ایوب کتا ہائے ہائے سے سقوط پاکستان تک کا سفر

اسلام مرزا

کہا جاتا ہے کہ جب بچوں نے ایوب خان کو کتا کہا تو اس نے غیرت کی وجہ سے استعفیٰ دےدیا۔ کیا ایوب واقعی ایک غیرتمند شخص تھا کہ جو لفظ وہ اپنی رعایا کے لئے استعمال کرتا تھا جب یہی لفظ اس کے لئے استعمال کیا گیا تو اس نے غیرت کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا۔ نہیں۔ تاریخ کچھ اور ہی کہتی ہے۔

ایوب خان 1965 تک ایک بینوویلینٹ ڈکٹیٹر کے طور پر خاصا اعتماد اور عزت حاصل کرچکا تھا۔ اسی اعتماد کے بل بوتے پر اس نے بطور صدر اپنی دوسری مدت کے لئے انتخابات کا اعلان کیا۔ جس کی بنیاد ون مین ون ووٹ کی بجائے بنیادی جمہوریت تھی۔ چنانچہ آبادی کے واضع فرق کے باوجود ملک کے دونوں حصوں سے چالیس چالیس ہزار ممبر منتخب ہونے تھے جو فیصلہ کرتے کہ ملک میں آئیندہ صدر کون ہوگا۔ ایوب خان سے جان چھڑانے کے لئے ایوب کی مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے ایک سنہری موقع تھا۔ چنانچہ ان جماعتوں نے متفقہ طور پر محترمہ فاطمہ جناح کو بطور صدارتی امیدوار میدان میں اتار دیا۔

دھاندلی کی وجہ سے ایوب خان کے نمائندوں نے اکثریت تو حاصل کرلی مگر ملک میں مجموعی طور پر محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کی نسبت زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ اگر ملک کے دونوں حصوں میں برابری کی بجائے آبادی کے تناسب سے ممبروں کا انتخاب ہوتا تو محترمہ فاطمہ جناح کو اکثریت حاصل ہوتی۔ آبادی کی بجائے برابری کی بنیاد پر انتخاب جیتنے کو مشرقی پاکستانیوں نے اپنا استحصال سمجھا جس سے بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر انتخابات کے کچھ ہی عرصہ بعد 1965 کی جنگ چھڑ گئی جس نے ایوب خان کو کسی فوری رد عمل سے بچا لیا۔

پاکستان نے جنگ جیتی یا ہاری مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کنگلا ہوگیا۔ ملک میں غذائی قلت پیدا ہوگئی۔ انہی دنوں ایک سائنسدان کی سولہ سالہ محنت کے بعد گندم کا ایک نیا بیج مارکیٹ میں آیا جس نے بھارت کو غذائی قلت سے بچا لیا۔ ایک طرف تو بھارت اس سائنسدان کو ملک کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ ’پدم بھوشن‘ دے رہا تھا مگر دوسری طرف پاکستانی وزیر خوراک ملک خدا بخش بچہ (ایک عظیم اور مخلص انسان) ادہار میں بیج کی فراہمی کے لئے خط لکھ رہے تھے۔

صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ عوام کو امریکہ کی طرف سے خیرات میں دی گئی سرخ رنگ کی مکئی کھانے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ مکئی ایک طرف تو بد ذائقہ تھی اور دوسری طرف اسے نگلنا مشکل تھا ۔ اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ایوب خان کو ہی سمجھا جا رہا تھا اور اکثر اوقات یہی کہا جاتا تھا کہ یہ سب ایوب ’کتے‘ کی وجہ سے ہے۔

گو کہ 1962میں بظاہر مارشل لا ختم ہونے کے بعد ملک میں سیاسی جماعتوں پر پابندیاں تو ختم ہو گئیں مگر سیاسی جماعتیں اتنی سرگرم نہیں تھیں۔ مگر طلبا سیاست دن بدن زور پکڑ رہی تھی۔ اور بائیں بازو کی سیاست مضبوط ہو رہی تھی۔ مشرقی پاکستان میں جہاں اس بات پر غصہ تھا کہ جنگ میں انہیں بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا وہیں مکمل صوبائی خود مختاری کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ دوسری طرف مغربی پاکستان میں بائین بازو کے طلبا نے ایوب خان کے ’کرونی ازم‘ کے خلاف محاذ کھول دیا۔

گو کہ فروری 1966 میں عوامی لیگ نے اپنے چھ نکات لاہور کے جلسے میں پیش کردئے تھے اور 1967 کے آخر میں پیپلز پارٹی کا وجود عمل میں آچکا تھا لیکن 1968 کے آخرتک کسی بھی سیاسی پارٹی نے واضح طور پر عوامی مظاہروں میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جبکہ طلبا سرگرم عمل تھے۔ اکتوبر 1968 کے ایک روزفورٹریس سٹیڈیم لاہورمیں ایوب خان کا دس سالہ جشن ترقی منایا جارہا تھا جہاں ترقی پسند طلبا کی بھاری تعداد دروازے توڑ کراندر پہنچ گئی اور ایوب خان کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دئے۔ ایوب خان کے لئے یہ ایک غیر متوقع بات تھی۔ مظاہروں نے زور پکڑا تو نومبر 1968 میں پولیس نے راولپنڈی میں طلبا کی ایک ریلی پر براہ راست گولی چلا دی جس کی وجہ سے تین طلبا جاں بحق ہوگئے۔

طلبا کی شہادت کے بعد تحریک مزید زور پکڑ گئی اور طلبا تنظیموں کا اتحاد عمل میں آیا جس کے مطالبات تھے کہ ملک میں سوشلسٹ معاشی نظام کے تحت پارلیمینٹری جمہوریت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ دسمبر 1968 کے آخر میں پیپلز پاٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ بھی ایوب خان کے خلاف اس تحریک میں شامل ہوگئے اورایوب مخالف تحریک پاکستان کے چھوٹے قصبوں تک بھی پھیل گئی۔ مذہبی جماعتیں بھی تحریک میں اس وجہ سے شامل ہوگئیں کیونکہ وہ ایوب خاں کو سیکولر سمجھتی تھیں۔

اس قسم کے مطالبات جرنیلوں کو قبول نہیں تھے۔ چنانچہ ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایک طرف تو وہ ایوب خان کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے رہے تھے مگر دوسری طرف اس صورتحال سے فائدہ بھی اٹھانا چاہ رہے تھے۔ چنانچہ 25 مارچ 1969 کو اعلان کیا گیا کہ ایوب خان نے ملک کے بہترین مفاد میں استعفیٰ دے دیا ہے اور جنرل یحیٰ خان نے (ملک کے بہترین مفاد میں) اقتدار سنبھال لیا ہے۔ اور ساتھ ہی ملک میں آئین کوبھی منسوخ (معطل نہیں) کردیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اسمبلیاں اور گورنر بھی ختم ہوگئے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنا عرصہ تک کتا کتا کہلوانے کے بعد ایوب خان نے استعفیٰ کس کو پیش کیا؟ اگر ایوب خان نے واقعی استعفیٰ پیش کیا تو آئینی طور پر یہ استعفیٰ سپیکر اسمبلی کو جانا چاہئے تھا جس کے بعد ملک میں مارشل لا لگنے کی بجائے سپیکر نئے صدر کا انتخاب کرواتے۔ آئینی طور پر صدر اپنا استعفیٰ آرمی چیف کو پیش نہیں کرسکتا اس لئے یہ استعفیٰ کا ڈرامہ سراسرجھوٹ ہے جو مسلسل بولا جارہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یحییٰ خان نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایوب خان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی تھی بعد میں اس نے اقتدار کے لیے جو اقدامات اٹھائے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یحییٰ خان کے اندر اقتدار سے چمٹا رہنے کی حوس کتنی شدید تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا یحییٰ خان نے واقعی منتخب نمائیندوں کو اقتدار منتقل کرنے کے لئے مارشل لا لگایا تھا؟

پاکستان کی تاریخ میں 1969 سے 1971ایک ایسا باب ہے جو جھوٹ کی سیاہی سے لکھا گیا اور مسلسل لکھا جارہا ہے۔ یحییٰ خان نے پی سی او جاری کیا جوکہ درحقیقت مارشل لا آرڈر تھا کیونکہ اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا۔ جس میں آئین کو منسوخ کیا گیا تھا۔ ہنگامے ابھی جاری تھے مگر یحییٰ خان نے انہیں طاقت سے روکنے کی بجائے سیاستدانوں سے بات چیت کا راستہ اختیار کیا۔ ون یونٹ سے سب سے زیادہ مسئلہ بنگالیوں کو تھا کیونکہ یہ بنا ہی بنگالیوں کے استحصال کے لئے تھا۔

چنانچہ مجیب سے فون پر بات کرنے کے بعد نہ صرف اس نے ون یونٹ ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ سرکاری ملازمتوں میں آبادی کے تناسب سے حصہ دینے کی پالیسی بھی دے دی اس کے علاوہ طلباء کو خوش کرنے کے لئے رعائتی سفر اور سینما ٹکٹوں پر ڈسکاؤنٹ کا بھی اعلان کردیا جس کے بعد طلباء نے یحییٰ کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگائے۔مغربی پاکستان میں ون یونٹ کا خاتمہ 1970 کے شروع میں

Province of West Pakistan (Dissolution) Order, 1970

کے تحت ہوا۔ اب آئین کی بحالی کا مسئلہ تھا جس پر سیاستدانوں کی اکثریت اس حق میں تھی کہ 1956 کا آئین بحال کردیا جائے مگر مجیب راضی نہیں تھا۔ 
یحییٰ خان ایک قابل فوجی افسر تھا مگر آئینی معاملات اس کے بس سے باہر تھے۔ چنانچہ اس نے آئین کا بنیادی ڈھانچہ وضع کرنے کا کام شریف الدین پیر زادہ قسم کے آئینی گرگوں کے حوالے کردیا اسی دوران اس نے اپنی چھ رکنی کابینہ تشکیل دی جس میں نوابزادہ شیر علی خان کو تعلیم اور اطلاعات کی وزارت کا قلم دان سونپا گیا جس کی وجہ سے میاں طفیل محمد اور جماعت اسلامی کو اقتدار کے قریب آنے کا موقع ملا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دینیات کو اسلامیات میں تبدیل کر دیا گیا جس کی وجہ سے نصاب میں شیعہ سنی کا مسئلہ بن گیا۔


وعدے کے مطابق انتخابات 1970 میں ہونے تھے چنانچہ 30 مارچ 1970 کو انتخابات کا طریقہ طے کرنے کے لئے27 آرٹیکلز پر مشتمل لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا گیا جس میں تین ضمنیاں شامل تھیں۔ ذیل میں متعلقہ آرٹیکلز کا خلاصہ پیش ہے۔
قانونی اصطلاحات کی تشریح اورانتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت اور دوسری شرائط طے کرنے کے بعد نشستوں کی تقسیم کا ذکر تھا جو کہ اس طرح تھا۔
قومی اسمبلی کا انتخاب 5 اکتوبر 1970اوربعد ازاں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 22 اکتوبر 1970 سے پہلے ہونے طے پائے۔
آرٹیکل (4) قومی اسمبلی
مشرقی پاکستان ،عمومی نشستیں 162، خواتین کی خصوصی نشستیں 7
پنجاب ، عمومی نشستیں 82، خواتین کی خصوصی نشستیں 3
سندھ،عمومی نشستیں 27 خواتین کی خصوصی نشستیں 1
بلوچستان، عمومی نشستیں 4، خواتین کی خصوصی نشستیں 1
شمال مغربی سرحدی صوبہ، عمومی نشستیں 18، خواتین کی خصوصی نشستیں 1
قبائلی علاقہ جات، عمومی نشستیں 7
ٹوٹل، 313
آرٹیکل 14
انتخابات کے سرکاری نتائج کے بعد یہ صدر کی صوابدید پر ہے کہ وہ کب اسمبلی کا اجلاس بلائے۔(کوئی طے شدہ تاریخ کا ذکر آرڈر میں نہیں تھا۔
آرٹیکل 16
اسمبلی کا پہلا اجلاس الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہوگا جس میں ممبران سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کریں گے۔ اور حلف اٹھائے جائیں گے حلف کی عبارت آرڈر کے ساتھ منسلک تھی۔ حلف اٹھانے کے بعد اسمبلی آئین بنانے کے کام میں جت جائے گی۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ پورے لیگل فریم ورک آرڈر میں کسی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دینے یا قائد ایوان (وزیراعظم) منتخب کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
آرٹیکل 24
قومی اسمبلی 120 دن کے اندر آئین کا بل پاس کرے گی اور یہ وقت پہلے اجلاس میں سپیکر کے اتخاب سے شروع ہوگا اور اگر اسمبلی 120 دن میں آئین نہ بنا سکی تو خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔ اس کے بعد آرٹیکل 25 کے مطابق آئینی بل تصدیق کے لئے صدر کے پاس جائے گا۔ اگر بل صدر کو پسند نہ آیا تو بل کی نامنظوری کے ساتھ ساتھ اسمبلی بھی تحلیل ہوجائے گی۔ جسے آرٹیکل 18کے تحت کسی عدالت میں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
آرٹیکل 23 کے مطابق آئین ساز اسمبلی یہ بھی طے کرے گی کہ پاکستان کی پہلی مقننہ ایک ایوان یا پھر ایوان زیریں اور ایوان بالا پر مشتمل ہوگی۔ یہ آرٹیکل اپنے اندر ابہام رکھتا ہے کہ آیا وہی آئین ساز اسمبلی قانون ساز اسمبلی میں تبدیل ہوجائے گی یا پھر پہلی قانون ساز اسمبلی بعد میں منتخب ہوگی۔

سنہ 1973 میں آئین منظور ہونے کے بعد جمارت اسلامی نے اسی آرٹیکل کا سہارا لیتے ہوئے شور مچایا تھا کہ آئین بن گیا تو اب آئین ساز اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کروائے جائیں۔ شائد جماعت اسلامی کا موقف ٹھیک ہی تھا کیونکہ وہ لیگل فریم ورک آرڈر میں آرٹیکل 21 کے ذریعے پوری طرح گھسی ہوئی تھی۔ 
لیگل فریم ورک آرڈر میں آئین کا بنیادی ڈھانچہ بھی طے کیا گیا تھا جس سے انحراف کا نتیجہ اسمبلی کی تحلیل ہوتا
آرٹیکل 20
آئین مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا جائے گا
۔(1) پاکستان ایک فیڈرل ری پبلک ہوگا جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں صوبوں اور دیگر خطوں جو اب ہیں اور یہاں پاکستان میں شامل ہونے کے بعد یہاں وفاق میں اتنا اتحاد ہوگا کہ آزادی، علاقائی سالمیت اور پاکستان کی قومی یکجہتی یقینی بنائی جائے گی اور وفاقی اتحاد کو کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا
۔(2) (ا) اسلامی نظریہ جوکہ پاکستان کی تخلیق کا بنیاد ہےاس کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور
۔(ب) ریاست کا سربراہ مسلمان ہوگا۔
۔(3) (ا) جمہوریہ کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایک طے شدہ وقفے کے بعد آبادی اور بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پرقومی اور صوبائی انتخابات ہوتے رہیں
۔(ب) شہریوں کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھا جائے گا اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی انصاف کی فراہمی کے معاملے میں عدلیہ کی آزادی اور بنیادی حقوق کے نفاذ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ 
۔(4) اختیارات کو متناسب طریقے سے صوبوں اور مرکز کے درمیان تقسیم میں صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے گی جس میں قانون سازی اور مالی معاملات اور ٹیکس کا نظام البتہ مرکز کے پاس ان اختیارات کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی اور خارجی معاملات کے ساتھ ساتھ ملکی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داری بھی ہوگی۔
۔(5) یہ یقینی بنایا جائے گا کہ
۔(الف) پاکستان کے تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ملکی معاملات میں حصہ لے سکیں، اور
۔(ب) ایک طے شدہ مخصوص مدت کے اندر ملک کے تمام علاقوں کے مابین سماجی اور معاشی تفاوت ختم کردیا جائے گا۔
آئین کا دیباچہ
آرٹیکل 21
آئین کے دیباچے میں یہ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ 
۔(1) پاکستان کے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں، تاکہ اپنی زندگی کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دیں جیسا کہ قرآن کریم اور سنت میں ہے. اور
۔(2) اقلیتوں کو آزادانہ طور پر اپنا عقیدہ رکھنے اور اس پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ بطور پاکستانی شہری اجماعی قومی سرگرمیوں حصہ لینے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ 
ہدایات کے اصول
آرٹیکل 22،اس آئین کو ریاستی پالیسی طے کرنا ہوگی کہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہ کیا جائے جیسا کہ 
۔(۱) اسلامی طرز زندگی کو فروغ دینا؛
۔(۲) اسلامی اخلاقی معیارات کو مقدم جاننا؛
۔(۳) پاکستان میں قرآن کریم اور اسلامیات کی تدریس کے لئے سہولیات فراہم کرنا۔؛ اور 
اور
۔(۴) اسلام کی تعلیمات اور ضروریات کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔
بعد میں ہونے والی ساری مجیب ، بھٹو سیاسی کشمکش اسی لیگل فریم ورک کا نتیجہ تھی جس کا ذکر کیا جائے گا۔
(
جاری ہے)

2 Comments

  1. اچھا موضوع اورمضمون ہے۔
    ایک جگہ پڑھا تھا کہ ایوب خان سے کسی نے پوچھا کہ لوگ آپ کوکتا کہہ رہےہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ خود ہی اندازہ کرلو جس قوم کا سربراہ ایک کتا ہو وہ قوم کون ہوسکتی ہے۔

  2. Excellent. Looking forward to the next part.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *