سرور، مقصد زندگی اورسراب 

بیرسٹر حمید باشانی

خوشی کی کنجی کہاں ہے؟ یہ سوال زبان زد عام ہے۔ اس مشکل اورمقبول سوال کا جواب دیتے ہوئے ہاریری لکھتا ہے خوشی کی کنجی انسان کے بائیو کیمیکل نظام میں ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے، اور اگرہمیں اس حقیقت کا آج ا حساس ہو ہی گیا ہے تو پھر ہمیں سیاست، سماجی اصلاحات اور نظریات پر وقت ضائع کرنے کے بجائے بائیو کمیسٹری پر توجہ دینی چاہیے۔

اگر ہم اپنی بائیو کیمسٹری کو سمجھنے اور مناسب علاج پر کھربوں ڈالر خرچ کریں تو ہم انسان کو پہلے سے کئی زیادہ پرمسرت زندگی دے سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ہمیں کسی انقلاب کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مثال کے طور پر پروزک” نامی دواحکومتیں نہیں بدلتی، مگر یہ سیروٹونن” بڑھاتی ہے جو انسان کو افسردگی یا ڈیپریشن سے باہر نکالتا ہے۔ 

خوشی کا آغاز انسان کے اندر سے ہوتا ہے۔ یہ بائیولوجیکل دلیل کے حق میں نئے دور کا مقبول نعرہ ہے۔ روپیہ پیسہ، سماجی رتبہ، پلاسٹک سرجری، خوبصورت گھر، طاقت و اختیارکچھ بھی آپ کو خوشی نہیں دے سکتا ہے۔ پائیدارخوشی تو سیروٹونن اور آکسیوٹن “سے ہی ملتی ہے۔ گریٹ ڈیپریشن کے عروج پر ہکسلے نے اپنے ناول نئی بہادر دنیا میں ایک پر مسرت ریاست کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کس طرح نئی دنیا میں مسرت قدر و قیمت رکھتی ہے اور نفسیاتی دوائیں پولیس اور بیلٹ کی جگہ لے لیتی ہیں۔

اس ریاست میں ہر روز ہر شہری سومہ نامی ایک دوا لیتا ہے جو ان کی کارکردگی اور بارآوری کو متاثر کیے بغیر ان کو مسرت دیتی ہے۔ اس طرح ہکسلے کی خیالی عالمی ریاست کو جنگوں، انقلابوں، ہڑتالوں اور احتجاجوں کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ، چونکہ تمام لوگ خواہ وہ کسی حالت میں بھی ہوں سومہ کھا کر خوش رہتے ہیں۔ 

ہکسلے کی پر مسرت دنیا اس حیاتیاتی مفروضے پر قائم ہے کہ خوشی اور سرور ایک ہی چیزہے۔ خوش رہنے کا مطلب ایک خوشگوار جسمانی احساس ہے۔ چونکہ بائیو کیمسٹری احساس کی مقدار اور مدت کو محدود کرتی ہے، اس لیے انسان کو لمبے عرصے تک حالت سرور میں رکھنے کا واحد طریقہ بائیو کیمیکل سسٹم کو سلیقہ سے استعمال کرناہے۔ مگر خوشی کی تعریف پر اختلاف رائے ہے۔ اکثر والدین کے لیے زندگی کی سب سے بڑی مسرت بچوں کی پرورش ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں ڈائپر بدلنے جیسے محنت طلب کام سے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ حقیقی معنوں میں یہ نہیں جانتے کہ ان کے لیے اچھا کیا ہے اور برا کیاہے ؟ 

خوشی کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ خوشی کا تعلق ایک با مقصد اور کارآمد زندگی سے ہے۔ نٹشے نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس جینے کا مقصدہے تو اپ کوئی بھی مشکل برداشت کر سکتے ہیں۔ ایک با مقصد زندگی مشکل ترین حالات میں بھی پر مسرت ہو سکتی ہے۔ اور ایک بے معنی زندگی ایک خوفناک ابتلاہے خواہ یہ بہت ہی خوشحال کیوں نہ ہو۔

اگرچہ انسان نے ہر دور اور ہر تہذیب میں ایک ہی طرح کا سروریادرد محسوس کیا ہے ، لیکن ہر دور کے انسان نے اپنے اس تجربے کو جو معنی دئیے ہیں وہ مختلف ہیں۔ اگر زندگی کا لمحہ بہ لمحہ حساب کیا جائے تو یقیناًقرون وسطی کے لوگوں کی زندگی بہت دشوار تھی۔ لیکن اگر وہ اگلے جہاں کی نہ ختم ہونے والے نعمتوں پر یقین رکھتے تھے تو شائد وہ اپنی زندگیوں کو ان جدید اور سیکولر لوگوں سے زیادہ بامقصد تصور کرتے ہوں جو موت کے بعد ایک مکمل اور بے معنی خاموشی کے سواکسی چیز کی توقع نہیں رکھتے۔ تو کیا ہمارے آبا ؤاجداد اس لیے خوش تھے کہ وہ زندگی کا مقصدآخرت کے بارے میں ایک اجتماعی سراب میں دیکھتے تھے ؟ 

خالص سانئسی نقطہ نظر سے انسانی زندگی کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ انسان اندھی نشونما کے سلسلہ عمل کانتیجہ ہے جو مقاصد اور اہداف کے بغیر چلتا ہے۔ ہمارے اعمال کسی آسمانی دیوتا کے کائناتی منصوبے کا حصہ نہیں۔ اور اگر ہمارا سیارہ زمین کل صبح تباہ ہو جائے تو پھر بھی باقی کائنات کا نظام حسب معمول چلتا رہے گا۔ لوگ اپنی زندگی کو جو بھی معنی دیتے ہیں وہ ایک سراب ہے۔ 

قرون وسطی کے انسان نے اپنی زندگی کو جو دنیاوی معنی دے رکھے تھے وہ اس سے زیادہ خود فریبی پر مبنی تھے جو جدید ہیومنسٹ، قوم پرست اور سرمایہ داروں نے اپنے لیے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ ایک سائنسدان جو کہتا ہے کہ اس کی زندگی با مقصد ہے اس لیے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے انسانی معلومات میں اضافہ کر رہا ہے، ایک سپاہی جو کہتا ہے کہ اس کی زندگی با مقصد ہے اس لیے کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے لڑتا ہے، اور ایک سرمایہ کار جو ایک نیا کاروبار شروع کرنے میں زندگی کے معنی دیکھتا ہے اس انسان سے کم خود فریبی میں مبتلا نہیں ہے جو صحیفے پڑھنے، صلیبی جنگیں لڑنے یا نئے چرچ تعمیر کرنے میں زندگی کا مقصد پاتا تھا۔

تو شائد خوشی کا مطلب ایک انسان کے ذاتی وہم کو اجتماعی سراب کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ اگر میرا ذاتی بیانیہ میرے اردگرد کے لوگوں کے بیانیوں سے ملتا ہے تو میں اپنے آپ کو قائل کر سکتا ہوں کہ میری زندگی با مقصد ہے اور میں خوش ہوں۔

نوٹ: یہ کالم ہاریری کی کتاب نوع انسان کی مختصر تاریخ کے اکتسابات اور خیالات پر مشتمل ہے ۔ یہ لفظی ترجمہ نہیں ہے، چیدہ چیدہ خیالات کو اپنے الفاظ میں پیش کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *