غاصبو! تاریخ سے سبق مت سیکھنا

آصف جاوید

تاریخ وہ علم ہے جو ہمارے  آج کا رشتہ  گزرے ہوئے ماضی سے جوڑتی ہے اور ہمیں مستقبل میں بڑھنے کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ پوری دنیا  کےاسکولوں  میں تاریخ  ایک آزاد مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔  مگر پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں تاریخ بھی توڑ مروڑ کر  ریاستی بیانیے کے مطابق مطالعہ پاکستان کے نام سے پڑھائی جاتی ہے۔ ہم اپنی درسی کتابوں میں تاریخ کو ایک آزاد مضمون کے طور پر نہیں پڑھاتے ، بلکہ ریاست کے ترتیب دئے دئے بیانیے کے مطابق  مسخ شدہ  واقعات ، اور من گھڑت نظریات  کی  کی صورت میں معصوم طالب علموں کے ذہنوں میں ٹھونستے ہیں۔

قیامِ پاکستان سے آج تک ، تحریکِ پاکستان اور مقاصِدِ پاکستان کے حوالے سے کوئی مستند تاریخ نہیں لکھی گئی ، اور نہ ہی پڑھائی گئی۔ جو کچھ  بھی لکھا گیا ہے وہ  تاریخ نہیں بلکہ ریاستی بیانیہ ہے، جسے مطالعہ پاکستان کے نام سے درسی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہ مسخ شدہ تاریخ ہے۔

یہ سوال غور طلب ہے کہ پاکستان میں صحیح مستند تاریخ کیوں نہیں لکھی جاتی اور درسی کتابوں میں صحیح مستند تاریخ کو پڑھایا کیوں نہیں جاتا؟؟؟

کیونکہ نصابی کتابیں طلباء کی کردار سازی میں نہایت اہم رول ادا کرتی ہیں ، لہذا ریاست کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ  طلباء کو صرف وہی معلومات فراہم کی جائیں جس سے طلباء میں ریاستی بیانیے پر یقین پختہ ہو، وہ تمام تاریخی حقائق جِن سے ریاستی بیانیے کی نفی ہوتی ہو، نصاب سے خارج کرکے  دشمن کا پرو پیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔  

قراردادِ پاکستان، دو قومی نظریہ، ،مفکرِ پاکستان کا مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کا خواب ،  قائدِ اعظم  کی لیڈرشپ،  مذہبی جنونیت، افوجِ پاکستان کی محبّت ، دفاعِ پاکستان، ہندوستان  سے ازلی دشمنی،  کشمیر کی آزادی،  افغان جہاد،  دہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان کی جنگ، انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کارنامے، پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں کی ناکامی، دشمن کی مکروہ چالیں، دفاعِ وطن میں پاک فوج کی قربا نیاں، سیاستدانوں کی کرپشن،  لیڈروں کی غدّاریاں  ، شخصیت پرستی، یہ سب مطالعہ پاکستان کے نام سے درسی کتب  میں پڑھایا جاتا ہے۔

وہ کشمیر جو بٹوارے میں پاکستان کو کبھی ملا ہی نہیں تھا، اور جس کی خاطر ہندوستان سے چار جنگیں لڑی گئیں، اس  کشمیر سے متعلّق تمام واقعات مطالعہ پاکستان  میں موجود ہیں، مگر مشرقی پاکستان  جو بٹوارے میں پاکستان کو ملا تھااور پاکستان کی آدھی آبادی بنگالیوں پر مشتمل تھی،  ہم نے بنگالیوں کی نسل کُشی کی، ان سے مسلسل  نا انصافی کی، جس کے  نتیجے میں وہ ہم سے جدا ہوگئے۔،

 اور  16  دسمبر، 1971 کو پاکستان ٹوٹ گیا، بنگال  پاکستان سے الگ ہوگیا، پاکستان کی درسی کتابوں میں سقوطِ پاکستان اور بنگالیوں کا ذکر ہی موجودنہیں ہے۔ جو کچھ بھی ذکر ہے وہ اتنا مختصر، ناقابلِ فہم اور گول مول ہے جس سے آج کی موجودہ نسل کو  یہی معلوم نہیں کہ سابقہ مشرقی پاکستان جو آج کا بنگلہ دیش ہے،  کبھی پاکستان کا حصّہ تھا۔  موجودہ نسل آج کے پاکستان کو ہی علّامہ اقبال کے خواب کی تعبیر سمجھتی ہے۔  

مشرقی پاکستان کےالمیے   کے اسباب جاننے کے لئے ایک حمود الرحمان کمیشن  تشکیل دیا گیا تھا جس کی رپورٹ کو آج تک شائع ہی نہیں  کیا گیا ،  کبھی کبھار اس کے اقتباسات سامنے آجاتے ہیں، پھر بھی اس میں جو ہوش رُبا انکشافات ہیں، اُنھیں پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔  اس ہی لئے انہیں تاریخ  کا حصّہ نہیں بنایا جاتاہے۔ ہم اپنی درسی کتب میں پڑھاتے وہی ہیں ،جو ہماری ریاست کا بیانیہ ہے۔

جرمنی میں ہٹلر کا فاشزم آیا تھا،  جرمن قوم نے ہٹلر کی فسطائیت پر ندامت کا اظہار کیا، اور آج تک  جرمنی میں جرمن بچوں کو فسطائیت اور نسل پرستی کے خلاف تعلیم دی جاتی ہے۔ جاپان میں  بھی جاپانی فاشزم کے خلاف بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔  امریکہ اور کینیڈا کی حکومتیں بار بار ریڈانڈین مقامی لوگوں سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کی معافی مانگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان اور جرمنی دوبارہ فسطائیت کی راہ پہ نہیں گئے۔  اور امریکہ و کینیڈا میں  ریڈانڈین کے حقوق کے احترام میں باقاعدہ 

Thanks Giving Day   

منایا جاتا ہے۔

جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خاتمے کے لئے اپارٹ ہیڈ کا خاتمہ کیا جاتا ہے،  امریکہ میں سیاہ فام بارک اوبامہ کو  صدر منتخب کیا جاتا ہے، امریکہ اور کینیڈا میں نسل پرستی کو ہیٹ کرائمز کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں بنگالیوں کی نسل کشی پر آج تک کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا جاتا، مہاجروں اور بلوچوں کی ریاستی نسل کشی کو قانونی تحفّظ  دیا جاتا ہے،اور اسے دہشت گردوں کے خلاف جنگ تصوّر کیا جاتا ہے۔  مگر  ہمارے ہاں تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا  جاتا ۔

ہمارے یہاں  جھوٹ، مکر، فریب، ظلم،  ستم، سنسر شپ ، اہلِ قلم اور ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنے والوں کی گمشدگی،  جبری خاموشی، اغوا اور مسخ شدہ لاشوں ، اور زباں بندی کے ذریعے تاریخ کو مسخ کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔ ریاستی قلمکاروں، میڈیا کے دلالوں کے ذریعے  رائے عامّہ کو  گمراہ اور درباری  مصنّفین کے ذریعے درسی کتابوں میں من پسند ، من گھڑت واقعات  اور خود ساختہ نظریات کو نصاب کا حصّہ بنا کر درسی کتابوں کے ذریعے معصوم زہنوں میں انڈیلا جارہا ہے۔

کاش! ہم اپنا بے لاگ تنقیدی تجزیہ کر سکتے، اپنی فاش غلطیوں اور  احمقانہ فوجی مہم جوئیوں سے  کچھ سیکھ سکتے، اپنی اصلاح کر سکتے اور اپنے لئے ایک حقیقت پسندانہ، جمہوری، قومی اور عوامی راہ تلاش کر سکتے۔ سقوطِ ڈھاکہ تو ہوچکا۔ اب  کیا سقوطِ کراچی اور گوادر کا انتظار ہے؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *