غلام اور لونڈی کا تصور

ساغر سلیمی

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسانوں کی خریدو فروخت کو مذہبی تحفظ فراہم کرتا ہے انسانوں کو غلام بنانے اور بغیر نکاح کے ان سے سیکس کرنے اور ان کی خریدو فروخت کی اجازت تو قرآن میں بھی دی گئی ہے اور سنت رسول بھی ہے۔ 

قران میں ہے کہ
لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا ﴿الأحزاب: ٥٢﴾۔
:
ترجمہ
اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے اللہ ہر چیز پر نگران ہے

ایک اور جگہ پر عام مسلمانوں کو بھی لونڈیوں سے سیکس کی کھلی اجازت فراہم کی گئی 
القران سورۃ المؤمنون آیت نمبر5 اور6
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ(5)۔
إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ(6)۔
ترجمہ:۔
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے عبداللہ بن محیر یزجمحی نے خبر دی ان کو ابو سعید خدریؓ نے کہ وہ ایک دن نبی صلعم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک انصاری شخص آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ہم کو باندیاں قید میں ملتی ہیں مگر ہم ان کے کوڑے کرنا چاہتے ہیں یعنی بیچ کر تو آپ کیا فرماتے ہیں اگر ہم ان سے عزل کریں آپ نے فرمایا تم ایسا کرتے ہو کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو کیونکہ جس جان کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی ۔

غزوہ خیبر پر حملہ کیا تو خیبر کے سردار کو قتل کر کے اس کی نوبیاہتہ دلہن کو لونڈی بنا لیا گیا جسے رسول نے ایک مسلمان سے 7 جانوں کے بدلے خرید لیا ۔

صحیح بخاری کتاب النکاح حدیث نمبر5161
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی انہوں نے حمید سے انہوں نےا نسؓ سے انہوں نے کہا نبی صلعم خیبر سے لوٹتے وقت خیبر اور مدینہ کے بیچ میں ٹھہر گئے۔ تین دن تک ٹھہرے رہے۔ صفیہ بنت حیؓ سے آپؐ صحبت کرتے رہے

طبقات ابن سعد حصہ اول سیرۃ النبی صفحہ نبمر 312 پر لکھاہوا ہے کہ
انس سے مروی ہے کہ رسول للہ نے صفیہ لونڈی بننے کے بعد وحیہ کے حصے میں آئیں وہ بہت خوبصورت لڑکی تھیں جسے رسول نے وحیہ سے 7 جانوروں کے بدلے خرید کر ام سلیم کے حوالے کیا تاکہ وہ انہیں بناؤسنگار کر کے رسول کے حجرے میں پیش کریں ۔

رات جو جب رسول اپنے حجرے میں صفیہ کے ساتھ مباشرت کر رہے تھے تو خیمے کے باہر آہٹ ہوئی تو رسول نے پوچھا کون ہے ؟؟؟ تو ابو ایوب بولے رسول للہ جس عورت کے ساتھ آپ موجود ھیں اس کے شوہر کے ساتھ تو جو آپ نے کی سو کیا اس لیے میں اس خوبصورت لڑکی سے بےخوف نا تھا اور آپ کا پہرہ دینے چلا آیا تاکہ اگر کوئی جنبش ہو تو میں آپ کے ساتھ ہوں ۔
قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام کا مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی انسانوں کو لونڈی غلام بنانے یا ان کی خریدو فروخت اور بغیر نکاح کے سیکس کو حرام نہیں کہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ علما آج بھی لونڈیوں سے سیکس کی اجازت دیتے ہیں ۔

اور جو مسلمان اپنی لونڈیوں سے زبردستی دھندہ بھی کرواتے ہیں ان کے لیئے کوئی عذاب نہیں بلکہ اللہ معاف کرنے والا ہے 
قران :۔
وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّـهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣٣﴾۔

اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رھنا چاھیں تو دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نا کرنااور جو انکو مجبور کرے گا تو انکے مجبور کیئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے (سورت النور)۔

جبکہ پوری اسلامی تاریخ میں ہمیں ایک جگہ بھی کوئی ایسی ضعیف روایت بھی نہیں ملی کہ مسلمانوں کی طرح کافروں نے بھی کبھی کسی مسلمان

صحابیہ کو لونڈی بنایا ہو یا اس کی خرید و فروخت کی ہو یا اسے لونڈی بنا کر اس سے سیکس کیا ہو۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی نسبت تو اس دور کے کافر بھی زیادہ مہذب تھے اور عورتوں کی عزت کرنا جانتے تھے۔

One Comment

  1. زبیر حسین says:

    یہ عرب بدو جنہوں نے ہم پر ہاتھ کاٹنے اور رجم جیسی وحشیانہ سزاؤں کو مسلط کیا ہے خود شادی شدہ قیدی عورتوں سے زنا کیا کرتے تھے. وہ اس زنا کو حلال سمجھتے تھے. گزشتہ صدی کے سب سے بڑے عالم دین حضرت سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی اپنی تفسیر قرآن میں فرما چکے ہیں کہ اسلامی فوج کا سالار جنگی قیدی عورتوں کو سپاہیوں میں تقسیم کر سکتا ہے اور وہ بغیر نکاح کئے ان قیدی عورتوں سے جنسی خواہش پوری کر سکتے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *