ایران کی چابہار بندرگاہ ، انڈیا کی سرمایہ کاری، کتنی سودمند ثابت ہو تی ہے؟؟ ؟

آصف جاوید

ایران کے صدر حسن روحانی نے اتوار 3 دسمبر 2017ء کو چابہار بندرگاہ ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا افتتاح گذشتہ سال مئی میں اس وقت کیا گیا تھا ، جب انڈیا، ایران اور افغانستان نے چابہار کی بندرگاہ سے زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیاء تک رسائی کے لئے ایک بین الاقوامی راہداری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستیں لینڈلاک ممالک ہیں۔ ان کو اپنی تجارت کے لئے کسی سمندر تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ چابہار کی بندرگاہ کے راستے سے انڈیا کو افغانستان، ایران کے علاوہ، وسط ایشیائی ریاستوں، روس ، اور ترکی اور یورپ تک زمینی رسائی مل سکتی ہے۔ اور تجارتی سامان کے کنٹینرز ان ممالک کی منڈیوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔

چابہار کا محلِ وقوع بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بحیرہ عرب میں اگر پاکستان سے مغرب میں ایران کی جانب چلیں تو گوادر بندرگاہ سے صرف 40 ناٹیکل میل یعنی 75 کلومیٹر فاصلے پر ایرانی بندرگاہ، چابہار نظر آنے لگتی ہے۔ 10 ناٹیکل میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے کنٹینر بردار بحری جہاز کے لئے یہ فاصلہ گوادر سے صرف چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ چابہار گہرے گرم پانی کی بندرگاہ ہے، جس سے سارا سال بڑے کنٹینر بردار بحری جہازوں کے ذریعے تجارت ہو سکتی ہے۔

گجرات کی بھارتی بندرگاہ کانڈلہ پورٹ سے صبح کے وقت روانہ ہونے والے کنٹینر بردار بحری جہاز اگلےدن شام کو چابہار کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوسکتے ہیں۔ جہاں سے زمینی راستے کے ذریعے اس سامان کو افغانستان پہنچانے کے لئے تین اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچانے میں آٹھ دن لگ سکتے ہیں ۔

انڈیا ، افغانستان اور وسط ایشیاء کی تجارتی منڈیوں کی اپنی رسائی قائم کرنے ، اپنی تجارت کو فروغ دینے اور افغانستان میں اپنی تجارتی اشیاء کی منڈی اور ٹرانزٹ حب قائم کرنے کے لئے ماضی میں متعدّد دفعہ پاکستان کے زمینی راستے کے ذریعے افغانستان تک رسائی حاصل کرنے کی بے انتہا کوششیں کرچکا ہے۔ مگر اسٹرٹیجک وجوہات اور انڈیا دشمنی کی بناء پر ٹرانزٹ روٹ حاصل کرنے کی انڈیا کی ہر کوشش کو پاکستان نے ناکام بنادیاہے۔ جس کے بعد مجبور ہو کر انڈیا نے ایران سے مل کر چابہار بندرگاہ پروجیکٹ اور متبادل روٹ کے آئیڈیا پر کام شروع کیا۔

ایران کے پاس سمندری تجارت کے لئے بندرعبّاس کی بندرگاہ انتہائی فعال شکل میں پہلے سے موجود ہے۔ چاہ بہار کی بندرگاہ اس وقت ہی فعال کردار ادا کرسکے گی، جب اسے زمینی راستوں اور ریلوے ٹریک کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیاء تک توسیع دیجائے۔ اس مقصد کے لئے ایران نے چابہار کی بندرگاہ کی توسیع اور اضافی برتھوں کی تعمیر کے لئے ایک بلین ڈالر کا فنڈ قائم کیا ہے۔ جس میں انڈیا کی براہِ راست سرمایہ کاری 235 ملین ڈالر ہے، جس سے انڈیا چابہار پر دو آئِل ٹرمینل اور کارگو برتھیں تعمیر کرے گا۔

منصوبے کی تکمیل پر بندرگاہ کی تجارتی سامان کی ہینڈلنگ کی گنجائش سالانہ 85 ملین ٹن کارگو تک بڑھ جائے گی۔ جسے بعد میں 100 ملین ٹن کردیا جائے گا، انڈیا نے بندرگاہ اور ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لئے مجموعی طور پر 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

چین سے بھارت کے صرف سرحدی تنازعات ہی نہیں ہیں ۔ بلکہ چین، بھارت کا تجارتی حریف بھی ہے۔ جب چین اور پاکستان نے گوادر بندرگاہ کو ترقی دینے اور سی پیک منصوبے کا علان کیا تھا ، تو بھارت نے شدید مایوسی کی حالت میں ایران اور افغانستان سے مل کر چابہار بندرگاہ اور زمینی راستے کو ڈویلپ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

سال 2001ء میں چین نے افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں (قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان) کو 500 ملین ڈالر کی مالیت کا تجارتی سامان بھجوایا تھا۔ جبکہ اس سال خطے کو بھارت کی برآمدات صرف 100 ملین ڈالر تھیں۔ 2015ء کے آخر تک چین خطے کو 18 ارب ڈالر کا مال بھجوانے لگا تھا،جبکہ بھارتی برآمدات کی مالیت صرف 950 ملین تک ہی پہنچ سکی تھیں ۔

آج بھی دنیا بھر میں بھارت کے 25 بڑے تجارتی ساتھی ممالک میں وسطی ایشیا کا ایک بھی ملک شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بھارت کو افغانستان اور وسط ایشیاء کو رسائی حاصل نہیں ہے

چابہار بندرگاہ کے منصوبے کے افتتاح پر نریندر مودی نے اسے ’’تاریخ ساز لمحہ‘‘ قرار دیا تھا اور دعویٰ کا تھا کہ چابہار بندرگاہ کی تعمیرسے بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے مابین بے پنا ہ تجارت بڑھ جائےجائے گی۔

سوال یہ ہے کہ اربوں روپے سے تیار ہونے والی چابہار بندرگاہ کیا واقعی بھارت کو معاشی و تجارتی فوائد پہنچا سکے گی؟؟ یا اس کا زیادہ فائدہ براہِ راست ایران ، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو ہوگا؟؟؟

اس سوال کا جواب منصوبے کی مکمّل تکمیل میں ہے ، اس منصوبے کو پہلا خطرہ امریکہ سے ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ، اوباما دور میں ایران کے ساتھ کئے جانے والے جوہری معاہدے کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو بین الاقوامی کمپنیاں ایران سے ساتھ کاروبار نہیں کرسکیں گی۔ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے ایرانی پروجیکٹس کو مکمّل نہیں ہو سکیں گے۔ بندرگاہ کی تعمیر اور توسیعی منصوبہ جات کے دوسرے حصّوں کی تکمیل مشکل میں پڑ جائے گی۔ اس منصوبے کی تکمیل اگر ہو بھی جاتی ہے تو اس منصوبے کا سراسر فائدہ ایران کو پہنچے گا، اور ذیلی فائدہ افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو پہونچے گا۔ بھارت کو صرف رسائی ملے گی۔ مگر رسائی کے باوجود بھارت کے خطرات کم نہیں ہونگے، کیونکہ افغانستان میں طالبان ایک عفریت کا روپ دھار چکے ہیں۔ اور ایک مستقل خطرہ ہیں۔

بھارت کے لئے طالبان سے معاملات طے کرنا ، اس منصوبے کی کامیابی کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کو تجارتی سامان کی ترسیل میں آنے والے اخراجات ، اپنے تجارتی حریف ،چین کے مقابلے میں زیادہ پڑیں گے، کیونکہ بھارت کا تجارتی سامان پہلے زمینی راستوں سے بھارتی بندرگاہوں تک آئے گا ، پھر بحری راستوں سے چابہار کی بندرگاہ تک پہنچے گا، پھر چابہار کی بندرگاہ سے ریل یا سڑک کے ذریعے افغانستان اور وسطِ ایشیاء تک پہنچے گا۔

بھارت کے لئے سامان کی ترسیل کے اخراجات چین سے زیادہ ہونے کی وجہ سے منفی اثر پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سمندری جہاز رانی تجارتی سامان کی ترسیل کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ سمندری جہاز رانی کا خرچ ریل سے سامان بھجوانے کے مقابلے میں تقریبانصف ہوتا ہے۔ مثلاً شنگھائی سے ایک 40 فٹ لمبا چوڑا کنٹینر یورپ بھجوایا جائے تو بحری جہاز اسے 1500 ڈالر خرچ پر لے جاتا ہے ۔جبکہ اسے بذریعہ ریل پہنچانے پر 2500 ڈالر کے اخراجات اٹھ جاتے ہیں۔

گویا سمندری راستہ زمینی راستے کی نسبت خاصا سستا ہے۔ بھارت کے لئے ایران کی بندرگاہ چابہار کے راستے تجارتی سامان افغانستان تک بھجوانا حقیقت میں سود مند ہوگا، مگر یہی مال زمینی راستے سے روس یا یورپ بھجوانا گھاٹے کا سودا ثابت ہوگا، وجہ اس کی یہ ہے کہ زمینی راستے سے انڈیا سے روس بذریعہ ایران مال پہنچانے میں براہِ راست بحری سفر کی بہ نسبت 10 دن زیادہ لگتے ہیں اور خرچ بھی 20 فیصد زیادہ آتا ہے۔ جبکہ بھارت کے لئے ایران کے راستے یورپ تک مال پہنچانا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔

 مثال کے طور پر ممبئی سے ہالینڈ کی بندرگاہ، روٹرڈیم تک ایک بحری جہاز 26 دن میں پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ اس بحری سفر پر وقت اور لاگت چابہار کے مجوّزہ راستے کے مقابلے میں کافی کم آتی ہے۔ دوسری جانب وسط ایشیائی ریاستوں تک یہ سامان بندرعباس کے ذریعے ابھی بھی بھجوایا جارہا ہے۔ وسط ایشیاء تک تجارتی سامان پہنچانے کے اخراجات میں بھارتی تاجروں کو زیادہ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔

کیونکہ ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ، بندر عباس جو کہ چابہار سے صرف 300 ناٹیکل میل دور مغرب کی جانب آبنائے ہرمز میں واقع ہے۔ وہاں سے ایک ریلوے ٹریک سیدھی وسطی ایشیائی ممالک تک جاتی ہے۔ بالفرض چابہار بندرگاہ تعمیر ہو بھی جائے، تو وہاں سے وسطی ایشیا جانے والے بھارتی سامان کو پہلے ریلوے ٹریک کے ذریعے زاہدان تک لایا جائے گا، تاکہ وہ مرکزی ایرانی ریلوے لائن تک پہنچ سکے۔ گویا سفر کی لاگت و وقت مزید بڑھ جائے گا۔

دیکھنا یہ ہے کہ عملی طور پر بھارتی تاجروں و صنعت کاروں پہلی ترجیح کیا ہوگی؟ کمرشل جیوگرافی کےاصولوں کے مطابق اگر بھارتی تاجروں و صنعت کاروں نے بذریعہ ایران اپنا مال وسطی ایشیا مال بھجوانے یا وہاں سے منگوانے کا فیصلہ کیا بھی، تو ان کی پہلی ترجیح چابہار نہیں ہوگی ، بلکہ بندر عباس کی بندرگاہ ہی ہوگی۔ کیونکہ اِ س تجارتی سامان کو بالآخر ریلوے کے مربوط نظام کے ذریعے ہی بندرگاہ سے وسط ایشیاء تک پہنچایا جائے گا۔ جو کہ بندر عباس کے ذریعے پہلے سے موجود اور فعال ہے۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ بھارت کی یہ سرمایہ کاری کتنی سودمند ثابت ہو تی ہے؟؟

One Comment

  1. N.S.Kashghary says:

    زندہ اور بیدار قومیں شارٹ ٹرم مفاد یا وقتی حالات کے تحت ہی نہیں بلکہ لانگ ٹرم (پچاس،سو،دوسو سالہ) پلاننگ کرکے قدم اٹھاتی ہیں ۔
    مذکورہ روٹ پر سطح سمندر پہ ہی نہیں بلکہ زیرآب بھی باہمی تجارت ہوا کرے گی۔یہ کنٹینر وغیرہ تو ایک معمولی اور غیر اہم چیز ہیں۔
    ان میں سے ایک منصوبہ اسی روٹ پر زیرآب گیس پائپ لائن بچھانے کا ہے
    A 1,300-km undersea pipeline from Iran, avoiding Pakistani waters, will bring natural gas from the Persian Gulf to India۔
    The Iran-India gas pipeline for LNG imports will start at the Chabahar port in that country and terminate at Porbandar in Gujarat.
    http://www.livemint.com/Industry/wj8PfRvGGyAfh1p8aoPX9K/Undersea-IranIndia-gas-pipeline.html
    ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
    ایک وہ ہیں جنہیں تصویربنا آتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *