مشرف نے میری والدہ کو قتل کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار ذاتی طور پر سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سمجھتے ہیں جنھوں نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی والدہ کو قتل کروایا۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی دسویں برسی کے موقع پر ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیا جس میں انھوں نے اپنی والدہ کے قتل میں ملوث افراد کے بارے میں پہلی بار تفصیل سے اظہار خیال کیا۔

اوئن بینٹ جونز سے خصوصی گفتگو میں انھوں نے کہا کہ وہ اس نوجوان لڑکے کو بینظیر کے قتل کا ذمہ دار نہیں سمجھتے جس نے 27 دسمبر سنہ 2007 کی شام راولپنڈی میں ان کی والدہ پر حملہ کیا تھا۔

مشرف نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میری والدہ کو قتل کروایا۔ اس دہشت گرد نے شاید گولی چلائی ہو، لیکن مشرف نے میری والدہ کی سکیورٹی کو جان بوجھ کر ہٹایا تاکہ انھیں منظر سے ہٹایا جا سکے۔

بلاول بھٹو کے مطابق پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو براہِ راست دھمکی دی اور کہا کہ ان کے تحفظ کی ضمانت ان (مشرف) کے ساتھ تعاون پر منحصر ہے۔

اس کے بعد، بلاول کے مطابق حملے والے روز پرویز مشرف نے بینظیر کی سکیورٹی ہٹا دی۔ حملے کے دن ان کے گرد جو سکیورٹی حصار ہوتا تھا اسے بھی ہٹا دیا گیا۔ جیسا کہ میں نے کہا، میں اس طرح کے اتفاقات پر یقین نہیں رکھتا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ بہت سے پاکستانی آپ کے والد کو بینظیر بھٹو کا قاتل سمجھتے ہیں، تو بلاول نے کہا کہ یہ مظلوم کو ظالم قرار دینے کے مترادف ہے۔

میری والدہ کے قتل کے معاملے میں حقائق کو چھپایا جا رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے ایک خاص طرح کا تاثر پیدا کیا جا رہا، مشرف کو بچانے کے لیے۔

بلاول کے مطابق حقائق یہ ہیں کہ مشرف نے میری والدہ کو قتل کیا۔

پاکستان کے نظام میں کس کی مدد سے پرویز مشرف نے ایسا کیا؟ اس سوال پر بلاول کا کہنا تھا کہ انھیں ٹھیک سے یہ نہیں معلوم کہ اس قتل میں ان کی مدد کس نے کی۔

میں انھیں ذاتی طور پر اس قتل کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ میرے پاس یہ تفصیل نہیں ہے کہ اس نے کسی کو فون پر اس کی ہدایت دی یا کسی میٹنگ میں کسی کو خفیہ کوڈز کے ذریعے پیغام دیا کہ ان کا بندوبست کر دو اس لیے میں لوگوں یا اداروں پر خواہ مخواہ الزام تراشی نہیں کروں گا۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے ملوث افراد کو بری کرنے کے فیصلے پر عدالت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

عدالت نے اس قتل پر ہونے والی اقوام متحدہ کی تفتیش کو نظر انداز کیا، عدالت نے حکومت کی تفتیش کو نظر انداز کیا، اس نے فون کالز کی ریکارڈنگ کو نظر انداز کیا، ڈی این اے سے ملنے والی شہادتوں کو نظر انداز کیا۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس فیصلے نے انصاف کا مذاق بنا کر رکھ دیا۔

بلاول نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ مشرف کو بچانے کے لیے ان لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا کر سزائیں دی جائیں گی جنھوں نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔

انھوں نے دہشت گردوں کو کلین چٹ دے دی۔ پھر انھوں نے ان پولیس والوں کو سزا دی جنھوں نے کرائم سین کو دھو دیا تھا لیکن ساتھ ہی ان کی ضمانت منظور کر لی اور اب وہ واپس اپنی ڈیوٹی پر آ چکے ہیں۔

مشرف، جسے غیر حاضری میں سزا دی جانی چاہیے تھی کیونکہ ان کے وکیل ان کی نمائندگی اس مقدمے میں کر رہے تھے، انھیں سزا دینے کے بجائے عدالت نے مفرور قرار دیا اور کہا کہ ان پر مقدمہ اس وقت چلے گا جب وہ (پرویز مشرف) ملک میں آنا مناسب سمجھیں گے۔ یہ انصاف کی توہین اور اس کا مذاق بنانے کے مترادف اور شرمناک ہے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ لوگ جو آپ کی والدہ کے قتل میں ملوث تھے کبھی ان کا احتساب ہو گا؟

انھوں نے کہا: ‘اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ احتساب سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستانی ریاست میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ایک فوجی آمر کا قانون کے مطابق احتساب کر سکے۔

اپنی والدہ سابق وزیراعظم کی میراث کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عورتوں کو جو آزادی حاصل ہے وہ بینظیر کی میراث ہے۔

انھوں نے وہ زنجیریں توڑیں جنھوں نے پاکستانی خواتین کو جکڑ رکھا تھا۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں نے جو مقام آج حاصل کر رکھا ہے، جو آزادی انھیں ملی ہوئی ہے، وہ بینظیر بھٹو کی میراث ہے۔

کیا آپ اپنی والدہ کی میراث پر عمل کر پائیں گے؟ اس سوال پر بلاول تھوڑے سے ہچکچاتے ہوئے بولے۔

اوہ۔۔۔۔ یہ بہت مشکل ہے، اپنی والدہ کی میراث پر عمل کرنا۔ میں پوری کوشش کروں گا۔ میں اپنی زندگی کے ہر دن ان مقاصد کے حصول لیے کام کروں گا جو میری والدہ نے طے کیے تھے۔ پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے کام کروں گا، یہاں مساوات پر مبنی ترقی پسند معاشرہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کروں گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی والدہ ان کے لیے سیاست میں آنے کے بارے میں بہت زیادہ بات نہیں کرتی تھیں۔

میرا سیاسی کردار ان کے ساتھ بحث یا بات چیت کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ اس وقت میری عمر اٹھارہ انیس سال تھی تو ہماری ساری توجہ یونیورسٹی میں میرے داخلے پر تھی۔ مجھے آکسفورڈ میں داخلہ ملنے پر وہ بہت خوش تھیں۔ آکسفورڈ کے بعد مجھے اعلیٰ تعلیم کے لیے کہیں اور جانا تھا، پھر مجھے نوکری کرنی تھی، پھر شادی اور خاندان سنبھالنا تھا۔ اور اس سب کے بعد اگر میری خواہش ہوتی تو مجھے پاکستانی سیاست میں آنا تھا۔ یہ بہت، بہت، بہت دور کی بات تھی۔

BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *