خام خیالی سے روشن خیالی تک

بیرسٹر حمید باشانی

روشن خیالی رجعت پسندقوتوں کا تیسرا بڑاہدف ہے۔ پاکستان میں دائیں بازو کی قدامت پرست قوتوں کا پہلا ہدف رواداری ہے ۔ دوسراہدف آزادخیالی ہے۔ اس کے بعد ماکسزم، ہیومن ازم اور اس طرح کے دوسرے اہداف کی باری آتی ہے۔ پہلے دو اہداف یعنی سیکولرازم اورلبرل ازم پر رجعت پسندی کے حملوں پر گزشتہ کالموں میں لکھا چکا ہوں۔ 

پاکستان کے مذہبی اور گہرے قدامت پرست سماج میں رجعتی اور روائیتی قوتیں روشن خیالی کوایک گمراہ کن فکراور خطرناک رحجان قرار دیتی ہیں۔ حالانکہ قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم کی وجہ سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان روشن خیال روایات کا امین ہو گا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد مگر پاکستان میں روشن خیالی کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع ہو گئی۔ نئے مقاصد طے ہوئے، اور ان مقاصد کے حق میں سرکاری قراردادیں پاس ہوئیں۔

اس سارے عمل کے دوران روشن خیالی کا لفظ پاکستان کے سیاسی ذخیرہ الفاظ سے غائب ہو گیا۔ سرکاری سطح پر یہ لفظ پھر جنرل مشرف کے دور میں سیاسی ڈکشنری کا حصہ بنا۔ روشن خیالی صدرمشرف کا تکیہ کلام تھا۔ ان کے دور میں اس پر بہت زیادہ گفتگو ہوئی۔ اور اس دور میں ہی یہ لفظ پہلے مشہور، پھر بدنام، اور آخرکاربے توقیر ہوا۔ جنرل مشرف ہو سکتا ہے اپنی فکر کے اعتبار سے روشن خیال ہوں، مگر ان کے دور اقتدار میں ان کی فکرکبھی ان کے عمل سے ہم آہنگ نہ ہو سکی۔

ان کے فکر اور عمل میں اس گہرے تضاد سے کئی بنیاد پرست قوتوں نے فائدہ اٹھایا۔ وہ ایک ہی وقت میں جہاد کا ثواب بھی کماتے رہے ، اور اقتدار کی نعمتیں بھی سمیٹے رہے۔ جنرل مشرف کی روشن خیالی انہیں اس ریاستی سرپرستی سے نہ محروم کر سکی ، جو جنرل ضیا کے دور سے ان کو حاصل تھی۔ اس سرپرستی میں یہ لوگ ملک کی لبرل، سیکولر اور روشن خیال قوتوں کے خلاف جم کر مورچہ زن ہو گئے۔ ان کے طرز عمل کی کچھ جھلکیاں ہم لوگ ماضی میں دیکھ چکے ہیں، کچھ اب دکھائی دے رہی ہیں، اورکچھ دکھنی باقی ہیں۔

روشن خیالی ایک فکری تحریک ہے۔ یہ تحریک اٹھارویں صدی میں مغرب ، خصوصاً یورپ اور شمالی امریکہ میں ابھر کر سامنے آئی۔ اس تحریک کے بنیادی نکات میں انسانی حقوق، رواداری، فکری آزادی، عقل و سائنس پر بھروسہ کرناشامل ہیں۔ اس تحریک نے دلیل پر بھروسہ کرنے کا پرچار کیا۔ سیاسی اور سماجی مسائل کا حل سائنس اور عقل کی روشنی میں تلاش کرنے کی وکالت کی۔ شاہی نظاموں اور مطلق العنان حکومتوں کی مخالفت کی۔ اس تحریک نے منظم مذہب اور توہم پرستی پر بھر پور تنقید کی۔ مغربی دنیا میں آزاد خیال جمہوریتوں کے قیام کی جہدو جہد میں اس تحریک نے ہر محاذ پر ایک فکری اور عملی حصہ ڈالا۔ 

فکری محاذپر آئزک نیوٹن اور جان لاک جیسے انگریز دانشوروں کا اس میں بڑا حصہ تھا۔ دلیل کی یہ روشنی پھیلانے کا یہ بیڑا فرانسیسی محاذ پر والٹئیر جیسے لوگوں نے اٹھارکھا تھا۔روشن خیالی کے ایک بڑے پرچارک ایمیونل کانٹ نے اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں اس کی لاجواب تعریف کی۔ بقول اس کے روشن خیالی انسان کا اس کی خود آوردا خام خیالی سے باہر نکلنے کا نام ہے۔ نادانی یا خام خیالی ایک انسان کی دوسروں کی مدد یا رہنمائی کے بغیر اپنی فہم و فراست کو نہ استعمال کر نے کا نام ہے۔ خام خیالی اس وقت خود آوردا یعنی خود پر عائد کردہ ہوتی ہے ، جب انسان میں فہم کمی نہیں ہوتی، بلکہ اس میں دوسرے کی مدد یا رہنمائی کے بغیر قدم اٹھانے کے لیے ہمت اور حوصلے کی کمی ہوتی ہے۔ 

دوسروں کی رہنمائی اور حکم کے بغیر اپنی عقل و فہم کو استعمال نہ کرنے کے عمل کو کانٹ اتھارٹی، مذہبی و سیاسی رہنماؤں یا حکمران طبقات کے مفاد میں قرار دیتا ہے۔ اس کے خیال میں خام خیالی یا نادانی کو پختگی اور بالیدگی تک پہنچانے کے لیے آزادی کی ضرورت ہے۔ اور آزادی ہی وہ چیز ہے جس کی سماج میں کمی ہے۔ بنیادی طور پر سماج میں موجود ہر مسئلے کے بارے میں دلیل کے کھلے عام استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔

لیکن ہمارے ارد گرد سب کچھ اس کے بر عکس ہے۔ ما لک مزدور کو کہتا ہے بحث نہ کرو، کام کرو۔ انکم ٹیکس والے کہتے ہیں دلیل نہیں ، ٹیکس دو۔ پادری یا مُلا کہتا ہے بحث نہیں، ایمان لاؤ۔ ڈائٹیروٹ نے اس مو ضوع پر مشہور انسائکلو پیڈیامیں لکھا تھا کہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان ہمیشہ فطرت، سماج اور مذہب کے قوانین کے تحت رہا ہے۔ لیکن انسان نے ان تینوں کی خلاف ورزی کی ہے ، کیونکہ ان تینوں میں کبھی ہم آہنگی نہیں رہی اور نہ ہو سکتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں کبھی کوئی سچا انسان، کوئی سچا شہری اور کوئی سچا مومن نہیں پیدا ہوا۔ 

تاریخی اعتبار سے روشن خیالی ایک تخلیقی اور اصلاحی تحریک تھی ، اور اس کی بنیاد آزادی تھی۔ تاریخ میں روشن خیالی کے ہمدردوں اور دشمنوں کی کمی نہیں رہی۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد انسانی تاریخ کے بیشترڈروانے واقعات ان لوگوں کے ہاتھوں رونما ہوئے جو روشن خیالی کے دشمن تھے۔ جدید دور میں روشن خیالی کونازی ازم اور سٹالن ازم سے بھی واسطہ پڑا۔ اس نے جدید رومانیت پسندی کے نظریات اور اس کے بطن سے ابھرنے والی قوم پرستی،نسل پرستی کی تحریکوں کا بھی مقابلہ کیا۔ جنگ باز اور یک حذبی قوتوں کو دیکھا جو اسی طرز کی مطلق العنانیت بحال کرنا چاہتے تھے، جو ایک زمانے میں چرچ اور شہنشائیت نے قائم کر رکھی تھی۔ اور اس طرح روشن خیالی ہمارے دور تک پہنچی۔

ہمارے دور میں پاکستان میں روشن خیالی کو ان لوگوں کی مخالفت کا سامنا ہے، جو سیاسی اور مذہبی حثیت کے حامل ہیں، او ریہ لوگ اپنی اس اس حیثیت کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں یہ لوگ مذہب یا سیاست کی وجہ سے مراعات یافتہ ہیں۔ وہ یا تو ان مراعات کو برقراررکھنا چاہتے ہیں یا ان میں اضافے کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ یہ روشن خیالی کو اپنا بڑا دشمن تصور کرتے ہیں۔

اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ روشن خیالی طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتی ہے۔ اور دوسرا یہ ان رسم و رواج اور مذہبی تصورات کو چلنج کرتی ہے جو ان مراعات یافتہ طبقات کی مراعات کاباعث ہیں۔ یہ عوام کو رجعت پسندوں کی رومانیت پسندی اور خیالی دنیاسے نکال کر عقل اور سائنس پرمبنی طرز فکر اور طرز عمل کی دعوت دیتی ہے، اور ان کو اس دھوکے اور فریب سے بچانا چاہتی ہے جو پاکستان میں مذہب کے نام پر بار بار ان سے ہوتا رہاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *