگٹن اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جرمن تاریخ جرمنوں کو اس بات کی پابند نہیں بناتی کہ وہ لامحدود طور پر ہر بات اور ہر کام کی اجازت دینے لگیں۔ معاملہ دراصل اس کے برعکس ہے۔ جرمنی ماضی میں کم از کم بھی چھ ملین یہودیوں کے قتل کا ذمے دار رہا ہے۔ نازی دور میں یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ کو چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے، سامیت دشمنی کے خلاف جنگ میں جرمنی کو ہمیشہ ہی اپنا خصوصی کردار ادا کرتے رہنا ہو گا۔ وہ ملک جہاں ماضی میں ایسے جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہو، منہ موڑ کر دوسری طرف تو دیکھ ہی نہیں سکتا، کہیں بھی نہیں اور خود اپنی ریاستی حدود کے اندر تو بالکل ہی نہیں۔

اسی پس منظر میں جرمنی میں یہ بات کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ اس ملک میں اسرائیل کا وہ قومی پرچم جلایا جائے، جس پر ستارہٴ داؤد بنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جو جرمن معاشرے میں اپنے لیے تحفظ کے خواہش مند ہیں، جو اپنے لیے نئے وطن کی تلاش میں اس ملک میں آئے ہیں، انہیں بھی اس بات کا پابند ہونا پڑے گا۔ بات جرمن معاشرے میں اجتماعی اقدار کے اس بنیادی ستون کی ہے، جس پر کوئی بحث یا لے دے نہیں ہو سکتی۔

جرمنی میں آپ حکومتوں کی پالیسیوں پر سخت سے سخت تنقید کرسکتے ہیں مگر کسی ملک کے پرچم نہیں جلا سکتے۔ دوسرے معاشروں میں یہ معمول کی بات ہو سکتی ہے کہ اپنے مخالف یا مخالفین کو بے عزت کرنے کے لیے پرچم جلائے جائیں۔ لیکن جرمن آئین میں دوسروں کی عزت اور اقلیتوں کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔

 تعزیری طور پر اگر اس بات کو بہت لازمی نہ بھی سمجھا جائے، تو بھی یہ بات قطعی قابل قبول نہیں کہ جرمنی میں ترکی، روس، امریکا یا سعودی عرب کے پرچم جلائے جائیں، اس حقیقت سے قطع نظر کہ کوئی فرد یا گروپ کسی ملک کی حکومت پر کتنی شدید سے تنقید کرتا ہے۔

ایک ایسا ملک جہاں بہت بڑی تعداد میں تارکین وطن بھی رہتے ہیں، وہاں مل جل کر پرامن انداز میں رہنے کے عمل کا مستقبل صرف اسی صورت ممکن ہے کہ جرمنی کی مخصوص تاریخ سے حاصل کیے جانے والے سبق کبھی بھولے نہ جائیں۔ یہ سوچ اور رویہ ایک میراث ہے، جس کا اگر کوئی خود کو پابند نہیں بناتا، تو اس کے لیے جرمن معاشرے میں کوئی مستقبل ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر کوئی لے دے ممکن ہی نہیں ہے۔

DW/News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *