پاکستان: مُلا مافیا سرکشی کی تاریخ 


یوسف صدیقی

عرب شیخوں کی طرف سے ملنے والے چندے نے ہمارے ملاؤں کو بہت زیادہ وحشی اور خونخوار بنا دیا ہے ۔پاکستان میں مُلا ازم کے ابھار نے سماج کی ذہنی طور پر پسماندہ پرتوں میں جناح کے پاکستان کو نگل جانے کا داعیہ پیدا کیا ہے ۔بیرونی سرمائے سے مستفید ہونے والے مُلا موجودہ وحشی زمانے سے قبل دیہاتوں میں ’’پرامن ‘‘ زندگی گزارتے تھے ۔ماضی میں مُلا دیہاتوں کی سماجی و معاشی زندگی میں لوہار اور حجام وغیرہ کی طرح ایک معمول کا حصہ تھا ۔ اور محنت کی سماجی تقسیم کے تحت ان کا کردار صرف شادی بیاہ ،فوتگی اور دوسرے مواقع پر رسومات کی ادائیگی کر انا ہوتا تھا ۔

ان میں سے کچھ مُلا خود بھی کاشتکار تھے ۔اُس وقت ان میں سے کچھ انتہائی شریف نفس اور اچھے رویوں کے حامل ہو ا کر تے تھے ۔یہ صورتحال کم و بیش ضیا ء الحق کے ابتدائی زمانہ اقتدار تک برقرار رہی ۔ضیاء الحق کی انتہاپسندانہ سوچ نے ملاؤں کو انتہائی عروج بخشا ۔اور ان کو وسائل اور عسکری قوت سے مالا مال کر دیا ۔ بھٹو صاحب نے پاکستان کے بڑی صنعتوں کو قومیا لیا تھا جبکہ ضیاء الحق نے اقتدار میں آ کر سرمایہ داروں کو تمام اثاثے واپس کردیے ۔اسی وقت جاگیر دار اشرافیہ نے اپنی رقم بینکوں میں رَہن رکھ کر صنعتی کارخانوں میں سرمایہ لگانا شروع کر دیا ۔

ان جاگیرداروں نے بھی اپنے سیاہ اعمال کو جائز اور سفید ثابت کر نے کے لیے ملاؤں کو سرمائے سے خوب نوازا جس کی وجہ سے اب یہ مُلا بہت زیادہ دولت مند ہو چکا ہے اور اس کے بود و باش میں بھی تبدیلی آ چکی ہے ۔جنرل ضیا الحق نے ملاؤں کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔وہ یہ بات جان چکا تھا کہ اس نے بائیں بازو کے ایک لیڈر سے اقتدار چھینا ہے اور اسے لیے اب وہ انتہائی دائیں بازو اور ملاؤں کی حمایت سے ہی سیکولر اور ترقی پسند حلقوں کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔

اس سلسلے میں جنرل ضیا ء الحق نے ریاستی و حکومتی بالاتری اور بالا دستی کو یقینی بنانے کے لیے ’’فاشٹ جماعت اسلامی ‘ ‘ کا نتخاب کیا ۔جماعت اسلامی ضیائی آمریت سے پہلے بھی اپنی بہادری کے جو ہر دکھا چکی تھی ،جماعت اسلامی کی دو تنظیموں ’البدر اور الشمس ‘ نے بنگلہ دیش میں ایک عسکری جارح قوت کا کر دار ادا کیا تھا ۔اس وقت جماعت اسلامی کی وحشت ، دہشت اور بربریت کے سامنے ہٹلر اور جوزف سٹالن کے جرائم اور سختیاں کچھ نہ تھیں۔خورشید احمد ندیم پاکستانی مذہبی دانشور ہیں ۔ان کے بقول لوگ میاں طفیل محمد آرائیں کو ضیا الحق کا ماموں کہتے تھے ۔اور طفیل اس کا برا نہیں منانا تھا کیونکہ یہ دونوں ’’جالندھر ‘‘ سے تعلق رکھتے تھے ۔

طفیل کے ضیاء سے اس ’برادرانہ ‘ تعلقات نے جماعت اسلامی کو فوج کے مزید قریب کر دیا ، اور جماعت اسلامی نے ضیاء شوریً میں اسلم سلیمی ،رحمت الہی محمود اعظم فاروقی اور پروفیسر خورشید احمد کی شکل میں چار دانشور بھیج دیے ۔یہ چار ’’دانشور ‘‘ ضیاء کی حکومتی نمائش میں جماعت اسلامی کی مصنوعات کے اعلانیہ اور فخریہ طور پر بھیجے گئے ’’ایٹم ‘‘تھے ۔جبکہ خفیہ طور پر لاتعداد جماعتیوں کو صلواۃ کمیٹیوں میں کھپایا گیا تھا۔اسی دور میں افغان جہاد شروع ہو گیا ،’ثور انقلاب ‘ کو تباہ کر نے کے لیے جماعت نے امریکیوں سے فنڈز وصول کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو جنگ کا ایندھن بھی بنایا ۔ان دنوں پختون افغانستان کے پہاڑوں میڈں جامِ شہادت نوش کر رہے تھے اور جماعت والے اپنی تجوریاں بھر رہے تھے ۔

اس کے بعد کے صورتحال میں ملاؤں کا کردار اوربھی وحشی ہو تا گیا ۔ ضیا الحق کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام پاکستانی ریاست کی طرف سے ملاؤں کو وسائل ا اور اقتدار سے مالا مال کر نے کی پہلی گہری اور سنجیدہ کوشش تھی ۔اس سیاسی اتحاد کے ذریعے پہلی بار مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں پر ’’نواز شریف ‘‘ کی شخصیت پر جماعتیوں نے خطبے دیے اور نواز کی شان بیان کی ۔اس کے ساتھ ساتھ ملاؤں نے بھی حکومتی ایوانوں میں اپتا اثر و رسوخ بڑھایا ۔ انتخابات میں نواز شریف کا مذہبی انتہا پسند ملاؤں کی حمایت حاصل کر نا اس بات کا مظہر تھا کہ سماج میں جبری طور پر ثقافتی تغیر برپا کیا جا رہا ہے۔

انہی دنوں حق نواز جھنگوی نے شیعہ کو کافر قرار دے کر پاکستان کو ’’سنی اسٹیٹ‘‘ بنانے کے عزم کا اعلان کیا ۔حق نواز کی سرکشی جاری رہی ۔ مذہبی جماعتوں نے ا فغانستان پر امریکہ کے حملے کو’’اسلام اور مجاہدین ‘‘ پر حملہ قرار دیتے ہوئے الیکشن مہم میں عوام کو خوب بے وقوف بنابا ۔بے نظیر اور نواز شریف کے پاکستان میں نہ ہونے کی وجہ سے ایم ایم اے نے تقریباََ آدھا الیکشن جیت لیا ۔مولوی فضل الرحمن قائد حزب اختلاف بن گیا ۔ ایم ایم اے نے سرکاری وسائل اور سرمائے کو دہشت گردوں کے سامنے طشتری میں سجا کر رکھ دیا ۔اُن دنوں قاضی حسین احمد کے گل بدین حکمت یار خان سے مکمل رابطے تھے ۔افغانستان میں ہونے والی گوریلا کاروائیوں پہ قاضی حسین احمد مکمل با خبر ہو ا کر تا تھا ۔ایم ایم اے نے خیبر ختونخواہ کی ثقافت ،تعلیم اور تہذیب و تمدن کا جنازہ نکال دیا ،قرونِ وسطی کی تہذیب و تمدن کو نافذ کر نے کے لیے ’حسبہ بل ‘ تیار کیا ،جس کے نفاذ کو رو کنے کے لیے مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ جانا پڑا ۔

دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں قاضی حسین احمد نے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور فصل الرحمن نے اس کی مخالفت کی یوں یہ ملاں ملٹری اتحاد اپنی موت آپ مر گیا ۔دوہزار دس کے بعد مذہبی جماعتوں کے دوسرے درجے کے قائدین کو ’’دورِ اقتدار ‘‘ کی یادوں نے ستایا تو یہ لوگ پھر اس اتحاد کو ’’بحال ‘‘ کر نے پر تل گئے ۔چوں کہ مذہبی قائدین اب پہلے سے زیادہ ’’ود سر اورسرکش ‘‘ ہو گئے ہیں اس لیے کبھی مفادات کی تقسیم اور کبھی سیٹوں کی تقسیم پر جھگڑا شروع ہو جاتا ۔

لیکن اب بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر اس مردہ گھوڑے میں دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ لیکن اس اتحاد کے زندہ ہونے کے امکان اب کم ہی ہیں ۔پاکستان میں مُلا مافیا ،سیاسی اسلام کے علمبرداروں اور جماعتی دانشوروں نے بہت زیادہ من مانی کی ہے ، اور دین اسلام کی ذاتی تشریح کے گل کھلائے ہیں ۔ میں انتہائی دیانتداری سے یہ رائے قائم کررہا ہوں کہ اگر اس ملک کی وحدت،سا لمیت اور قومی یکجہتی اور قائم رکھانا ہے تو ہمیں سب سے پہلے مذہب اسلام کی غلط تشریح،سیاسی استعمال اور ذاتی مفادات کے لیے تختہ مشق بنانے سے روکنا ہو گا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مذہبی جماعتوں پر پابندی لگا دی جائے ۔ اور سیاست اور مذہب کو علیحدہ کیا جائے۔

One Comment

  1. ملا کے نام ایک درخواست
    بہت اُکتا چُکا ہے آج کا انسان مُلابس…..ابھی نکلا نہیں،دل کا ترے ارمان مُلا بس
    بہت کی خدمتِ اسلام مُلا اب تو بس کر دے….بُھلا سکتا نہیں اسلام یہ احسان مُلا بس
    ہمارے منہ نہ کھلوا بس ہمیں خاموش رہنے دے….بہت دیکھی ہے تیری پاکیِ دامان مُلا بس
    نئی نسلوں کو تو نے دین سے بے زار کر ڈالا…..وہ اب سنتے نہیں ہیں من گھڑت فرمان مُلا بس
    کما کر دیکھ محنت سے کبھی رزقِ حلال اپنا…….بڑھا دے کفر کے فتوں کی یہ دُکان مُلا بس
    بشر کے فائدے کے واسطے وہ کچھ تو کرتے ہیں…..بہت بہتر ہیں تجھ سے موچی و ترکھان مُلا بس
    حکومت کی چمک پا کر تری چندھیا گئیں آنکھیں……ہر اک فرعون کا ساتھی ہے تو ہامان مُلا بس
    وطن کو لے نہ ڈوبے یہ ترا چسکہ سیاست کا………تجھے کافی نہیں تھا دین کا میدان مُلا بس
    (ارشاد عرشی ملک)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *