پاکستان میں ہجومی قتل کو رُوکنے کی ضرورت

یوسف صدیقی

’’ہجومی قتل‘‘ ایک ایسی بے رحمانہ اور بربریت خیز اصطلاح ہے ،جس کا خیال آتے ہی ہر باشعور انسان پر ’’سکتہ ‘‘ طاری ہوجاتا ہے ۔ہجومی قتل کی اپنی ایک مخصوص تاریخ اَور پسِ منظر ہونے کے باوجود اِس اِنتہائی اِقدام کو کبھی بھی شرفِ قبولیت نہیں بخشا گیا ۔برصغیر میں ہجومی قتل کے واقعات کا آغاز ’برطانوی ہند ‘ کے زمانے سے ہوتا ہے ۔برطانوی ہند کے زَمانے میں مذہبی بنیادوں پر کئی افراد کو مختلف جگہوں اَور موقعوں پر مشتعل ہجوم نے انتہائی بے رحمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا ۔

قیامِ پاکستان کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ ’نئی مملکت‘ میں مذہبی رواداری اور مساوات کا پرچار ہو گا ۔لیکن بدقسمتی سے انتہائی دائیں بازو اَو ر ’ملاؤں ‘ کے اتحاد سے بننے والی حکومتوں نے ’ہجومی قتل‘ رُوکنے کے حوالے سے کوئی ’قابلِ عمل حکمت عملی تشکیل نہ دی جس کی وجہ سے پاکستان میں ہجومی قتل کی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں ۔اِس سلسلے میں مذہبی بنیادوں پر کیے جانے والے ’ہجومی جہاد ‘ کا ذِکر کیا جائے تو ہمیں یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے مشتعل ہجوم کہ ہاتھوں جتنے بھی لوگ قتل ہوئے ہیں ،اِن میں یا تو اِن لوگوں پر ’’گستاخی ‘‘ کا الزام تھا یا پھر ’’مذہبی توہین ‘‘ کا الزام تھا ۔

پاکستان میں ہجومی بلوے کے واقعات میں سب سے زیادہ مشہور واقعات میں ایک واقعہ سانحہ ’جوزف کالونی ‘ کا ہے ۔اِس واقعہ میں کرسچن کمیونٹی کی ایک بستی کو جلا کر راکھ کر کر دیا گیا ۔پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ’’تماشے‘ کو تماش بینوں کی طرح دیکھتے رہے ۔اسی طرح ایک استانی پر ’’گستاخی ‘‘ کا الزام لگ جانے کے بعد ایک مخصوص اسکول نیٹ ورک کی تین برانچوں کے اسکولز کو جلا دیا گیا ۔کراچی میں ایک مسیحی لڑکے پر گستاخی کے الزام میں اس کے گھر والوں سمیت قتل کر دیا گیا ۔ان تمام واقعات میں مرنے والے غیر مسلم تھے ۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان میں’’بلوائیو ں کا ٹولہ ‘‘ جہاں غیر مسلموں کو قتل کرتا ہے وہیں مسلمانوں بھی نہیں بخشتا ۔اس سلسلے میں ’’’مشال خان ‘‘ کا قتل قابل ذکر ہے ۔ مشال خان عبد الولی خان یونی ورسٹی مردان میں شعبہ صحافت کا طالب علم تھا ۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مشال خان ایک مارکسسٹ تھا ،تاہم مارکسزم کے نظریات رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ ’’انسان دوست ‘‘ نظریات بھی رکھتا تھا۔ مشال خان ایک نظریہ ،سوچ ،انقلاب اور فکر کا نام تھا ۔بنیاد پرست عناطر نے مشال خان کی آواز کوہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا مگر یہ لوگ نظریات کوختم نہیں کر سکتے کیونکہ نظریات غیر مادی ہوتے ہیں ،یہ بے ضرربھی ہوتے اور بے شکل بھی لیکن ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں رجعت پرستی کے اس منظر نامے کو بدلنے کے لیے کمیونسٹ نظریات کی طاقت آج بھی ایک بہت بڑا ہتھیار ہے ۔

پاکستان میں شیعہ وہ واحد کمیونٹی ہے جس کا ’’ایمان ‘‘ مشکوک سمجھا جاتا ہے کئی ’سنی ‘ مسلمان شیعہ سے ’’نیم رسمی ‘ تعلقات رکھتے ہیں ۔کئی وہابی مسلمان ،شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو خارج اَز دین سمجھتے ہیں ۔پاکستان میں شیعہ کمیونٹی سے نفرت کرنے کا سلسلہ حق نواز جھنگوی سے جوڑا ہوا ہے ۔ اس طرح پاکستان میں ایک ’’طبقہ ‘‘ بلوہ پسند ہے ۔اِس طبقے میں سماج کی پسماندہ پرتوں کے بگڑے ہوئے بے روز گار نوجوان ،مذہبی انتہا پسندی کی دلدل میں گرے ہوئے ’’فدائی حملہ آور ‘‘ اور کچھ انتہائی معتبر ملاں شامل ہیں ۔اس طبقے کے فرائض میں ایک فرض ’’لوٹ مار ‘‘ بھی ہے ۔

پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح چشتیاں میں 2013کے عاشورہ پر ایک زبردست بلوہ ہوا تھا ۔یہ چیز اگرچہ ہجومی سرکشی کے زمرے میں آتی ہے تاہم جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا تھا ان کے بھاگ جانے سے ’ہجومی قتل ‘ تو نہ ہو سکا لیکن ’ہجومی لوٹ مار ‘ بہت زیادہ ہوئی ۔واقعہ یہ پیش آیا کہ چشتیاں میں ایک سنی عالم دین نے اپنے رشتے دار( جو کہ شیعہ ہیں‘) کے خلاف اپنے مدرسے میں اعلان کر دیا کہ انھوں نے گستاخی کی ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ’’بدلہ ‘‘ لے لیں ۔

اس مولوی کے اعلان کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ اہل تشیع کی دکانوں ،مکانوں اور عبادت گاہ پر حملہ کر دیا ۔اس حملے میں ’مجاہدین ‘ کے ہاتھوں بہت سا مالِ غنیمت بھی لگا جس کو وہ خوشی خوشی لے اڑے ۔اس واقعہ میں ملوث مولوی صاحب کو شہر کے با اثر لوگوں کی حمایت حاصل تھی اس لیے یہ صاحب جلد ہی جیل سے باہر آگئے ۔آ ج کل یہی مولوی پاکستانی ریاست کی قائم امن کمیٹی کے ممبر ہیں ۔ماہرین نفسیات کی رائے میں ’’توڑ پھوڑ پہ آمادہ لوگوں یا ہجوم میں شامل افراد انفرادی طور پر اِتنے پُرتشدد نہ بھی ہوں ،لیکن جب ایک گروہ کی شکل اختیار کر تے ہیں تو اِن میں نتائج کا خوف باقی رہتا ہے، اُور نہ ہی ضمیر کی خلش ستاتی ہے۔وہ اَپنے اقدامات کے لیے بھی ہجوم کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ محسوس کرنے لگتے ہیں ۔‘‘۔

ماہرِ بشریات ندیم عمر تاڑر کا بی ۔بی ۔سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سانحہ بادامی باغ میں جو نوجوان ڈنڈے لہرا تے ہوئے نظر آ رہے تھے، وہ ایسے لوگ تھے، جن کے پاس نہ روزگار ہے اَور نہ تعلیم !۔ان کے گھروں میں بھوک کے ڈیرے تھے ۔حالانکہ وہ جن کومار رَہے تھے وہ اِن سے بھی زیادہ کچلے ہوئے طبقات تھے ۔ایسے واقعات میں ایک چیز یہ بھی ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں پسے ہوئے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ لوگ خود کو کچلنے والے بالادست طبقے کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن ان کا غصہ زیرِ دست طبقے پر نکلتا ہے ۔طبقاتی محرومیاں ،ریاستی جبر اور حکمران طبقے کی جانب سے استحصا ل بھی اس چیز کی بڑی وجوہات میں شامل ہے ۔اسی طرح معاشرتی اقدار کا انحطاط بھی اِس سلسلے کا اہم ذمہ دار ہے ‘‘۔

ممتاز محقق ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ’’ پاکستان میں ریاست یافرد کی ملکیت اَور انسانی جان کا احترام ختم ہو چکا ہے ۔اَور پاکستانی سماج کے محروم طبقات توڑ پھوڑ کر کے انتقام کی خواہش پوری کرتے ہیں،محروم طبقات احساسِ محرومی کا اظہار تشدد کی شکل میں کرتے ہیں ۔پاکستان کے محروم طبقات کسی بھی فرد کے مال و متاع کو آگ لگا کر اپنی محرومیوں کا غصہ اتارتے ہیں ۔بنیادی تبدیلوں کے بغیر اصلاح و احوال ممکن نہیں ہے ۔ہم محض نصیحتوں اور وعظ سے لوگوں کو راہ راست پرنہیں لا سکتے ۔اس لیے ہمیں ان بنیادی وجوہات کو دور کرنا ہوگا جو خرابیوں کی وجہ بن رَہیں ہیں ‘‘ ۔

پاکستان میں ’’چوری ‘‘ کے شبہ میں بے گناہ یا گناہ گار لوگوں پر ہجوم کا تشدد کرنا معمول کی بات ہے ۔اس سلسلے میں ’منیب اور مغیث‘ قتل کیس بہت نمایا ں ہیں ۔جن کو سانحہ سیال کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔آج سے سات سال قبل دن کی روشنی میں ایک مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے ان دونوں سگے بھائیوں پر چوری کا الزام تھا ۔جبکہ ان کی لاشوں کو ایک چوک میں انتہائی بے رحمی سے پیٹاگیا ۔کچھ لوگ ان کی لاشوں کو جلا دینا چاہتے تھے ۔افسوس کا مقام ہے کہ اس سانحے پر بھی پاکستانی اداروں نے ’عوامی سطع‘ پر موثر اقدامات نہ کیے جس وجہ سے مزید کئی ہجومی قتل ہوئے ۔
پاکستان میں قانون کی پاسداری اور آئین کی عملداری کا ہمیشہ فقدا ن رہا اس وجہ سے ’لوگوں ‘ کو عدالتوں پر ’’ اعتماد‘‘ نہیں رہا ۔پولیس کی ’ رشوت خوری ‘ وجہ سے لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ چونکہ ملزمان پولیس سے مک مکا کر کے بچ جاتے ہیں اس لیے لوگ قانون کو ہاتھ میں لے کر خود ہی سزا و جزا دینا شروع کر دیتے ہیں ۔پاکستانی سماج میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو ’’ ہیرو‘‘ کا درجہ دیا جاتا ہے ،اس وجہ سے لوگوں میں قانون شکنی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے رجہان کا اضافعہ ہو رہا ہے ۔

ہجومی بلوے میں ایک حصہ سیاسی جماعتوں کا بھی ہے ۔پاکستان میں بعض سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین پر دہشت کا ماحول طاری کرنے کے لیے جلاؤ گھیراؤ کا طریقہ اختیار کرتیں ہیں ۔اس جلاؤ گھیراؤ میں پاکستانی عوام کا بہت نقصان ہوتا ہے ۔احتجاجوں ،تحریکوں ،جلسوں،جلوسوں اور ریلوں میں زیادہ تر شر پسند عناصر لوگوں کے جذبات کو غلط استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کر تے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکومت ہجومی قتل اور ہجومی بلوہ کو روکنے کے لیے ایک قابل عمل پالیسی تشکیل دَے ۔ 

One Comment

  1. پاکستانی حکومت نے کیاکرنا ہے۔ یہ خود ہجومی بلوائیوں اور ان کے گماشتوں یا سرغنوں پہ مشتمل ہے۔اخبار ٹریبیون نے ٹھیک لکھا کہ
    “When state institutions, particularly the interior minister, openly declares that all accused of blasphemy must be caught, then this tends to create a kind of witch-hunt amongst the public, eventually leading to cold-blooded murders. In fact, the statement attributed to a judge of the Islamabad High Court that if the state does not take blasphemy seriously people cannot be blamed for taking the law into their own hands, can be misconstrued. Such statements from the courts will certainly encourage people to dispense vigilante injustice, especially in a society like ours where religious sentiments can be easily manipulated and misused”.

    https://tribune.com.pk/story/1387536/struggle-mob-mentality/

    People like Captain(r) Safdar use media and even parliament to instigate mobs.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *