کالی عینک والے ہمدرد لوگ 

بیرسٹر حمید باشانی

ہمارے ہاں مغرب کے بارے میں کئی فکری مغالطے پائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک مغالطہ یہ ہے کہ مغرب میں لوگ بہت بے حس ہیں۔ ایک دوسرے سے لا تعلق ہیں۔ بے گانہ ہیں۔ خود غرض ہیں۔مطلب پرست ہیں۔ دوسروں کا دکھ درد محسوس نہیں کرتے۔ یہ بہت ہی عام مغالطہ ہے جو عام لوگوں میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے لکھاری اور دانشور نما لوگ ، جو سماج میں رائے عامہ بناتے ہیں، ان کی ایک عظیم اکثریت بھی اس مغالطے کا شکار ہے۔ چنانچہ اس کا کھلا اظہار ہم آئے دن بے شمار اخباری کالموں میں پڑھتے ہیں۔ ٹیلی ویثزن پر ہونے والی گفتگو میں سنتے ہیں۔ 

عوامی سطح پر اس کا اظہار ہمارے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں سے لیکر گلی محلے اور کھیتوں کھلیانوں تک بھی سنائی دیتا ہے۔ اتنے وسیع پیمانے پر اس مغالطے کی موجودگی صرف مغربی لوگوں کے ساتھ ہی نا انصافی نہیں بلکہ یہ ہمارے لوگوں کے ساتھ بھی ایک سنگین زیادتی ہے کہ ان کو اس طرح گمراہ کیا جائے یا سچ سے دور رکھا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ مغرب اور دوسرے ترقی یافتہ لوگ ہمارے لوگوں کی ہی طرح ایک دوسرے کے ساتھ احترام، دوستی، محبت، شفقت اور ہمدردی کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہاں رہنے والے لوگوں کواس حقیقت کا اپنی روز مرہ کی زندگی میں مشاہدہ اور تجربہ ہوتا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ مذکورہ بالا انسانی جذبات مشرق و مغرب کے انسانوں میں ایک طرح کے ہیں۔ فرق صرف اظہار کے طریقہ کار میں ہے۔ یہ طریقہ کار ہی دراصل وہ بنیادی نقطہ ہے جو ترقی یافتہ سماج کو ترقی پزیر سماج سے الگ کرتا ہے۔

مغرب میں ایک منظم معاشرے کے طور پر زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں ایک طریقہ کار ، ایک قاعدہ کلیہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کا اطلاق سڑک کراس کرنے ، گاڑی چلاتے ہوئے لائن بدلنے، کافی شاپ میں کافی خریدتے ہوئے لائن بنانے جیسے چھوٹے موٹے کاموں سے لیکر ہوائی جہاز بنانے اور ملکی انتظام و انصرام چلانے تک جیسے بڑے کاموں تک یکساں طور پر ہوتا ہے۔

اسی طرح اپنی حس، جذبات اور ہمدردی کے اظہار کا بھی ایک طریقہ کار ہے۔ اس طریقہ کار کے پس منظر میں ایک لمبی تاریخ ہے۔ فلسفہ ہے۔ نظریات ہیں۔ رسم و رواج ہیں۔ 

مغرب میں دوسروں سے ہمدردی کے اظہار میں دو چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اپنی حدود اور دوسروں کی پرائیویسی۔ چنانچہ جس شخص سے یہاں ہمدردی کی جاتی ہے اس کی ضرورت، وقت اور پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ گویا ہمدردی کا اظہار ایک خاص سلیقے سے کیا جاتا ہے۔ 

یہ اسی ہمدردی کے جذبے کا اظہار اور اعجاز ہی ہے کہ آج ترقی یافتہ مغربی دنیا کے عام شہریوں کے مالی تعاون اور اعانت سے ہماری اس دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں سکول ، کالج، ہسپتال اور یتیم خانے چل رہے ہیں۔ ان کی فیاضی اور تعاون سے دنیا میں کتنی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیمیں، خیراتی ادارے اور پنا ہ گا ہیں چل رہی ہیں۔

یہ بیشتر ادارے اور سرگرمیاں تیسری دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک میں چل رہے ہیں جن سے ان عام چندہ دینے والے مغربی لوگوں کا سوائے انسانی ہمدردی کے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں خود ان ترقی یافتہ ملکوں کے اندر حکومت نہیں بلکہ صرف عوام کی مالی مدد اور تعاون سے ہزاروں ایسے ادارے چل رہے ہیں۔ 

یہاں مغرب میں کسی قدرتی آفت، بیماری یا حادثے کی صورت میں لوگ اپنے بٹووں کے منہ کھول دیتے ہیں۔ ناگہانی صورتوں میں یہاں کی سرکار سے بھی بڑھ کر عام شہری چندہ جمع کر لیتے ہیں۔ یہاں کے سرمایہ داروں میں بل گیٹس جیسے لوگوں بھی کمی نہیں جو اپنی دولت کا نصف سے بھی زائد فلاح عامہ کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ 

مغرب میں جو مالی اعانت نہیں کر سکتا وہ اپنے آپ کو رضا کارانہ خدمات کے لیے پیش کر دیتاہے۔ رضا کارانہ خدمات کی مانگ اور اہمیت کا یہ عالم ہے کہ جو ادارے رضا کار لیتے ہیں ان کے پاس انتظار کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے۔ نوجوان بچے بچیاں ہائی سکول سے بھی پہلے رضاکار بننے کے لیے درخواستیں دینا اور لائن میں لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی کی باری آتی ہے ۔ کسی کی نہیں۔ 

یہاں دوسروں سے ہمدردی کا ایک سرکاری اور لازمی طریقہ بھی ہے جس کو عرف عام میں ٹیکس کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ایک نا پسندیدہ لفظ ہے، لیکن یہاں یہ زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی حقیقت ہے۔ کینیڈا اور سویڈن جیسے بعض مغربی ملکوں میں لو گ اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ ٹیکس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ انکم ٹیکس سے لیکر سیلز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس سے لیکر لینڈ ٹرانسفر ٹیکس تک قدم قدم پر طرح طرح کے ٹیکس ہیں۔ 

ان سب ٹیکسوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک محتاظ اندازے کے مطابق ایک عام کینیڈین اپنی کل آمدن کا چالیس فیصد تک صرف ٹیکس کی مد میں خرچ کر دیتا ہے۔ اس سے کچھ لوگوں کے ماتھے پر بل ضرور پڑتے ہیں۔ لیکن عوام کی اکثریت خوش ہے۔ ا نہیں ایک ٹیکس ادا کرنے والا شہری ہونے پر فخر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے دئیے ہوئے اس پیسے سے کم خوش نصیب لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ 

وہ جانتے ہیں کہ ان ٹیکسوں سے غریب لوگوں کو سستی رہائش گاہیں اور گزارا الاونس دیے جاتے ہیں۔ سڑکیں سکول اور ہسپتال بنتے ہیں۔ سب کو مفت تعلیم اور علاج کی سہولت میسر ہے۔ ا ن پیسوں سے حکومتیں تیسری دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک کی کئی طریقوں سے مدد کرتیں ہیں۔ لوگ اس پر خوش ہیں۔ فخر کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ میر اٹیکس ایتھوپیا یا کمبوڈیا کیوں چلاگیا۔

عام مغالطے کے بر عکس یہاں مغرب میں بھی لوگوں کو دوسروں سے ہمدردی ہے جناب ۔ بے پناہ ہمدردی ۔ البتہ عام طور پر دوسروں سے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ لوگ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں۔ سرے عام آنسو بہانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ لوگ جنازوں پر کالی عینک پہنتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جذبات میں ان کے آنسو نہیں بہتے۔ سوشل میڈیا پر آج بھی وہ تصویر وائرل ہے جس میں ایک مغربی ملک کینیڈا کے وزیر اعظم ٹورنٹو ائر پورٹ پر شامی پنا گزینوں کا ستقبال کرتے ہوئے بے ساختہ رو پڑے تھے۔ 

مغرب میں ہماری طرح ہی دوسروں سے ہمدردی کے بے تحاشا جذبات موجود ہیں، البتہ یہاں اس ہمدردی کی آڑ میں دکھاوے اور خود نمائی کی وہ خواہش اتنی شدید نہیں جتنی ہمارے ہاں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ یہاں تو صرف شراب کی دوکانوں پر روزانہ کروڑوں ڈالر خیرات میں دیے جاتے ہیں۔ کوئی رسید مانگتا ہے نہ کوئی نام پوچھتا ہے۔

ہمارے میڈیا میں جو لوگ مغرب کے خلاف خار کھائے بیٹھے ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مغرب کی اچھائیوں کو چھپایا جائے اوربرائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔ یہ لوگ اپنی کوشش میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مغرب کے خلاف یہ مختلف مغالطے اس کا واضح ثبوت ہیں۔

One Comment

  1. وہ لوگ نسوار اور پان کھا کر جگہ جگہ تھوکتے بھی نہیں۔نہ ہی بازاروں میں چلتے پھرتے شلوار (پتلون) میں ہاتھ ڈال کر سرعام ڈھیلوں سے پیشاب سکھا تے نظر آتے ہیں۔جو کہ صوبہ خیبر پخنتونخوا کی بالخصوص معاشرتی روایت ہے۔
    اسی طرح بازار میں کسی عورت کو دیکھتے ہی وہ لوگ اپنی ٹانگوں کے عین درمیان خارش کرنا بھی شروع نہیں کر دیتے۔یہ ہمارے ملکِ خداداد کے پاکستانیوں کی کھرکنے کی عادت بھی عجیب مرض ہے۔عورت کو دیکھتے ہی ہاتھ خودبخود بے اختیار ٹانگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔غص بصر کی کالی عینکوں کی شدید ضرورت ہے ہمارے مسلمان پاکستانی بھائیوں ،بیٹوں، باپوں، دادوں، دامادوں وغیرہ کو۔
    اکھاں دی رکھوالی رکھ۔۔۔۔۔۔عینک بھانویں کالی رکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *