کوئی شک نہیں آئی ایس آئی کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی مبینہ معاونت کے بارے میں کوئی بھی اقدام اُٹھانے سے پہلے پاکستان سے ایک بار پھراس مسئلے پر بات کرے گا۔

امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس کا بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب افغانستان کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی سامنے آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

ہاؤس کی آرمڈ سروس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم ایک بار پاکستان کے ساتھ مل کر حکمت عملی پر کام کرنے کی کوشش کریں اور اگر اس کے باوجود بھی ہم کامیاب نہیں ہوئے تو صدر ٹرمپ ہر ضروری اقدام اُٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام سے بات چیت کے لیے وہ جلد پاکستان جا رہے ہیں لیکن اس کے بارے میں وزیر دفاع نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف واشنگٹن کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے ملاقات کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی مبینہ پاکستانی معاونت کے ردعمل کے طور پر پاکستان میں ڈرون حملوں کا دائرہ کار وسیع کر سکتا اور پاکستان کے غیر نیٹو اتحادی کا درجہ کم کر سکتا ہے۔

سینیٹ کی ایک دوسری کمیٹی میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین اہلکار نے بتایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ہیں۔

سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف نے بتایا کہ اس بارے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ آئی ایس ائی کے دہشت گرد گروہوں سے رابطے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ امریکہ پاکستان کا اتحادی رہا ہے لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

یادرہے کہ پچھلے ماہ دنیا کی پانچ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم بریکس نے اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا جس پر پاکستان نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدام میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔

امریکہ نے حال میں 3500 اضافی فوج افغانستان بھیجی ہے اور ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں امریکی آپریشن پر سالانہ ساڑھے 12 ارب ڈالر خرچ آتا ہے اور نئی حکمت عملی سے اضافی ایک ارب ڈالر خرچ آئے گا۔

BBC/News Desk

2 Comments

  1. Ahmed Mughal says:

    تو سی آئی اے’ را یا موساد کون سا دودھ کی دھلی ہے؟؟؟‌ کیا کلبھوشن را کا نمائندہ نہیں‌تھا؟؟؟‌کیا سی آئی سے شام اور عراق میں داعش کی مدد نہیں‌کر رہی؟؟؟؟ کیا سی آئی نے حقانی نیٹ ورک سمیت کئی دہشت گرد تنظیموں کو جنم نہیں دیا؟؟؟؟ کیا موساد ایران اور فلسطین کے خلاف دہشت گردی میں‌ملوث نہیں؟؟؟؟

  2. یہ کمینے لوبلرز صرف پاکستان مخالف ہی بات کریں گے،، کیونکہ انہیں اس کے ہی پیسے ملتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *