اب کوڑوں کی سزا نہیں دی جاتی بلکہ غائب کر دیا جاتا ہے

مارشل لا عدالت سے پندرہ کوڑوں کی سزا پر کیمپ جیل کی ڈیوڑی میں عملدرآمد سے پہلے جس پولیس اہلکار کو ٹکٹی پر باندھے کے لیے بلایا گیا۔ اس پولیس اہلکار نے ہاتھوں کو باندھتے ہوئے ڈھارس باندھنے کے لیے سرگوشی کے انداز میں کان میں کہا تم سے پہلے یہاں کئی نوعمر لڑکوں کو بھی کوڑے مارے گئے ہیں اور انھوں نے بڑی جوانمردی سے کوڑے کھائے۔ ’ہمت سے کام لینا یہ تمارے عزم کا امتحان لے رہے ہیں۔‘

لندن کے سکول آف اورینٹل اور افریکن سٹڈیز میں پاکستان سولیڈیرٹی فرنٹ کی طرف سے صحافی ناصر زیدی نے اپنے ہی اعزاز میں منقعدہ ایک تقریب میں پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دور کی ان تلخ یادوں کو تازہ کیا۔

نوجوان صحافی ناصر زیدی کو تیرہ مئی انیس سو اٹھہتر میں دو دیگر ساتھیوں خاور نعیم ہاشمی اور اقبال جعفری سمیت پندرہ کوڑے مارے گئے تھے۔ پاکستان ٹائمز سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی مسعود اللہ خان کو بھی ان تینوں نوجوان صحافیوں کے ساتھ کوڑوں کی سزا ہوئی تھی لیکن طبی وجوہات کی بنا پر کوڑے نہیں مارے گئے۔

ناصر زیدی نے اس اندوہناک دور کے بارے میں شرکا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا نافذ ہوئے صرف ایک سال ہوا تھا جب مارشل لا حکومت نے مساوات کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ مساوات کی اس بندش کے فیصلے کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا اور پہلے کراچی اور اس کے بعد لاہور میں صحافیوں نے گرفتاریاں دینا شروع کیں۔

پی ایف یو جے کی اس تاریخی جدوجہد میں ملک بھر سے ساڑھے تین سو اخبار نویسوں اور صحافیوں نے گرفتاریاں پیش کئیں۔ ناصر زیدی نے کہا کہ اس تحریک میں صحافیوں کو معاشرے کے دوسرے شعبوں کی بھرپور حمایت حاصل تھیں جن میں طلبہ، مزدور، کسان اور وکیل بھی شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ ساڑھے تین سو صحافیوں سمیت اتنے ہی طلبہ نے بھی گرفتاریاں پیش کییں۔

مارشل لا کی جس عدالت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی اور آخری مرتبہ چار قلم کاروں کو کوڑوں کی سزا سنائی اس کی کارروائی بیان کرتے ہوئے ناصر زیدی نے کہا کہ انھیں میجر طاہر کے سامنے پیش کیا گیا۔

ناصر زیدی کے بقول مسعود اللہ خان اور میجر کے درمیان جو مکالمہ ہوا وہ بھی تاریخی تھا۔ مسعود اللہ خان نے میجر سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ تم نے کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے یہ تمہارا کام نہیں ہے۔

میجر نے بڑی رعونت سے کہا کہ فوجی حکومت صحافی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ جواباً مسعود اللہ خان نے اپنے مخصوصی پنجابی انداز میں کہا ہاں توسی تے جنرل اڑوڑا دے سامنے ہتھیار ڈال دے ہو۔

اس مکالمے کے بعد میجر نے چاروں صحافیوں کو پندرہ کوڑے اور ایک سال قید کی سزا سنائی۔ جس پر بغیر کسی تاخیر کے اسی دن عملدرآمد کر دیا گیا۔

پاکستان میں آزادی صحافت اور آزادی رائے کی موجودہ صورت حال کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ناصر زیدی نے کہا کہ صحافیوں کے لیے چیلنجز میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ناصر زیدی نے کہا کہ جنرل ضیا کے دور میں صحافیوں کو کوڑے مارے گئے اب حالات بدل گئے ہیں۔ آزادی اظہار پر حکومتی جبر کی صورت بدل گئی ہے اور نامعلوم ادارے صحافیوں کو غائب کر دیتے ہیں یا مار دیتے ہیں لیکن عدالتیں بے بس نظر آتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب صرف ریاست نہیں بلکہ غیر ریاستی عناصر بھی مختلف حیلے بہانوں سے آزادی رائے اور آزادی صحافت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

فراز ہاشمی، بی بی سی لندن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *