ملکہ کے عریاں شو کا مقصد کیا ہے؟

قدامت پسند انڈین معاشرے میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کوئی خاتون سٹیج پر عریاں ہو کر فن کا مظاہرہ کرے، لیکن ملکہ تنیجا ایسا ہی کر رہی ہیں۔

ملکہ نے بی بی سی کی عائشہ پریرا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پرفارمنس کا مقصد خواتین کے مساوی حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔پہلی بار جب میں نے کسی عوامی جگہ پر عریاں ہو کر پرفارم کیا تو بہت مزا آیا۔

تھوڑا دھیان سےنامی اس شو کا مقصد لوگوں کو یہ سوچنے پر مائل کرنا ہے کہ عورت کے لباس اور اس کے خلاف جنسی تشدد میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

ملکہ کہتی ہیں: ‘کسی گروہ کو منتشر کرنے کے لیے کیا چاہیے؟ صرف ایک مخالف شخص۔ اگر کوئی ہجوم ایک سمت میں بھاگ رہا ہے تو صرف ایک شخص مخالف سمت میں دوڑ کر رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

چار برس سے جاری اس شو کے ابتدائی حصے میں وہ پورے آٹھ منٹ تک عریاں ہو کھڑی رہتی ہیں اور اس دوران ہال میں مکمل خاموشی چھائی رہتی ہے۔

ملکہ کہتی ہیں کہ وہ لوگوں کو خود کو دیکھتے ہوئے دیکھتی رہتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ وہ ہجوم کے درمیان اکیلی ہونے کے باوجود سب سے طاقتور ہیں، اور سب سے کمزور بھی۔

ہمارے جسموں میں کیا چیز ہے جو لوگوں کو اس قدر خوفزدہ کر دیتی ہے؟ کیوں اسے ہمیشہ چھپایا جائے اور اس پر پابندیاں عائد کی جائیں؟

اس دوران تماشائیوں کو کیمرے اور موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسی لیے چار سال میں ان کی ایک بھی عریاں تصویر آن لائن شائع نہیں ہوئی۔

شو کے درمیان آگے چل کر ملکہ ایک ایک کر کے کپڑے پہنتی رہتی ہیں۔ ایک موقعے پر وہ ہیلمٹ بھی پہنتی ہیں، اور ہر بار تماشائیوں کو بتاتی رہتی ہیں کہ مزید احتیاط سے کام لو۔

وہ کہتی ہیں: ‘مزید احتیاط سے کام لو، ایسا فقرہ ہے جو جنسی تشدد کی شکار عورتوں کو اکثر کہا جاتا ہے۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ رات کو اس جگہ کیا کر رہی تھیں؟ انھوں نے اس قسم کا لباس کیوں پہن رکھا تھا؟ ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری انھی پر ہو گی، اس لیے مزید احتیاط سے کام لو۔

ملکہ اسی رویے کو بدلنے کے لیے اپنے جسم کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔

عورتوں کو اس کی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے، لیکن بہت سے مردوں نے بھی کہا ہے کہ شو دیکھنے کے بعد ان کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے مرد ہونے سے گھن آنے لگتی ہے۔ لیکن میرا مقصد انھیں گھن دلانا نہیں، بلکہ مکالمہ شروع کروانا ہے۔

سنہ2012 میں دہلی میں ہونے والے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد انڈیا میں لاکھوں عورتوں نے اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے قوانین میں تبدیلی کر کے انھیں سخت تر بنا دیا ہے۔

BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *