لوتھر کے اصلاح مذہب کے پانچ سو سال

ڈاکٹر مبارک علی

آج سے پانچ سو سال قبل 1517 عیسوی میں وٹنگ برگ یونیورسٹی کے الحیات کے ایک پروفیسر مارٹن لوتھر کنگ (وفات1546) جن کو کم لوگ جانتے تھے انہوں نے وٹنگ برگ چرچ کے دروازے پر پچانوے نکات پر مشتمل ایک اشتہار کیل سے ٹھوک کر لگایا۔کہ چرچ میں آنے والے عبادت گذار اسے پڑھ سکیں۔ان کے ردعمل کی ایک وجہ یہ تھی کہ پوپ کی جانب سے اعتراف گناہ کے سرٹیفیکٹ عام لوگوں میں فروخت ہورہے تھے جن کا مقصد یہ تھا کہ جو ان سرٹیفکیٹس کو خریدے گا وہ اپنے آبا ؤاجداد کی روحوں کو جو عالم برزخ میں ہیں ان کی نجات کا باعث ہوگا۔اور اس کے عوض انہیں جنت میں داخلہ ملے گا۔

اس کے علاوہ خریدار شخص نے اب تک جو گناہ کیے ہیں ا ن سے اس کو معافی ملے گی۔ یہاں تک کہ مستقبل میں ہونے والے گناہوں پر بھی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ لوتھر کے نزدیک اس
قسم کے سرٹیفیکٹس عیسائی تعلیمات کے خلاف تھے اور یہ چرچ کی بدعنوانی کا ایک ذریعہ تھے۔ جس میں وہ لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرکے ان سے پیسہ بٹور رہے تھے۔ اگرچہ کہنے کو تو یہ ایک معمولی واقعہ تھا مگر اس نے آگے چل کر یورپ کی تاریخ کو بدل ڈالا۔ اپنے پچانوے نکات میں لوتھر نے پوپ کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے ایسی بہت سی رسومات اور عقائد پر تنقید کی ہے جن کا عیسائی مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔

اگرچہ یورپ کی تاریخ میں بھی اس سے پہلے کئی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے پوپ اور چرچ کے مذہبی عہدیداراور ان کی کرپشن پر آوازیں اٹھائیں۔ ان میں ایک تحریک کا رہنما چیکو سلواکیہ کا جون ہین (وفات 1415ء) تھا۔ جس نے چرچ پر تنقید کرتے ہوئے بائبل کی روشنی میں بنیادی عیسائی تعلیمات کی تبلیغ کی۔ اس پر اسے ہولی رومن ایمپرر کے کہنے پر جواب دہی کے لیے ’’امپریل ڈائٹ‘‘ میں بلایا گیا۔ اس وعدے پر کہ اس کی جان کی حفاظت کی جائے گی۔ لیکن جب وہ پیش ہوا تو اس پر کفر کا الزام لگا کر بطور سزا زندہ جلا دیا گیا۔

دوسری ایک اور اہم اصلاحی تحریک فلورنس کے سوافہ رولہ (وفات 1498ء) کی تھی اس نے شہر کے نوجوانوں کو سخت متاثر کیا جو اس کے پیروکار بن گئے اس نے پوپ پر سخت تنقید کی جس کی وجہ سے اول تو اسے عیسائیت سے خارج کیا گیا اور پھر پوپ کے حکم سے فلورنس کے حکمران طبقے نے مقدمہ چلا کر اسے سزائے موت دی اور پھانسی پر لٹکا کر اس کے مردہ جسم کو جلایا گیا۔ لہذا اصلاحی تحریکوں کے خلاف پوپ کا رویہ ہمیشہ سے سخت تھااور اس لیے ماضی میں یہ تحریکیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

لیکن لوتھر کی یہ تحریک اس لیے مختلف اور کامیاب رہی کیونکہ اسے جرمنی کے حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہوگئی تھی۔ اگرچہ پوپ نے اسے بھی بطور سزا عیسائیت سے خارج کیا مگر جرمنی کے سیاسی حالات نے اس کا ساتھ دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پوپ کی بالادستی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ جرمنی کے حکمرانوں کے اختیارات میں کمی آگئی تھی۔ چرچ کے عہدیدار مذہب کے نام پرلوگوں سے ٹیکس وصول کرکے اسے روم روانہ کر دیا کرتے تھے۔ جہاں پوپ اور بڑے بڑے مذہبی عہدیدار اس سے عیش و عشرت کی زندگی گذارتے تھے۔ اس کی وجہ سے جرمن ریاستوں کی معیشت کو نقصان ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ ریاستوں میں مذہبی عہدے فروخت ہوتے تھے اور بااثر لوگ پوپ کو رشوت دے کر بشپ وغیرہ کے عہدے حاصل کر لیتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ روایت بھی تھی کہ اگر کوئی مجرم چرچ میں پناہ لے لیتا تھا تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس وجہ سے جرمنی کے حکمران اپنے اقتدار اور اختیارات کے لیے پوپ کی بالادستی کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے لوتھر کی حمایت کی اور اسے پوپ کی سزا سے محفوظ رکھا۔

لوتھر کو اپنا پیغام پھیلانے کے لیے پرنٹنگ پریس سے کافی مدد ملی ۔ اس کی کتابیں اور پمفلٹس اور اشتہارات شائع ہونے کے بعد تیزی سے جرمنی میں پھیل جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے لوگ اس کے اعتراضات سے واقف ہوئے اور اس کی مذہبی اصلاحات کی تحریک کی حمایت کی۔ لیکن جب وٹنگ برگ میں اس کے پیروکاروں نے چرچوں پر حملے کیے ، ان کے تبرکات اور مذہبی مجسموں کو توڑا تو لوتھر نے اس تشدد کی مخالفت کی اور لوگوں کو توڑ پھوڑ اور آگ لگانے سے منع کیا۔ وہ اپنی تحریک کو پرامن رکھنا چاہتا تھا تاکہ ریاستوں کے حکمرانوں کو کوئی شکایت نہ ہو۔

سنہ1525 ء میں لوتھر کی تعلیمات سے متاثر ہو کر جرمن کسانوں نے بغاوت کی۔ انہوں نے جاگیرداروں اور زمینداروں کے حلقوں پر حملے کرکے ان کو قتل کیا۔اور جب یہ بغاوت تیزی سے پھیلی تو لوتھر نے ان کی حمایت کے بجائے جرمنی کے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ اس کو سختی سے کچل دیا جائے چنانچہ حکمرانوں کی تربیت یافتہ فوجوں نے کسانوں کو شکست دے کہ ان کا قتل عام کیا۔

لوتھر کے اس رویے کی وجہ سے لوتھر کی اصلاح مذہب کی تحریک شاہی سرپرستی میں آگئی اس کی تحریک نے عیسائی دنیا کی وحدت اور اتحاد کا خاتمہ کیا اور اسے پروٹسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں میں تقسیم کر دیا۔لوتھر نے بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ بھی کیا تاکہ تعلیم یافتہ طبقہ اس کی تعلیمات سے واقف ہو سکے۔ اس نے مذہبی عہدیداروں کو شادی کی اجازت بھی دی۔ اس نے خود ایک نن سے شادی کی اور اس کے پیروکار مذہبی عہدیداروں نے شادیاں کرکے کیتھولک روایت کو توڑاور بہت سی مذہبی رسومات کا خاتمہ کیا اور پروٹسٹنٹ چرچ کے مذہبی تبرکات اور اولیا کے مجسمے بھی نہ رہے۔ اس کے فرقے میں پوپ کی کوئی جگہ نہ تھی۔

لوتھر کی تحریک نے پوپ کے مختلف ملکوں میں اصلاحی تحریکوں کو ابھارا۔ سونگ لی ہشتم نے انگلینڈ میں اصلاحی تحریکوں کی ترویج کی۔ یورپ کے وہ ملک جو پروٹسٹنٹ ہو گئے۔چرچ کی بالادستی کے خاتمے کے بعد انہیں جو آزادی ملی اس کی وجہ سے انہوں نے ادب آرٹ فلسفہ اور تجارت میں ترقی کی جبکہ ان کے مقابلہ میں کیتھولک ممالک پسماندہ رہے۔ لیکن اصلاحی تحریکوں کا یہ ردعمل ضرور ہوا کہ کیتھولک چرچ میں بھی اصلاحات ہونی شروع ہوئیں۔

خاص طور سے جیوئٹس فرقے نے کیتھولک چرچ کی حمایت کی۔ خاص طور سے انہوں نے اپنے تعلیمی اداروں میں بہترین تعلیمی نظام قائم کیا۔ کیتھولک چرچ کے تبلیغی مشن ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں بھیجے گئے تاکہ وہاں تبلیغ کر کے اپنے اس نقصان کو پورا کریں جو انہیں یورپ میں ہوا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے مذہب کو تبدیل کرکے انہیں کیتھولک بنائیں۔

یورپ کی مذہبی اصلاحی تحریکوں نے دوسرے مذاہب کے راہنماؤں کو بھی متاثر کیا اور ان کے ہاں بھی یہ کوششیں ہوئیں کہ اپنے مذہب کی ساخت کو تبدیل کرکے ان کی تشکیل نو کریں اور اسے وقت کے تقاضوں کے تحت ہم آہنگ کریں۔

2 Comments

  1. Very good sir. The true historian in recent pajistan. Very brilliant mind.

  2. نیازاحمد says:

    اسلام میں بھی مختلف وقتوں میں اصلاحات کی کوششیں ہوئی ہیں مثلاً معتزلہ یا پھر سر سید احمد خان یا مرزا غلام احمد ، مولانا مودودی ، غلام احمد پرویز اور حالیہ سالوں میں جاوید احمد غامدی ۔۔۔مگر ہوتا یہ ہے کہ اصلاحات کرنے والے جب گذر جاتے ہیں تو ان کے چاہنے والے خود پیری مریدی شروع کردیتےہیں۔ زمانہ آگے بڑھتا جاتا ہے اور ان کی اصلاحات بھی مذہب کا حصہ بن جاتی ہیں۔۔۔۔ اور یہ کھیل اس دنیا میں جاری و ساری ہے۔۔۔ عیسائیت نے تو سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی ہے لیکن اسلام نے نہیں اسی لیے مسلمان اس وقت دنیا میں فساد برپاکیے ہوئے ہیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *