کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

علی احمد جان

اس نے اپنے پیاروں کے لاشے دیکھے اور ایک ایک کرکے باپ اور بھائیوں کو ان کی قبروں میں اتارا جن میں سے کسی کی بھی طبعی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔ کوئی اور ہوتا تو ٹوٹ کر بکھر جاتا مگر وہ ایسے فولادی اعصاب کی مالک تھی جس نے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ اپنے ملک کےکروڑوں لوگوں کی امید کی کرن بن کر افق پر ابھری ۔ اس کا نام اس کے باپ نے بے نظیر رکھا تھا یعنی اسم باسمی ٰ اس جیسا اور کوئی دوسرا نہیں تھا ۔ بے نظیر نے اپنے عفوان شباب میں جب ہمارے ہاں لڑکیاں چھوئی موئی بن جاتی ہیں اس دور کے آمر کو للکارا اور لوگوں کے درمیان کھڑی ہو ئی اور سب کی بی بی اور رانی بن گیئں۔ اس کی آواز میں ایسی گرج تھی کہ حبیب جالب جیسےعوامی شاعر نے یوں داد دی

ڈرتے ہیں بندوقوں والے، ایک نہتی لڑکی سے
پھیلے ہیں ہمت کے اجالے ایک نہتی لڑکی سے

ملک میں ظلمت کی ایک لمبی تاریک شب چھائی ہوئی تھی جس کی صبح بے نظیر ہی کے دم خم سے ممکن ہوئی تھی۔ ملک میں بارود، لاٹھیاں ،کوڑے، پھانسیاں ، جیلیں ، جلاوطنی اور نہ جانے کیا کیا مصیبتیں ٹوٹ پڑی تھیں اور لوگوں کی ہمت جواب دے گئی تھی ایسے میں بے نظیر ہی سب کا ڈھارس بندھا تی رہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ اس نے آمریت کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر صرف طاقت کے ایوانوں میں ہی لرزہ طاری نہیں کیا بلکہ اپنے عہد کے لوگوں کو آئین اور جمہوریت کا درس بھی دیا۔

مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے نیا معاہدہ عمرانی یا نیو سوشل کنٹریکٹ کی اصطلاح ان ہی سے سنا جو آج تک سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آمریت کے دور میں ردی کی ٹوکری میں پھینکے گئے آئین کو انھوں نے ایک دفعہ پھر ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک صحیفہ مقدس کا درجہ دیا ۔ یہ وہ بے نظیر سوچ تھی جس نے ہی میرے ہمعصر وں کو جمہوریت کے معنی سمجھا یا اور پارلیمان کے تقدس کو ذہنوں میں پھرسے اجاگر کیا وگرنہ پارلیمان، جمہوریت، آئین اور سیاست کو گیارہ سالہ آمریت کے دور میں گالی بنا دی گئی تھی۔ انھوں نے ہی ہمیں رواداری سمجھانے کی کوشش کی اور مکالمہ سے ہی مسائل کا حل نکالنے کا درس دیا۔ وہ میرے ہمعصروں کی استاد تھیں جس نے ایک گرو کی طرح اپنے لوگوں کی تعلیم و تربیت تا دم مرگ جاری رکھا۔

ملک میں آمریت کی ظلمت شب ایک دفعہ پھر طاری ہوئی تو اس نے پھر سے اپنے لوگوں کو جمہوریت کے اجالوں کی طرف لے جانے کی ٹھانی۔ اب کی بار اس کو بھی معلوم تھا کہ کوئی اس کے گھات میں ہے، کوئی اس کی جان کے درپے ہے۔ مگر وہ یہ بھی جانتی اور مانتی تھی کہ اس کی زندگی اسکی اپنی نہیں بلکہ اس کے ملک کے لوگوں کی امانت ہے۔ ڈرانے، دھمکانے کے بعد ان پر ایک جان لیوا حملہ بھی ہوا مگرسفر جاری رکھا وہ رکی نہیں ۔

پہلی بار جب ان کے ارد گرد ان کے چاہنے والوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ گیا تو ظلمت کے پالے یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ خوفزدہ ہوکر واپس چلی جائیگی مگر وہ بھی بہت جلد شہادت کا درجہ پاکر اپنے جانثاروں سے جا ملیں ۔

بے نظیر کی شہادت کے صدقے میں ان کی جماعت مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوئی اور پانچ سال کا عرصہ بھی پورا کیا جو ان کو اپنی زندگی میں پورا کرنے نہیں دیا گیا تھا۔ ان کی موت پر ان کے چاہنے والوں نے اپنے غم و غصے کا بھر پور اظہار بھی کیا اور ان کے شریک حیات آصف علی زرداری نے لوگوں کو دلاسادیا کہ وہ ان کی شہادت کی مکمل تحقیقات کروائیں گے اور ان کے قاتلوں کو بے نقاب کریں گے۔ اقوام متحدہ کو ایک خطیر رقم کی ادائیگی کرکے ایک ٹیم بلائی گئی اور تحقیقات بھی ہوگئیں۔

پاکستان کے سکیورٹی کے اداروں نے اعلان کیا کہ وہ ان کے قتل کے منصوبہ سازوں اور قاتلوں تک پہنچ گئے ہیں کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں اور انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں مقدمہ بھی چلا۔ دس سال تک مقدمہ چلنے کے بعد جن کو قاتل قرار دے کر گرفتار کیا گیا تھا وہ بھی چھوٹ گئے اور صرف دو پولیس والوں کو اپنے فرائض سے غفلت کا مرتکب قرار دے کر سزا سنائی گئی جو شائد اگلی عدالت میں اپیل کے ساتھ ہی کالعدم ہو جائیگی اور مقدمہ پھر سے چلے گا۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے مقدمے کی کاروائی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی وفاق اور سندھ میں بر سر اقتدار رہی اور اس مقدمے کی سرکاری پیروی اس کی ذمے داری تھی۔ یہ کیسے ہوا کہ مقدمے کے گواہ پورے پیش نہیں کئے جا سکے؟ یہ کیسے ہوا کہ ایف آئی اے اور پولیس اپنے مکمل چالان عدالت میں پیش نہ کر سکی؟ پراسیکیوٹر سے لیکر اس کیس کے اہم گواہوں کا قتل بھی کرائم سین (جائے وقوع) کےدھوکر شہادتیں مٹانے جتنے بڑی مجرمانہ غفلت کے واقعات تھےجس پر پیپلز پارٹی کی طرف سے رد عمل اور عملی اقدام کے نہ ہونے سے اپنی رانی سے محبت کرنے والے لوگوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔

اس کیس کو سننے والے جج کے بار بار بدل جانے سے اس کیس نے طوالت پکڑا جس کے نتیجے میں گواہ اور شہادتیں کم ہوگئیں جو اس کیس کے فیصلے پر اثر ا نداز ہوئیں۔ لوگ یہ نہیں کہتے کہ بی بی کے قاتلوں کو کسی چوک پر لٹکا دیا جائے کیونکہ وہ خود سزائے موت کے خلاف تھیں اور انھوں نے ہمیشہ مجرم سے نہیں جرم سے نفرت کی تھی مگر ان کے قتل کے پیچھے چھپے چہروں کا بے نقاب ہونا انتہائی ضروری اس لئے بھی ہے کہ بار بار ہونے والے ایسے ہائی پروفائل سیاسی قتل کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

اب پاکستان کے لوگ صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مشرف پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو کچھ مہینوں میں اس کے پیچھے چھپے لوگوں کو پاتال سے نکال کر سزائیں دی گئیں مگر ان کے دلوں کی رانی کی شہادت کے دس سال بعد بھی کوئی پکڑا نہ جاسکا۔

آپ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں گئے بھی تو پھر کیا نیا ہوگا۔ جو شہادتیں دس سال میں نہ گزاری جاسکیں کیا وہ ایک سال میں گزاری جائینگی؟ کیا بیت اللہ محسود اور اس قتل میں مبینہ طور پر ملوث دیگر لوگ قبروں سے اٹھ کر اقرار کرینگے کہ انھوں نے یہ قتل بدست خود کیا ہے؟ ریاستی اداروں پر غفلت ثابت ہوئی اور دو پولیس آفیسروں کو سزا بھی ہوئی کیا پیپلز پارٹی نے بھی کوئی انکوئری کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس ہولناک حادثے میں کہیں ان کی طرف سے کوئی غفلت تو نہیں ہوئی؟

کیا بی بی کے لکھے خطوط اور اپنے دوستوں کو لکھے ای میلز کو مد نظر رکھ کر اس کیس کو اس سمت میں چلانے کی کوشش کی گئی؟ ایک ماڈل آیان علی کے کیس پر جان لڑانے والے کھوسہ، ججوں کے مقدمات لڑنے والے اعتزاز احسن اور بی بی کے جوتیوں کے طفیل فرش سے عرش پر پہنچنے والے رحمان ملک جیسے کتنےدوسرے لوگ ا ن کےقتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت جاتے رہے؟

قانون کی عدالت میں مقدمہ ہار جانے کے بعد بے نظیر اپنا مقدمہ تاریخ میں لڑیں گی۔ ویسے تو اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے اس قتل پر کتاب لکھ کر اس واقعے کی تاریخی سمت درست کرنے کی کوشش کا آغاز کردیا ہے مگر آنے والے وقتوں میں بی بی کی شہادت اور اس مقدمے پر بہت کچھ لکھا جائیگا۔ بہت سارے سوالات اٹھائے جائیں گے اور جوابات تلاش کئے جائیں گے۔ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے پیچھے چھپے چہروں کو بے نقاب کرکے خود کو تاریخ کے بے رحم سوالات سے بچائیں ورنہ کل کا مورخ جب تاریخ لکھے گا تو یہ کہنے پر مجبور ہوگا

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *