امریکی تاریخ کا انتہائی خون ریز واقعہ

امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں موسیقی کے ایک میلے کے موقع پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 59 ہوگئی ہے، جب کہ چار سو سے زائد افراد زخم ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کا مشتبہ ملزم ایک 64 سالہ مقامی شخص تھا، جس نے ایک قریبی ہوٹل کی 32 ویں منزل سے موسیقی سننے والے ہزاروں افراد تک کئی منٹ تک فائرنگ جاری رکھی۔ یہ ملزم پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی میں مارا گیا۔

پولیس کی جانب سے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی ابتدائی تعداد پچاس سے زائد بتائی گئی ہے۔ اس طرح یہ واقعہ امریکی تاریخ میں پیش آنے والے اس طرز کے خون ریز ترین واقعات میں سے ہے۔ گزشتہ برس اورلینڈو میں ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں 49 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملہ آور کی جانب سے موسیقی کے شائقین پر اندھا دھند فائرنگ کے دوران جب پولیس حملہ آور کو ڈھونڈنے کی کوشش میں تھی، ایسے میں لوگ جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگتے نظر آئے۔ رائٹرز کے مطابق جائے واقعہ پر خون کے چھینٹے ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور 64 سالہ مقامی رہائشی اسٹیفن پیڈک نامی شخص تھا۔ تاہم فی الحال یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس واقعے کے محرکات کیا تھے۔

مقامی پولیس کے سربراہ جوزف لومبارڈو کے مطابق اس شخص کے کسی عسکری گروپ سے روابط نہیں تھے۔ لومبارڈو نے ایک پریس بریفنگ میں کہا، ’’ہمیں کچھ خبر نہیں کہ اس کے اعتقادات کیا تھے۔ ہمیں اس شخص کے کمرے سے مختلف طرح کے ہتھیار ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس حملے کے وقت پیڈک کے کمرے میں ایک خاتون مارلیو ڈینلی بھی موجود تھی۔ فی الحال یہ معلوم نہیں کہ آیا وہ بھی اس حملے میں شریک تھی یا نہیں، تاہم پولیس کے مطابق اس نے اس حملہ آور کی ’معاونت‘ کی۔

امریکی صدر نے اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے ’شیطانی عمل‘ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاوس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس مشکل کی گھڑی میں امریکی شہری ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حملے کے بعد امدادی کارکنوں اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ اس موقع پر انھوں نے بدھ کو لاس ویگس کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں واقعے میں متاثر ہونے والے افراد سے اظہارِ ہمدردی کیا تھا۔

DW/BBC

One Comment

  1. N.S.Kashghary says:

    Very big and tragic loss to humanity in THE First World Country.Thanks to Navada (and US in general) gun laws.
    Yet they are only busy adding more countries on the travel ban list.
    There are roughly 300 million private/personal firearms in the U.S. according to some estimates, nearly one per person in a country of 319 million people.
    I wonder why President Donald Trump is ordering the Department of Homeland Security to create an office called “VOICE” serving “victims of immigration crime”and not “VOUSGL” serving “victims of U S gun laws”?.
    According to a report only in one year ( 2015) the Gun Violence Archive (GVA) recorded 12,236 deaths and a further 24,755 injuries from shootings. This casualty toll includes 640 children aged 0-11 killed or injured by guns.
    If Donald Trump wants to “Make America Great Again” he should make possession of arms by the US Citizens (including migrants) illegal to let its citizens live safely in that country.

    A disturbing fact:Since Trump took office, more Americans have been killed by white American men with no connection to Islam than by Muslim terrorists or foreigners.

    A ban on guns will also minimize,if not eliminate, any potential threat from radicalized white American converts.

    Perhaps America needs to learn from Australian and Canadian gun laws;but it won’t because for the guns and ammunition manufacturers of The U.S “business is business,i.e ,serious business” .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *