پاکستانی میڈیا کے جان لاکس

بیرسٹر حمید باشانی خان

مطلق العنانیت صرف سیاسی نہیں ہوتی۔ یہ فکری، اخلاقی ، دینی اور مذہبی بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے میں ہر قدم پر مطلق العنانیت کے روئیے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ روئیے بہت مضبوط ہیں۔ ان کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔ یہ روئیے ان آمریتوں کی دین ہے جو طویل عرصے تک ملک پر مسلط رہی ہیں۔ ان آمریتوں کی وجہ سے عوام اور خواص کی ایک مخصوص نفسیاتی تشکیل ہوئی ہے۔ اسی نفسیات کے مختلف مظاہرے آئے دن ہر شعبہ ہائے زندگی میں دیکھائی دیتے ہیں۔

سیاسی سطح پر اس نفسیات کا اظہار مگر بہت نمایاں ہے۔ یہ اظہار عموما خواص کی طرف سے ہوتا ہے۔ خواص میں وہ بیشتر لوگ شامل ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں مطلق العنانیت کا حصہ رہے، یا اس سے مستفید ہوتے رہے۔ اور ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں۔ آمریتوں کے طویل ادوار میں ان لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی اپنی باری پر اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ وصول کرتی رہی۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی یہ لوگ اپنی شخصیتوں میں بے پناہ لچک اور اقتدار سے بے حد پیار کی وجہ سے وفاداریاں اور چہرے بدل بدل کر جمہوریت کی برکتیں بھی سمیٹنے میں شامل رہے۔ 

لیکن اس کے باوجود یہ لوگ مطلق العنانیت کے سحر اور اس کی نفسیاتی تشکیل سے باہر نہ نکل سکے۔ چنانچہ آئے دن یہ لوگ جمہوریت سے بیزاری اور کسی متبادل نظام حکومت کی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکنوکریٹس کی حکومت، مخلوط حکومت، قومی حکومت ، صدارتی طرز حکومت، عارضی حکومت، عبوری حکومت یا کسی امیرالمومنین کی حکومت جیسی تجاویز کے پس منظر میں کئی نہ کئی مطلق العنانیت کی یہی خواہش اور سوچ کارفرما ہوتی ہے۔

اس صورت حال کودیکھ کر کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم ابھی تک نظریاتی اور فکری اعتبار سے ماضی میں کئی بہت دور اٹکے ہوئے ہیں۔ ہم آج بھی حیرت انگیز طور پر اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں جو انگلستان میں سترویں صدی میں شروع ہو کرسمٹ چکی تھی۔ تھامس ہاب کے خیالات آج ہمارے ہاں مذہبی پیشوواں ، کچھ سیاسی رہنماوں اور نام نہاد دانشوروں کی زبان میں سنائی دے رہے ہیں کہ انسان بنیادی طور پر جنگلی، لالچی اور بے رحم ہے، اور اس کو سیدھے راستے پر رکھنے کے لیے ایک مطلق ا لعنان آمر کی ضرورت ہے۔ 

خوش قسمتی سے تھامس ہاب کے ساتھ ساتھ انگلستان کے پاس اس وقت ایک جان لاک بھی تھا۔ اس کا خیال یہ تھا کہ حکومت بے شک مطلق ا لعنان ہی ہو ، لیکن اس کی باز پرش کا کچھ اختیار تو عوام کے پاس بھی ہونا چاہیے۔ لیکن ہمارے ٹی۔وی پر بیٹھے ہوئے جان لاکس یہ اختیارآج بھی عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ اسکے بر عکس ان کاخیال ہے کہ یہ فریضہ ہمارے ججوں یا ہماری فوج کے پاس ہونا چاہیے۔ یعنی جمہوریت کا تقاضہ پورا کرنے کے لیے انتخابات ضروری بلکہ ناگزیر ہیں۔ بیس کروڑ لوگ بے شک اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں ، مگر اس کے ساتھ ہی کسی معمولی سی معمولی بات پر بھی ان حکمرانوں کو گھر بھیجنے کا اختیار بہرحال ججوں کے پاس ہونا چاہیے۔ 

ہمارے ہاں کچھ ایسے جان لاکس بھی ہیں، جو عوام کے منتخب نمائندوں کو گھر بھیجنے کا اختیار فوج کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں ہماری فوج کے پاس ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے بعدبھی اتنا فالتو وقت اور صلاحیت ہے کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کا فریضہ بھی ان کے پاس ہونا چاہے، اور یہ دونوں فرائض سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ ہماری فوج کو چاہیے کہ وہ ملک کی جمہوری اور آئینی سرحدوں پر بھی کڑی اور گہری نظر رکھے۔ اور اگر ضرورت پڑے تو اس شعبے کا انتطام و انصرام بھی اپنے ہاتھوں میں لے لے۔

ہمارے کچھ ٹی۔وی دانشور اور جان لاکس ایسے بھی ہیں جو عوام کے منتخب نمائندوں کو رد کر کہ واپس گھر بھیجنے کا اختیار مجمع بازوں، انبوہ گردوں یہاں تک کہ محض چند سو لوگ جمع کرنے کی صلاحیت رکھنے والے غنڈہ گردوں کے سپرد کرنے کی بھی پر زور وکالت کرتے ہیں۔

یہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ جب کبھی ملک میں کوئی مسئلہ درپیش آئے، جیسے کوئی چھوٹا موٹا دھرنا، یا پھر کوئی بڑا بحران تو ان لوگوں کی انگلی فورا جمہوریت پر اٹھتی ہے ، اور وہ یہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ جمہوریت ہمارے مسائل کے حل کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ چنانچہ حل مطلق العنانیت ہے۔ جمہوریت کو مغربی اور شیطانی نظام قرار دینا، فوج کو واحد نجات دہندہ قرار د دیکراسے کھلے عام اور خفیہ ملاقاتوں میں جمہوریت کی بساط لپیٹ کر اقتدار پر قابض ہونے کی دعوت دینا، یہ سب مطلق ا لعنان سوچ کے ہی امختلف اظہارہیں۔ 

مطلق العنانیت کی یہ خواہش یا رحجان صرف سیاست کاروں تک ہی محدود نہیں۔ یہ ہر شعبہ ہائے زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔ مذہبی حلقوں میں کٹر سوچ اور شدت پسندی اس رحجان کی مظہر ہے۔ عسکری حلقے تو متعدد بار عملی طور پر اس رحجان کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اور سماج کی دیگر پرتوں تک اس رحجان کے پھیلانے میں بھی ان ہی حلقوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ حالیہ چند برسوں کے دوران ہمارے ہاں عدلیہ کے اندر بھی ایک طرح کی مطلق العنانیت کی سوچ ابھر رہی ہے۔

عدالتی فعالیت میں اضافے اور ریمارکس کی شکل میں ججوں کے نیم سیاسی بیانات اور ان کی تشہیر اسی بڑھتے ہوئے رحجان کے عکاس ہیں۔ مطلق العنانیت کی کئی شکلیں ہو سکتیں ہیں۔ کہیں یہ مطلق العنان شنشاہیت کی شکل میں ہوتی ہے۔ کہیں انبوہ گردی، اور بعض صورتوں میں یہ جمہوریت کا روپ بھی دھار سکتی ہے۔ جمہوریت کے روپ میں مطلق العنانیت آمریت کی سب سے خوفناک شکل ہے، جس سے ہو شیار رہنا ضروری ہے۔

2 Comments

  1. جناب کا فرمانا درست۔لیکن یاد رکھنے والی بات ھے کہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ عوامی نمائندوں نے ہمیشہ دھوکہ کیا ھے۔سوشلزم جیسے بیانہے کے ساتھ عوام کو لوٹا گیا۔اب ایک کرپٹ سرمایہ دار کو ایک خاص صورت میں نا اہل کیا گیا۔عوام کے پاس وہ وژن نہیں جو یہ فیصلہ کرتی اور عوام اس مافیا کی غلامی پر مجبور ھے۔اصرف دولت کی طاقت پر یہ گروہ الیکشن جیتتا ھے اور پھر کاروبار کرتا ھے اور چٹان کی طرح ایک اجارہ داری قائم ھوئی ھے۔جو مسلہ عوام نہ حل کر سکیں وہ اگر عدالتیں کر دیں تو حرج نہیں ۔مخصوص حالات میں ۔

  2. جمھوریت کے روپ میں آمریت بدترین ہے. کیسے؟ جناب..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *