عالمی عدالت انصاف کا الیکشن

طارق احمد مرزا

عالمی عدالت انصاف کے حالیہ انتخابات کے آخری راؤنڈ میں بالآخر بھارت کے دَ ل وِیر بھنڈاری برطانیہ کے کرسٹوفرگرین وڈکے مقابلہ میں فتح یاب قرار دے دئے گئے ہیں ۔ عالمی عدالت کی اکہتر سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس میں کوئی برطانوی نژاد جج موجود نہیں ۔ اس سے قبل پہلے دو راؤنڈز میں جسٹس (ر)دل ویر بھنڈاری دونوں مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تو بھاری ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے لیکن دونوں بارہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف کا ممبر بننے کے لئے ضروری ہے کہ نامزد امیدوار دونوں ایوانوں میں بھاری اور واضح اکثریت کا ووٹ حاصل کرے۔

بھارتی مبصرین نے عالمی عدالت انصاف کے الیکشن کے اس طریقہ کار اور قواعد و ضوابط کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت کا رکن بننے کے لئے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ ہی کافی ہونی چاہئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ برطانیہ سیکیورٹی کونسل میں اپنے ساتھی مستقل ممبران میں ہربار مضبوط لابنگ کرکے جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی حمایت، جو جسٹس بھنڈاری کو کثرت رائے سے دو بار حاصل ہوئی، کو رد کرواچکا ہے جو اقوام عالم کی کثرت رائے کی توہین ہے۔

بعض اخبارات کے مطابق بھارت نے تیسرے راؤنڈ کے انتخاب سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگربرطانیہ نے بھارتی امیدوار کے خلاف سیکیورٹی کونسل میں بدستورجوڑ توڑ جاری رکھی تو وہ دولت مشترکہ کی ممبرشپ سے دستبردار ہوجائے گا۔اس کے جواب میں مبینہ طور پر برطانوی حلقوں کی طرف سے یہ بیان دیکھنے میں آیا کہ برطانیہ بھارت کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی خاطراپنے نامزد کردہ امیدوار کرسٹوفرگرینوڈکی شکست تسلیم کرنے کو تیار ہے۔

یہ فیصلہ کرناتو مشکل ہے کہ جسٹس بھنڈاری بھارت کی مبینہ’ دھمکیوں ‘کے نتیجے میں منتخب ہوئے ہیں یا برطانیہ کی’ خیرسگالی اور فراخدلی‘ کے نتیجے میں لیکن یہ ضرور ہے کہ عالمی عدالت سے اخراج برطانیہ کے لئے ایک انتہائی کڑوی گولی نگلنے کے مترادف تھا۔اس سے قبلجنرل اسمبلی کاپاپولر ووٹ بینک کھو چکنے کے بعد برطانیہ سرتوڑ کشش کرتا رہاکہ سیکیورٹی کونسل میں مضبوط لابنگ کرکے جسٹس بھنڈاری کوتیسری بار بھی کامیاب نہ ہونے دے ۔اگر اس قسم کی صورتحال پیدا ہوتی تو پھر انتخاب کا متبادل طریقہ کاراستعمال میں لایا جاناتھاجس کی رو سے جنرل اسمبلی اور سیکیورٹی کونسل میں سے تین تین اراکین کو منتخب کرکے ایک چھ رکنی ’’جوائنٹ کانفرنس‘‘تشکیل دی جاتی ہے جس کے ممبران ووٹ ڈال کرنامزد امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ 

حقیقت تو یہ ہے کہ دوبارہ ہونے والے الیکشن میں جنرل اسمبلی میں بھارتی امیدوار کے ووٹوں کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیاتھاجو برطانیہ کے لئے نہایت خفت اور شرمندگی باعث ثابت ہوا۔ اس کی وجہ جیسا کہ پہلے بیان کی گئی ،یہ ہے کہ 1946 میں عالمی عدالت کے قیام سے لے کر اب تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس میں کوئی برطانوی جج ممبرمنتخب نہ ہواہو۔بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے ممبر ملکوں کے ووٹوں سے محرومی اور تیسری دنیا میں بھارت کی مقبولیت جنرل اسمبلی میں برطانیہ کی مذکورہ شکست کی کلیدی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔

اب تک بھارت کے تین ججزعالمی عدالت انصاف کے ممبرمنتخب ہو چکے ہیں جن میں جسٹس نگندراسنگھ شامل ہیں جو عالمی عدالت انصاف کے نائب صدر اور صدر بھی مقرر ہوئے تھے۔ان کے علاوہ سربینیگال راؤ،جسٹس رگھونندن پاٹھک،اور دلویربھنڈاری شامل ہیں۔مؤخرالذکرسنہ دوہزاربارہ میں بھی عالمی عدالت کے جج منتخب ہوئے تھے۔

پاکستان سے صرف سرمحمدظفراللہ خان عالمی عدالت انصاف کے جج منتخب ہوئے تھے۔(مدت1954-1961 اور1964-1973)آپ اس کے نائب صدر (1958-1961) اورصدر (1970-1973)بھی رہے۔کہا جاتا ہے کہ سرظفراللہ خان کا تقرر عالمی عدالت انصاف پر مغربی نوآبادیاتی طاقتوں کی اجارہ داری ختم کروانے کا نکتہ آغاز تھا۔اوراس لحاظ سے تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔اس زمانہ میں عالمی عدالت انصاف کے بعض جج جس طرح سرظفراللہ خان کے خلاف عالمی چالبازیاں اورپس پردہ سازشیں کرتے رہے اس کی کچھ تفصیل ایشین جرنل آف انٹرنیشنل لاء کی اشاعت ستمبر 2014میں بعنوان
Decolonizing the International Court of Justice: The
Experience of Judge Sir Muhammad Zafrulla Khan
شائع ہوچکی ہے۔
(
حوالہ:https://www.kcl.ac.uk/law/tli/events/kattan-paper.pdf)۔

عالمی عدالت کاممبر منتخب ہوجانے کے بعداس کے جج اپنے اپنے ملک کانمائندہ متصورنہیں ہوتے اور ان کا مقام اورکرادرغیرجانبدارانہ اور نیوٹرل ہوجاتاہے۔اس کے باوجود اگرکسی ملک کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں کوئی مقدمہ چل رہا ہواور اس کا کوئی شہری اس عالمی عدالت کا ممبر نہ ہو تو اسے یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس میں اپنی مرضی کا ایڈہاک جج مقرر کرواسکتا ہے۔

آجکل چونکہ عالمی عدالت انصاف میں بھارتی شہری کلبھوشن یادَو کا(جو اس وقت پاکستان میں قید اور سزائے موت کی سزا کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے)مقدمہ چل رہا ہے اس لئے پاکستان نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین کو اس کیس کی سماعت کرنے والے بنچ میں بطور ایڈہاک جج مقرر کروایاجو اس لئے ضروری تھا کہ بھارتی نژاد دَل وِیر بھنڈاری عالمی عدالت کے رکن ہیں۔انہوں نے توقعات کے عین مطابق کلبھوشن کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلہ کروانے میں بھرپورکردارادابھی کیا۔

اس سے قبل پاکستان کی طرف سے سید شریف الدین پیرزادہ ،محمدیعقوب علی خان اور سرمحمدظفراللہ خان بھی عالمی عدالت انصاف میں نامزدہو کر ایڈہاک جج مقررہو چکے ہیں۔سرظفراللہ خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں ایتھوپیا اور لائبیریانے بھی اپنے عالمی مقدمات کی سماعت کرنے والے بینچ میں بطورایڈہاک جج نامزدکروایاتھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *