سری نامہ

ڈی اصغر 

جتنے منہ اتنی باتیں، جسے دیکھیے اپنی اپنی مار رہا ہے۔ بھائی میرے اب تک تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ یہ ہمارے لکھاری، دانشور، تجزیہ نگار  ایسا ماتم  کر رہے ہیں، جانے کیا ہو گیا۔   جب کہ  فیض آباد دھرنے کے کامیاب اختتام پر اس مملکت خداداد کو ایک بہت بڑے، پھر کہتا ہوں،   بہت بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔( خدا کے لئے میرا یقین کریں، یہ سچ ہے، کم از کم خبریں پڑھنے والوں کا تو اعتبار کریں، ان بے چاروں کے گلے خشک ہو گیے  یہ خوش خبری بتا بتا کر۔ 

اب آپ ہی بتائیے اس میں بھلا مجاہدین کا کیا قصور۔ ہاں جی ایک تو نون لیگ  والے باریک کام کر جائیں۔ انگریزی میں ایک حلف نامہ ہےجس میں

کی جگہ I solemnly swear

 کردیاI hereby declare 

او ظالمو ہر پارلیمان کے ممبر کو ایک انگریزی کی ڈکشنری بھی نہ دی۔ اگر وہ مشکل تھا تو گوگل کے پرنٹ آوٹ ہی نکال لیتے ان دونوں الفاظ کے اور چسپاں کرتے اس حلف نامے پر۔ مگر جی ہر کام میں ڈنڈی مارنا تو کوئی ان سے سیکھے۔ 

اس پر ظلم یہ کہ جب بڑے بڑے جید علما نے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا  تو یہ حسب روایت ٹال  مٹول اور غچہ دینے سے باز نہ آئے۔ تنگ آکر ایمان والوں کا قافلہ لاہور سے چلا، یہ تو نہیں کہ انھوں نے کوئی بھیس بدلا تھا۔ ڈنکے کی چوٹ پر نکلے تھے۔ پھر جب فیض آباد کے مقام پر پڑاو ڈالا تو سب دنیا کو بتا دیا۔ مگر مجال ہے جو بکاؤ میڈیا نے کوئی توجہ دی ہو۔ جب ان کے شہزادے نے126 دن تک اس دارالحکومت کو یرغمال بنائے رکھا تو یہ ہر لمحے کیمرہ تانے اس کی سب  ادائیں، بڑکیں، ناچ گانے دکھاتے  رہتے تھے۔ ان کو اس وقت نہ کوئی شرم آتی تھی نہ حیا۔

 اب امیرالمجاہدین کے کاندھوں پر اتنی گہری ذمے داری تھی۔ انہیں اپنے ساتھیوں کو چارج رکھنا تھا۔ بھلا ہو فیس بک کا کہ جواس کے ذریعے  خطبات لوگوں تک پہنچ پائے۔ پتا نہیں کیا مسئلہ ہے لوگوں کو، سری پائے شوق سے کھا سکتے ہیں مگر خدا جانے ان ٹیڈی بچوں اور برگر آنٹیوں کو پین  دی سری سے کیا مسئلہ ہے۔

 ایک وہ وزیر داخلہ تھا، جب اس کو کہہ دیا  گیا تھا کہ بھائی تو استعفیٰ  لا وزیر قانون کا اور رولا مکا۔  مگر وہ بھی ایسا اڑے کہ باز نہ آئے۔ روزجاتے  تڑیاں دینے  ہم یہ کر دیں گے، ہم وہ کر دیں گے۔ ہم چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔ ہم ریاست ہیں ہمارے پاس بے حد طاقت ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب لوگوں کو مشکل ہوئی تواس بکاؤ میڈیا نے پھر کوئی تھوڑی بہت توجہ دی اور وہ بھی جھونگے میں۔ 

ہم جاہلوں پر الزام لگاتے رہے کہ جی دیکھیں جی مولوی کیا زبان استعمال کر رہے ہیں۔ خود  سارے انگریزی میں جانے کون سی گالیاں  نکالتے  رہتے ہیں اور اس وقت کچھ نہیں ہوتا۔ عامرلیاقت کو ہی لے لو جی، اس کی ویڈیو تو یو ٹیوب پر ملتی ہے کروڑوں میں اس پر ہٹ ہیں اور تب ان کا اسلام خطرے میں نہیں آیا۔ 

مجاہدوں کے  کھانوں اور دیگوں کو دیکھ دیکھ کر ان سب کا دل للچاتا تھا۔ جناب مولویوں  کا اور  کھانے پینے کا سلسلہ تو ازل سے ہے، آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ آپ کو پیٹ میں کیا مڑوڑ اٹھتے ہیں ۔جناب کون ان کے  لئے کیا بنا کر لا رہا تھا۔  ہیں جی! خوش  خوراکی سے ہی بندے میں ہمت آتی ہے کہ ٢١ دن تک  ڈٹا رہے۔

  پھر جو ان کا وہ آپریشن تھا اتنا  بھونڈا تھا کہ مجاہدوں  نے اس پر قابو پا لیا تو ان لوگوں نے اس کا الزام بھی ان  پر ہی ڈال دیا۔ یہ جو کم بخت میڈیا والے ہیں انھیں نے خوب شور مچایا جی وہ ریاست کی رٹ چیلنج  ہو گئی ہے۔ اوبھیڑیو کون سی رٹ۔ آپ پولیس کو لائے۔  مجاہد اپنے بندے لائے۔ آپ کی پولیس کے پاس ڈنڈے ان کے  پاس بھی ڈنڈے۔ آپ کی پولیس کے پاس آنسو گیس ان کے پاس  گیس ماسک۔ اگر وہ  تیاری کر کے آئے  تو کیا یہ ان کی غلطی۔ 

پھر یہ کہتے ہیں اچانک کوئی 1000 کے قریب لوگ آ گئے اور ان کے پاس سب تیاری تھی۔ او ویر جی ایک انگریزی کا لفظ ہوتا ہے پلاننگ۔ آپ لوگ وہ ککھ  کر کے نہیں آئے تھے اور سوچ یہ رہے تھے کہ مجاہد لیٹ جائیں گے۔ نہ جی ایسا ممکن ہی نہ تھا۔ فرشتے ان کی  مدد کر رہے تھے۔ آپ  کو اگر فرشتوں پر یقین نہیں تو اس میں ان کا  کیا قصور۔ پھر جو دھلائی ہوئی ہے تو پھر عقل آئی ان  کی ٹھکانے۔ پھر کسی عقل مند نے ان کو مشورہ دیا کہ بس کرو کٹ کافی لگ چکی ہے اور معاملے کو افہام اور تفہیم سے سلجھاؤ۔ پھر ان کو اس وقت پتہ چلا جب وڈے صاحب نے  ان کی لی ہے کلاس۔ پھر یہ سارے آئے  آنے والی تھان تے۔ 

اب جی یہ ٹی وی والے لگے ہوئے ہیں، تبصرے پر تبصرہ۔ ایسا کیوں ہوا ویسا کیوں ہوا۔ جو ہوا جی دن کی روشنی میں ہوا۔  سب کے سامنے ہوا۔ کاغذ آپ کے سامنے ہے۔ معاہدہ ہے جی۔ آپ لوگوں کو دراصل جی مولویوں سے خوف آتا ہے۔ لو جی آگئے ہیں جی، قومی دھارے میں۔ ووٹ بھی لیں گے، اسمبلی میں بھی جائیں گے۔ساتھ ساتھ لوگوں کے ایمان کی چیکنگ بھی کریں  گے اور سب کو اپنے ٹائپ کا مسلمان بھی بنائیں گے۔  وہ کیا کہتی ہے نواز شریف کی دھی رانی، ہاں جی۔۔۔روک سکو تو روک لو۔ 

(قارئین،  خیال رہے کہ یہ ایک طنزیہ مضمون ہے، راقم کا مقصد چند قابل غور مسائل کو اس طرز سے اجاگر کرنا ہے۔ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *