کیا سردار پٹیل مسلمانوں کے دشمن تھے ؟

تبصرہ :لیاقت علی

اگست 1947میں ہندوستان کی تقسیم اور اس کے نیتجے میں ہونے والے ہولناک فرقہ ورانہ فسادا ت جن میں ہر مذہب کے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ، دونوں نو آزاد ممالک میں میں اثاثوں کی تقسیم ، شاہی ریاستوں کے بھارت سے ’جبری‘ الحاق اور بھارت میں رہ جانے والی مسلمان اقلیت کے خلاف زیادتیوں کا الزام عام طور پر کانگریس کے رہنما اور بھارت کے پہلے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل(1875-1950 )پر لگایا جاتا ہے۔

پاکستان کے تاریخی بیانیہ میں پٹیل کو ولن کا مستقل درجہ حاصل ہے۔ ہماری نصابی کتب میں پٹیل کو فرقہ پرست ، مہاسبھائی ، ہندو انتہاپسند اورمسلمانوں کا جانی دشمن ثابت کیا جاتا ہے۔ پٹیل کا شمار کانگریس کے اہم ترین رہنماؤں میں ہوتا تھا ان کا نام گاندھی اورنہرو کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔ کانگریس میں باہم اکٹھے ہونے اور آزادی کی تحریک میں اشترا ک عمل کرنے کے باوجود ان تینوں کے خیالات میں بہت سے سیاسی اور سماجی امور کے بارے میں اختلاف پایا جاتا تھا ۔

ان کے مابین پائے جانے والی اختلافات کی جڑیں دراصل اس سماجی اور خاندانی پس منظر میں پیوست تھیں جن میں ان کی پرورش ، تعلیم و تربیت اور سیاسی زندگی کی نشو و نما ہوئی تھی ۔ ’ سردار پٹیل اور ہندوستاتی مسلمان‘ کے مصنف بھارت کے معرو ف اسکالر رفیق زکریا (1920-2005)بھی سردار پٹیل کے بارے میں روایتی خیالات کے حامل تھے ۔ وہ پٹیل کو فرقہ پرست سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک بھی بھارتی مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو درپیش مسائل کے ذمہ دار پٹیل اور ان کی مذہبی انتہا پسند ی پر مبنی پالیسیاں تھیں۔

لیکن پٹیل کے بارے میں انھیں اپنا نکتہ نظر اس وقت تبدیل کرنا پڑا جب آل انڈیا ریڈیو نے انھیں سردار پٹیل میموریل لیکچرز دینے کی دعوت دی اور انھوں نے اپنے موضوع سے انصاف کرنے کے لئے سردار پٹیل کی سیاسی زندگی کے تحقیقی مطالعہ کا آغاز کیا۔ دوران تحقیق ان پر آشکار ہو اکہ پٹیل کے بارے میں ان کا نکتہ نظر جو پہلے سے طے شدہ تھا کا حقایق کوئی تعلق نہیں ۔

رفیق زکریا کہتے ہیں کہ میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا تھا وہ بہت متنازعہ تھا اور اپنے کئی ہم مذہبوں کی طرح میں بھی سمجھتا تھا کہ پٹیل مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمن تھے اور اس پر انھیں کوئی شرمندگی بھی نہیں تھی۔لیکن جب میں نے تمام ادبی اور تحقیقی ہتھیاروں سے لیس ہوکر اس موضوع پر تحقیق کا آغاز کیا کہ کیا واقعی پٹیل مسلم دشمن تھے تو میری تحقیق سے ابھرنے والے نتائج میرے پہلے سے موجود خیالات سے بہت مختلف تھے۔ سردار پٹیل کوئی دانشور اور مفکر نہیں تھے وہ اول و آخر سیاسی کارکن تھے اور سیاست ہی ان کا اوڑنا بچھونا تھی۔ وہ کوئی صاحب مطالعہ شخص نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹیل کی اسلام سے واقفیت بھی محض واجبی تھی۔

رفیق زکریا کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا کہ اسلام سے متعلق انھوں نے کوئی کتاب پڑھی تھی تاکہ اس کے بنیادی اصولوں سے واقف ہوسکتے۔اسلام سے متعلق ان کی معلومات کا ماخذ وہ مسلمان تھے جن سے سیاسی سرگرمیوں کے دوران ان کے روابط رہے تھے۔سیاسی جد وجہد کے دوران وہ مولانا مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر ایم۔اے انصاری اور ابوالکلام آزاد کے قریب رہے لیکن ایسی کوئی تحریر یا کوئی اور ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ پٹیل نے کبھی ان لوگوں سے اسلام کے متعلق گفتگو کی ہو۔ نہ تو ان کے مسلمان ساتھیوں نے کبھی انھیں اسلام کے بارے میں بتانے کی کوشش کی، نہ ہی خود انھوں نے اس بارے میں زیادہ جاننے کی کوشش کی تھی۔

لگتا ہے کہ مسلمانوں اور اسلام کے مذہبی فلسفہ کے بارے میں جو کچھ وہ جانتے تھے وہ عام مسلمانوں کی روزمرہ زندگی سے اخذ شدہ تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں تھا کہ انھیں اسلام سے بالکل ہی دلچسبی نہیں تھی۔ان کا ہندو مذہب کا مطالعہ بھی عمیق نہیں تھا اور اس میں بھی ان کی دلچسپی سطحی تھی۔ ایک دن انھوں نے مہادیو ڈیسائی سے پوچھا تھا کہ سوامی ویویکا نند کون ہے ؟ اس پر گاندھی کے سیکرٹری نے ان کا مذاق اڑایا اور انھیں رومین رولینڈ کی لکھی ہوئی سوامی کی سوانح پڑھنے کو دی تھی ۔

رفیق زکریا کہتے ہیں کہ پٹیل متحدہ ہندوستان کے زبردست حامی تھے اور وہ صرف ان مسلمانوں سے خوش تھے جن کو وہ محب وطن سمجھتے تھے اوران سے ناخوش رہتے تھے جن کو وہ ہندوستان کی تقسیم کا حامی خیال کرتے تھے ۔ گاندھی اور نہرو کے بارے میں ان کی یہ رائے تھی کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں اس لئے ان کا یہ بیان کہ جواہر لا ل نہرو ہندوستان کے واحد نیشنلسٹ مسلمان ہیں اور مسلمانوں سے قربت کی وجہ سے گاندھی جی کا دماغ پلپلا ہوگیا ہے حیرت خیز نہیں ہے۔

سردار پٹیل کو یہ غلط خیال پیدا ہوگیا تھا کہ بھارتی مسلمانوں کی اکثریت بھارت کی وفادار نہیں ہے اس لئے ان کو پاکستان کی مسلم مملکت میں چلا جانا چاہیے لیکن وہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے لئے تیار نہیں تھے۔رفیق زکریا نے سردار پٹیل کے ایک خط کا اقتباس نقل کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ : میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کو ایسی ہندو ریاست بنانا ممکن نہیں ہے جس کا مذہب ہندو مت ہو ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہاں ( بھارت میں) دیگر اقلتیں بھی رہتی ہیں جن کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

ہندوستان کے آئین میں آرٹیکل 25 جو ہر بھارتی شہری مذہبی آزادی اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی آزادی فراہم کرتا ہے سردار پٹیل کی کوششوں ہی سے شامل ہوا تھا۔ ہندو مسلم تعلقات کے حوالے سے گاندھی ،نہرو اور پٹیل کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا تھا لیکن یہ اختلاف ہندو مسلم اتحاد پر نہیں بلکہ اس کے حصول کے طریقہ کار پر تھا۔

گاندھی کے نزدیک ان دونوں کے مابین اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت تھی نہرو کا بھی یہی خیال تھا۔ان دونوں کے نزدیک ہندوستان کی آزادی کے لئے یہ اتحاد ناگزیر تھا لیکن پٹیل کا یہ خیال تھا کہ جب تک انگریز ہندوستان پر حکمران رہیں گے تب تک ہندو مسلم اتحاد ممکن نہیں ہے اس لئے ابتدا ہی سے پٹیل نے اپنی تمام توانیاں بر طانوی راج کے خاتمے کے لئے وقف کر دی تھیں۔ہندو مسلم ہم آہنگی ان کے خیال میں دوسرے مرحلے پر طے کرنے والا مسئلہ تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ ہندو مسلم اتحاد اور ہم آہنگی کے مخالف تھے بلکہ انھوں نے ان دونوں کے مابین یگانگت اور مفاہمت کے لئے سخت جد وجہد کی تھی۔

رفیق زکریا کا موقف ہے کہ سردار پٹیل کی شخصیت بہت پہلودار اور پیچیدہ تھی انھیں کسی ایک رخ سے دیکھ کر ان کے بارے میں فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا ۔وہ سخت مزاج تو تھے لیکن اپنے فیصلوں پر مذہب یا فرقہ سے تعلق کو اثرانداز نہیں ہونے دیتے تھے۔ رفیق زکریا کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے کہ پٹیل بطور وزیر داخلہ صرف ہندو افسروں پر اعتماد کرتے تھے ان کا ایک قابل اعتماد پولیس افسر مسلمان تھا جو انسپکٹر جنرل اسپیشل فورس تھا ۔

دہلی میں بھی پٹیل نے خورشید عالم خان کو پہلا چیف کمشنر مقرر کیا تھا انھوں نے کبھی مسلمان پولیس افسروں کا تبادلہ نہیں کیا تھا۔زیادہ تر مسلمان افسروں نے چونکہ پاکستان جانے کا آپشن اختیار کیا تھا لہذا پٹیل کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ موجود افسروں کو ذمہ داریاں سونپے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقہ سے ہو۔

رفیق زکریا کا دعوی ہے کہ سردار پٹیل نہ صرف مسلم دشمن نہیں تھے بلکہ انھوں نے بعض کام ایسے بھی کئے تھے جو مسلمانوں کا خیر خواہ ہی کر سکتا تھا۔رفیق زکریا مسلمانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ پٹیل کو سمجھیں اور ان سے اپنی نفرت ترک کردیں۔

نام کتاب: سردار پٹیل اور ہندوستانی مسلمان

مصنف: رفیق زکریا

صفحات :172 قیمت :240

پبلشر: فکشن ہاؤس مزنگ روڈ لاہور

4 Comments

  1. زندہ قومیں اپنے محسنوں کانام ، کام اور ذکر کیسے زندہ رکھتی ہیں ،یہ بھارت سے سیکھیں جہاں سردار پٹیل جی کا یادگاری مجسمہ “مجسمہء وحدت” کے نام سے زیر تعمیر ہے۔مکمل ہوجانے پر یہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا۔اس پر اندازاً تین ہزار کروڑ روپے کی لاگت صرف ہوگی۔پانچ سو بائیس فٹ بلند اس مجسمہ کے سر کی اونچائی ستر فٹ ہوگی ۔ یہ مجسمہ بھارت کے پدما ایوارڈ یافتہ اکانوے سالہ ماہر مجسمہ ساز جناب رام سوتر جی تیار کر رہے ہیں۔ سردار پٹیل جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ منصوبہ مودی جی کے ذہن کی پیداوار ہے جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔اس منصوبہ کی سب سے نمایاں چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس دیو قامت ڈیڑھ ہزار ٹن وزنی مجسمہ کے پچیس ہزار پارٹس تیار کرنے کا ٹھیکہ مبینہ طور پر ایک چائنیز کمپنی کو دیا گیاہے ۔

  2. سردار پٹیل جی نے گاندھی جی کی طرح علی برادران کی جاری کردہ تحریک خلافت کا بھی بھرپور ساتھ دیاتھا اورتحریک کے جلسوں میں دل گرما دینے والی تقاریرکر کے مسلمانوں کے دل جیتے تھے۔
    ایک مرتبہ جب کچھ ہندو دہشت گردوں نے درگاہ نظام الدین اولیاء پر قبضہ کر لیا تھا تو یہ پٹیل جی ہی تھے جو آدھی رات کو دوڑ کر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور نہایت اضطرار سے فرمایا کہ دیکھو(اس گستاخی پر) کہیں یہ ولی اللہ ہم سے ناراض نہ ہو جاویں۔آپ نے بہت احترام سے درگاہ پہ حاضری دی اور خود اپنی نگرانی میں پولیس ایکشن کرواکر درگاہ پر سے دہشتگردوں کا قبضہ ختم کروایا۔آج اگر ان کے نام پر مجسمہ وحدت بنیاجا رہا ہے تو بالکل بجا طور پر آپ اس اعزازاورسپاسِ تشکر کے حقدار ہیں۔۔

  3. احمد رضا سلیم says:

    لیکن آزاد کی کتاب انڈیا ونس فریڈم کو دیکھیں تو یہ پٹیل اور نہرو ہی تھے جو فوری تقسیم یا کانگرس کو پاور ٹرانسفر کرنے پر بضد تھے ، فوری تقسیم نے ہندوستان کو خون میں نہلا دیا
    ..ورنہ فروری 1948 تک تقسیم مکمل ہونی تھی

    • اگر فوری تقسیم نہ ہوتی تو خونخوار درندوں کو مزید منظم طریق پر ایک دوسرے کا خون بہانے کی مکمل تیاری کرنے کی مہلت اور موقع مل جاتا۔ایک ملین کی بجائے چار ملین لاشیں دیکھنے کو ملتیں۔
      رفیق ذکریا نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ فوری عجلت میں تقسیم ہند کے منصوبے پر عملدرآمد کروانا دراصل لارڈ مونٹ بیٹن کی غلطی تھی۔اور اسی نے سرادر پٹیل وغیرہ کو بھی اس فوری تقسیم کا قائل کرلیا تھا۔موسلی نے اپنی کتاب برطانوی راج کے آخری دن میں لکھا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم نے ہندوستان سے انگریزوں کی روانگی کی تاریخ جون سن اڑتالیس مقرر کی تھی لیکن ماؤنٹ بیٹن نے یہ تاریخ پندرہ اگست سن سینتالیس رکھ کر سب کو ورطہ حیرت مٰں مبتلا کردیا تھا۔اسی شخص کی عجلت کی وجہ سے تبادلہء آبادی کا عمل حتی الوسع باحفاظت اور پر امن طریق پرسرانجام نہیں دیا جا سکا تھا۔ رفیق ذکریا کے مطابق برطانوی فوجی کمانڈرلارڈ مونٹ بیٹن کے اس فیصلہ پہ قطعاً خوش نہیں تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *