یوم تشکر اور چے گویرا کی یاد میں


بیرسٹرحمید باشانی

آج یوم تشکر ہے۔ کینیڈامیں ہم ہر سال یہ دن بناتے ہیں۔ یہاں شاید یہ دن امریکہ سے آیا۔ جب امریکہ میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران کچھ لوگوں نے وہاں سے بھاگ کر کنیڈا میں پنا ہ لی۔ اس جشن کا تعلق اچھی فصل سے ہے۔ ان دنوں سے ہے جب انسانی زندگی زراعت کے گرد گھومتی تھی۔ اس کا بڑا دارمدار فصل پر تھا۔ فصل اچھی ہوجانا باعث جشن ہوتا۔ فصل نہ ہوتی تو فاقہ کشی کا خوف لوگوں کو اداس کر دیتا۔

زراعت کے دور سے یہ جشن بنایاجا رہا ہے۔ مگر اب اس جشن کا انحصار اچھی فصل پر نہیں۔ اب انسان اتنی ترقی کر گیا ہے کہ اب فصل کیسی ہو گی اس کا انحصار انسان کی مرضی پر ہے۔ سائنس نے اتنی ترقی کر لی کہ اب انسان فطرت پر انحصار نہیں کرتا۔ اب اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ فصل کو تمام برے اثرات سے بچا سکتا ہے۔ اب انسان اپنی ضرورت سے زائد فصل پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ روایتی جشن اسی طرح بنایا جاتا ہے۔ کئی جگہوں پر پھل، اجناس اور کھانے پینے کی چیزوں کو سجایا جاتا ہے۔ٹرکی روسٹ ہوتی ہے۔ٹرکی ڈنر ہوتے ہیں۔

اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ چھٹی بنائی جاتی ہے۔ ویک اینڈ کے ساتھ اس چھٹی کو جوڑ کر تین دن کی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔ ایک ساتھ تین چھٹیاں اس مصروف سماج میں بذات خود جشن کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب کی باریوم تشکر کے اس ویک اینڈ کے دوران مشہور انقلابی چے گویرا کی پچاس سالہ تقریبات بھی منائی جا رہی ہیں۔

یہ تقریبات تو اصل میں کیوبا کے شہر سانتا کلارامیں ہو رہی ہیں لیکن ہمارے شہر ٹورانٹو میں بھی چے گویرا کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اس حوالے سے کافی تقریبات ہو رہی ہیں۔ ہمارے اس لانگ ویک اینڈ کا بیشتر حصہ ان تقریبات میں گزرا ہے۔ ان تقریبات کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی سرکاری سر پرستی کے بنائی جاتی ہیں۔ یہ عام لوگ بناتے ہیں۔ ان میں نوجوان، بزرگ، خواتین و مرد گویا ہر قسم کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔

ہماری اس دنیا میں کئی ہر دل عزیز اور عظیم لوگ گزرے ہیں۔ کئی قوموں، ریاستوں اور معاشروں میں ان لوگوں کو ہیرو، قائد، یا فادر آف نیشن ماناجاتا ہے۔ مگر کچھ وقت گزرنے کے بعد عام آدمی کافی حد تک ایسی شخصیات سے لا تعلق سا ہو جاتا ہے۔ دلچسپی کھو دیتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسابھی آ جاتا ہے کہ ان لوگوں کو اگر یاد بھی کیا جاتا ہے تو محض سرکاری تقریبات میں یا پھر سرکاری چھٹی کی وجہ سے۔

مگرچے گویرا کی بات دوسری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ہے۔ چاہنے والے ختم نہیں ہوئے۔ اس کی اس مقبولیت کا انحصار سر کاری سر پرستی پر نہیں ہے۔ عام لوگوں پر ہے۔ ٹورانٹو کی ان تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے آپ لوگوں کی آنکھوں میں چے کے لیے محبت کا گہرا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ عام لوگ ایسی تقریبات منعقد کر کہ چے گویرا سے اپنی عظیم محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ شائد اس محبت کا جواب ہے جو چے کو عام لوگوں سے تھی۔ اور اسطرح وہ اس کی محبت اسے لوٹا رہے ہوتے ہیں ۔

اہم بات یہ ہے کہ ان تقریبات میں صرف کیوبا یا لاطینی لوگ ہی نہیں ہوتے۔ یہ شائد واحد ایسی تقریبات ہوتی ہیں جن میں آپ کو دنیا کے ہر ملک، رنگ و نسل کا آدمی ملتا ہے۔ میں نے یہاں ایسے لوگ بھی دیکھے جو انقلاب اور سوشلزم کو پسند نہیں کرتے۔ مگر وہ چے گویرا کو مانتے ہیں۔ اس کی عزت کرتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو انفرادی آزادیوں کے قائل ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ انفرادی آزادیاں سلب کرنے میں دائیں اور بائیں بازوں کے حکمرانوں کا کردار ایک ہی رہاہے۔

چے گویراکی مقبولیت کے بارے میں بہت کچھ لکھا، پڑھا اور سنا گیا ہے۔ لیکن انسان کوان کی مقبولیت کا اصل اندازہ لاطینی ممالک کے سفر کے دوران ہوتا ہے۔ کیوبا میں تو خیر ان کی مقبولیت کا کافی تعلق سرکاری سرپرستی سے بھی ہے۔ اس بے پناہ سر پرستی کا اندازہ انسان کو کیوبا کی طرف جانے والے کسی ہوائی یا بحری جہاز میں سوار ہوتے ہی ہو جاتا ہے۔ اس سفر کے دوران نوے فیصد موسیقی چے گویرا کے بارے میں گائے گئے گیتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

کیوبا کے تمام سرکاری دفاتر اور پبلک مقامات پر چے گویرا کی قد آدم تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر چے گویراکو کاسترو سے کئی زیادہ توقیر دی جاتی ہے۔ عام لوگ چے کو کاسترو سے کئی زیادہ عزت و پیار دیتے ہیں۔ اور یہ بات صرف کیوبا تک ہی محدود نہیں۔ لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک میں چے کے بارے میں لوگوں کے اچھے جذبات ہیں۔ لوگ اسے فخر سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اسے اپنی مشترکہ ملکیت تصور کرتے ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنے آپ کو ایک ملک کے ساتھ جوڑنے کے بجائے ایک طبقے ، سوچ اور نظرئیے کے ساتھ جوڑا۔ 

وہ ارجنٹینا میں پیدا ہوا، کیوبا میں انقلاب کے لیے لڑا اور بولیویا میں مارا گیا۔ چے سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ اس کے دشمنوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ اور شائد خودچے نے ہی کہاتھا کہ کسی انسان کے لیے دوست نہ ہونا بڑی افسوسناک بات ہے ،مگر اس سے بڑی افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کے دشمن نہ ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *