فلسطینیوں کی دائمی محکومیت کا ’’حتمی سودا‘‘؟

آصف جیلانی 

ڈانلڈ ٹرمپ نے مسند صدارت سنبھالنے کے فورا بعد بڑے طمطراق سے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ کا ایک ایسا حتمی حل پیش کریں گے جواب تک امریکا کا کوئی صدر پیش نہیں کر سکا ہے۔ اس دعوی کو ایک سال گذرگیا لیکن موعودہ حل سامنے نہیں آیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے امریکی میڈیا میں یہ خبریں آنی شروع ہوئی ہیں کہ ٹرمپ کے یہودی داماد جارڈ کوشنر اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر فریڈ مین مشرق وسطی کا امن منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔

ابھی تک اس منصوبہ کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن مختلف ذرائع سے اس مجوزہ منصوبہ کے بارے میں جو خبریں آئی ہیں ان میں کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبہ کے تحت امریکا بالاخر فلسطین کی مملکت کو تسلیم کر لے گا لیکن اسرائیلی ٹیلی وژن کے سیاسی پروگرام ’’حادثات‘‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی مملکت کو تسلیم کرنے کے علاوہ فلسطینیوں کو اور کچھ نہیں ملے گا ، حتی کہ مشرقی یروشلم کو فلسطینیوں کا قومی دارالحکومت بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا جب کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت یروشلم تینوں مذاہب کا شہر تسلیم کیا گیا ہے۔

اسرائیلی پروگرام ’’حادثات‘‘ کے مطابق ارض فلسطین پر تعمیر شدہ یہودی بستیوں میں سے کسی بستی کو ختم نہیں کیا جائے گا اور ان بستیوں میں آباد کسی یہودی کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبہ کے تحت امریکا اسرائیل کی سیکورٹی کی خاطر ان یہودی بستیوں کے وجود کو تسلیم کر ے گا اور اسرائیل کے دفاع کی خاطر دریائے اردن کے کنارے تک اسرائیل کی فوج تعینات کی جائے گی۔ یہی نہیں اسرائیلی وزیر اعظم نتھن یاہو کا اصرار ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کو سیکورٹی کنٹرول حاصل ہونا چاہئے۔ اگر نتھن یاہو کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا تو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج تعینات کی جائے گی۔اس صورت میں فلسطین کی مملکت کی خودمختاری اور حاکمیت بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ 

یہ بات بے حد اہم ہے کہ گذشتہ ہفتہ اسرائیل نے فلسطین کی سر زمین پر مزید 176یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے پروگرام کا اعلان کیا ہے ان میں سے بیشتر بستیاں مشرقی یروشلم کے علاقہ میں تعمیر کی جائیں گی ۔ ان بستیوں کی باقاعدہ اسرایل میں شمولیت کے بارے میں اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسہ میں قانوں کی منظوری کا امکان ہے۔

کوشنر اور فریڈمین کے تیار کئے جانے والے اس منصوبہ کے تحت اسرائیل کو عرب ممالک سے تجارت کی آزادی ہوگی اور اسرائیلی ایر لاینز کو خلیج کی فضا پر پرواز وں کی اجازت ہوگی ، خاص طور پر سعودی عرب ، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن تک پروازوں کی آزادی ہوگی۔ 

عام خیال ہے کہ کسی بھی فلسطینی کے لئے ان خطوط پر مجوزہ منصوبہ قابلِ قبول نہیں ہوگالیکن کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ اور نتھن یاہو کو یقین ہے کہ وہ عربوں کو اس منصوبہ کو تسلیم کرنے پر آمادہ کر لیں گے۔ کیونکہ ان کی رائے میں عرب اپنا پیدائشی حق چند ارب ڈالر کے عوض فروخت کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کریں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ، ٹرمپ منصوبہ کے تحت سنی عرب مملکتوں کی فلسطینیوں کی امدا دکے لئے کئی سو ملین ڈالر کی امداد کی پیشکش کی جائے گی تاکہ فلسطین کی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کو اس منصوبہ کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ ٹرمپ منصوبہ کی در اصل بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ فلسطینیوں کا مسئلہ اپنی مملکت کے قیام کا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی مسئلہ ہے۔ 

عرب میڈیا میں یہ خبریں ہیں کہ صدر ٹرمپ اور ان کے داماد کے شدید دباؤ کے تحت سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان عبد العزیز کی اس منصوبہ کی تا ئید حاصل کر لی ہے ۔پچھلے مہینے ٹرمپ کے داماد اور اسرائیل میں امریکی سفیر ، اس منصوبہ کے بارے میں بات چیت کے لئے ریاض کے دورے کر چکے ہیں اور سعودی ولی عہد اس منصوبہ کے حق میں ہیں۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کے اس منصوبہ سے یکسر مختلف ہے جو 2002میں پیش کیا گیا تھا ۔ اس منصوبہ کے تحت ، سعودی عرب نے پیشکش کی تھی کہ اگر اسرائیل 1967کی سرحد پر واپس چلا جائے تو سعودی عرب اس سے اپنے تعلقات معمول کے مطابق استوار کر لے گا اور فلسطینی سربراہ محمود عباس کو یہ منصوبہ تسلیم کرنے پر آمادہ کرلیا جائے گا۔ 

بتایا جاتا ہے کہ سعودی شاہ نے ٹرمپ کا منصوبہ منظور کرنے کے بعد پچھلے ماہ فلسطینی سربراہ محمود عباس کو ریاض طلب کیا گیا تھا اور ان سے یہ منصوبہ تسلیم کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ محمود عباس نے کہا جاتا ہے سعودی فرماں روا پر صاف صاف واضح کر دیا تھا کہ کوئی فلسطینی ٹرمپ کا منصوبہ منظور نہیں کرے گا۔ اس کے جواب میں محمود عباس سے یہ کہا گیا تھا کہ انہیں یہ منصوبہ تسلیم کرنا پڑے گا ورنہ ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور بالاخر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔

بتایا جاتا ہے کہ محمود عباس کے حریف فلسطینی رہنما محمد دحلان کو جو دبئی میں مقیم ہیں ریاض بلا لیا گیا تھا اور محمود عباس پر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ٹرمپ کا منصوبہ تسلیم نہیں کیا تو ان کی جگہ کوئی دوسرا فلسطینی رہنما یہ منصوبہ منظور کر لے گا ۔ 

اسرائیلی میڈیا کے خبروں کے مطابق نوجوان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے محمود عباس سے کہا تھا کہ عرب ممالک کے لئے ایران کا خطرہ نہایت سنگین ہے اور اس سلسلہ میں سعودی عرب کو امریکا اوراسرائیل کی مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ ولی عہد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ منصوبہ کے تحت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے قیام کے بغیر سعودی عرب ، ایران کے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکااور اسرائیل کی حمایت حاصل نہیں کر سکتا۔

ایران کے ’’خطرہ‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اتفاق رائے اور اشتراکِ عمل کا پیمان اب خفیہ نہیں رہا ہے بلکہ دونوں سعودی عرب اور اسرائیل کے حکمران کھلم کھلا اشتراکِ عمل کا اعلان کررہے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ سعودی عرب ، فلسطینیوں کے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اسرائیل سے کسی مسلم ملک کے خلاف یوں گٹھ جوڑ کرے گا۔ 

بتایا جاتا ہے کہ محمود عباس نے سعودی ولی عہد سے کہا تھا کہ اگر اسرائیل 1967کی سرحدوں پر جانے کے لئے راضی ہو جائے اور فلسطینیوں کی اپنے وطن واپسی کے لئے تیار ہو تو اس صورت میں فلسطینی یہ منصوبہ منظور کر سکتے ہیں ۔ لیکن ٹرمپ کے منصوبہ کے سلسلہ میں جو نقشہ سامنے آیا ہے اس میں مشرقی اور مغربی یروشلم میں تعمیر کردہ یہودی بستیاں اور ان کے ساتھ غرب اردن کے کنارے کی یہودی بستیاں بھی اسرائیل میں شامل کی گئی ہیں ، جن سے دست بردار ہونے کے لئے اسرائیل کسی صورت میں تیار نہیں ہوگا۔ اس دوران سعودی عرب میں لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے استعفی پر ہنگامہ کے شور و غل میں محمود عباس سے سعودی عرب کے مطالبہ کا معاملہ دب گیا۔ 

ٹرمپ کے منصوبہ کے تحت یروشلم کی حتمی حیثیت اور فلسطینیوں کی وطن واپسی کے معاملات کے بارے میں مذاکرات ابتدائی سمجھوتہ کے بعد ہوں گے۔ فلسطینیوں کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں کیونکہ انہیں اس بارے میں تلخ تجربہ ہے کہ اسرائیلی عبوری سمجھوتہ کے بعد حتمی معاہدہ سے انحراف کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔ فلسطینیوں کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ منصوبہ کے تحت امن کے حتمی مذاکرات سعودی عرب کی قیادت میں ہوں گے۔ جس تیزی سے سعودی عرب ، اسرائیل کے قریب آتا جارہا ہے اور ان کے مفادات مشترک ہوتے جارہے ہیں اس کے پیش نظر فلسطینیوں کا سعودی عرب پر اعتماد باقی نہیں رہا ہے۔ 

گو ابھی مشرق وسطی میں امن کے بارے میں ٹرمپ کے منصوبہ کی تفصیلات کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن اس منصوبہ کے جو اہم نکات افشا ہوئے ہیں ان سے یہ صاف ہے کہ ایران سے دشمنی کی خاطر فلسطینیوں کا مفاد قربان کیا جارہا ہے اور فلسطینیوں کی دائمی محکومیت کا ’’حتمی سودا‘‘ ہورہا ہے۔ 

One Comment

  1. جو قوم ستر برسوں میں خود متحد نہ ہوسکی اس کے مقدر میں دائمی محکومیت کے سوا اور کچھ نہیں لکھا جاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *