طلبہ یونینز کی ضرورت

عظمیٰ ناصر

پچھلے 30برسوں میں پاکستان میں لگ بھگ کوئی 14کروڑ افراد پیدا ہوئے ۔یہ افراد سکولز کالجز اور پھر یونیورسٹیوں میں گئے ، مگر انہوں نے کبھی ان اداروں میں سٹوڈنٹ یونیز کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ یہی وجہ ہے کہ 30سے 40سال کی عمر کے افراد نے صرف سیاستدانوں کو صرف چور اور لٹیرا کہنا سیکھ لیا ۔ اس نسل نے کتاب پڑھنے کو وقت کا ضیاع سمجھنا شروع کردیا ان کو نصاب میں صرف نفرت اور جنگجو کے قصے پڑھائے گئے۔

اس نسل کو نہ تو دانشور میسر ہیں اور نہ ہی وہ ان کی صحبت میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں ان کے مشاغل صرف انٹرنیٹ یا خوراک کے نئے نئے ٹھکانے ڈھونڈنا رہ گیا سونے پہ سہاگہ کہ فلم اور ڈرامے کے زوال نے اس نسل کے ذہن پہ دستک دینا شروع کر دی فلم ڈرامہ میں مار ڈھاڑ اور دولت کی ریل پیل دکھائی جانے لگی ۔تعلیم صرف حصول نوکری کیلئے رہ گئی جس کی وجہ سے نوجوان مایوس اور غیر سیاسی ہوگیا۔جس نے سیاست میں دلچسپی لی بھی تو اس نے اسے کاروبار سمجھنا شروع کردیا یا پھر تفریح کا مشغلہ۔

یہ نسل اتنی دوٹوک ہو گئی کہ سوشل میڈیا پر اپنے سیاسی مخالفین کو دشنام طرازی کرنے سے ذرا بھی تحمل نہیں برتتی۔ اس کا سہرا خیر ایک سیاسی پارٹی کو جاتا ہے اس نسل کو یہ بھی علم نہیں ریاست کیا ہوتی ہے اور حکومت کیا ہوتی ہے آئین کسے کہتے ہیں اور قانون کیا ہوتا ہے یہ انفرادی اور اجتماعی حقوق کی بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں ۔یہ اشارہ توڑ کہ تو خوش ہوتے ہیں یا پولیس سے گتھم کتھا ہو کر مگر کسی بے بس کے ساتھ ہوتے ظلم پر خاموشی کو شرافت سمجھتے ہیں ۔

یہ نسل بڑے فخر سے بتاتی ہے ہم تو ہر پارٹی کے جلسے میں جاکر انجوائے کرتے ہیں ان میں سے بہت سے نیا پاکستان بھی بنانا چاہتے ہیں انہیں پاکستان قبول نہیں نیا پاکستان کیسے بنے گا اس کا علم انہیں بھی نہیں۔انہیں لبرل اور سیکولر کا علم بھی نہیں پتہ۔اس میں ان کا قصور نہیں جہاں پہ ٹریننگ ہوتی تھی وہ دروازے بند کر دیے گئے۔سٹوڈنٹ یونینز وہ درسگاہیں تھیں جہاں تربیت ہوتی تھے مکالمہ ہوتا تھا کون غلط ہے کون سہی اس کا فیصلہ دلیل پر ہوتا تھا جس کی دلیل مضبوط ہوتی تھی اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی ایک سیاسی تربیت ہوتی تھی۔

سیاست کو ایک صاف ستھرا عمل سمجھا جاتا تھا تعلیمی اداروں میں الیکشنز ہو تے تھے پوری مہم چلائی جاتی تھی تقریب میں مکالمے سب ہوتا تھا جس میں نہ صرف الیکشن میں حصہ لینے والوں بلکہ ووٹ ڈالنے والوں کی بھی سیاسی تربیت ہوتی تھی ۔پھر نہ صرف ملکی سیاست بلکہ بین الاقوامی مسائل پر بھی رد عمل دیا جاتا تھا ۔سٹوڈنٹ سیاست کا آغاز 1947میں ہوا جب رولنگ مسلم لیگ نے ( ایم ایس ایف ) کی بنیاد رکھی ایم ایس ایف کیونکہ ایک سیاسی جماعت کا ٹھپہ تھا تو کچھ پروگریسو سٹوڈنٹس نے 1951میں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف ) کی بنیا د رکھی۔

ڈی ایس ایف میں زیادہ تر لیفٹ کے نظریات کے طلبہ تھے اور سٹوڈنٹ لیڈر تھے جس میں محمد سرور ، ہارون احمد ،حسن ناصر ،عابد منٹو۔ صبحان نقوی اور اس کے علاوہ بہت سے نام تھے جنہوں نے کچھ ہی عرصہ میں اپنی آئیڈیالوجی اور پروگریسو خیالات کی وجہ سے سرخ ہے ایشیاء سرخ کا نعرہ گلی گلی پہنچادیا جو اس وقت کے آمر جنرل ایوب خان سے برداشت نہ ہو سکا اور ڈی ایس ایف پہ پابندی عائد ہوگئی جس کے بعد این ایس ایف وجود میں آئی ۔

بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد ضیائی دور میں جنرل ضیاء الحق نے سٹوڈنٹ یونیز کی الیکشن سرگرمیوں کو معطل کر دیا ضیا ء الحق کے دور سے پہلے طلبہ یونیزبڑا مثبت کردار ادا کر رہی تھیں مگر ضیاء الحق کے دور میں جہاد کی مارکیٹنگ اتنی ہوئی ۔ اسلامی جمعیت نے طلبہ یونیز میں مارکٹائی قتل و غارت گردی کے کلچر کو فروغ دیا کیونکہ وہ ایسا دور تھا جس میں سوچنے سمجھنے والوں کو پابند سلا کیا جا رہا تھا اور صرف کلاشنکوف کلچر فروغ پا رہا تھا پھر کیا تعلیمی اور ادارے اور قلم تو کیا سیاست سب میں کلاشنکوف کلچر نے جگہ بنا لی آہستہ آہستہ وہ سیاسی تربیت گاہیں بند ہو گئیں ملک سے سیاسی کلچر کی جڑیں کمزور پڑنے لگیں۔

ضیاء الحق کے گیارہ سالہ سیاہ طویل دور نے سارے معاشرے کو ایک سمت دی جس میں مذہب کے بیوپاری اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے دہشت گردی کا فتنہ جڑ پکڑ تاگیا ۔پھر یہ وبا اتنی پھیلی کہ بعد میں آنے والی سیاسی حکومتیں بھی اسے کمزور نہ کر سکیں ۔اس سارے گھٹن زدہ ماحول نے سارے سماج کو مفلوج کر دیا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہت کم لوگوں میں رہ گئی۔

مشرف کے سیاہ دور میں عدلیہ بحالی تحریک چلی جس نے پھر لوگوں میں ایک سیاسی چنگاری کو ہوا دی مگر اس کے بعد پھر کسی سیاسی جماعت نے یہ کوشش نہیں کی آج کے نوجوانوں کو غیر سیاسی ہونے سے کیسے بچایا جائے اسے کیسے یہ بتایا جائے سیاسی شعور رکھنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔ سیاست دان کو گالی اور سیاسی کلچر سے نفرت سماج کو تباہ کر دیتی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا آج کے نوجوانوں کو کیسے پھر مکالمے کی طرف لایا جائے اس کو کتاب سے جوڑا جائے دنیا بھر میں طلبہ یونیز موجودہیں۔یہاں تک کہ انڈیا میں طلبہ یونیز موجود ہیں ۔پاکستان میں طلبہ یونیز کو دوبارہ مضبوط کر نے کی ضرورت ہے۔ 

One Comment

  1. zulfiqar rajpar says:

    its a truth..but democratic rulers also ignored it

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *