بے نظیربھٹو کے قتل کا سراغ

روشن لعل

بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کا فیصلہ آ نے کے بعد اپیلیں بھی دائر ہونے کو ہیں۔ اب تک کی عدالتی کاروئی کے مطابق ،لاوارث مقدمات کے ساتھ جو کچھ ممکن ہو سکتا ہے وہی کچھ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے ساتھ ہوا۔مقدمے کے فیصلے میں کہا گیا کہ کیس ابھی بند نہیں ہوا کیونکہ ملزم پرویز مشرف مفرور اور ملک سے باہر ہیں ۔لہذا ان صاحب کی یہاں قدم رنجہ فرمائی تک یہ کیس زیر التوا سمجھا جائے۔

جو مفرور ملزم لاوارث مقدمہ کی مقتولہ کے قتل کے وقت ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہو، تمام معاہدے، وعدے توڑ کر اور آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اعلیٰ ترین عدلیہ کے ججوں کو یک جنبش قلم گھر بھیج سکتا ہو،انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی اسمبلی کو توڑنے کی دھمکی دے سکتا ہو، ملک سے محفوظ رخصتی کی شرط پر مستعفی ہونے کی طاقت رکھتا ہو، غداری کے مقدمے کا مرکزی ملزم ہونے کے باوجود اپنی مرضی سے وطن واپس آسکتا ہو، عدالت جاتے ہوئے راستہ تبدیل کر کے ہسپتال پہنچ سکتا ہو اور پھر اپنی سہولت کے مطابق کمر درد کا بہانہ بنا کر بیرون ملک جا سکتا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا شخص جب حکمران ہو تو پھر چاہے مقتولہ بے نظیر ہی کیوں نہ ہو قتل کے مقدمہ کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ اسے کھولا جارہا ہے یا بند کیا جارہاہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے فوراً بعد جو کچھ ہوا اور جس طرح کی افواہیں پھیلائی گئیں اگر ان پر سر سری سا غور کر لیا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہیکہ اس دور کے حاکمان وقت نے بے نظیر بھٹو کے قتل کا کیس کھولا تھا یا بند کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ مگر ٹھہریں۔۔۔۔۔کسی بھی قسم کے غور وفکر کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔یہ مشق ناتواں ذہنوں پر گراں گذر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔لہذاکسی بھی فکری مشقت کی بجائے سوئے ہوئے ذہنوں کو بدستور اسی حالت میں رہنے دیا جائے۔۔۔۔۔ بند ذہنوں کو مزید مقفل کر کے صرف کان کھلے رکھے جائیں ۔۔۔۔۔ کان بھی صرف ان لوگوں کی باتیں سننے کے لیے کھلے ہوں جنہوں نے بے نظیر کی زندگی میں تو ان کے لیے کبھی کلمہ خیر نہ کہا ہو مگر ان کے قتل کے بعد بلاول ، بختاور اور آصفہ سے بھی زیادہ ان کے خیر خواہ بن گئے ہوں۔۔۔۔۔۔ اس طرح کے لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو مدون کیا جائے۔۔۔۔۔

یوں ایسے ہوگا کہبے نظیر بھٹو کے قتل کیس کی گتھی اپنے آپ سلجھتی جائے گی اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ رحمٰن ملک قطعی نابکار انسان ہے، جس نے بے نظیر بھٹو کی سیکیورٹی کی ذمہ داری تو قبول کی مگر ان کی جان کی حفاظت نہ کر سکا۔۔۔۔۔اس موقع پر یہ ہر گز نہ سوچیں کہبے نظیر کے قتل کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے جو دہشت گرد جی ایچ کیو جیسے مقام کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا سکتے ہوں ان کا مقابلہ تن تنہا رحمٰن ملک کیسے کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور اس طرف دھیان دینے کی تو قطعاً ضرورت نہیں کہ بے نظیر کی سیکیورٹی کے لیے رحمٰن ملک نے سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف، چوہدری شجاعت حسین اور شوکت عزیز کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کو کتنے خط لکھے اور ان خطوط میں کیا کچھ لکھا ۔۔۔۔۔۔اور یہ سوچنا توہر صورت وقت کا اتلاف ہو گا کہ کبھی پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کو یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئیں تو وہ ان کی سیکیورٹی کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ 

یوں غور وفکر کو مورکھ پن سمجھتے ہوئے صرف یہ بات مضبوط گرہ کے ساتھ پلو سے باندھ لی جائے کہ جب مشتبہ رحمٰن ملک سابق صدر کا قریبی اور معتمد ساتھی ہے تو پھر کیوں نہ شک کا دائرہ آصف علی زرداری تک وسیع کر دیا جائے۔۔۔۔ جب شک کا دائرہ اسقدر وسعت اختیار کر جائے تو پیچھے مڑ کر یہ دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ بے نظیر کے قتل کی شاطرانہ ، پیچیدہ اور گہری سازش کا شبہ اس رحمٰن ملک پر ظاہر کیا جارہا ہے جسے کچھ دیر پہلے نابکاروں میں شمار کیا گیا تھا۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد پہلے سے نکتہ چینی کی زد میں موجود پیپلز پارٹی پر ایسی حرف گیر ی کریں کہ اس کی قیادت کی نیندیں حرام ہو جائیں ۔

جن لوگوں کی ذہنی کیفیت اور سمت اوپر بیان کی جاچکی ہے کہ ان کے متعلق کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یہ غور کیا ہوگا کہ جب بے نظیر بھٹو قتل کیس میں پرویز مشرف کو مفرور قراردے کر ان کی جائیداد کی ضبطی کا حکم صادر کیا گیا تو عین اسی موقع پر ہی پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کیوں کہا کہ امریکی سی آئی اے کے فراہم کردہ ناقابل تردید ثبوتوں کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے سری لنکن فرنٹ مین کے ذریعے ایٹمی ٹیکنالوجی پاکستان سے ایران، لیبیااور شمالی کوریا کو فراہم کی تھی۔ مشرف کے اس بیان کو محض اتفاق قرار دے نظر انداز نہ کیا جائے تو اسے ملک و قوم کے لیے بھبکی بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے 2007 میں طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان واپسی سے قبل بے نظیر بھٹو نے پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی بیرون ملک سمگلنگ کے ضمن میں یہ صاف اور سیدھا بیان دیا تھاکہ وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے احمد ا لبرادی کو ڈاکٹر قدیر تک رسائی کی اجازت دیں گی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ وہ تن تنہا ایٹمی راز او ر ٹنوں وزنی ایٹمی آلات کیسے بیرون ملک اسمگلنگ کرتے رہے ۔جب ڈاکٹر قدیر نے ٹی وی پر یہ اقرار کیا کہ وہ ایٹمی راز اور ایٹمی آلات کی اسمگلنگ کرتے رہے ہیں تو اس وقت نہ صرف بیرونی دنیا بلکہ پوری قوم بھی حیرت میں مبتلا ہوئی کہ ڈاکٹر قدیر تن تنہا یہ فعل کیسے کرتے رہے ۔

بے نظیر اگر اپنے کیے پر عمل کر لیتی تو ایٹمی ٹیکنالوجی کی سمگلنگ جیسے عمل کے بعد پاکستان کی ہو چکی بدنامی کا اسقاط توممکن نہ ہو پاتامگر جن لوگوں نے ملک کی سلامتی داؤ پر لگا کر اس فعل سے ذاتی طور پر مال بنایا وہ ضرور منظر عام پر آجاتے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر قدیر نے مشرف کے موجودہ بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تواپنے آپ کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ لوگ منظر عام پر آسکیں جو ایٹمی ٹیکنالوجی کی سمگلنگ کے اصل مجرم تھے مگر پرویز مشرف نے انہیں خاموش رہنے اور تمام تر ذمہ داری قبول کرنے کی درخواست کی جسے انہوں نے ملکی مفاد کی خاطر قبول کیا۔

جو لوگ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کے ممکنہ ملزموں کی طرف شک کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں کرنے دیتے وہ آجکل رحمٰن ملک کو تو تختہ مشق بنا ئے ہوئے ہیں مگر پرویز مشرف کے بیانات اور دیگر محرکات کو مکمل فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ جو لوگ بے نظیر کے قتل کا سراغ اس پراپیگنڈہ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی موت کا ذمہ دار وہ ہو سکتا ہے جس کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا تو وہ یاد رکھیں کہ بے نظیر کے قتل کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوا جوپاکستان کے وجود اور بقا کو داؤ پر لگا کر یہاں سے ایٹمی ٹیکنالوجی بیرون ملک سمگل کرنے کے باوجود ابھی تک محفوظ بیٹھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *