معاشرے میں سول سوسائٹی  کے کردار کی کیا  اہمیت ہے؟؟؟

آصف جاوید

ہم میں سے اکثر لوگ  معاشرے میں سول سوسائٹی کے کردارکی  اہمیت سے شاید مناسب  طور پر آگاہ نہیں ہیں۔ اس لئے ہمارے معاشرے میں  سِول سوسائٹی کے بارے میں اکثر   غلط فہمیاں پائی جاتی ہے۔  کچھ لوگوں کے نزدیک  سِول سوسائٹی سے مراد روشن خیال یا آزاد فکر طبقہ ہے۔ کچھ کے نزدیک سِول سوسائٹی  سے مراد لبرل اور سیکیولر  طبقہ ہے۔  کچھ کے نزدیک سِول سوسائٹی مذہب بیزار لادین لوگوں کا گروپ ہے۔  کچھ  لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ سِول سوسائٹی  معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگوں کی کی کوئی تنظیم ہے ۔

کچھ لوگ یہاں تک غلط فہمی کا شکار ہیں کہ  ان کے نزدیک سِول سوسائٹی فیشن ایبل اور دولتمند لوگوں کا کوئی پرائیویٹ کلب ہے، جہاں   یہ دولتمند  لوگ اپنی بھرم بازیوں کی نمائش  کرتے رہتے ہیں۔ میں نے مذہبی طبقے کو  سول سوسائٹی  سے بہت متنفّر پایا ہے۔ اور انہیں سول سوسائٹی کو بطور طنز  شغل سوسائٹی کہتے بھی سنا ہے۔ بطور  قلم کار اپنی سماجی ذمّہ داری کو محسوس کرتے ہوئے میں نے مناسب  سمجھا کہ  مجھے  سول سوسائٹی  کے  کردار،  اہمیت  اورفعالیت پر  ضرور روشنی  ڈالنا چاہئے۔  تاکہ غلط فہمی کا ازالہ ہو، اور سول سوسائٹی کا  صحیح امیج واضح ہو کر سامنے آجائے۔ 

سرکاری اور نجی ادارے   (پبلک اینڈ پرائیویٹ سیکٹر) کسی بھی معاشرے میں ستون کی حیثیت رکھتے ہیں ،  سول سوسائٹی  بھی معاشرے کا   ستون ہے۔  پبلک اینڈ پرائیویٹ سیکٹر کی بعد سوِل سوسائٹی معاشرے کا تیسرا اہم ستون  کہلاتی ہے۔   سوِل سوسائٹی کی بنیاد عام شہری  ہوتے ہیں۔  دنیا کے ہر ملک میں ،  ہر مہذّب معاشرے  میں سول سوسائٹی  کا  باقاعدہ   وجود اور کردار  ہوتا ہے۔

 سول سوسائٹی معاشرے کا وہ  باشعور طبقہ ہے،  جو سرکاری، ریاستی، سیاسی  اور مذہبی  وابستگیوں سے بالا تر  اور غیر جانبدار ہوکر سماجی معاملات پر اپنی رائے اور اپنا ردِّ عمل دیتا ہے۔  سول سوسائٹی میں معاشرے کے ہر طبقے کی نمائندگی ہوتی ہے۔ دانشور، ادیب، شاعر، فنکار، کھلاڑی،    انجینئرز، ڈاکٹرز، وکلاء،  اساتذہ، ماہرینِ تعلیم، امدادی کارکنان  ،  کمیونٹی ورکرز ، محلّے کے بزرگ، متحرک نوجوان طلباء و طالبات ، انسانی حقوق، کسانوں اور  مزدوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے کارکن، چیریٹی آرگنائزیشنز اور فلاحی تنظیموں کے کارکن،، غرض ہر شعبہ زندگی سے تعلّق رکھنے والے وہ افراد جو  باشعور  اور باضمیر ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی ِفکر، آزادیِ اظہار   اور انسانی حقوق کے علمبردار ہوتے ہیں، سول سوسائٹی کے اراکین کہلاتے ہیں۔

  یہ لوگ مصلِحتوں کی پرواہ کئے بغیر معاشرتی مسائل  کو نہ صرف اجاگر کرتے ہیں،  بلکہ ان مسائل  پر اپنی آواز بھی  بلند کرتے  ہیں،  تاکہ اربابِ اقتدار  کو سوتے سے جگایا جائے۔   سِول سوسائٹی کے لوگ  تحریر و تقریر، پر امن جلسے ، جلوسوں اور احتجاج کے ذریعے  انسانی ضمیر کو جھنجوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ اور  یوں اپنی سماجی  اور اخلاقی ذمّہ داریوں سے  عملی طور پر عہدہ بر آ ہوتے ہیں۔  دوسرے لفظوں میں ہم کہ سکتے ہیں کہ سول سوسائٹی ایسے  باشعور افراد ، گروپس، اور آرگنائزیشنز پر مشتمل ہوتی ہے جو  ، سرکاری، ریاستی، سیاسی ، مذہبی   وابستگیوں سے بالا تر ہوکر معاشرے کے مجموعی مفاد ات کے تحفّظ کے لئے کام کرتی ہے۔ 

سول سوسائٹی کا کام منفعت کمانا  ہر گز نہیں ہوتا،  بلکہ سماجی ذمّہ داریوں  سے عہدہ برآہونا  ہوتا ہے۔   معاشرے کے  باشعور  افراد کے علاوہ لیبر یونینز، این جی اوز، نان پروفٹ آرگنائزیشنز سب ہی سول سوسائٹی کا حصّہ ہوتی ہیں۔جو معاشرے کے مشترکہ مفادات کے تحفّظ کے لئے کام کرتی  ہیں۔ 

 سِول سوسائٹی،  مذہب، عقیدہ، فرقہ، رنگ، نسل، لسّانیت اور تعصّب سے بالاتر ہوتی ہے۔  پاکستان  کی حد تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ روشن خیال لوگ جنہیں عرفِ عام میں لبرلز کہا جاتا ہے، سوِل سوسائٹی میں زیادہ متحرّک ہیں۔ مگر یہ محض ایک اتّفاق ہے، ہر جگہ اور ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔

سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف قسم کا  انسٹیٹیوشن ہے، سیاسی جماعتیں  ایک جمہوری عمل کا حصّہ ہوتی ہیں، جن کے نمائندے  عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ  اور اقتدار میں آتے  ہیں ، سیاسی جماعتیں اقتدار کی طاقت و حکومتی وسائل کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرتی ہیں، جبکہ سول سوسائٹی کسی جمہوری عمل سے منتخب نہیں ہوتی، سول سوسائٹی کے پاس صرف  شعور  و ادراک  اور احساسِ ذمّہ داری ہوتا ہے۔

سول سوسائٹی  کا کام صرف آواز بلند کرنا ہوتا ہے، شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے،  مسائل پر توجّہ دلانا ہوتی  ہے، مسائل کا حل تجویز کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ مسائل کے  حل  کے لئے اقدامات کرنا حکومت کا کام ہوتا ہے۔    کیونکہ حکومت کے پاس وسائل، ذرائع اور قانونی اختیار ہوتا ہے۔

دنیا بھر کے ترقی یافتہ معاشروں میں سول سوسائٹی، پارلیمنٹ  سے باہر طاقتور اور موثّر  غیر سیاسی، عوامی پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے۔ ہر زندہ جمہوری معاشرے میں سولِ سوسائٹی   باقاعدہ قوّت کے طور پر متحرک نظر آتی ہے، جو ہر غیر قانونی، غیر اخلاقی  اور بنیادی انسانی  حقوق کے منافی اقدام کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔

اور اب مواصلاتی رابطے انٹیگریٹ ہونے کے بعد  دنیا چونکہ ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگئی ہے لہذا گلوبلائزیشن  کے  بعد دنیا بھر کے ممالک میں موجود  سول سوسائٹیز  ، عالمی نیٹ ورک  میں بندھ کر ظلم و  ناانصافی کے خلاف، عالمی امن و امان کے قیام اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی، اور  قانون کی بالادستی، کے لیے مربوط اور موثّر انداز  میں  اپنی آواز اٹھاتی ہیں۔ اس ہی لئے دنیا میں بین الاقوامی گلوبل سول سوسائٹیز بھی وجود میں آرہی ہیں جو بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ مفادات کے تحّٖظ کے لئے کام کرتی ہیں۔

اگلے مضمون میں ہم اس موضوع پر گفتگو کریں گے کہ

پاکستان میں سول سوسائٹی کو کیا چیلنجز اور خطرات درپیش رہتے ہیں

3 Comments

  1. اس کا ایک یہ بھی کردار ہوتا ہے کہ سول سوسائٹی کے نمائندے عام کارکن ریاستی اداروں یا عام دیگر عوامی فلاحی اداروں میں رضاکار کے طور پر کام کرتے ہیں اور عام آدمی کو معاشرے کی ترقی فلاح کے لئیے رضاکارانہ کام کے لئیے رضامند کرتے ہیں ، حکعمےی اداروں کی کارکردگی کے ساتھ انکے اخراجات پر نگاہ رکھتے ہیں کسی بھی مہذب معاشرے میں ریاست معاشرے کی ترقی خوشحالی اس کی بقا سلامتی تحفظ اور امن کے یقین کے لئیے ایک حکومت اپوزیشن کے ساتھ آزاد خود مختار غیر جانبدار میڈیا کے ساتھ ایماندار سول سوسائٹی کا وجود اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زندگی کے لیے سانس

  2. Well written essay.I would like to read the next article when it is printed.

  3. Very enlightening. Looking forward to read your oncoming article.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *