افریقی مہاجرین کی بطور غلام نیلامی

لیبیا کی حکومت نے ملک میں موجود افریقی مہاجرین کی ’بطور غلام نیلامی‘ کی خبریں میڈیا میں آنے کے بعد ملک میں اس نئے مبینہ رجحان کیتحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں پہلے ہی سے بحرانوں کے شکار ملک لیبیا میں مہاجرین کے ساتھ ناروا سلوک اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر آواز اٹھا رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی این این پر موبائل سے بنائی گئی ایک فوٹیج نشر کی گئی تھی جس میں سیاہ فام مہاجرین کی ’نیلامی‘ کے مناظر دیکھے گئے تھے۔

سی این این کے مطابق ایک صارف کی جانب سے بھیجی گئی اس ویڈیو میں شمالی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے خریدار ’کھیتوں میں کام کرنے کے لیے مضبوط سیاہ فام غلام‘ خریدنے کے لیے ایک نیلامی میں بولی لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی جس کے بعد خاص طور پر افریقی ممالک کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

یسی خبروں کے بعد عالمی طور پر تسلیم شدہ لیبیا کی یونیٹی گورنمنٹ نے اتوار کے روز ان الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ لیبیا کے نائب وزیر اعظم احمد معيتيق کی جانب سے ان الزامات کی تحقیقات کا اعلان یونیٹی گورنمنٹ کے فیس بُک پیج پر کیا گیا۔

معيتيق نے اپنے بیان میں کہا، ’’ان خبروں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے جو ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے گا‘‘۔

لیبیا یورپ کی جانب مہاجرت کے لیے ایک اہم روٹ ہے۔ رواں برس یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی اکثریت لیبیا کے ساحلوں ہی سے بحیرہ روم کے سمندری راستے عبور کر کے یورپ پہنچی تھی۔ ان تارکین وطن کی اکثریت کا تعلق نیوگنی، سینیگال، نائجیریا، نائجر اور مالی جیسے افریقی ممالک سے ہے۔

One Comment

  1. کیا بات ہے !۔”افریقی ممالک کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیاہے”۔انہیں تو شرم سے مر جانا چاہئے کیونکہ یہ افریقی تارکین وطن اپنے اپنے ملکوں میں غلاموں سے بھی بدتر کتے بلیوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر زندگی گزار رہےہیں۔ان افریقی کرپٹ ترین ،ظالم ترین، بے حس ترین، بے غیرت ترین حکمرانوں کو بھی ایک ایک ڈالر میں نیلام کردینا چاہئے۔افریقی حکمرانوں کو انسانیت کی قدرتوہےنہیں۔افریقی تارکین وطن ہزاروں کی تعداد میں یوروپ آتے ہوئے سمندروں میں ڈوب کر مر گئے ان کی جانب سے کوئی “شدید” رد عمل،یا غیرت کا اظہار نہیں ہوا۔جب ڈالروں میں بولی لگتی دیکھی تو ان کرپٹ افریقی حکمرانوں نے رالیں ٹپکاتے ہوئے جھرجھری لی ہے۔جب تمہارے یہ اپنے غلام تمہارا بارڈر کراس کر کے تمہاری غلامی کے چنگل سے بھاگ کر آزادہو رہے تھے اس وقت تمہارا “شدید” رد عمل کیا ملیریا،کالرا،ٹی بی،ایبولا ،اور ایڈز پہ اپنی جان نچھاورکر رہا تھا؟۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *