جموں کشمیر ریاست ،قوم اورپرچم اور ابہام

آفتاب احمد

حال ہی میں ایک ہمارے ایک ساتھی کی تحریر نظروں سے گزری جس کا عنوان ہے ،ریاستی پرچم حقیقت کیا افسانہ کیا؟

اس حوالے سے ہم نے ایک تفصیلی تحریر دی تھی جس کا عنوان تھا جموں کشمیر میں پرچم کی بحث جس کا کسی سطح پر جواب نہیں ملاجو ہماری غلط فہمی دور کر سکے ۔اس تحریر میں ہم نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایک پرچم مہاراجہ کی ریاست کا نمائندہ ہے اور دوسرا پاکستان کی گماشتہ ریاست کا پرچم ہے ۔اس لیے ان میں سے کوئی بھی عوام کے لیے مقدس نہیں ہے ،ٍ۔عوام کی ریاست کا پرچم عوام خودتشکیل دے گی۔

موصوف لکھتے ہیں کہ پرچم تاریخی وقار اور شناخت کی علامت ہوتے ہیں۔ریاست جموں کشمیر کا 1947تک ایک ہی پر چم رہا ہے ۔پرچم ہمیشہ ممالک کے نمائندے ہوتے ہیں حکمرانوں کے نہیں۔
ہمارا سوال ہے کہ ریاست ہے کیا چیز؟کیا وہ کسی طبقے کی نمائندہ ہوتی ہے کہ نہیں؟اگر کسی طبقے کی نمائندہ ہوتی ہے تو وہ پرچم تو اسی طبقے کی ریاست کا نمائندہ ہوگا؟پھر آپ کو ریاست کے بالادست حکمران طبقہ سے محبت کیوں ہے اور عوام سے نفرت کیوں ہے؟کیا آپ کے نزدیک عوام کوئی بے جان چیز ہیں ؟

پھر آپ کے پاس تاریخ کو ماپنے کا پیمانہ کونسا ہے ؟آپ کے نزدیک تاریخ حکمرانوں کے قصے کہانیوں کا نام ہے؟تاریخ ہے کیا ؟ کیا جموں کشمیر ایک ویلفیر سٹیٹ تھی،اس میں طبقاتی تقسیم اور جبر نہیں تھا ؟آپ جس سائنس سے تاریخ کو ماپتے ہیں اس سائنس کی تو وضاحت کردیں؟ورنہ آنے والے وقت میں سردار ابراہیم خان ،سردار عبدلقیوم خان ،بیرسٹر سلطان محمود ،راجہ فاروق حیدر اور دیگر گماشتوں کے خلاف بات کرنا بھی تو گناہ ہوگی۔لہذا آپ تاریخ کو کس سائنس سے ماپتے ہیں؟

جس کا جواب یہ ہے ریاست ہمیشہ کسی نہ کسی حکمران طبقہ کی نمائندہ ہوتی ہے ۔اگر عوام حکمران ہیں تو عوام کی نمائندہ ہوگی اور بالادست حکمران ہیں تو بالادست حکمران طبقہ کی نمائندہ ہوگی۔اس لیے ان کی یہ دلیل بالکل غلط ہے کہ 1947تک ریاست جموں کشمیر کسی حکمران طبقہ کی نمائندہ نہیں تھی ۔اس لیے 1947تک کا پرچم مہاراجہ حکمران کی ریاست کا نمائندہ پرچم تھا جس کا 95فیصد کچلے ہوئے ہوئے عوام کے نزدیک کوئی تقدس نہیں ہے۔

اب ان کے مطابق ریاست کے عوام کا وقار دیکھ لیتے ہیں تو مہاراجہ اس ریاست کا جاگیردار حکمران تھا جس نے طاقت کے بل بوتے اور برطانوی سامراج کی خدمت گزاری سے جموں کے علاوہ باقی علاقوں کو بھی اپنی ریاست میں شامل کر لیا تھا ۔اس ریاست میں مہاراجہ بادشاہ تھا اور عوام مزارع تھے ۔جن کے پاس کسی قسم کی بنیادی حقوق نہیں تھے ۔اور عوام بنیادی حقوق کے لیے مہاراجہ کے خلاف جدوجہد میں مصروف تھے۔جو اصلات ہوئیں وہ عوامی احتجاج اور دباؤ کے باعث ہوئیں۔

پسماندہ سیاسی شعور کے باعث کئی مسلمانوں کی انجمنیں بنا کر کئی ہندووں کی انجمنیں بنا کر یا کئیں قبیلائی انجمنیں بنا کر خودرو تحریکیں چلا رہے تھے جاگیردارانہ ظرز پیداوار میں قبیلا ،قرقہ ،علاقہ یہی انجمنیں ہوتی ہیں ۔تا وقتیکہ نظریاتی شعور بلند نہ ہو ۔یعنی عوام کی شناخت و وقار بدترین درجے کے شہری کی تھی جبکہ حکمران اور مراعات یافتہ لوگوں کی شناخت و وقار تھا ۔جبکہ 95فیصد عوام کا کوئی شناخت اور وقار نہیں تھا۔سو اس پرچم کو کسی صورتحال جموں کشمیر کے عوام کی شناخت و وقار کی علامت نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔

دوسری بات کہ 1846سے لیکر 15اگست 1947 تک کبھی جموں کشمیر کو ایک آزاد خودمختار ریاست نہیں کہہ سکتے کیونکہ آپ تاج برطانیہ کی عمل داری میں تھے ۔تقسیم ہند کے اطلاق کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں کہ15اگست سے 22اکتوبر تک ایک خود مختار ریاست رہے جس میں آپ برطانیہ کی نوآبادی یا نیم نو آبادی نہیں تھے ۔جب تک پاکستان حملہ کرتا ۔لیکن اندرونی طور لوگوں میں بے چینی،نفرت اور بیزاری موجود تھی مہاراجہ حکومت کے خلاف اس کا برملا اظہار کررہے تھے ۔ جس سے نیشنل کانفرنس کے گماشتہ شیخ عبداللہ اور مسلم لیگ کے گماشتہ غلام عباس ،سردارمحمد ابراہیم خان اور دیگر نے اپنے اپنے حق میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔یہ اقتدار اعلیٰ کی لڑائی تھی جبکہ یہ اندرونی طور پر 95فیصد کچلے ہوے عوام کی لڑائی تھی ۔جس کی کوئی فکری سمتیں واضح نہیں تھیں ۔

پھر ہم جب تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں دیکھنا پڑتا ہے کہ اس ریاست میں کشمیری قوم کے علاوہ ڈوگری،کشتواڑی،لداخی،بلتی،بروششکی،شینا اور پونچھی بھی آباد تھے ۔ان آٹھ میں آج بھی صرف ایک کشمیری قوم کے درجے پر فائز ہیں ۔باقی ابھی تک پسماندگی کی وجہ سے قومیت میں ہی کھڑے ہیں ۔پھر 1846کے معاہدے کے بعد مہاراجہ نے کسی کی مشاورت سے اس ریاست کا نام ریاست جموں کشمیر رکھا ۔انہوں نے اس کانام کشمیر ہی کیوں نہیں رکھا ۔جو اس وقت ایک قوم تھے ۔جو ترقی کے اگلے مرحلے پر کھڑے تھے ۔جموں کشمیر اس نے اپنی جاگیردارانہ ذہنیت اور بالادستی کی وجہ سے رکھا تھا ۔اگر وہ سماجی ارتقاء سے واقف ہوتے تو کبھی جموں کشمیر نام نہیں رکھتے ۔

آپ شیخ عبداللہ کی کتاب پڑھ کے دیکھ لیجیے وہ واضح لکھتے ہیں کہ مہاراجہ حکومت نے شال بافی کی صنعت پر شدید ٹیکس لگائے ،یہاں تک کہ شالبافی کے شعبہ سے وابستہ مزدوروں پر پابندی لگا دی گئی تھی کہ وہ دوسری کسی جگہ مزدوری نہیں کرسکتے ۔شالبافی سے ٹیکس کے حصول کے لیے باقاعد ایک شال باف(شالباغ بھی ہوسکتا ہے ) نام کا محکمہ قائم کررکھا تھا ۔اس کے خلاف کشمیری شالبافی سے وابستہ افراد کا احتجاج بنیادی طور پر درست تھا ۔وہ ریاست کے جبر یعنی حق کے لیے آواز بلند کررہے تھے ۔

پھر آپ جموں کا رونا تو بہت روتے ہیں اس کشمیری قوم کو کیوں بالکل نظر انداز کردیتے ہیں جس کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے ۔قومیں ایک دن میں نہیں بنتی ہیں اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ایک ریاست میں ایک ہی قوم نہیں آباد ہوتی ہے ۔مختلف قومیں آباد ہوتی ہیں ۔اگر مہاراجہ جموں کا ڈوگرہ تھا توکشمیر کو قبضہ میں لے لیتا ہے اور طاقت کی بنیاد پر حکمران بن جاتا ہے تو کشمیریوں کی مزاحمت اس کے خلاف کیوں غلط ہے ۔بلکہ بزاز صاحب کی کتاب پڑھیے اس میں بھی واضح لکھا ہوا کہ آخر میں مہاراجہ واپس اپنے وطن جموں چلے گئے ۔اس کا مطلب یہی ہے کہ مہاراجہ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر کشمیر کو اپنی جاگیردار ریاست میں شامل کیا تھا اور اسے کشمیری نہیں مانا جاتا تھا وہ کشمیر ی تھا بھی نہیں۔

آپ کے موقف کو ہی درست مان لیں تو بتائیے نا کہ اس نے اس کا نام جموں کشمیر کس کی مشاورت سے رکھا ۔کیوں رکھا ۔جو آج تک کی نسل کو جموں اور کشمیر کے تعصب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
دوسری بات یاد رکھیں کہ ریاستیں ہمیشہ سماج کے اندر سے ہی تشکیل پاتی ہیں اوپر سے نازل نہیں ہوتیں اور اگر عوام تشکیل دیتے ہیں تو اس ریاست کا پرچم عوامی ریاست کا پر چم ہوتا ہے۔اگر بالادست حکمران تشکیل دیتے ہیں تو وہ ریاست حکمران کی نمائندہ ہوتی ہے اور اس کا پرچم اسی ریاست یعنی استحصالی ریاست کا نمائندہ ہوتا ہے ۔سو ریااست کوئی مقدس اور بالا چیز نہیں ہوتی ہے جو اوپر سے نازل ہوئی ہو۔

اب آزادکشمیر کے پرچم کی بات ہے تو پاکستان جیسی جاگیردار ریاست کی گماشتہ آزادکشمیر ریاست کا نمائندہ پرچم ہے ۔سو ہم آپ کو تجویز دیں گئے کہ آپ جن جن سیاسی پلیٹ فارم سے منسلک ہیں سب پہلے اپنے اپنے پلیٹ فارم کے پرچموں کی تفصیل تو لکھیے ان کے سیاسی پروگراموں کی تو وضاحت تو کیجیے ۔اور یاد رکھیے کہ چیزیں آگے بڑھتی ہیں پیچھے نہیں جاتیں۔تاریخ کی قوت محرکہ عوام ہوتے ہیں حکمران نہیں ۔

سو تقدیر پرستانہ رحجانات سے نکل کر سماج کی حرکت اور مبینہ راستوں کو زیر بحث لائیے ۔یہ ہم آپ کو گارنٹی دیتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر میں بسنے والی کشمیری قوم اور قومیتیں درست راستہ اختیار کریں گی ۔آپ کے ذہن میں مستقبل کے کشمیر کا نقشہ کیاہے ۔چلیں یاآپ کی جوخواہش ہے وہ کشمیر کیا ہے اس میں کشمیری قوم اور قومییوں کے لیے آپ کے ذہن میں کیا منصوبہ ہے کیونکہ ایک بات ثابت ہوچکی کہ مہاراجہ کے جموں کشمیر میں عوام مطمئن نہیں تھے اور ان کی شعوری پسماندگی تنظیمی فقدان کی وجہ سے وہ پہلے صرف مہاراجہ کی طبقاتی غلامی کا شکا ر تھے لیکن اب اپنی کم علمی کے باعث قومی غلام بھی بن چکے ہیں۔آپ کے پاس اس دوہری غلامی سے نجات کا کیا کیا پروگرام ہے ۔

2 Comments

  1. masood ul haq says:

    شکریہ کامریڈ
    بہت سارے کنفیویژن اپ نے دور کر دئیے

  2. Bint e Farooq says:

    Welldone sir bohut he umda tahreer ha. Reasat kashmir ki history ko samjhay begar iss k mustaqbil k baray ma bat kerna munasib nahin huga.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *