پاکستان کی بن بیاہی مائیں اور ناجائز بچے کچھ کہتے ہیں

حاشر ابن ارشاد

کچھ دن گزرے ایک مشہور عالم دین کو سننے کا اتفاق ہوا۔ حضور کا موضوع سخن حسب معمول مغرب کی اخلاقی گراوٹ اور ہمارے ملک میں عورت کی عزت کے موازنے پر تھا۔ جوش خطابت میں جہاں بہت اور باتیں ہمارے کانوں کے بیچ کی گئیں وہاں اعداد و شمار سے بھی یہ بات تقریبا اتمام حجت تک پہنچائی گئی کہ عزت، عفت اور عصمت کے تقدس کو مغرب نے کیونکر چوک میں رکھ کر نیلام کر دیا ہے اور کیسے شاخ نازک پہ بنا اب ان کا آشیانہ کچھ پل کا مہمان ہے۔

تقریر میں بہت دیر ایک لذت آشنائی کے عالم میں مولانا نے انتہائی تفصیل سے یہ نقشہ کھینچا کہ کیسے مغرب میں بن بیاہی ماؤں کاتناسب بڑھتا جا رہا ہے۔ کیسے پندرہ اور چودہ سالہ بچیوں کی گود میں شادی کے بغیر بچے ہمک رہے ہیں اور ناجائز اور حرامی نطفوں کا یہ سیلاب کیسے مغرب کی اخلاقی قدروں کو ملیا میٹ کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ملک ضیاداد کا ذکر چھیڑا کہ ہم میں لاکھ برائیاں سہی پر ہماری بچیوں کی عفت محفوظ ہے۔ ہمارے یہاں بن بیاہی مائیں نظر نہیں آتی، ہمارا خاندانی نظام ابھی بھی استوار ہے۔ یہیں سے نجات کا رستہ نکلے گا۔

پھر انہوں نے دجالی میڈیا کو مطعون کرنا شروع کیا جو غیر اخلاقی اقدار کے فروغ میں جٹا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کو نشانے پر رکھا گیا۔ مانع حمل طریقوں پر شست باندھ کر کے پے در پے فیرکیے گئے۔ کنڈوم کا ذکر خاص بڑی دیر تک نوک زبان پر دھرا رہا۔ حاضرین کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ یہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ ان شیطانی ہتھکنڈوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہو۔

ہر کچھ دن بعد ایسی ہی ایک تقریر کہیں نہ کہیں سننے کو مل جاتی ہے۔ اخبارات اور بلاگنگ سائٹس پر کتنے ہی کالم انہی دعووں اور انکشافات کے سر پر شائع ہوتے ہیں۔ ہمیں یقین دلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی کہ ہم معاشی، مالی، تیکنیکی یا دفاعی لحاظ سے لاکھ کمزور سہی پر ہمارا اخلاقی وجود بہت توانا ہے۔ ہماری قوم جو اس بات کا یقین رکھتی ہے کہ سبز پوش بزرگ بم کیچ کر کے ڈی فیوز کر سکتے ہیں، جن اور چڑیلیں برگد کے درختوں میں گھونسلے بنا کر رہ سکتے ہیں، شوگر کے مریض کا علاج دیسی پھکی سے ممکن ہے، جادو اور نظر بندی حقیقت ہیں اور آمریت جمہوریت سے بہتر ہے۔

وہ یہ بھی مان لیتی ہے کہ اخلاقی اکھاڑے میں ہم رستم زماں سے کم نہیں ہیں۔ رشوت، دھوکہ دہی، جعلی ادویاء، کیمیکل زدہ خوراک، بال صفا پاوڈر والے دودھ، آلودہ دریا، غلیظ سمندر، کچرے سے اٹی گلیاں اور بازاروں میں ہونے والی ہر بداطواری کو ایک طرف رکھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے مبلغین کا موضوع نہیں ہیں۔ ان کی سوئی تو بس عورت ، جنسیات، ناجائز بچوں اور قبل از عقد مشروع تعلقات کے ریکارڈ پر برسہا برس سے پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں یہ ان کا ترپ کا پتہ ہے جس کا کوئی جواب مغرب کے کسی مداح کے پاس نہیں۔

اخلاقی اقدار اپنی اصل میں ہیں کیا اور ان کا تعین یا موازنہ کس پیمانے پر کیا جائے گا، یہ ایک الگ بحث ہے پر کسی معاشرے کے اخلاقی انحطاط یا اخلاقی برتری کی بنیاد جنسی معاملات پر ہر گز استوار نہیں ہوتی۔ پاکستان کا معاشرہ بہت سے حوالوں سے ایک رجعت پسند اور سخت گیر معاشرہ ہے۔ مذہبی اور معاشرتی حدود وقیود کا دائرہ عورت کو مرکز مان کر کھینچا گیا ہے اور ذرا سا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس کا مقصد عورت کو تحفظ فراہم کرنے سے زیادہ اسے مرد کے دست قدرت کا محتاج رکھنا ہے۔

پاکستان میں اسقاط حمل قانونی طور پر جرم ہے۔ شادی کے بغیر جنسی تعلقات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ معاشرہ اسے قتل سے بڑا گناہ گردانتا ہے۔ ہمارے پاس ریپ اور ایڈلٹری کے لیے ایک ہی لفظ ہے اور وہ ہے زنا۔ کچھ مہربانی ہوتی ہے تو ایک زنا بالرضا بن جاتا ہے اور ایک زنا بالجبر۔ مذہبی تعزیر انتہائی سخت ہے۔ اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ زنا کا ملزم سنگسار کرنے کے لائق ہے اور اس میں بالجبر اور بالرضا میں کوئی تمیز نہیں ہے۔

قطع نظر اس حقیقت کے کہ قرآن میں رجم یا سنگساری کی سزا کا کوئی تصور موجود نہیں ہے، سخت گیر مسلم اکثریت اسے جزو ایمان سمجھتی ہے اور جب جب جہاں جہاں موقعہ ہاتھ آیا ہے، اس کا نفاذ کیا گیا ہے ۔ تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی حوالے بھی ان موضوعات پر سخت موقف رکھتے ہیں۔ مذہب کی تمیز سے ہٹ کر بھی پوری سرزمین ہند میں شادی کے بغیر جنسی تعلقات کو غیر اخلاقی جرائم میں اعلی ترین مقام حاصل ہے اور ایسے تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

حالیہ برسوں میں ہندوستان کی مڈل اربن کلاس میں اس حوالے سے رکھی جانے والی روایتی سوچ میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے لیکن یندوستان کے دیہی علاقوں اور پاکستان یا بنگلہ دیش میں عوام اور قانون دونوں اس ضمن میں کسی رعایت کے قائل نہیں۔

اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھائی جائے، یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ یہ مضمون آزادانہ یا شادی کے دائرے سے باہر جنسی تعلقات کی حمایت میں نہیں ہے۔ نہ ہی یہ چھوٹی بچیوں کے ماں بننے کے حق میں کوئی دلیل ہے۔ جس مغرب پر ہم انگلیاں اٹھاتے ہیں وہ بھی اس کو کوئی صحت مند رویہ نہیں سمجھتے ۔ فرق یہ ہے کہ وہ ایک حقیقت پسند رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انسانی جان کے تقدس کو اولیت دیتے ہیں اور عفت اور عصمت کا ڈھنڈھورا نہیں پیٹتے۔ اس کے برعکس ہمارا رویہ فراریت کا ہے۔ ہم ریت میں گردن دیے رکھنا چاہتے ہیں اور ہمارے نزدیک ہمارا عزت اور غیرت کا خود ساختہ تصور انسانی جان پر مقدم ہے۔ رویوں کے اس فرق کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اصل میں موضوع یہ ہے۔

ایک عرصے تک میرا تعلق صحت کے شعبے سے رہا۔ ہاسپیٹل مینجمنٹ کی کرسی پر بیٹھ کر ایسا بہت کچھ میرے مشاہدے میں آیا جس کے بارے میں ہمارا معاشرہ ریت میں گردن دیے رکھنے کو ہی بہتر سمجھتا ہے۔ ہم خود انکاری کی اس منزل پر براجمان ہیں جہاں سے ہمیں سات سمندر پار کی سوئی تو صاف دکھتی ہے پر قریب کا شہتیر آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں اسقاط حمل غیر قانونی اور غیر شرعی سمجھا جاتا ہے وہاں ہزاروں کلینکس اور ہسپتال دن رات اسقاط حمل میں مصروف ہیں۔ ہر شہر میں بہت سے ڈاکٹر اور مڈوائف اپنی روزی کا نوے فی صد اسقاط حمل کے کیسز سے کماتے ہیں اور ان میں کئی معروف نام بھی شامل ہیں۔

ان کلینکس میں زیر علاج خواتین کی بہت قلیل تعداد شادی شدہ ہوتی ہے جو کسی معقول وجہ سے حمل سے چھٹکارا چاہتی ہیں۔ اکثریت غیر شادی شدہ کم عمر لڑکیوں کی ہوتی ہے جن کے لیے یہ عزت سے بڑھ کر جان کا مسئلہ بن گیا ہوتا ہے۔ 2012 میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان میں سالانہ اسقاط حمل کی تعداد قریبا 25 لاکھ تھی اور ان میں سے 99 فی صد مشکوک حالات میں کیے گئے۔ یعنی صرف ایک سال میں 25 لاکھ جانیں مخصوص وجوہات کی بنا پر پہلا سانس لینے سے پہلے ہی ختم کر دی گئیں۔ 15 سال سے زیادہ عمر کی ہر ہزار عورتوں یا لڑکیوں میں یہ شرح 50 تھی۔ جبکہ یہی شرح 2002 میں 27 فی ہزار تھی۔

یہ تحقیق معروف ادارے پاپولیشن کونسل کے زیر انتظام ہوئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اکثر اوقات یہ اسقاط حمل خفیہ کلینکس میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں سرانجام پائے۔ 15 سال سے زائد عمر کی خواتین میں غیر ارادی حمل کی تعداد 1912 میں 93 فی ہزار تھی۔2014 میں ہونے والی ایک اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ہر سال ہزاروں بچے پیدائش کے فورا بعد قتل کر دیے جاتے ہیں تاکہ خاندان کی عزت اور نام پر حرف نہ آئے اور ظاہر ہے کہ حدود کے مقدمے سے بھی جان بخشی رہے۔

سنہ2014 میں ایدھی فاونڈیشن نے صحافیوں کو بتایا کہ صرف پچھلے ایک برس میں بڑے شہروں کی کچرا کنڈیوں سے ملنے والے نوزائیدہ بچوں کی لاشوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی۔ جو بچے نامعلوم مقامات پر دفن کر دیے گئے، ان کا اندازہ لگانا قریبا ناممکن تھا۔ مہذب دنیا میں بن بیاہی مائیں تو ملتی ہیں پر کچرا کنڈی سے آوارہ کتوں کی نوچی بچوں کی لاشیں نہیں ملتی۔ وجہ دونوں حادثات کی ایک ہے پر جرم کون سا زیادہ بڑا ہے، یہ سمجھنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے بھلا۔ ایدھی فاونڈیشن کے ہی ترجمان کے مطابق نوزائیدہ بچوں کے قتل کی اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔

ایدھی سینٹر کے ایک کارکن نے ٹوٹے لہجے میں ایسی نوزائیدہ لاشوں کا ذکر کیا جنہیں جلایا گیا تھا۔ پھانسی دی گئی تھی یا پھر ان کے ٹکڑے کر دیے گئے تھے۔ اکثر لاشوں کا کچھ حصہ آوارہ جانور کھا چکے تھے۔ اس میں سب سے دلخراش واقعہ وہ تھا جس میں ایک ماں نے اپنا بچہ مسجد کی سیڑھیوں پر چھوڑ دیا تاکہ وہاں سے کوئی اسے اپنا لے مگرمسجد امام نے فیصلہ کیا کہ بچہ نطفہ حرام ہے اور اس کے فتوی کے مطابق مسجد کے عین سامنے ایک ننھی سی ہمکتی جان کو نمازیوں نے پتھر مار کر سنگسار کر دیا۔

اگر آپ صاحب اولاد ہیں تو اپنے بچے کے پہلے دن کو یاد کیجیے پھر سوچیے کہ کتنی ضربوں میں اس کی جان نکلی ہو گی اور کس کرب سے نکلی ہو گی۔ اس ماں کا بھی سوچیے جو ہماری اخلاقی اور قانونی بندشوں سے ہار کر اپنا جگر گوشہ ایک نئی زندگی کی آس میں در خدا پر چھوڑ کر گئی ہو گی اور پھر کسی دیوار کے کونے سے اس نے اپنی جان کے ٹکڑے کا دماغ ایک پتھر لگنے سے باہر آتا دیکھا ہو گا۔ پر کوئی مذہبی رہنما کبھی یہ بات کرتا نظر نہیں آئے گا۔ اخلاقی اقدار کی موت کا نوحہ پڑھنے والے انسانی جان کو اتنا اہم نہیں جانتے کہ اس کے زیاں پر دو لفظ ضائع کر سکیں۔

اسی ایدھی فاونڈیشن کے تین سو سے زائد مراکز پر وہ جھولے نصب ہیں جہاں رات کی تاریکی میں حرام کاریکے نتیجے میں جنم لینے والے بچے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ بابا ایدھی اب نہیں رہے پر بائیس ہزار سے زائد بچوں کی ولدیت کے خانے میں ان کا نام درج ہے۔ یہ وہی طرز عمل ہے جس پر ہمارے شعلہ بیاں مذہبی علماء نے انہیں مردود ٹھہرایا کہ ان کے نزدیک نطفہ حرام کو پالنا اور اسے اپنا نام دینا گناہ ہے پر اسے سنگسار کر دینا عین جائز ہے۔

سوچیے یہ علماء ایک ایسی ماں یا ایسے باپ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے جو اپنے ناجائزبچے کو اپنے سینے سے لگانے کی تمنا رکھے اس بچے کو اپنا نام دینے کی کوشش کریں گے۔ بتائیے تعزیرات پاکستان کے تحت ایسے والدین کو کیا نرم ترین سزاملے گی۔ جس ملک میں ایک شخص کا نام بائیس ہزار بچوں کے والد کے طور پر درج کرانا پڑے وہاں یہ سمجھنا کہ خفیہ جنسی تعلقات مغرب کے آزادانہ جنسی تعلقات سے کسی بھی طرح کم ہیں، پرلے درجے کی خود فریبی ہے۔

ہمارے ایک معروف رہنما پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنی ایک مبینہ ناجائز اولاد کو تسلیم کریں۔ فرض کریں کہ وہ ناجائز اولاد واقعی ان کی ہے اور ایک دن ان کی شفقت پدری جوش مارے اور وہ اسے اپنانے کا اعلان کریں۔ آپ جانتے ہیں اگلے دن کیا ہو گا۔ ان کی تحسین نہیں ہو گی۔ ایک تو ان کا سیاسی کیرئیر وفات پا جائے گا اور دوسرا وہ حدود آرڈیننس کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

مہذب دنیا کے کسی شخص کو آپ یہ منطقینتیجہ سنائیں تو شاید وہ آپ کو فاتر العقل اور آپ کی مقننہ کو ذہنی معذور گرداننے میں ایک لمحہ نہ لگائے لیکن ملک میں کسی کی جرات نہیں کہ وہ ان قوانین پر بات کر سکے۔ کوئی ایسا سوچے بھی تو مذہبی جماعتیں جنہوں نے آج تک ایک بھی نوزائیدہ لاش کا نوٹسنہیں لیا وہ فورا اسلام خطرے میں ہےکا پرچم کھول لیں گی اور سب ٹھنڈے پیٹوں کان لپیٹ کر چپ کر جائیں گے۔ ضیا صاحب کے حدود آرڈیننس اور ہمارے خود ساختہ اور شاید احمقانہ اخلاقی معیار روزانہ سینکڑوں بچوں کی لاشوں پر اور مستحکم ہوئے جاتے ہیں۔ پتہ نہیں ابھی اس عفریت کو اور کتنا خون پینا ہے۔

صفیہ بی بی کا مقدمہ یاد ہے کسی کو۔ ایک تیرہ سالہ نابینا بچی کو اس کے مالک اور مالک کے بیٹے نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ چونکہ چار گواہ نہیں تھے اس لیے امیر جماعت اسلامی جناب منور حسن کے نظریے کے تناظر میں بچی خاموش رہی۔ کچھ ماہ بعد پتہ لگا کہ بچی حاملہ ہے۔ اب یہ تو ثابت ہو گیا کہ اس نے زنا کیا ہے ( بالرضا اور بالجبر کی تفریق کو گولی ماریے) پر چار گواہان کی غیر موجودگی میں مالک اور اس کے بیٹے پر فرد جرم عائد کرنا ناممکن تھا تو انہیں تو کچھ نہ کہا گیا حتی کہ ان کے خلاف پرچہ بھی نہیں کاٹا گیا پر 13 سالہ نابینا صفیہ بی بی کو تین سال قید بامشقت اور 15 کوڑوں کی سزا سنا دی گئی تاکہ عوام کی اخلاقی تربیت ہو جائے کہ زناکتنی بری چیز ہے اور ظاہر کہ لوگوں کو کان ہو گئے۔ اب کوئی اعتراف کر کے دکھائے ۔ شادی کے بندھن سے باہر بچے پر تو دور، اپنے بڑھے ہوئے پیٹ پر ہی پیار سے ہاتھ پھیرے تو سہی ۔

کیا ہم بالکل ہی عقل سے پیدل ہیں۔ اپنے بچوں کی تربیت کیجیے۔ بیٹوں کی بھی ۔ بیٹیوں کی بھی۔ انہیں درست غلط میں فرق سکھائیے۔ سیکس ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنائیے تاکہ جنس ایک مضمون کے طور پر سمجھا جا سکے۔ اس سے جڑی اچھائیاں اور برائیاں آپ تعلیم کے ذریعے نہیں بتائیں گے تو کھوجنے والے چور دروازوں سے کھوجیں گے۔ نتیجہ کیا ہو گا، کیا بتانے کی ضرورت ہے۔ شادی کے بندھن سے باہر کے جنسی تعلقات تین ہزار سال پہلے بھی حقیقت تھے اور اب بھی ہیں۔ ان کو سزا اور جزا کے ترازو میں تولتے رہے تو سزا اس زندگی کو ملے گی جو فرشتوں سی معصوم ہے۔ بالرضا اور بالجبر میں فرق واضح کیجیے۔

بالجبر ایک بھیانک جرم ہے اور اس کی سزا عبرت ناک ہونی چاہیے۔ دنیا اب ڈی این اے تجزیے اور فارنزک شہادتوں پر ایسے جرائم کا فیصلہ کرتی ہے، چار گواہ نہیں ڈھونڈتی ۔ بالرضا جرم نہیں ہے۔ اسے جرم ٹھہرانے پر اصرار کریں گے تو لاکھوں معصوم جانوں کا خون اپنی گردن پر رکھیں گے۔ بن بیاہی ماں اور بن بیاہا باپ قبول ہیں کہ ایک نوزائیدہ کا قتل، فیصلہ کر لیجیے۔ پر لگتا یہی ہے کہ اس موازنے سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اور اخلاقی اقدار کا ڈھونگ رچانا بند کیجیے۔ معاشرے کی اخلاقیات اس کے چہرے پر رقم ہوتی ہے۔ لگتا ہے ہم نے اپنے آئینے توڑ ڈالے ہیں۔ کہیں کبھی کوئی شکستہ آئینے کا ٹکڑا مل جائے تو آنکھوں سے پٹی اتار کر اس میں جھانکیے گا۔ اپنا عکس آپ کو پسند نہیں آئے گا۔

4 Comments

  1. N.S.Kashghary says:

    بہت بہت شکریہ اس سلگتے “ممنوع” موضوع پر قلم اٹھانے کا!۔

  2. سلیم اللہ شیخ says:

    سر جی بات بہت تلخ ہوجائے گی لیکن چونکہ آپ نے موضوع بھی تلخ چھیڑا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کچرا کنڈیوں میں بچوں کے مرنے کا نوحہ پڑھنے کے بجائےاس بات پر دھیان کیوں نہیں دیتے کہ ایسے واقعات ہی نہ ہوں۔
    ہم ایسا ماحول ہی کیوں پیدا کریں کہ جس میں گناہ کا جواز پیدا ہو؟
    معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ لبرل طبقہ ناجائز تعلقات کو تو جائز اور روا سمجھتا ہے لیکن اگر نوجوانوں کی جلد شادی کرنے کی بات کی جائے تو اس کی سب سے زیادہ شدو مد سے مخالفت بھی یہی طبقہ کرتا ہے۔
    آخری سوال صاحب مضمون سے ہے اگر خدانخواستہ ان کی بچی ایسے کسی فعل کی مرتکب ہوتی ہے تو کیا وہ اسقاط کرائیں گے یا اس کے ناجائز بچے کو پالیں گے؟

    • صاحب مضمون نے وہ تلخ حقیقت بتائی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کیا ہورہا ہے۔۔۔ آپ بسم اللہ کریں اور وہ حالات پیدا کریں کہ ایسے واقعات نہ ہوں شکریہ

  3. سلیم اللہ شیخ says:

    جی نہیں صاحب مضمون نے اگر صرف حقیقت بتائی ہوتی تو بہت اچھا ہوتا لیکن درحقیقت صاحبِ مضمون نے حقیقت کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات، اسلام پر تنقید اور مذہبی جماعتوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے کہیں بھی اس کے سدِ باب کے لیے کسی قانون یا قانون سازی کی بات نہیں کی بلکہ انہوں ایک غلط فعل کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہےاور اس میں انہوں نے بڑی ہوشیاری
    سے مخلتف باتوں کو گڈ مڈ کردیا ہے مثلا نابینا لڑکی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ چار گواہ نہیں تھے اس لیے امیر جماعت اسلامی جناب منور حسن کے نظریے کے تناظر میں بچی خاموش رہی۔
    امر واقعہ یہ ہےایسے واقعات میں چار گواہوں کا قانون لاگو ہی نہیں ہوتا، یہ بات یقیقنا صاحب مضمون کو بھی پتا ہوگی لیک اس کے باجود انہوں نے غلط بیانی کی، اور اگر انہیں یہ حقیقت معلوم نہیں تھی تو انہیں پہلے معلومات حاصل کرنی چاہیے تھی،چار گواہوں کی گواہی کا قانون عورت کے استحصال کے لیے نہیں بلکہ عورت کے تحفظ کے لیے ہے، قرآن میں واضح طور ہر کہا گیا ہے جو لوگ پاک باز عورتوں پر تہمت لگائیں اور پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں 80 کوڑے لگائو اور ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ مجھے بتائیں کہ اس قانون میں عورت کا تحفظ یا اس کا استحصال؟؟ اس قانون کے ذریعے عورتوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ کوئی فرد عورتوں پر بلا جواز تہمت نہ لگائے، جب کہ زنا کی صورت میں اگر عورت خود کلیم کرے تو اس صورت میں چار گواہوں کا قانون لاگو نہیں ہوگا بلکہ عورت کی بات کو فوقیت دی جائے گی۔
    لیکن صاحب مضمون نے نابینا لڑکی کے زیادتی کے واقعے کو قرآنی قانون پر تنیقد کے لیے استعمال کیا،۔
    جرگے، جاگیر دارانہ نظام کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ قبائلی جاہلیت کا شاخسانہ ہے، یہاں آپ بلوچ قوم پرستوں کی حمایت میں کئی مضامین لگے ہوئے ہیں، انہی بلوچ سرداروں نے اپنے قبیلے کی دو خواتین کو ٹریکٹر کے بلیڈ مار کر قتل کیا اور اس کو اپنی روایات قرار دیا، جاگیردارانہ نطام کے پروردہ لوگ تو خود لبرل اور آزاد خیال ہوتے ہیں انکے جرائم کو اسلام اور مذہب کے کھاتے میں کیوں ڈلا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *