فیض آباد دھرنے میں شکست مگر کس کی

علی احمد جان

کھیل ہو یا جنگ ، سیاست ہو یا گھریلو معاملات یہ کہاوت سب پر صادق آتی ہے کہ ناکامی لاوارث ہوتی ہے ۔ دنیا کے ساتویں اٹیمی ملک اور عالم اسلام کی پہلی جوہری طاقت پاکستان میں گزشتہ تین ہفتوں میں ناقابل یقین نظارے دیکھنے کو ملے جب دو اڑھائی ہزار لوگوں نے دارالحکومت کو نرخرے سے دبوچ کر حکمرانوں کو دھول چاٹنے پر مجبور کیا ۔ یہ اگر صرف انتظامیہ یا حکومت کی نا اہلی ہوتی تو ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ اب اس کو گھر جانا چاہیے مگر شکست یہاں صرف حکومت کی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے ۔

ایک قانون کا مسودہ جو پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی نے تیار کرکے قانون سازی کے لئے لازم ہر مرحلے سے گزارا جس کے لئے پارلیمانی کمیٹی اور اس کی ذیلی کمیٹی میں اس پر غور اور نظر ثانی کے لئے سو سے زیادہ اجلاس منعقد ہوئے۔ اگر ان اجلاسوں میں شرکت کرنے والے ممبران کے اخراجات کروڑوں میں ہوئےجو ان اجلاسوں اور میٹنگوں کا انتظام وانصرام اور اس پرمعمور سرکاری اہلکار اور افسران پر اٹھنے والے اخراجات کے علاوہ ہیں ۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ سو سے زیادہ اجلاس منعقد کرنے والے ممبران جن میں حکومت اور پوزیشن کی نمائندگی کے علاوہ دینی، مذہبی، ترقی پسند اور قوم پرست جماعتیں سب شامل تھیں مگر کسی نے ایسی غلطی کی نشاندہی نہیں کی۔کیا قانون سازی کرنے والے ہمارے لئے بننے والے قانون کے مسودے کو پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے ؟

جب قومی اسمبلی میں یہ مسودہ منظوری کے لئے پیش ہوا تو ہم نے میڈیا پر سنا اور دیکھا کہ اس نئے قانون کی شق وار منظوری دی گئی مگر کسی ممبر نے اس طرف توجہ نہیں دلائی کہ ایک حساس مذہبی معا ملے کو چھیڑا گیا ہے جس سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ جب مسودہ قانون بن گیا تو ایک شخص اٹھتا ہے اور ایوان کو مخاطب کرنے کے بجائے عالم ارواح کو آاواز دیتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ آؤ یلغار کرو۔

ایوان میں بیٹھے لوگوں کے سامنے پڑے مسودے کے کاغذات ان کا منہ چڑاتے رہے جب یہ آواز ملک کے طول وعرض میں سنی گئی۔ ایوان میں بیٹھے لوگ اپنے اہل ایمان ہونے کی صفائیاں پیش کر تے رہے اورکسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ اس قانون کے مسودے کی منظوری میں کوئی ایک فرد نہیں بلکہ پورے کا پورا ایوان شامل ہے۔ کیا ہمار ے ایوان قانون سازی کے لئے درکار صلاحیتوں کے علاوہ راست گوئی اور جرأت مندی جیسی اوصاف سے بھی عاری ہیں؟

جب لاہور سے انسداد دہشت گردی کے قانون کے جدول چار میں مندرج ایک نسبتاً غیر معروف مولوی چند سو لوگوں کا قافلہ لے کر عازم اسلام آباد ہوا تو پنجاب کی سب سے بڑے شاہراہ سے گزر کر راوالپنڈی پہنچنے تک کسی شہر میں اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ قانون کے مطابق ایسے لوگ جن کا نام جدول چار میں درج ہو تو وہ متعلقہ تھانے کو اطلاع دیے بغیر کہیں نہیں جا سکتے تو اس قانون اور جدول کا کیافائدہ جس میں درج ہونے کے باوجود لوگ کہیں بھی جاکر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے قانون کی عملداری کے دعوؤں کے برعکس نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں چند سو لوگوں کے غیر قانونی اجتماع کو نہ روکا جاسکا؟

اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگھم پر واقع فیض آباد میں تین ہفتوں تک ملک کے دارلخلافہ کا ہوائی مستقر سے رابطہ منقطع کر کے براجمان لوگوں کو کھانے پینے اور رہنے سہنے کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ راولپنڈی کی پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کی مستعدی اس وقت طشت ازبام ہوئی جب دن رات دھرنا کے لوگوں کو مرغن غذاؤں کے ساتھ گرم کمبلوں کی فروانی جاری رہی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھوکے پیاسے سڑکوں پر ٹھٹھرتے رہے۔

جب عدالت نے ملک کے وزیر داخلہ سے پوچھا تو اس کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا کہ کہ دھرنا کے شرکاء کے پاس پولیس سے بہتر آلات کیونکر ہیں اور ان کو تین ہفتوں سے کھانے پینے کا بندوبست کیسے ہوتا رہا ہے؟ کیا یہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی کا ثبوت نہیں کہ وہ انتظامی کو تاہیوں کی وجہ سے ایک ہجوم کے ہاتھوں مار کھاتے رہے؟

عدالت نے صرف سوال پوچھے تھے جن کا جواب نہیں ملا۔ عدالت کو سوالات پوچھنے سے پہلے جوابات کے لئے اپنے ہی برادر جج منیر کمیشن کی رپورٹ کوپڑھ لینا چاہیے جس میں اس رجحان کی ابتداء کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہماری عدلیہ اتنی آزاد ہے کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو عدالت سے سیدھے گھر بھیج سکتی ہے اور ایک وزیر کو محض کسی کی شکایت پر ہتھکڑی لگوا کر جیل بھیج سکتی ہے مگر جدول ۴ کے ایک مشکوک شخص کو گالی دینے اور تذلیل کرنےسے نہیں روک سکتی۔

کل قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کو گلدستے پیش کرنے اور ان کے کیس لڑنے واے وکیلوں کے جج بن جانے کے بعد قانون پر عملداری کے سوالات کہیں اخلاقی جواز سے عاری تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ قانون توڑنے والوں کو اخلاقی جواز فراہم کرنے والوں کے سوالات کو بھی غیر اہم سمجھا گیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو یہ ریاست کے تیسرے ستون کی شکست و ریخت کی علامت ہے۔

تین ہفتوں تک ٹیلی ویژن کے چینلز پر تماشا لگائے میڈیا نے بھی اپنا اور دوسروں کا خوب مذاق اڑایا اور آخر اس کو اٹھائیس گھنٹوں کے لئے بند ہونا پڑا۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں اخلاقی قدروں کی پامالی کرنے والے میڈیا نے حد کردی جب ایک سیاسی اجتماع کو ایمان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا ۔ سیاست دانوں سے ان کے منہ پر مایئک لے جاکر چیخ چیخ کر ذاتی اور غیر متعلق سوالات پوچھ کر اپنی ریٹنگ بڑھانے والوں کو منہ پر گالیاں دینے والوں سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں ہو ئی کہ کیا ایسی گالیاں وہ اپنے اہل خانہ کے سامنے بھی دیتے ہیں؟ اخلاقی قدروں کی پامالی پر چپ سادھ کر دھندے میں مصروف میڈیا نے بھی یہ ثابت کیا کہ وہ اس عمل میں برابر کا شریک رہا ہے۔

تین ہفتوں تک راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیچ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مریض ہسپتال نہیں پہنچ پائے تو کہیں بچے سکول نہیں گئے اور کہیں استاد غائب رہے۔ دفتروں میں حاضری کم رہی اور کاروبار مفلوج ہو کر رہ گیا۔ پورا ملک اور دنیا بھر میں لوگ شہریوں کی اس تکلیف کو محسوس کر رہے تھے۔ مگر دوسری طرف زندگی مفلوج کرنے والوں کو یہی لوگ اپنے گھروں سے کھانا بھی پہنچا رہے تھے اور کمبل اور رضائیاں بھی۔

فیض آباد کے پل کے نیچے دھرنا دینے والوں سے زیادہ جو جمع ہوکر ان کے احتجاج میں شریک ہوتے رہے وہ سب جڑواں شہروں کے رہنے والے ہی تھے جن کے لئے پورا عالم پریشان تھا۔ کسی ملک میں ادارے اگر شکست و ریخت کا شکار ہوں تو دوبارہ بن سکتے ہیں، نظام کمزور ہو تو پھر مضبوط ہو سکتا ہے ، قانون کا نفاذ بھی پھر سے ہو سکتا ہے مگر جو ملک معاشرتی طور پر زوال پذیر ہو تو اس کی بحالی کے لئے بہت وقت لگتا ہے۔

نہ ہمارا معاشرہ اتنا جلدی اس سطح تک پہنچا ہے اور نہ ہی یہ اس سطح تک جلدی پہنچ پائے گا جہاں سے یہ گرا تھا۔ یہ کسی حکومت یا سیاست کی نہیں بلکہ ایک اجتماعی معاشرتی شکست ہے جس کا ازالہ خراج دینے کے بعد ہی ممکن ہے جس کے لئے بہت وقت لگے گا ۔

2 Comments

  1. What a beutiful article.

  2. totally true sir. always feels good to read your articles.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *