جوگی

ملک سانول رضا 
پیاسے لگتے ہو؟
پیاس بجھی کب تھی!۔
تو پھر چلے آئیں
لطیف کی نگری
سچل کے دیس
چلے آئیں
آپ کو 
بلاڑو کی ٹھاڈل پلاتے ہیں
تھر کی کچریاں کھلاتے ہیں
سندھ ہی تو پیاسوں کی پیاس بجھاتا ہے۔ خود دھوپ میں جل کر مسافروں کو ٹھنڈی چھاؤں میں بٹھاتا ہے۔
شرجیل بلوچ بولے۔
جامی یار!۔

سرمد کے محبوب ابھے چند کے شہر ٹھٹھہ  میں جنم لینے والے
سندھ مدرسہ السلام سے اپنی تعلیم کی شروعات کرنے والے 
ہندی، عربی، بلوچی، سندھی، بنگالی، پنجابی،فارسی اور سرائیکی بولنے میں ملکہ رکھنے والے
چالیس کتب لکھنے والے 
وکالت کی بھول بھلیوں میں روزی تلاش کرنے والے، 
ایک دہائی سے زیادہ جیلوں میں تشدد سہنے والے
اُس بوڑھے جوان سے ملاقات ہو جائے تو ہمارا سفر واقعی وسیلہ ظفر رہے گا۔
دروازے پر 
ماما عرب نے کہا
بسم اللہ سئیں تشریف لائیں۔ 

وہ۔۔۔۔ پلنگ پر لیٹے۔۔۔ جیسے طویل سفر کے بعد دماغ ترس کھا کر ٹانگوں کو آرام کرنے کا موقع دے رہا ہو
ہاتھ ملاتے ہوئے یوں لگا نوے نہیں ایک بیس سالہ جوان کے توانا ہاتھوں کی تازگی ہمارے اندر در آئی ہو
پوچھا

ثریا ملتانیکر کی بیٹی کیسا گا رہی ہے؟ 
ملتان میں رہتی ہے یا کہیں اور؟

کہنے لگے 

سرائیکی شاعری سنائیں
خواجہ فرید کی مشہور زمانہ کافی کا آخری بند سنایا

جے یار فرید قبول کرے
سرکار وی توں، سلطان وی توں
ناں تاں کہتر، کمتر، احقر ادنٰی
لاشئے، لا امکاں وی توں

اس پر وہ چونکے ارے یہ کیا
فرید نے تو آخر میں بہت ہی گہری بات کر دی
ادھر ہم بھی حیراں علالت اور کہنہ سالی کے باوجود
حواس سلامت ایک ایک لفظ پر غور اور شعر فہمی کا اعلی معیار

کہا خواجہ فرید واقعی بہت بڑا شاعر ہے
کچھ اور سنائیں

بلال ساجد کی گائیکی تو ہمارے ساتھ ساتھ چلتی ہے
ان کی آواز میں

اساں مونجھاں تیڈیاں
اساں کونجاں تیڈیاں
سنایا
تو دور کہیں کھو گئے اور کچھ دیر بعد یوں گویا ہوئے
اج کی ہویا اے مائے
مینوں پتا نہیں ہائے
ترکلے دی نوک ہتھاں وچ چبھ چبھ جائے
مال ڈِگ ڈِگ جائے
چرخہ کتیا نا جائے

پھر کہا
کچھ اور سنائیں
قربان کلاچی کی شاعری
ڈینھ لتھے کوں لتھے محل جوڑ تے
سننے کے بعد کہا

یہ تو اس دور کا کلام ہے جب سٹالن کی جے ہو مزدوروں کسانوں کی جے ہو،  کے ترانے گونجتے تھے لیکن اب وہ زمانے لد گئے۔ 
گرمی محفل نے وقت گزرنے کا احساس نہ ہونے دیا پچاس منٹ بعد اجازت لی۔  گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولے آپ حیدر آباد کے پلیجو ہاؤس آئے۔ انتہائی شکریہ۔
اپنے دیس واسیوں سے کہنا رسول بخش پلیجو آج بھی اپنی قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے تھکنا نہیں دوستو۔

اس کے بعد ڈاکٹر کامران اور ڈاکٹر زیبر کی رہنمائی میں شہرِ لطیف پہنچے
رات
فقیر
پیر
سر 

لے
لنگر
پھول
اور
دھول۔
پھیلے ہاتھ کوئی بشر کے سامنے تو کوئی پتھر کے حضور۔ 

صحرا کی بیابانی غاروں کی ویرانی نہیں۔۔۔ دلوں کی ویرانیاں اور دماغوں کی حیرانیاں پجاری بناتی ہیں کبھی بھاگوان کا کبھی خدا کا۔ بیٹے کا نوالہ چھین کر بیٹی کا زیور وار کر بھاگوان کی مورتیاں اور خدا کی خوبصورتیاں تراشی جاتی ہیں۔ 
یہ گوشت پوست کا آدم جایا جب اپنے جیسوں سے چھینتا ہے تو مدفن ہی آخری آسرا اور سہارا ہوتے ہیں۔
انسان بموں سے نہیں مرتا بیماریوں سے نہیں ہارتا۔
مرتا اس وقت ہے جب اس سے وہ کندھا چھن جائے جس پر وہ سر رکھ کر روتا ہے۔
جب زندہ کندھا نہیں دیتے تو پتھروں کو مسیحا سمجھ کر پتھر دلوں کے کرب پتھروں ہی کو سنانے چلا آتا ہے۔ 
شاہ لطیف کی درگاہ پر کوئی اجڑی مانگ میں سیندور بھروانے تو کوئی پیار کی تانگھ میں کُرلانے آتا ہے۔
دعا مانگتی ماں کے ساتھ جالیوں سے دھاگہ باندھتی ناری بھی دیکھی،۔
محبوب کو پیاری بھی دیکھی،۔
باپ کی دلاری بھی دیکھی، 

دکھوں کی ماری بھی دیکھی

شاہ لطیف فرماتے ہیں 

رحیمن دھاگہ پریم کا، مت توڑو چھٹکائے۔۔۔۔
جڑے گانٹھ پڑ جائے، ٹوٹے تو پھر نا جڑے۔

( مترجم شیخ ایاز )

لنگر کی  نمکین کھچڑی کھاتی ماں کے بلاول، خالی برتن لاتی مریم کی حالت دیکھتے پروفیسر منیر بولے سائیں یہاں تو آتے ہی دکھی لوگ ہیں آپ کس کس کے لئے آنسو بہائیں گے۔۔۔۔چلیں چائے پیتے ہیں۔

نہیں دوست۔۔۔ کبھی کبھی نمک کا ذائقہ سارے ذائقوں سے بازی لے جاتا ہے چاہے کسی مزار  کے نمکین چاول ہوں یا کسی کی خاطر آنکھوں سے بہتا نمکین پانی۔۔۔۔۔ 

آج نمک کا ذائقہ سب پہ بھاری ہے۔

اگلے دن ڈاکٹر کامران ڈاکٹر محسن اور ڈاکٹر سعد اور وقار حسن کے ساتھ۔۔۔۔۔ اور ہماری واگ علی حسن کے ہاتھ۔۔۔۔۔
میر پور خاص سے چلے بلاڑو شاہ کی ٹھاڈل نے رکنے پر مجبور کیا جیسا سنا۔۔ ویسا پایا۔
اس کے بعد میر واہ کی تھرپارکر شوگر مل۔

کیا آپ کو معلوم ہے یہ مل کس کی ہے
علی حسن نے پوچھا
ہمارا جواب نفی میں۔
تو وہ بولا
یہ اس مشہور سیاست دان خاتون کے خاندان کی ہے جس کی اکلوتی جوان اولاد انیس سالہ بیٹے نے خود کشی کر لی تھی

ایک جنازہ یہاں بھی ہوا تھا۔

ایسا سانحہ تو فریال تال پور کے ساتھ پیش آیا تھا۔
آپ صحیح سمجھے

سر!۔
میر واہ کا کیلا بھی بہت مشہور ہے اور پنجابی آبادکار بھی بہت ہیں یہاں۔ 
سبز کھیتوں کی طرف دیکھتے ہوئے علی حسن نے پوچھا سائیں کیا شاہی، خوشحالی اور ہریالی صرف پنجابی کی قسمت میں لکھی ہے؟

علی حسن کتوں کی قبریں کہاں ہیں؟

یہاں کا نوہانڑیں قبیلہ کتوں کا بہت شوقین ہے مرنے پر وہ اپنے کتوں کے مزار بناتے ہیں۔

اس کی گفتگو کے دوران ہندو بچوں کے ویران مدفن اجڑی اکھڑی ریلوے لائن دیکھتے رہے۔

ڈِگری کے رسیلے بیر اور میر پور خاص کے خوشبو دار آموں کا تذکرہ کرتے ٹنڈو جان محمد چائے کے لئے رکے۔

کامران تو لسی کا رسیا ہے باقیوں کے لئے چائے۔
چائے اور لسی سامنے آئی تو ان کے اوپر بالائی کی فراوانی سے حیرانی ہوئی
پوچھا تو دکاندار بولا ہمارا کاریگر لہوری ہے اور آپ کو تو معلوم ہے کہ لہوریوں کو بلائی نکالنے کا ہنر خوب آتا ہے۔

یہ جڈ ہے۔۔۔ یہاں کا سرسوں کا تیل بہت مشہور ہے

وہاں بلائی۔۔ یہاں تیل۔۔۔ سندھ کو نچوڑا جا رہا ہے۔

فون آیا
کہاں پہنچے؟

بس آئے ذرا نوکوٹ کا قلعہ۔ دیکھ لیں۔
گیٹ وے ٹو تھرپارکر کہلانے والے نوکوٹ قلعے کو 1814 میں مشرقی راجپوتوں کے حملے سے بچاؤ کے لیے میر کرم علی تالپور نے تعمیر کرایا سندھ پر 1783 سے 1843 تک تالپوروں کی حکومت رہی۔۔۔ پھر۔۔۔۔۔۔ سندھ پر نیپئر ہوگیا اور صفہ کوٹھا ایک ہو گیا۔

نوکوٹ قلعے کے نسبتاً تنگ داخلی راستے پر وقت سے پہلے بوڑھے ہوتے اونچے قد کے ایک زمین زاد نے ہاتھ ملایا اور بولا

میں ہوں اچار بھیل۔۔ یہاں کا چوکیدار۔۔
پھر وہ کھاد کی بوری سے بنی چٹائی کے نیچے سے ایک رجسٹر نکال لایا سائیں یہاں آنے والے اس پر کچھ لکھتے ہیں۔

اچار بھیل! آپ یہاں چوکیدارہ کرتے ہیں!۔ 

  نا سائیں پیٹ خاطر نوکری کرتے ہیں۔ چوکیدارہ کر سکتے تو آج سندھ کے مالک نہ ہوتے

اگلی منزل مٹھی
تھر کا مٹھی
مٹھی کا تھر 

یہ قصے یہ کہانیاں یہ تواہمات یہ ریتیں یہ روایات جسے انگریزی کے ایک ہی لفظ نے اپنے اندر سمو لیا ہے مایئتھالوجی

سائنس کی دریافتیں  مائیتھالوجی کی پر پیچ وادیوں سے ہی تو برآمد ہوئی ہیں۔۔۔ مائیتھالوجی، سائینس کو اپنے پیچھے بھگائے رکھتی ہے کبھی تو اپنی گرد میں گم کر دیتی ہے لیکن سائینس پھر ابھر آتی ہے اور اسے دو تھپڑ جڑ دیتی ہے اور اپنی جیت پر جشن مناتی ہے اور مائیتھالوجی منہ بسورتی رہ جاتی ہے۔۔۔۔ لیکن لیکن کبھی دونوں ایک ہی بولی بولنے لگتی ہیں۔۔۔
تھر کے بارے میں دونوں ایک ہی کہہ رہی ہیں

مائیتھالوجی کہتی ہے وہ تو ایک ناری کے درشن نے میرے وشنو مہاراج کی دس ہزار سالہ تپسیا کو بھرشٹ کردیا اور سمندر، تھر کے صحرا میں بدل گیا اور سائنس بھی یہاں وجوہات تو اور تلاش لائی ہے لیکن تھر پہلے سمندر تھا پر اپنی مہر تصدیق لگاتی ہے
ان دونوں کا سفر جاری ہے اور ہمارا بھی 

دنیا کے واحد آباد صحرا کا مرکز مِٹھی
ضلع تھر پارکر کا صدر مقام مِٹھی
جہاں رام و رحمان، رامائن و قرآن کے منتے پیار سے رہتے ہوں وہ مقام مِٹھی ہی تو کہلائے گا
جہاں ایامِ محرم میں ہندو، شادی کے شادیانے نہ بجائیں، جہاں مسلمان ہندوؤں کے احترام میں گائے ذبح نہ کریں ایسی جگہ مٹھی نہیں تو اور کیا کہلائے گی
جہاں دیوالی اور عید کا فرق محسوس نہ ہو تو اسے مٹھی کا نام نہ دیں تو اور کیا کہیں
کہتے ہیں محرم کے دنوں پانی، شربت اور دودھ کی سبیلیں ہندو چلانے میں سب سے زیادہ حصہ لیتے ہیں 

کٹھو جانی، ایاز حسین، راجیش سانی، ڈاکٹر شنکر کا مٹھی

بھارتی، بھاونا مُسکان کا مٹھی
اور
تھر کے ایدھی وشن داس لوہانہ ماما وشنو کا مٹھی۔

نو کوٹ سے آگے کشادہ ہوتی نئی سڑک، پانی کی پائپ لائن راہ بناتی مشینں، راستے سجاتے مزدور، ٹیلوں پر گھاس اور جڑی بوٹیاں
سر
یہ تھر کول کی وجہ سے سڑکیں کھلی ہو رہی ہیں
کہتے ہیں تھر کے کوئلے سے ہم خوشحال ہوں جائیں گے، 
تھری نہال ہو جائیں گے، بھوک مٹ جائے گی، خوشحالی اور ہریالی کا راج ہو گا

یہ سن کر ڈاکٹر محسن بولا ۔۔۔

علی حسن۔ جب سوئی میں گیس دریافت ہوئی تھی تو یہی باتیں سننے کو ملیں تھیں آج سوئی کی گیس سے بلوچستان جل رہا ہے

اور یاد رکھنا کل تھر کے کوئلے کی کالک تھر کے چہرے پہ مل دی جائے گی۔

وسیع صحرا، کھلی سڑک، اکا دکا مسافر، مویشی چراتے تھری۔
اچانک منظر بدلتا ہے،
موہن ملتا ہے
اے موہن تُو تو سانولا گیا ہے تیرا حسن تو گہنا گیا ہے وہ دیوتا موہن کہاں گیا جو دلوں کو موہ لیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گورکی کی دال میں گھی جتنا، آک کے سائے میں بیٹھا اداس، نراش موہن ہمیں دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا

یہ چبُھڑ کیوں بیچ رہا ہے؟
سائیں
ماں بیمار ہے دارو لینی ہے

پڑھتے ہو؟

تین انگلیوں سے اشارہ کیا۔
سو روپے کے دے دو

سائیں مذاق نہ کرو
اتنے کے کبھی نہیں بیچے۔ سو روپیہ بہت ہے
یہ سارے پچاس کے ہیں

لے آؤ
ارے ارے کیا ہوا موہن سڑک پہ پاؤں کیوں نہیں رکھ رہا۔

سائیں!
سڑک تتی ہے پاؤں جلتا ہے۔ 

واقعی بہت سے دیوتاؤں کو سورج جلا اور زمین دفنا دیتی ہے۔

گہری خاموش چھا گئی کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ ارے بھائی کہاں کھو گئے۔ وہ زمانے تو لد گئے جب صحرا میں سسیاں گھم ہو جاتی تھیں اب گوگل مہاراج کسی کی منزل کھوٹی نہیں ہونے دیتا یہ ڈاکٹر شنکر کی آواز تھی۔

مٹھی میں داخل ہوئے کشادہ سڑکیں، صاف کھلی گلیاں، جدید طرز کی عمارتیں۔
سب کی طرح ہماری حیرتیں دیدنی۔
ایاز حسین، کٹھو جانی،  راجیش شنکر اور ماما وشنو ایسے ملے کہ۔۔۔۔۔۔۔ کامران نے کہا سر آپ نے تو کہا ہم سب پہلی دفعہ ملیں گے عجب ہے کہ راستے انجان انہی راستوں کے انسان آپ کی جان۔۔۔۔۔ حیرت ہے۔

میرے لاڈلے! جب دل ایک ساتھ دھڑکے جب سوچیں ایک، جب خیالات نیک تو انجانا پن کیسا۔ کوئی تعارف، کوئی رسمی کلمات بس ایسے لگا کہ ایک محفل سجی تھی دوسری لگانے جا رہے ہیں۔
ماما میرِ محفل جانِ مجلس کھانا اور چائے کس کس لطافت و چاشنی کا تذکرہ ہو۔

سب سے پہلے ماما ہمیں اپنی بلڈ لیبارٹری اور بلڈ بینک لے گئے یہ پورے میر پور خاص ڈویژن کی سب سے بہترین جدید سہولتوں سے آراستہ بلڈ بینک ہے حتی کہ پلازما خون کی سہولت موجود۔

انتھک، سراپا عجز و نیاز اور مگن اپنے کام میں، اپنے شعبے پر مکمل عبور
بلڈ بینک، مِٹھی، لوگ، عوام، روئیے، سب کے بارے میں جزئیات بتاتے ہوئے ماما کی وارفتگی حیران کئے ہوئے تھی۔ ہسپتال سے باہر نکلے۔۔۔
پوچھا

بابری مسجد کے واقعے کے بعد پاکستان میں بہت سے مقدس مقامات کی توہین کی گئی۔ مندر گرائے گئے۔۔ مِٹھی سے دو سو کلومیٹر دور حیدر آباد کے قریب ٹنڈو الہ یار میں راما پیر کے محافظ کو مسلمانوں نے مار دیا تھا۔۔
مِٹھی میں کیا ہوا؟
خدا کا نام لیں
ماما وشنو بولا
یہاں ہندو مسلم نے مل کر انڈیا کی حکومت کے خلاف بابری مسجد کے تحفظ میں ناکامی پر جلوس نکالا تھا۔۔ یہاں جرائم اور مذہبی نفرت کا تصور بھی نہیں۔۔

ماما
ہمیں مذہبی نفرت کی کچھ علامتیں کچھ عمارتوں کی صورت میں نظر آ رہی ہے۔۔

یہ خالی عمارتیں ہیں لیکن ان میں انسان بستے ہیں
جب تک ہماری نسل زندہ ہے یہاں عقیدے کی بنیاد پر انسان کی توہین نہیں کی جائے گی۔ 

ارے ماما یہ کیا۔۔۔۔
گورنمنٹ صادق فقیر ڈگری کالج مِٹھی

یہ صادق فقیر کون؟

آپ نہیں جانتے؟
نہیں 
کمال ہے
صادق فقیر میرا کلاس فیلو، میرا یار، میرا دوست،
آج میں اسی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہوں
تھر کا رفیع
منگنڑ ہار تھا،
گلوکار تھا
سندھی زبان و ادب میں ماسٹر کیا
مٹھی میں استاد تھا 
اس کی گائیکی نے تو پوری دنیا میں سندھ، سندھی زبان اور تھر کے ڈنکے بجا دئیے ساری دنیا گھوما لیکن گھر، گھرانا، ڈیرہ، ٹھکانا مٹھی میں۔۔۔
2015
میں اپنے بچوں کے ساتھ عمرہ کرنے گیا سڑک حادثے میں فوت ہوا، کہتے ہیں اللہ کو محبوب بندوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی اپنا محبوب اپنے پاس رکھ لیا۔۔۔ ہمیں رُلا دیا 
میت آئی 

اور مِٹھی سارا پلٹ آیا جنازے میں کس کا کلمہ پڑھنے والا کس قطار میں ہے کسی کو معلوم نہیں ہندو کس صف میں مسلمان کس قطار میں کوئی پتا نہیں سب انسان سب سوگوار سب سُر کو سلام پیش کر رہے تھے۔ ہر گھر میں ماتم ہر گھر میں سوگ۔
ہو سکتا ہے سیاسی جنازہ بے نظیر کا بڑا ہو لیکن سُر کے راہی صادق فقیر کا جنازہ کسی سے کم نہیں تھا۔ دس دن سوگ۔ کوئی کام نہ ہوا

اس پر کٹھو جانی بولے جب قائم علی شاہ تعزیت کے لئے مِٹھی آئے تو ہم نے کہا
شاہ سائیں پہلے ڈگری کالج کا نام صادق فقیر کے نام پر، پھر فاتحہ۔

وزیر اعلی کے سیکرٹری حیران لیکن شاہ صاحب ہمارے دلوں کی تڑپ اور آنکھوں کا پیام پڑھ چکے تھے فوراً احکامات جاری کئے۔

 ڈاکٹر شنکر نے کہا ہم ٹیلے پر  جب اسے سنتے تو پریاں اتر آتیں ہمارے دل کے کنول کھل اٹھتے کون کہتا ہے سُر میں تاثیر نہیں موسیقی میں پیار نہیں ہے شرط ہے سر سچا لگایا جائے۔
ہمیں اس کی قبر پر لے چلیں 

رات ہونے والی تھی قبرستان کا دروازہ بند تھا ماما نے فون کیا ارے  جلدی آئیں ہمارے سرائیکی دیس کے لوگ صادق فقیر کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔  تھوڑی دیر بعد ایک نوجوان تیزی سے موٹر سائیکل چلاتے آیا اترتے ہی ماما کے پاؤں چھوئے۔  ناراضگی معاف مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا تھوڑا دیری ہو گئی۔
قبر پر حاضری دی پھول رکھے سلام کیا۔

پریس کلب میں ڈاکٹر شنکر اور کٹھو جانی کو منتظر پایا۔
ملٹی میڈیا، کانفرنس روم، میٹنگ ہال، کھلے کمرے۔۔۔ یہ تھا مٹھی پریس کلب۔ یار ایسا پریس کلب تو شاہوں کے دیس میں ہوتا ہے۔
جانی بولے
ہم نے اپنی محنت سے بنایا ہے جو سرکاری کارندہ آتا ہے اس سے فنڈز لے کر بناتے رہتے ہیں۔

سارے صحافی آپ جیسے کیوں نہیں ہوتے
کہا
سارے اچھے ہی ہوتے بس ذرا کچھ اپنے ضرورتیں بڑھا لیتے ہیں اس لئے کبھی کبھی جھکنا پڑتا ہے انہیں۔

راستے میں بحریہ دسترخوان نظر آیا۔ رکے۔۔۔۔۔  اندر داخل ہوئے انچارج راشد احمد نے کہا یہاں 25 ملازم ہیں دن میں ایک ہزار، رات کو 4 سے 5 سو تک لوگ کھانا کھاتے ہیں سکول کے بچے بھی آتے ہیں۔
کراچی سے سامان آتا ہے کوئی حد نہیں جتنا کہیں بھیج دیتے ہیں
صاف باورچی خانہ، سلجھا عملہ، سٹیل کے دیگچے۔۔ تصاویر لینے لگے تو راشد صاحب بولے

ہمارے مہمانوں کی تصاویر  نہ لیں۔ ہو سکتا ہے انہیں ناگوار گزرے۔۔۔۔۔ انہیں سلام کیا اور باہر آئے 

ماما کے گھر پہنچے دروازے کھولتے ہی کہنے لگے
بھارتی
بھاونہ
مسکان
بیٹی کہاں ہو جلدی آؤ ہمارے دوست آئے ہیں۔ سارنگ بیٹا چارپائی سیدھی کرنا کرسی یہاں رکھو
بچوں سے  باتیں کرتے ایسا محسوس ہوا رشتے خون سے نہیں مذہب سے نہیں احساس کے، انسانیت کے ہوتے ہیں سب ایسے ملے کہ سارے دن کی تکھن اتر گئی بچیاں اپنی پڑھائی پسند مستقبل اور اپنے والدین کے بارے میں جس چاؤ سے بولیں رشک آیا کہ ماما کے جذبوں کے پیچھے ان معصوم دلوں کی دھڑکنوں کا ساتھ ہے

کافی دیر تک بیٹھے رہے ماما کبھی پکوڑے کبھی پاپڑی تو کبھی چائے لا رہے ہیں تھکاوٹ اکتاہٹ کا شائبہ تک نہیں۔۔
دوبارہ جلد ملنے کے وعدے پر اجازت ملی۔
دروازے پر رکے
ماما بولا یہ مکان صادق فقیر نے بنوانے میں بہت مدد کی۔ حکومت سے پراویڈنٹ فنڈ سے پانچ لاکھ روپے کی درخواست دی کافی مدت بعد ڈیڑھ لاکھ روپے منظور ہوئے۔۔ صادق نے کہا اداس نہیں ہونا پھر اس کی مدد سے بنانے میں کامیاب ہوا اور۔۔۔۔۔  یہاں اس نے کہا تھا اوطاق بنائیں گے۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ لیکن ظالم موت نے ہمارا یار چھین لیا۔۔۔ چاند کی دھندلکے میں ماما کے دو آنسو صادق کی بارگاہ میں حاضری کے لئے مقام اوطاق پر جا گرے۔

مٹھی کی رات بارہویں کا چاند ٹھنڈی ہوا اور نیچے سارا شہر روشنیوں میں نہایا ہوا دیوالی کے لئے سجایا ہوا ۔۔۔۔ دارالحکومتوں کا دامن کوہ اس رات کے ایک جلوے پر قربان۔۔
ڈاکٹر شنکر بولے ایسی راتوں میں مٹھی کے اسی ٹیلے پر صادق سُر لگاتا اور آپ کا دوست شرجیل بانسری بجاتا تو پورے مٹھی پر نور اتر آتا اور
وہ سماں ہوتا جس کے بارے میں ناظر نے کہا تھا کہ ہر اترا ہے ہر جا جوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *