انقلاب روس: سماجی تار یخ میں نویدِ صبح نو۔1

ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

یہ مضمون روس کے بالشویک انقلاب کی وجوہات اور ناکامی کی تاریخی اور سماجی جہات کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ طوالت کی وجہ سے اسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مگر اسے ایک مکمل اکائی کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔

حصہ اول

انقلاب: تعارف

سماجی نظام انسانوں کی فزیالوجی کی طرح ہوتے ہیں۔ جیسے انسانی اعضاء کے کام اور ان کی ساخت کا نامیاتی آہنگ اگر غیر متوازن ہو جائے تو انسان بیماری یا موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی فردِ واحد اور معاشرے کا رشتہ ہے۔ ان دونوں کا باہمی تعلق اگر کمزور پڑ جائے یا بگڑ جائے تو معاشرہ بھی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس شکست و ریخت کے نتیجے میں نظام کی کمزوریاں واضح ہو کر سامنے آ کھڑی ہو تی ہیں۔ لیکن تاریخ کا یہ عمل چند مہینوں یا چند سالوں پر نہیں بعض اوقات صدیوں پر محیط ہو تا ہے۔

سنہ1917 کا روسی انقلاب بھی تاریخ کے ایک لمبے سفر کا نتیجہ ہے، یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ بادشاہت کے پرا نے نظام کی ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ زارِ روس کے پاس ایک مطلق العنان شہنشاہ کی طاقت اور جبر کے سارے وسیلے موجود تھے مگر ان کی ناکامی دراصل اس معاشرتی نظام کی ساخت میں موجود تضاد کا وہ بیج تھا جو پھوٹ کر امربیل کی طرح اپنے ہی نظام کو فنا کر گیا ہے۔جس کی طرف کارل مارکس پہلے سے اشارہ کر چکے تھے۔

سماجیات کےعظیم مفکر اور محقق مارکس نے یہ نتیجہ تار یخ کو کلیہ جدلیات یعنی ڈایالیکٹکس کی کسوٹی پر پرکھ کر نکالا تھا ۔ روس میں معاشرتی شکست و ریخت کی وجوہات انسانی سماج کے ارتقائی اصول یعنی نظریہء تضادکو استعمال کر کے آسانی سے سمجھ آ جاتی ہیں۔ یہ سماجی فلسفے کا ایک اہم اور دقیق موضوع ہے جسے اس کی طوالت کی وجہ سے اس مضمون میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

اکتوبر 1917 کا روسی انقلاب ترقی پسند قوتوں کے لئے انسانی تار یخ میں ایک نئی صبح کی نوید تھا مگر سرمایہ دار قوتوں اور رجعت پسندوں کے لئے یہ انقلاب خارِ گلو تھا جس کو شکست دینے کے لئے تمام دنیا کی سرمایہ دار قوتیں اکٹھی ہو گئیں۔ روسی انقلاب کی سماجی اور انفرادی تار یخ، انہیں عوامل اور تضادات کی ایک داستان ہے۔ روسی انقلاب کو سمجھنے کے لئے اس کے ساتھ صرف رومانوی وابستگی سے نہ تو سوشلسٹ نظریات کی افادیت واضح ہوتی ہے اور نہ ہی سماجی تاریخ کے دھارے سے واقفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لئے کیپیٹل ازم اور سوشل ازم کے نقطہ ہائے نظر کا سنجیدہ مطالعہ ضروری ہے۔

انقلاب کا مطلب یہ ہے کہ پرانا نظام ٹوٹے اور اس کے بعد سماج اور نظام کی از سر نو تعمیر ہو۔ انقلابی عمل میں سماجی نظام کے ٹوٹنے کے تاریخی محرکات تعمیرِ نو پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ تعمیرِ نو کے عمل میں نظریے کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے اور یہ نظریہ ہی ہے جو مستقبل کے سماج کو ماضی کی کمزوریوں سے بچا نے کی کوشش کرتا ہے ورنہ تار یخ کے دھارے کا رخ موڑنا آسان نہیں ہوتا۔ زیرِ نظر مضمون میں کچھ باتیں روسی انقلاب کی تاریخ سے متعلق ہیں اور کچھ انقلاب کے سماجی نظریات سے جن کو کسی بھی انقلاب کے مطالعے میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

روسی بادشاہت کا نظام

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ روس میں رومانوف ڈائنسٹییا بادشاہت کا سلسلہ 1613 سے چل رہا تھا۔ ان بادشاہوں کو زارکہا جاتا تھا جو روس کی دور دور بکھری ہوئی زرعی زمینوں اور کسان آبادیوں پر حکومت کرتے تھے۔ روسی بادشاہت کا سیاسی نظام آمرانہ تھا۔ رعایا پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ اس جبری نظام کے لوازمات پورے کریں۔ یہ نظام جس میں معاشرہ، سیاست اور انتظامی ادارے عدم توازن کا شکار ہی سہی مگر یہ کسی حد تک ایک دوسرے سے ہم آہنگ ضرور تھے۔ اسی لئے یہ نظام قریباتین صدیوں تک چلتا رہا۔

روس کے رومانوف زاروںنے اپنی حکومت کے استحکام کے لئے پولیس، افسر شاہی اور فوج کا نظام اقرباء پروری کے اصول پر بڑی چابک دستی سے وضع کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے وسیع سے وسیع تر کرتے چلے گئے مگر تین سو سال کے عرصے میں اس نظام میں آہستہ آہستہ رخنے پڑنے لگے۔ بالآخر 1905 میں سماجی خلفشار ایک بغاوت کی شکل اختیار کر گیا۔ تاہم بغاوت سے پچاس ساٹھ سال پہلے یعنی انیسویں صدی کے درمیانی حصے سے رعایا میں مسائل کا احساس بڑھ رہا تھا جس کی مختلف الانواع توجیہات بھی پیش کی جا رہیں تھیں۔

شاہی نظام اور عوامی بے چینی

جیسا کہ جدلیاتی فلسفہ یا ڈائلیکٹکسسے واضح ہے کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان تضادکا رشتہ ہوتا ہے جو کہ غیر مستحکم ہوتا ہے۔ سماجی عدم استحکام کا احساس اور ادراک جہاں مستقبل میں تبدیلی کی بنیادیں فراہم کرتا ہے وہیں شعور کی سطح پر لوگوں کو سماجی مسائل کے حل کے لئے نئے نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔

مثال کے طور پر اس زما نے کے سماجی اور معاشرتی مباحث میں ایک مشہور مکالمہ چادائف چیلنجکے نام سے جانا جاتا ہے۔ چادائف کا کہنا تھا کہ روس تار یخ عالم میں خلا کی طرح ایک غیر موءثر اکائی کا نام ہے جس کے عوام نے ثقافتی حوا لے سے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔ روس نے ایشیاء اور یورپ کی تہذیبوں سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ ہم روسیوں نے بنی نوعِ انسان کے شعور میں ذرہ برابر اضافہ نہیں کیا بلکہ پرانے شعور کو بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔

اُس زمانے میں سو چ اور مباحث کے بہت سے زاویے سامنے آ ئے جن پر سوچنے والوں نے اپنی اپنی دانش کے موتی برسائے۔ بہت سے دانشور جو معاشرے کو کلچر کے نقطہ نظر سے دیکھتے تھےانہوں نے تاریخی مسائل کی جڑیں کلچر کے انحطاط میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کچھ دانشوروں نے سماج کی شکستگی کو مذہب اور چر چ کی کمزوریوں پر محمول کیا اور کچھ نے اپنے گردو پیش کے حالات کو روحانی دیوالیہ پن سے تعبیر کیا۔ انہی مسائل سے نبَرد آزماء کئی دانشور ایسے بھی تھے جو مارکس کی تحقیقات کی روشنی میں مسائل اور سماج کی مادی تشر یح کرتے تھے۔ یہی دانشور بعد میں 1917 کے روسی انقلاب کا روشن استعارہ بنے۔

انٹیلیجنشیا

انقلاب سے پہلے کے ان مباحث سے ایک بات بہت واضع ہو کر سامنے آتی ہے کہ سوچنے وا لے لوگ اس زمانے کے سماجی حالات سے نہ تو مطمئن تھے اور نہ ہی اس نظام کا حصہ بننے کو تیار تھے ۔ یہ معاشرے سے کٹے ہوئے لوگ وہ تھے جن کے لئے روس میں اٹیلیجنشیاکا لفظ ایجاد ہوا اور پھر انہی کی بدولت دنیا بھر میں رائج ہو گیا۔

اٹیلیجنشیا کوئی مربوط گروپ نہیں تھا۔ یہ لوگ بےاطمنانی کی فضا میں مختلف خیالات اور نظریات کا دامن تھام کر سوسائٹی کو سدھارنے کی سوچوں میں لگے ہوئے تھے۔ انٹلیجنشیا کی سوچ بچار کے موضوعات میں بادشاہ کا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال، افسر شاہی کی دراز دستی اور نہ ختم ہونے والی جنگیں تھیں۔ ان کی سوچوں اور بحثوں میں عوام کی معاشی اور سماجی حالتِ زار جسے مارکس کی تحریروں میں ایلین نیشن یا بیگانگیکہا گیاہے، وغیرہ سبھی کچھ شامل تھا۔ بیگانگیکا نظریہ مارکس سے پہلے ہیگل نے پیش کیا تھا ۔ تاہم بیگانگی کی سماجی اور مادی جہتوں کا تعین مارکس کی تحقیقات کا ثمر ہے۔

زراعت، زمینداری اور صنعت

زارِ روس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ وہ افسر شاہی کے ذریعے زراعت، تجارت اور ہر قسم کے ذرائع کا مختارِ کل تھا۔ اِس جگہ تجارت اور صنعت کا بہت زیادہ ذکر کرنے کی شاید ضرورت نہیں کیونکہ سن 1900 میں روس میں ایک فیصد سے بھی کم لوگ صنعتی ورکنگ کلاس سے تعلق ر کھتے تھے۔ درحقیقت تمام کا تمام ملک زراعت پیشہ تھا۔ چند ایک جگہوں پر فیکٹریاں لگ چکی تھیں اور صنعت پیشہ مزدوروں کا استحصال بھی ملک کی زرعی زمینوں پر کام کرنے وا لے کسانوں طرح شروع ہو چکا تھا ۔

روس میں زرعی بیگار یا سرفڈم کو 1649 میں قانونی تحفظ ملا۔ کسانوں کے پسے جانے کا عمل تو پہلے سے رائج تھا اب اسے قانون کی سر پرستی بھی حاصل ہو گئی۔ اگرچہ 1861 میں بیگار زرعی مزدوری کا نظام قانونی طور پر منسوخ کر دیا گیا مگر اس کے باوجود مزارعوں کے حالات میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہوئی۔ ویسے اس نظام کے اندر بہتری ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ عام انسان کی بہبود اُس معاشرتی نظام کا مطمع نظر تھا ہی نہیں۔

۔جاری ہے۔

3 Comments

  1. Munir Pervaiz Saami says:

    مبارکباد۔ نہائت عام فہم زبان میں ایک مشکل لیکن لازم موضوع کا احاطہ۔

  2. Thank you for writing the history of Russian revolution in easy language and in a neutral way. Looking forward to the next part.

  3. Pingback: انقلاب روس: سماجی تار یخ میں نویدِ صبح نو۔2 – Niazamana

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *