خیرات لگی بٹنے۔ اسلام اور احادیث کی سعودی ترامیم کے لئے تیار رہیئے۔ 


سعودی ولی عہد شہزادے نے آج پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب شدت پسند مولویوں سے جان چھڑا کر کھلے ڈھلے اسلام کو رائج کرے گا تاکہ سعودی عرب کو بیرونی سرمایہ کاری کے لئے ایک بہتر ملک کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

’’ہم واپس اسی اسلام کی طرف جارہے ہیں جس میں سعودی عرب سبھی مذاہب کے لئے کھلا تھا۔‘‘

’’ہم اپنی زندگی کے اگلے تیس سال ان تباہ کن بنیاد پرست نظریات کو بھگتنے کی بجائے ہم زمانہ حال میں ان نظریات کو تباہ کردیں گے۔‘‘

’’ہم بہت جلد شدت پسندی کو ختم کر دیں گے‘‘۔ 
بتیس32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ ہے کہ سعودی عرب کے ان تمام تباہ کن نظریات کو تباہ کردیا جائے جن کی وجہ سے سعودی عرب بدنام ہے۔

یہ سارے اقدامت اس وقت ہو رہے ہیں جبکہ نائن الیون کے واقعات میں سعودی تعلق کا شور پھر سے اٹھا ہے اور ساتھ ہی برطانوی ایم آئی سکس کے چیف رچرڈ بیرٹ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب عالمی دہشت گردی پھیلانے میں سر فہرست ہے۔ اور ساتھ ہی دنیا میں شدت پسند اسلام پھیلانے کا ذمہ دار بھی ہے۔ 

آج ولی عہد شہزادے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ابھی تک 1979 میں پھنسا ہوا ہے مگر اب اسے دور حاضر کے ساتھ قدم ملانا ہوگا۔

شہزادے کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل کی شہادت تک سعودی عرب نئی تہذیب کے اثرات قبول کر رہا تھا مگر اس کے بعد ملک میں پولیٹیکل اسلام ابھر کر سامنے آیا۔ جس کی وجہ سے مذہبی مشائخ نے سعود خاندان کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جن کی بنیاد پرست پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے۔
سعودی ولی عہد کے اس بیان نے پہلی دفعہ خلیج میں مذہبی تسلط کو چیلنج کیا ہے۔

‘We are returning to what we were before – a country of moderate Islam that is open to all religions, traditions and people around the globe,’ ۔ 

یاد رہے کہ ولی عہد نے اپنی 21 جون کو تعیناتی کے بعد اب تک کافی اہم فیصلے کئے ہیں جن میں عورتوں کی ڈرائیونگ، میوزک کنسرٹس اور مخلوط شمولیت کے ساتھ نیشنل ڈے منانا وغیرہ ۔ اس کے ساتھ ساتھ شہزادے نے سینما گھروں کو دوبارہ کھولنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

شہزادے کی ایما پر نیوم کے نام سے 26500 مربع کلومیٹر پر محیط ایک اکنامک زون بنایا جا رہا ہے جس پر پانچ سو ملین ڈالرلاگت آئے گی جو کہ سعودی قوانین کی بجائے عالمی قوانین کے تحت کام کرے گا۔
یہ سارا کچھ شہزادے کے ویژن 2030 کے منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔ جو کہ تیل کی دولت کے بغیر سعودی معیشت کا تصور ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں پچھلے مہینے بہت سے علماء گرفتار کئے گئے تھے۔ جن کے خلاف چارجز کی تفصیل ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ولی عہد شہزادے نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے ایک ادارہ قائم کیا ہے جو ایسی حدیثوں کو اسلام سے خارج کرے گا ۔ جوکہ یا تو جعلی ہیں یا پھر دہشت گردی کی کاروائیوں میں مدد کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ وہابی بنیاد پرست علماء اور سعودی شاہی خاندان کا تعلق ایک صدی سے بھی پرانا ہے اور امور مملکت میں ان علماء کا باقائدہ سے ایک رول متعین ہے ۔ اس کے باوجود بھی شاہ فیصل کے زمانے تک ان علماء کو سعودی عرب کی جدید دنیا کے ساتھ چلنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا۔ اور مخالف فتووں کے باوجود سعودی عرب میں ٹیلیوژن اور لڑکیوں کے سکول قائم کئے گئے تھے۔

امید کی جاتی ہے کہ اس نئے سعودی ادارے کی طرف سے احادیث کی چھان بین کا اثر عالم اسلام کے باقی محدثین پر بھی ہوگا۔ اور ہمارے دوست کہنا شروع کردیں گے کہ متذکرہ حدیث کی سند میں سعودی محدثین کی رائے پیش کی جائے۔
http://www.dailymail.co.uk/news/article-5012533/Conservative-Saudi-Arabia-returning-moderate-Islam.html?ito=social-facebook

اسلام مرزا

2 Comments

  1. گویا پہلے علماءِ سُوء تھے ،پھر علماءِ سعود اور اب علماءِ سُود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *