انتخابی حلقہ بندیوں کے بل کی منظوری میں تاخیر

انور عباس انور

سینٹ سے انتخابی حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کی منظوری ایک مسئلہ بن گٗی ہے، حکومت اپنے ارکان سینٹ کو اجلاس میں لانے میں ناکام ہورہی ہے جبکہ اپوزیشن ارکان بھی اجلاس میں حاضری سے بھاگ رہے ہیں۔ حکومتی موقف ہے کہ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے وقت تمام پارلیمانی پارٹیوں کے راہنماؤں نے اس بل کو فوری منظور کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس بل کو منظور بھی کرلیا گیا۔

اب سینٹ سے بل کی منظوری بھی سب پارلیمانی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے اکیلی حکومت کا یہ درد سر نہیں جتنی ذمہ داری حکومت کی ہے اتنی ہی اپوزیشن کی ہے اپوزیشن کا موقف اس کے برعکس ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حکومت اپنے ارکان کی حاضری یقینی بنائے تو اپوزیشن ارکان بھی آجائیں گے۔

اس حوالے سے اپوزیشن کے موقف میں وزن ہے کیونکہ ترمیمی بل حکومت لائی ہے اور اس کی منظوری کے لیے ارکان مطلوبہ تعداد پوری کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اپوزیشن نے بھی ایک بل سینٹ سے منظور کروا رکھا ہے اور وہ بھی قومی اسمبلی سے منظوری کا منتظر ہے، مطلب یہ کہ حلقہ بندیوں کا بل حکومتی ہے تو سیاسی جماعتوں کی سربراہی کے لیے کسی نااہل شخص کی سربراہی سے متعلق بل اپوزیشن کا ہے۔حکومت کا حلقہ بندیوں کا بل قومی اسمبلی سے منظور شدہ ہے تو اپوزیشن کا بل سینٹ سے پاس ہے اب حکومتی بل سینٹ سے اور اپوزیشن بل قومی اسمبلی سے منظوری کے مراحل میں ہے۔

اپوزیشن چاہتی ہے کہ پہلے حکومت اسکا بل قومی اسمبلی سے منظور کروائے تو پھر وہ حکومتی بل کو سینٹ سے منظوری دیگی۔ یہ سودے بازی حکومت کے لیے سراسر خسارے کا کاروبار ہے، حکومت اپنے بل کی منظوری تو چاہتی ہے لیکن اپوزیشن کے بل کے منظوری ہونے کے حق میں نہیں کیونکہ اپوزیشن کے بل کی منظوری سے میاں نواز شریف مسلم لیگ کی صدارت سے محروم ہوجائیں گے اور مسلم لیگ نواز ہر گز ایسا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس بل کی منظوری اس کے وارے میں ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن نے پہلے نواز شریف کو پارٹی کی سربراہی کے لیے اہل بنانے والے بل کی دونوں ایوان سے منظور کیوں کروایا اور اب اس قانون کو کیوں تبدیل کرنا چاہتی ہے؟ کیا اپوزیشن ارکان نے پہلے بھنگ کے نشے میں منظورکیا تھا اور اب بھنگ کا نشہ اترا ہے تو اسے ہوش آیا ہے کہ اس نے غلط قانون کی منظوری دیدی ہے۔ ایساہرگز نہیں نہیں ہوا تھا بل پر کئی ماہ تک سوچ بچار ہوا ،پھر پارلیمنٹ میں لایاگیا اور منظورہوا۔

مجھے تو اس دھینگا مشتی کے پس پردہ بہت خطرناک کھیل دکھائی دیتا ہے، اگر حکومت اور اپوزیشن میں حلقہ بندیوں سے متعلق اہم ترین بل کی منظوری کے لیے اتفاق رائے نہیں ہوپا تااور دونوں بل لٹکے رہتے ہیں تو پھر نئی حلقہ بندیوں پر نئے انتخابات کا نعقاد مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہوجائے گا جو کہ مردم شماری ہوجانے کے بعد آئینی تقاضا ہے۔

اس قانون کی عدم منظوری یا منظوری میں تاخیر سے معاملہ ملک کی اعلی عدلیہ کے روبرو پیش ہوگا۔ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کے سامنے یہ معاملہ موجودہ حکومت لیکر جائے یا نگران حکومت مجھے خدشہ ہے کہ بات کہیں طول نہ پکڑ جائے اور بات نگران حکومت سے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام پر ختم نہ ہو،حکومت اور اپوزیشن کو ہوش کے ناخن لے اور معاملہ کی سنجیدگی اور اہمیت کا احساس کرے ورنہ اگر بات بہت دور تک جائے گی اور بہت کچھ ہوگا اور جو ہوگا وہ بے رحمانہ ہوگا۔

مسلم لیگ نواز نااہل شخص کو پارٹی کی سربراہی سے ہٹانے کے قانون کی حمایت کرنے کی حماقت نہیں کرسکتی کیونکہ اس قانون کی حمایت کرنے کا مقصد میاں نواز شریف کو مسلم لیگ نواز کی سربراہی ہٹانا ہے ۔ اس حوالے سے سے انتخابی حلقہ بندیوں کا بل حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ۔

مسلم لیگ نواز کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسکے کئی ارکان سینٹ کو نامعلوم افراد نے فون کال کرکے اجلاس میں شرکت کرنے سے منع کیا تھا اگر ایسا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اپوزیشن کا نااہل شخص کو پارٹی کی سربراہی سے روکنے کا بل بھی ’’ نامعلوم افراد‘‘ کی مرضی و منشاء پر لایا گیا ہے اور حلقہ بندیوں کے بل کی منظری میں تاخیر کے پس پردہ ’’ نامعلوم افراد‘‘کی خواہش پر ہی کی جارہی ہے تاکہ بات عدلیہ کے روبروجائے اور عدلیہ ٹیکنوکریٹس کی غیر معینہ مدت تک حکومت کی راہ ہموار ہوسکے۔

حکومت اور اپوزیشن اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ایک حلقہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی تو خواہش ہوگی کہ موجودہ سسٹم کا بوریا بستر گول ہوجائے تاکہ اگر اسے نہیں کھیلنے دیا گیا تو پھر کوئی بھی نہ کھیلے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو بہت خطرناک ہے حکومت اوراپوزیشن کو بیدار مغز کے ساتھ فیصلے کرنے چاہئیں ایسا نہ ہو کہ آج ہاتھوں سے دی گئیں گانٹھیں دانتوں سے کھولیں پڑیں۔

 ٹیکنوکریٹس حکومت کے قیام کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قراردیاگیا تو عدلیہ پر قوم کا اعتماد کو گزند پہنچے گی ،ویسے بھی بنگلہ دیش میں یہ تجربہ مکمل ناکام ہوچکا ہے اسے یہاں دہرانا ملک کے لیے مفید ہوگا اور نہ ہی جمہوریت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ اعتزاز احسن، تاج حیدر بہت قابل ہیں جمہوریت سے ان کی کمٹمنٹ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے انہیں سوچنا ہوگا کہیں ان سے کوئی غلطی تو سرزد ہونے نہیں جا رہی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *