گلگت بلتستان پر امریکی اعتراض اور لوگوں کا اعتماد

علی احمد جان

شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے پچاس سال بعد امریکہ کی وزارت دفاع کو ایک دم خیال آیاکہ چین اور پاکستان کا راستہ ایک ایسے متنازع علاقے سے بھی گزرتا ہے جس پر ہندوستان بھی دعویدار ہے ۔ امریکہ کو ستر سال بعد یہ خیال ایک دم نہیں آیا بلکہ اس کا موقع اب آگیا کہ وہ اس کمزوری کا استعمال کرے۔ امریکہ کو چین کا دندناتے ہوئے ان گرم پانیوں میں آنا کیسا لگے گا جس نے روس کو روکنے کے لئے اپنا اور ہمارا سب کچھ داؤ پر لگایاتھا ۔

اب خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کو روکنے کے لئے امریکہ بھارت اتحاد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں کئی ایسی باتیں سننے کو ملیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کو ایک دم چینی منصوبوں میں ماحولیات کے تحفظ اور سماجی برابری کے مسائل بھی نظر آئیں اور اعتراضات کی نئی فہرست دیکھنے کو ملے۔

امریکہ کو تازہ تازہ جس علاقے کے متنازع ہونے کا غم لاحق ہوا ہے وہ گلگت بلتستان ہے ۔اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق وہ سارے علاقے متنازع قرار پائے ہیں جو ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جموں و کشمیر کی ریاست کا حصہ تھے ۔ چونکہ گلگت ریزیڈنسی میں بھی ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو ہی تاج برطانیہ کا یونین جیک اتار کر ریاست جموں و کشمیر کا جھنڈا لہرایا گیا تھااس لئے اس کو بھی متنازع سمجھا گیا۔ چین کے جاری کردہ سی پیک کے نقشہ جات میں بھی گلگت بلتستان کے علاقے کو بے رنگ دکھایا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے چین کی نظر میں پاکستان اور چین کے بیچ میں کوئی زمین نہیں بلکہ خلاء ہے۔

کشمیر بارےہندوستان اور پاکستان کے اپنے اپنے سچ ہیں اور دونوں تین جنگیں ۱۹۴۸، ۱۹۶۵ اور ۱۹۹۹ میں لڑ چکے ہیں اور اب بھی کشمیر کے محاذ پر جس کو لائن آف کنٹرول کہتے ہیں ہلکی پھلکی جنگ جاری ہے ۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ کشمیرایٹمی طاقت کے حامل ہندوستان اور پاکستان کے بیچ وہ ہڈی ہے جو پھنس چکی ہے جس پر کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

کشمیر کی موجودہ منقسم ریاست مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد ان کے تخت لاہورکے زمین بوس ہونے پر ۱۸۴۶ کو ایسٹ انڈیا کمپنی اور ڈوگروں کے درمیان ہونے والے معاہدہ امرتسر کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس معاہدے میں گلگت بلتستان کے علاقوں کو پہلی بارشمالی علاقہ جات کا نام دے کر کشمیر کے ساتھ ضم کرکے گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھوں پچہتر لاکھ نانک شاہی (خالصہ سرکار کی کرنسی) کے عوض فروخت کردیا گیا تھا۔ جس زمانے میں امرتسر کا معاہدہ ہوا تب رنجیت سنگھ کی خالصہ سرکار کی عملداری بلتستان اور استور تک محدود تھی ۔

اس وقت گلگت اور اس سے ملحقہ علاقے ہنزہ، نگر، چترال، پونیال،گوپس، یاسین، اشکومن ، داریل تانگر، چلاس اور انڈس کوہستان کے سارے علاقے خود مختار تھے جو کسی کے زیر نگین نہیں تھے۔ معاہدہ امرتسر میں کئے گلگت اور ملحقہ علاقوں پر عملداری کے اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے ڈوگروں نے گلگت پر کئی بار چڑھائی کی لیکن ان کو گلگت کے راجہ غازی گوہر امان کے ہاتھوں بد ترین شکست کا سامنا ہوا۔ ڈوگروں کاگلگت پر مکمل قبضہ انگریزوں کی مدد، تائید اور تعاون سے گوہر امان کی موت کے بعد ہی ممکن ہوسکا۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کا کشمیر اور اس سےوابستگی کے بارے میں اپنا ایک نکتہ نظر ہے ۔ یہاں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کشمیر سے تعلق کبھی برضا و رغبت نہیں رہا ۔ ۱۸۴۶ کے معاہدہ امرتسر میں گلگت پر ڈوگروں کے جھوٹے دعوے کے بعد قبضے کے لئے جنگ میں راجہ گوہر امان کی مذاحمت اور ان کی موت کے بعد ان کی جائے پیدائش و ابدی سکونت یاسین میں کی جانے والی درندگی تاریخ کا حصہ ہے جس کے ذکر پر ڈوگروں کے ساتھ اس یلغار میں حصہ لینے والوں کی اولادیں بھی آج اپنا سر اٹھا کر بات کرنے کے لائق نہیں۔

قبضے کے بعد بھی اس علاقے پر ڈوگرہ براہ راست حکومت نہ کرسکے کیونکہ جب ان کے جھوٹ کا پول کھل گیا تو انگریز وں نے اس علاقے کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئےجس کی وجہ سےڈوگروں اور مقامی لوگوں کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہوا۔ جیسے ہی ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو انگریز یہاں سے فارغ ہوئے مقامی لوگوں نے ڈوگروں کے خلاف مزاحمتی تحریک کا دوبارہ آغاز کیا جو یکم نومبر ۱۹۴۷ کو گلگت میں ڈوگروں کی شکست پر منتج ہوئی۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ پاکستان کا باقی ملک تو مذاکرات کی میز پر بنا تھالیکن ان کے آباواجداد نے ستائیس ہزار مربع میل کا علاقہ اپنی مدد آپ آزاد کرواکر پاکستان بنا دیا تھا۔ اب اگر پاکستان کے حکمران اس کو متنازعہ بنا بیٹھے ہیں تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔یہاں کے لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ان کی ڈوگروں کے خلاف مزاحمت اور دی جانے والی قربانیاں کس کھاتے میں ہیں کہ وہ آج بھی اپنی زمین پر پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح بااختیار نہیں، ان کو وہ حقوق کیوں حاصل نہیں جو ملک کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔

پاکستان کے ساتھ وابستگی کے بعد اس نئے ملک سےلوگوں کو بہت توقعات تھیں جس میں سے ایک یہاں رائج راجگی نظام سے نجات کی امید بھی تھی ۔ مہاراجہ کشمیر کی اپنے من پسند راجوں کی حمایت کی وجہ سے یہاں کے راجے اور میر جو پہلے زمین اور جائداد کے مالک نہیں ہوتے تھے اب حق ملکیت کی وجہ سے طاقتور بن گئے تھے۔ راجگی نظام کے خلاف پہلی بغاؤت ۱۹۵۲میں پونیال میں ہوئی جس کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔ نہتے لوگ شہید و زخمی کر دئے گئے۔

لوگوں کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے ان کو ان ہی راجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، جس سے یہاں نئے ملک کے بارے میں مایوسی بڑھ گئی۔بیس سال بعد دوسری بغاوت راجگی نظام کے خلاف نگر میں ہوئی جس کو کچلنے کے لئے لوگوں کو کو ایک دفعہ پھر خون میں نہلادیا گیا ۔ کئی جانوں کے نذرانے کے بعد کہیں جاکر ۱۹۷۲ میں ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں سے اس ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا۔پاکستان سے الحاق کے بعدشاہراہ قراقرم کی تعمیر اور راجگی کے نظام کا خاتمہ دو ایسے اقدامات ہیں جس کی وجہ سے یہاں معاشی ترقی کا آغاز ہوا مگر سیاسی اور آئینی حقوق کا حصول ابھی تک ایک ایسا خواب ہے جو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

چین اور پاکستان کی اقتصادی راہداری کے منصوبے سے پورے ملک میں بڑی امیدیں وابستہ ہیں جس کی وجہ سے مختلف صوبوں کو اس راہ داری پر تحفظات بھی ہیں جس کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ اس منصوبے کی کی دستاویز ات جن میں مختلف صوبوں کے لئے مختص وسائل کا ذکر کیا گیا ہے اس میں گلگت بلتستان کے متعلق صرف یہی کہا گیا ہے کہ اس کی ترقی چین کے زیر انتظام صوبہ سنکیانگ کے طرز پر کی جائیگی۔

اس بیان سے کسی امید سے زیادہ تشویش میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ چین نے سنکیانگ کے لوگوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے بجائے یہاں سڑکوں اور عمارات کی تعمیر کو اہمیت دی ہے جس کی وجہ سے یہاں ایک مستقل بے چینی پائی جاتی ہے جو کبھی کبھار متشدد بھی ہو جاتی ہے۔

حکومت پاکستان کو امریکہ کی تشویش کا جواب حقیقت پسندی سے دینا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی قرار داد جس کی رو سے اس علاقے کو متنازعہ تسلیم کیا گیا ہے اس میں بھارت اور ہندوستان پر اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں میں لوگوں کی سیاسی آزادی کا تحفظ ، بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کی معاشی ترقی کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ پاکستان اگر گلگت بلتستان میں ایسے اقدامات اٹھائے جس سے پاک چین اقتصادی راہ داری کے مجوزہ منصوبے سے گلگت بلتستان کے لئے بھی مثبت ثمرات واضح طور پر نظر آئیں تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ ۔

چلئے ہم مانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کا پاکستان سے ادغام یا ضم کرنے سے پاکستان کے حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کشمیر پر اصولی موقف کو نقصان ہوگا۔ (ویسے میں آ ج تک اس اصولی موقف کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں ) اس لئے اس کو صوبائی حیثیت یا وفاق میں براہ راست نمائندگی نہیں دی جاسکتی تو علاقے کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی تبدیلیوں اور پالیسی سازی سے علاقے میں بہتری لانے میں کیا چیز مانع ہے؟

سی پیک کے منصوبے کے تحت مقامی لوگوں کے لئے معاشی ترقی کے مواقع فراہم کرنے سے کس نے روکا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو اس منصوبے میں روزگار کے مواقع اور آسان قسطوں اور کم سود پر قرضوں کی فراہمی پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ سی پیک کے منصوبوں میں گلگت بلتستان کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار کے مواقع فراہم کرکے ان منصوبوں کے فوائد سے مستفید کرکے کیا امریکہ کے اعتراض کو مسترد نہیں کیا جاسکتا؟ ۔

سیاسی کارکنوں پر انسداد دہشت گردی اور غداری کےجھوٹے مقدمات بناکر مقامی طور پر بد اعتمادی اور بین الاقوامی طور پر بد نامی کے سوا کیا ملا ہے ۔ ہندوستان سے کشمیر کے مسئلے پر ہر وقت بات چیت کی خواہشمند حکومت پاکستان کو سنجیدگی کے ساتھ گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ بات کرنے، ان کے سیاسی مطالبات سننے اور ان کو سیاسی عمل میں شریک کرنے سے کس نے روکا ہے؟

یہاں قائم سفارشی اور سیاسی ججوں پر مشتمل عدالتی نظام کو ایک مستند اور قابل اعتماد عدالتی نظام سے بدلنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ یہاں کی عدالتوں سے فرمائشی فیصلے کرواکر سیاسی کارکنوں کو سزائیں دینے کے بجائے کامریڈ بابا جان، افتخار کربلائی،حسنین رمل ، ڈی جے مٹھل، اور دیگر سیاسی کارکنوں پر بنائے گئے مقدمات اور سزائیں ختم کرکے ان کی سیاسی آزادی کی قدر کرنے سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

جموں و کشمیر کے زمانے سے رائج سٹیٹ سبجیکٹ رول یا حق باشندگی کا قانون جو ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام دوسرے علاقوں میں نافذ العمل ہے تو گلگت بلتستان میں کے خاتمے سے کیا فوائد حاصل ہوئے ما سوائے شکوک و شبہات کے۔ سی پیک سے پہلے اس قانون کو لاگو کرکے دنیا کا منہ بند کرنے میں کیا قباحت ہے؟

ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات سے یہاں کے لوگوں کا سی پیک پر اعتماد میں اضافہ ہوگا جو بہت ضروری ہے کیونکہ گلگت بلتستان پرا مریکہ اور ہندوستان کے اعتراضات کا جواب صرف یہاں کے لوگوں کا اعتماد کو حاصل کرکے ہی دیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *