یروشلم – حرف حق اور خون نا حق کا استعارہ

ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

یروشلم کی وادیوں میں غزل الغزلات کا شاعر نغمہ سرا ہے:

اے پروشلم کی بیٹیو ۔۔۔ میں تم کو قسم دیتی ہوں

کہ اگر میرا محبوب تم کو مل جائے

تو اس سے کہہ دینا کہ میں مریض محبت ہوں ۔۔۔

میرے محبوب کی زلفیں پیچ در پیچ اور کوّے کی طرح کالی ہیں

اس کی آنکھیں ان کبوتروں کی مانند ہیں

جو دودھ میں نہا کر لب دریا تمکنت سے بیٹھے ہوں۔

محبت کے مغنی کی سر زمین یروشلم ۔۔۔ یعنی خدا کا شہر۔ اس کی زمین نے انسانی تاریخ اور مذہبی روایات کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے۔ پروشلم، جہاں تورات کے انبیاء آسمانوں سے اترے رہے اور یہیں سے ان کے مسیح کا شہید جسم سلامت اٹھایا جاتا ہے۔ اور یہیں سے معراج رسول کی رفعت کا آغاز ہوتا ہے۔

یہی وہ شہر ہے جہاں انسانی حقیقت تاریخ کا روپ دھارتی ہے اور اسی جگہ پر تاریخ وقت کی دھند میں اپنے جادوئی طلسم کے ساتھ آہستہ سے دیومالا میں بدل جاتی ہے۔ اسی شہر میں علم کی تدریس ہوتی ہے اور حکمت کے چشمے پھوٹے ہیں اور یہی وہ شہر ہے جہاں تاریخ کے چاق پر خون ناحق کی ندیاں بہتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ اس شہر کو حضرت داود نے کوئی تین ہزار سال پہلے آباد کیا تھا اور یہودیہ کی وادیوں اور پہاڑیوں کے سب سے اونچے پہاڑ پر اس جگہ ایک قربان گاہ بنائی جہاں اس سے پہلے نبیوں کے جد امجد ابراہیم نے اپنے بیٹے کو خدا کے حضور قربانی کے لئے پیش کیا تھا۔ مذہبی روایت ہے کہ اس ذبح عظیم کی قبولیت کی نشانی کے طور پر خدا نے ایک دنبہ آسمانوں سے نازل فرمایا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ تو معلوم نہیں کہ یروشلم میں قربانی کا کوئی روحانی سلسلہ چلا یا نہ چلا مگر یہاں ہمیشہ سے خون ناحق کی ہولی کھیلی جاتی رہی ہے۔

یہودی ، مسیحی اور مسلمان سبھی پرانے یروشلم کے اس پہاڑ کو مقدس مانتے ہیں ۔ ان کے خیال میں یہ جگہ زمین کا پیالہ ناف ہے۔ یہ پہاڑ ٹمپل ماونٹ کہلاتا ہے ۔ اسی پہاڑ کی جس چٹان سے مسلمانوں کے نبی محمد صلیٰ اللہ وسلم معراج کے لئے تشریف لے گئے وہ مسلمانوں کا قبلہ اول قرار پائی تاوقت کہ نماز کے لئے کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا۔

اس چٹان کے اوپر ۶۹۱ عیسوی میں قبة الصخرة یا ایک گنبد تعمیر کیا گیا ۔ مسلمانوں میں عرف عام میں اسے حرم شریف کہتے ہیں۔ یہودی اور مسیحی مذہب میں اس کا نا م ڈوم آف دی راک ہے۔ اس کے حنوب میں مسجد اقصیٰ، مشرقی جانب جبل الزیتون اور جبل المشہد ، ماوءنٹ سکوپس کی پہاڑیاں اپنی مسیحی تاریخ کی گواہی میں سر بلند ہیں۔

مغربی جانب یہودیوں کے پہلے معبد اور ہیکل سلیمانی کی دیوار کی باقیات ہیں۔ یہ دیوار ، جس کا نام دیوار گریہ یا مغربی دیوار ہے، یہودی مذہب کی مقدس ترین جگہ ہے جس کے سامنے دنیا کے چاروں کونوں سے آئے ہوئے یہودی دن رات اپنی حاجت روائی کے لئے دعا اور گریہ زاری بقدر شوق کرتے رہتے ہیں۔

دیوار گریہ مقدس ترین ہے کہ اس کے دوسری طرف ٹمپل ماونٹ کے نیچے صندل کی لکڑی اور طلائی ملفوف میں موسیٰ رسول کے دس احکامات کی تختی ہے۔ اس مقدس المقدسات جگہ کے قریب ترین مقام جہاں خوش بخت پیرو کاروں کی رسائی ممکن ہے وہ دیوار گریہ ہی ہے۔

اسی دیوار کے مغرب میں مسیحی مذہب کے مقدس ترین گرجا گھر ہیں۔ کلیسۃ القیامہ، جہاں مسیح صلیب پہ جھول گئے تھے اور قریب ہی دوسرا گرجا اس مقام پر ہے جہاں سے ان کا رفع الی اللہ ہوا۔ یسوع مسیح نے رومنوں کے ہاتھوں مصلوب ہونے سے پہلے اپنا آخری کھانا اور اپنی آخری رات جبل زیتون پر بسر کی اور صبح انہوں نے اپنی صلیب اٹھائے گرتے پڑتے سر مست ٹمپل ماونٹ کے قریب سے اپنے مقام نجات کی جانب سفر اختیا ر کیا۔ اس راستے کو مسیح کی تکلیف کی نسبت سے ویا ڈولو روزا۔۔ راہ ملال کہا جاتا ہے۔

قریباچھ سو سال قبل مسیح بابل کا بادشاہ نابو کادنظر جسے فارسی میں بختار شاہ بھی کہا جاتا ہے یروشلم پر حملہ آور ہوا۔ مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یروشلم سیاسی طور پر رومی بادشاہت کے زیر تسلط تھا مگر کہتے ہیں یہودی مذہبی حکمران اور پیشوا یروشلم پر اپنا حق سمجھتے تھے جس کے نتیجے میں سن ۷۰ عیسوی میں رومی سپاہ سالار ٹائی ٹین نے یروشلم پر چڑھائی کر دی۔ اس نے اتنے یہودیوں کو صلیبوں پر لٹکایا کہ شہر سے باہر بھی مزید صلیبوں کو گاڑنے کی جگہ ختم ہو گئی اور شہر کے قرب و جوار میں صلیبیں بنانے کی لکڑی تک ختم ہو گئی۔ اس کے بعد یروشلم میں یہودیوں کی موجودگی تو برائے نام ہی تھی۔ تا ہم یہ شہر مسیحی اور مسلمان بادشاہوں کے ہاتھوں مزید دو ہزار سال تک تاراج ہوتا رہا۔

ان دو ہزار سالوں میں پروشلم میں اس قدر خون بہا اور اس قدر قتل و غارت گری ہوئی کہ بعض تاریخ دان تو اس شہر کو موت کا شہر قرار دیتے ہیں جس کے مردے ابھی تک اپنی نجات اور رفع الی اللہ کے منتظر ہیں۔ یہودی اس شہر سے ہزار در بدر ہوئے مگر اس شہر کے ساتھ بندہی تاریخ اور روحانی نسبت نے انہیں ہمیشہ اپنے رومان کی گرہ میں باندھ کر رکھا۔

صدیوں پر پھیلی شہر بدری ایک مستقل ہجرت کی شکل اختیار کر گئی جس میں یہودیوں کو کئی اور جگہوں سے بھی دیس نکالا ملا۔ مگر بیسویں صدی میں جب عالمی سیاست کی بساط پر گنجائش پیدا ہوئی تو بے شمار یہودیوں نے دوڑتے ہوئے یروشلم کی طرف مراجعت کی۔

یہودیوں کی یروشلم واپسی کے سفر میں مذہبی حوالوں سے قطع نظر، انسان کی تاریخی شناخت کی بہت سی گرہیں ہیں جن کا مطالعہ نوع انسانی کے لئے بہت مفید ہو سکتا ہے۔ مشہور دانشور ایڈورڈ سعید کے عزیز دوست بیرن بوئیم جو خود یہودی اور مشہور زمانہ موسیقار تھے بچپن میں روس سے ہجرت کر کے تل ابیب جا آباد ہوئے، کہتے تھے کہ تل ابیب باقی شہروں کی طرح ایک شہر ہے جبکہ یروشلم ایک روحانی کشش کا نام ہے جس کے ساتھ تسکین وابستہ ہے۔

تاہم موسیقار بیرن بوئیم جیسا انسان دوست شخص اپنی ذاتی اور روحانی تسکین کے لئے کسی دوسرے شخص کا حق مارنے کا روا دار نہ تھا۔ اسرائیل نے اسی طرح کی لاکھوں انسان دوست اور مہربان ہستیوں کو جنم دیا ہے۔

ضمنی طور پر اس بات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۶۷ میں جب اسرائیل نے عربوں پر فوجی فتح حاصل کر لی اور پرانے یروشلم پر قبضہ مکمل کر لیا تو وزیر دفاع موشے دایان خود چل کر حرم شریف یعنی ٹمپل ماونٹ اور اس کے اوپر بنے ڈوم آف دی راک کے وقفکے مسلمان عہدہ داروں کے پاس گئے اور وعدہ کیا کہ حرم شریف کا کنٹرول مسلمانوں کے پاس ر ہے گا بے شک کہ اس گنبد کے نیچے یہودی مذہب کے مقدس اثاثے ہیں ۔

قریباً ۵۰ سال گزرنے کے باوجود یہ بات درست ہے کہ حرم شریف کا انتظام مسلمانوں کے محکمہ وقف کے پاس ہے لیکن اسرائیل کے زیر انتظام حرم شریف تک پہنچنے کا راستہ اور باقی رہائشی اور شہری علاقوں کی بابت اسرائیلی حکومت کی بہت سی زیادتیاں ہیں جن سے صرف نظر ممکن نہیں۔

یورپ میں بیسویں صدی کے پہلے حصے میں یہودیوں کے ساتھ سلوک کے لئے ستم ناروا تو شاید بہت معمولی لفظ ہے لیکن اس ظلم سے نفرت کے لئے کسی خاص تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہر ذی شعور انسان کا فرض ہے۔ لیکن یورپ کے اندر یہودیوں کے ساتھ اس ظلم کا نتیجہ اگر فلسطین اور یروشلم میں بسنے والے انسانوں کی بے گھری کی شکل میں سامنے آئے تو مجموعی طور پر نسل انسانی کے لئے یہ ایک اور افسوس کا مقام ہے۔ ستم ظریفی کی بات بھی یہی ہے وہ یہودی جو خود ظلم کی چکی میں پسے انہوں نے ظلم اور دراز دستی کی وہی روش اپنائی جو ان کے ساتھ روا رکھی گئی تھی۔

یروشلم شہر کے ساتھ بہت سی رومانوی یا روحانی کیفیات وابستہ ہیں جن میں سے کئی تو انسان کی نارمل جذباتی کیفیات ہیں اور کچھ یقیناً مریضانہ ہیں۔ مذہبی نفسیات کی ایک بیمار کیفیت یروشلم سنڈرومہے۔ یہ روحانی سائکوسس کی ایک کیفیت ہے جس کا مریض فرط جذبات سے مغلوب ہو کر ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے اور کئی بار تشدد پر اتر آتا ہے۔ اس بیماری کے نتیجے میں ایک اہم تشدد آمیر واقعہ ۱۹۶۹ میں پیش آیا جب ایک آسٹریلوی یہودی نے مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس کے علاوہ ذہنی دباؤکی اور بھی کئی قسمیں ہیں جیسے کئی لوگوں کے ذہنوں میں جادوئی خیالات بسیرا کر لیتے ہیں کہ ان کی بیماری کا علاج، ان کی ذہنی ناآسودگی اور روحانی مکتی کا واحد راستہ یروشلم میں حاضری ہی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ یروشلم پہنچنے پر دماغی طور پر اس طرح بکھر جاتے ہیں کہ زندگی کے عام قوائد تو دور رہے، وہ اپنی ذات تک کو سنبھال نہیں پاتے۔ وہ لوگ کبھی اونچی آواز میں بائبل کی تلاوت اور اپنے فہم میں اصلاح عامہ کے لئے وعظ ، اپنے گروپ کے ساتھ ناچاقی یا چیخنے کی شدید ترین خواہش اور کبھی تو کھلے عام تشدد کا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسا کہ مسجد اقصیٰ میں آگ لگا دینے والے مریض نے کیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ وہ کون سی نفسیاتی گرہ ہے جس کا علاج مذاہب عالم میں مقدس مقام کی زیارت ہے اور اس کے بغیر یہ گرہ کھلتی نہیں ۔ نفسیات دان کارل یونگ کے مطابق ذات سے باہر ادا کرنے والی مذہبی رسومات دراصل شعور کی لاشعور کے ساتھ واحدت پیدا کرتی ہیں۔

اس مقام پر ایک اور سوال ابھر آتا ہے کہ کیا انسان ان رسومات کے بغیر بھی نفسیاتی واحدت حاصل کر سکتا ہے؟ مجھے اس مقام پر نفسیات دان ابرام ماسلو سے اتفاق ہے کہ عجیب، اجنبی ، نو دریافتہ ، غیر معروف کی تلاش نے بیشتر اوقات زیارت کی وہ شکل اختیار کی ہے جو حقیقی دنیا سے منہ موڑنے پر منتج ہوئی ہے۔

اس میں مشرق کی جانب تلاش حقکا سفر یا کسی نئے علاقے کی جانب رخ یا کسی نئے مذہب کو اپنا لینا وغیرہ سبھی کچھ شامل ہے ۔۔۔[ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ] تقدیس تو معمولی سے معمولی چیز کے اندر بھی ہے ۔ اسے اپنی زندگی میں، ہمسائیوں میں، دوستوں اور رشتہ داروں میں، اپنے گھر کے صحن میں تلاش کیا جا سکتا ہے اور دنیاوی زیارتوں کے لئے سفر دراصل حقیقی مقدس سے فرار کی نشانی ہے۔ یہ سبق سیدھا اور آسان ہونے کے باوجود اس کے بھولنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ دور دراز علاقے سے کسی معجزے کی تلاش بالحقیقت جہالت کا نشان ہے کیونکہ زندگی کا ہر پہلو ہی ایک معجزہ ہے۔

اس گفتگو سے کسی فرد یا گروہ کی نفسیاتی یا سیاسی گرہ سلجھی یا نہ سلجھی ہو لیکن یہ بات واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ یروشلم میں مذہب کےنام پر بہایا جانے والا خون انسانی اخلاقیات کی بنیاد پر تا ابد خون ناحق ہی کہلائے گا۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود یروشلم کی گلیوں میں انسان آج بھی ایک دوسرے کے در پے ہے اور غزل الغزلا ت کا مغنی حیران ہے کہ اس کا نغمہ زمانے کی ساعتوں میں کہاں کھو گیا ہے ۔ شاید قرآن کی یہ آیت اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔۔۔ والعصر ۔ انّ الانسان لفی خسر زمانے کی قسم ہے۔ انسان یقیناخسارے میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *