پاکستان اور کرپشن: چولی اور دامن

مبارک حیدر

بد عنوانی ، بد دیانتی ، کرپشن بری ہے یا نہیں ، یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے یا ثانوی، اس بحث سے قطع نظر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن ہمارے وجود کی بنیادی صفت ہے ۔

پہلی بات تو یہ کہ پاکستان کا مطالبہ ہی ایک فکری بد دیانتی پر مبنی تھا ۔ یعنی ایک طرف تو ہمارے بزرگوں کا دعوی تھا کہ ہم ہندی نہیں بلکہ ہمارا وطن عرب ایران اور وسط ایشیا میں ہے اور ہم اپنے زور بازو سے ہندوستان پر قابض رہے ہیں ؛ دوسری طرف ہم نے زور بازو کی بجائے فرنگی کے جمہوری قانون کا سہارا لے کر اسی ہندوستان کا ایک ٹکڑا مانگا جسے ہم اپنا وطن نہیں مانتے تھے۔

پھر جب ملک بنا لیا تو فرنگی کی جمہوریت کو لات مار کر اسلام اور جہاد اور شریعت کا راگ الاپنے لگے۔ جلد ہی ہمارے چھوٹے اور بڑے سپہ سالار خالد بن ولید بن کر ہمارے سروں پر مسلط ہو گئے ۔ پاکستان کے پہلے ہی برس کشمیر فتح کرنے کے لئے فوج کی بجائے قبائلی مجاہدین کو استعمال کیا گیا ، جنہوں نے اس دن سے آج تک ہمیں اپنی اہمیت کا احساس بار بار دلایا ہے۔ یہ ایک عمدہ نمونہ تھا کرپشن کے عمل میں فوج اور عوام کی ساجھےداری کا چنانچہ آج بھی یہ مملکت بھارت فتح کرنے کے لئے سول مجاہدین کو بھیجتی ہے اور تجارت و سیاست کے لئے جرنیلوں کو۔

کرپشن کا دوسرا مرحلہ ملک بنتے ہی شروع ہوا جب متروکہ جائدادوں کے لئے جھوٹے کلیموں کا بازار گرم ہوا۔مال غنیمت کا تصور جو ہمارے خون میں گردش کرتا ہے ، کھل کر سامنے آیا۔ صلاحیت اور حق کی بنیاد پراپنا حصہ لینے کا اصول 1947 میں ہی غارت ہو گیا۔ تجارتی مارکیٹوں ، کارخانوں اور کوٹھیوں پر جہاں جس کا ہاتھ پڑا وہ مالک ٹھہرا ۔ پھر پرمٹ کا بازار گرم ہوا۔ اور اقتدار پر قابض افسر شاہی اور سیاست دانوں نے رات دن اپنے اختیارات بازار میں بیچے ۔ 

کرپشن کا تیسرا میدان مہاجروں کی بحالی اور زرعی زمینوں کی الاٹمنٹ میں گرم ہوا۔ غیر آباد زمینیں اور متروکہ اراضی یعنی پنجاب کے تھل اور سندھ کی وہ زمینیں جو غیر مسلم چھوڑ گئے تھے ، ایسے ایسے لوگوں کو الاٹ کی گئیں جنہوں نے کبھی پودا اگتا نہ دیکھا تھا ۔
یہ دور تھا جب راتوں رات امیر ہونا پاکستانیوں کا خواب بن گیا اور اس خواب کی شرط صرف اتنی تھی کہ آپ کی پہنچ کہاں تک ہے یا آپ کتنے نٹ کھٹ ہیں ۔

کرپشن کا کلچر پاکستان کی رگوں میں خون کی طرح رواں ہے۔ کوئی کچھ بھی کر لے یہ آسانی سے بدلنے والا نہیں۔ چین کا صوبہ بننے کے بعد پاکستان کے لئے یہ اور بھی مشکل ہو جائے گا کیونکہ موجودہ چین ماؤ اور چو این لائی کے دور سے نکل کر اب ہر طرح سے مال کمانے والا چین بن چکا ہے۔

ہمارا اور چینیوں کا فرق اب صرف اتنا ہے کہ وہ خریدارری کے لئے کرپٹ ہیں اور ہم بکنے کے لئے کرپٹ۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ پانچ ہزار سال سے ایک قوم ہیں اور ہم ایک فرضی امت کے ساتھ لٹکا ہوا چیتھڑا۔

One Comment

  1. Very true depiction of tumor within few words. Wish few more words be added for our masses for the remote hope if any

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *