عالم اسلام کا مقدس ترین شہر کہاں ہے؟

سائرس ادریس


مسلمانوں کے نزدیک دنیا کا مقدس ترین شہر مکّہ ہے اور اس میں موجود کعبہ دنیا کی اولین عبادت گاہ جسے الله کے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ ان کے  بعد جتنے بھی نبی آئے وہ سب الله کے گھر یعنی کعبہ کی زیارت اور طواف کے لئے آتے رہے۔ کعبہ کی زیارت اور طواف کو حج کہتے ہے اور یہ دین اسلام کا پانچواں لیکن اہم ستون ہے۔ ہرعاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار حج کا فریضہ ادا کرے۔

اکثر لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی حج پر خرچ کر دیتے ہیں۔ مکّہ آمد سے پہلے وہ صرف دو سفید چادروں پر مشتمل ایک لباس پہنتے ہیں جسے احرام کہتے ہیں۔ حج کی رسومات میں مزدلفہ، منی، اور میدان عرفات میں قیام، شیطان پر سنگ باری، جانوروں کی قربانی، سر کے بال مونڈنا، خانہ کعبہ کا سات بار طواف، اور صفا اور مروا کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑ شامل ہیں۔ عموما”  پانچ دن میں حج کی رسومات مکمل ہو جاتی ہیں۔ حج کرنے کے بعد یہ لوگ خود کو حاجی یا الحاج کہلوانا پسند کرتے ہیں کیونکہ اسلامی معاشرے میں حاجی کی بہت عزت ہوتی ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ جنّت سے نکالے جانے کے بعد آدم علیہ السلام ہندوستان کے سب سے اونچے پہاڑ پر اترے تھے۔ اسی دوران جبرائیل علیہ السلام الله کے گھر یعنی خانہ کعبہ کو جنّت سے اٹھا کر مکّہ لے آئے۔ پھر آدم کو حکم ہوا کہ وہ مکّہ جا کر الله کے گھر کا طواف کریں اور وہیں آباد ہو جائیں۔ شائد اسی وجہ سے مکّہ کو شہروں کی ماں کہتے ہیں۔ سیلاب نوح آیا تو جبرائیل علیہ السلام خانہ کعبہ کواٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ سیلاب کا پانی گزر گیا تو وہ خانہ کعبہ کو دوبارہ مکّہ میں چھوڑ گئے۔

اب قرآن مجید کی چند آیات ملاخطہ کریں جن میں مقدس شہر اور اس میں موجود الله کے گھر کا ذکر ہے۔

 اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دو۔ (٢:١٢٥)۔

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز۔ (٢:١٢٦)۔

اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ (٢:١٢٧)۔

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے۔ (٣:٩٦)۔

(خیال رہے قرآن کی آیت میں لفظ بکہ ہے ۔ یہ پترا کے قریب ایک وادی کا نام ہے۔ بائبل میں بھی اس کا ذکر ہے۔)

اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ (٣:٩٧)۔

 اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی زبان میں قرآن کی وحی کی تاکہ آپ مکّہ والوں کو اور اُن لوگوں کو جو اِس کے اِردگرد رہتے ہیں ڈر سنا سکیں، اور آپ جمع ہونے کے اُس دن کا خوف دلائیں جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ (اُس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور دوسرا گروہ دوزخ میں ہوگا۔ (٤٢:٧)۔

(قرآن کی اس آیت میں لفظ مکّہ نہیں، ام القری استعمال ہوا ہے اور اس کا مطلب ہے شہروں یا بستیوں کی ماں۔ سید مودودی نے اس کا ترجمہ بستیوں کا مرکزکیا ہے اور بریکٹ میں مکّہلکھ دیا ہے۔)۔

اور وہی ہے جس نے مکّہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دئیے ، حالانکہ وہ ان پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا۔ (٤٨:٢٤)۔

ان آیات سے ظاہر ہے کہ وہ مقدس شہر جہاں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا بہت ہی قدیم شہر ہے۔ نیز احادیث کی کتابوں میں بھی اس شہر کی کچھ خصوصیات موجود ہیں۔ اگر یہ مقدس ترین شہر آج کا مکّہ ہے تو اس میں قرآن و حدیث کی بیان کردہ خصوصیات ضرور موجود ہوں گی۔

جن حضرات نے قرآن اور حدیث کی کتابوں میں مکّہ شہر کا احوال پڑھ رکھا ہے انھیں مکّہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہے۔ کیوں؟ اس شہر میں  قرآن اور حدیث میں بیان کردہ ایک بھی خصوصیت ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ قرآن اسے شہروں کی ماں یعنی قدیم شہر کہتا ہے۔ نیز یہ شہر ایک وادی میں ہے جس کے نزدیک ایک اور وادی ہے۔ ابن اسحاق، طبری، اور حدیث کے اماموں نے شہر کے نزدیک پہاڑوں، وادی میں سبزہ، چکنی مٹی، زرخیز زمین، کعبہ کے نزدیک وادی میں ندی کی موجودگی، حوضوں، درختوں، پھلوں، شہر کے ایک حصے کا بلند اور دوسرے حصے کا نشیب میں ہونا اور دونوں اطراف سے سڑکوں کا شہر میں داخل ہونا، اور شہر کا تجارتی گزرگاہ کے راستے میں ہونا بیان کیا ہے۔

اگر ہم تاریخ، جغرافیہ، اور آرکیالوجی کے علوم کی مدد لیں تب بھی ہم مکّہ کو قدیم ترین شہر ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔ زمانہ قبل مسیح میں عرب کا سفر کرنے والے کسی بھی تاریخ دان یا جغرافیہ دان نے اپنی کتابوں میں مکّہ شہر کا ذکر نہیں کیا۔ پانچویں صدی قبل مسیح کا ایک یونانی مورخ ہیروڈوٹس اپنی کتاب تاریخ میں ایک نئے عرب علاقے کا ذکر کرتا ہے جہاں لوبان، دارچینی، بخور، اور افیون کاشت ہوتی ہے۔ وہ بہت سے شہروں کا بھی ذکر کرتا ہے لیکن مکّہ کا نہیں۔

ہیروڈوٹس کے کوئی سو سال بعد ایک اور یونانی سائنسدان اور تاریخ دان تھوفراسٹس نے یمن اور عرب کے علاقوں کی سیاحت کی۔ اس کے سفر نامے میں بہت سے شہروں اور قصبوں کا ذکر ہے لیکن مکّہ کا کوئی ذکر نہیں۔ یونانی دانشور، شاعر، اور موجد ایراتوتھینس نے بھی عرب معاشروں اور ان کی بستیوں کے بارے میں لکھا لیکن مکّہ کا ذکر نہیں کیا۔

جس علاقے میں آج مکّہ ہے اس علاقے کو وہ بے آباد بتاتا ہے۔ چھٹویں صدی قابل مسیح کے بابل کے بادشاہ نبوندس نے عرب علاقوں کو فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔  اس نے اپنے سفرناموں اور فتوحات کو ایک نظم کی صورت میں لکھا ہے۔ اس نے حجاز کے کئی  شہروں مثلاتیما، مدینہ، اور خیبر کا ذکر کیا ہے لیکن مکّہ کا بھول کر بھی نام نہیں لیا۔

شاہ روم بادشاہ آگسٹس کے حکم پر مصر کا رومی منتظم ایلوس گالس عربیہ فیلکس (خوشحال یا زرخیز عربیہ) کو فتح کرنے کے لئے نکلا۔ اس نے رہنمائی کے لئے ایک عرب کو ساتھ لیا لیکن وہ دھوکے باز نکلا۔ صحرا کی سخت گرمی، مضر صحت پانی، اور ناقص خوراک کی وجہ سے اس کی آدھی فوج بیمار ہو کر مر گئی۔ نہ صرف یہ مہم ناکام رہی بلکہ عربوں نے رومیوں کے زیر قبضہ علاقے بھی چھین لئے۔ ایلوس گالس نے اپنی اس ناکام مہم کا جو حال احوال لکھا ہے اس میں عربوں کے دوسرے شہروں کا تو ذکر ہے لیکن مکّہ کا نہیں۔

یونانی تاریخ دان ڈیوڈورس نے اپنے عرب کے سفرنامے میں ایک مقدس عبادت گاہ کا ذکر کیا ہے۔ لیکن اس نے علاقے کی جو خوصیات بیان کی ہیں وہ مکّہ پر فٹ نہیں آتیں۔ 

سکندر اعظم نے بھی حملے سے پہلے عرب علاقوں کے حالات جاننے کے لئے جو جاسوس بھیجے انہوں بھی اپنی رپورٹوں میں مکّہ شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

زمانہ قبل مسیح کے سکندریہ کے مشہور جغرافیہ دان ٹالمی کے نقشوں میں عرب کے ١١٤ شہر اور قصبے موجود ہیں  لیکن مکّہ غائب۔

اب ہم آرکیالوجی کی طرف آتے ہیں۔ عرب ماہرین آثار قدیمہ اعتراف کرتے ہیں کہ انھیں مکّہ میں قدیم عمارتوں کے کوئی آثار نہیں ملے۔ نیز گزشتہ صدی تک مکّہ کی آبادی برائے نام تھی۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زمین بنجر تھی اور بارش بہت ہی کم۔

 اگر قرآن و حدیث میں بیان کردہ مقدس ترین اور قدیم ترین شہر مکّہ نہیں ہے تو یہ شہر کونسا ہے اور کہاں ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں قرآن و حدیث، تاریخ، جغرافیہ، اور آثار قدیمہ سے مدد لینا ہو گی۔ قرآن و حدیث میں اسلام کے مقدس ترین شہر کی جو تفصیلات دی گئی ہیں وہ صرف ایک شہر پر فٹ آتی ہیں اور وہ ہے پترا۔ یہ قدیم شہر اردن میں ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پترا تجارتی گزرگاہ پر واقع تھا۔ تجارت کی بدولت یہاں کے عرب بہت دولت مند اور خوشحال تھے۔ نیز یہ شہر ایک وادی میں ہے جس کے قریب ایک اور وادی ہے۔

یہاں پہاڑ، سبزہ، درخت، حوض، ندی، اور عبادت گاہوں کے آثار بھی موجود ہیں۔ زلزلوں اور عربوں کی آپس کی خانہ جنگی نے اس شہر کو برباد کر دیا۔ امیر عرب روم چلے گئے اور انہوں نے رومی اور یونانی نام اختیار کر لئے۔ باقی عرب دوسرے شہروں میں جا بسے۔

اب ہم کچھ تاریخی واقعات اور جغرافیہ اور آرکیالوجی سے شہادتیں پیش کرتے ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ دور نبوی کے قریش پترا میں آباد تھے اور خانہ کعبہ بھی پترا ہی میں تھا۔ خیال رہے پترا مدینہ کے شمال میں ہے اور مکّہ جنوب میں۔

قریش اور اہل مدینہ کی تمام جنگیں مدینہ کے شمال میں ہوئیں۔ جنگ خندق کے موقع پر جو خندق کھودی گئی وہ بھی مدینہ کے شمال میں تھی۔ اگر قریش مکّہ سے آتے تو یہ جنگیں مدینہ کے جنوب میں لڑی جاتیں۔ نیز اہل قریش کا لشکر ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل تھا۔ مکّہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ بنجر اور بے آباد تھا۔ وہاں سے چند سو کا لشکر بھی تیار نہیں ہو سکتا تھا۔

تاریخ طبری کے مطابق ساتویں ہجری سال میں خیبر فتح ہو گیا تو حجاج اپنی بیوی اور بچوں سے ملنے مکّہچلا گیا۔ وہاں لوگوں نے اس سے جنگ خیبر کے بارے میں پوچھا تو اس نے جھوٹ بول دیا کہ مسلمانوں کو شکست ہوئی ہے اور محمّد صلی علیہ علیہ وسلم دشمنوں کی قید میں ہیں اور انہیں جلد ہی مکّہلایا جائے گا۔ خیبر اور پترا دونوں مدینہ کے شمال میں ہیں جبکہ مکّہ جنوب میں۔ صاف ظاہر ہے کہ طبری نے جس مکّہ کا ذکر کیا ہے وہ اصل میں پترا ہے۔ خیبر سے اصل خبر آنے سے پہلے حجاج پترا سے نکل گیا۔

طبری ہی کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی لشکر نے خیبر پر قبضہ کرنے کے بعد مدینہ کے شمال ہی میں بہت سے اور علاقے فتح کئے اور شام میں گھس کر رومیوں سے بھی لڑے۔ موتہ کی اس جنگ میں نہ تو مسلمانوں فتحیاب ہوئے اور نہ ہی رومی۔ پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ اسلامی لشکر موتہ سے مکّہکی طرف چل پڑا۔

موجودہ مکّہ موتہ سے کوئی ایک ہزار میل دور ہے جبکہ پترا بالکل قریب۔  نیز فتح مکّہ کے فورابعد اسلامی لشکر کی ہوازن کے قبیلوں سے جنگ ہوئی۔ ہوازن مدینہ کے شمال میں خیبر اور پترا کے درمیان واقع ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی لشکر صحرا کی سخت گرمی میں موتہ سے ہزار میل دور مکّہ جائے اور فتح کے بعد اسی دشوار راستے سے واپس ہوازن پہنچ جائے؟ مکّہ کو پترا سمجھ لیں تو کوئی الجھن نہیں رہتی۔ موتہ سے اسلامی لشکر پترا پر حملہ اور ہوا اور وہاں سے فارغ ہو کر ہوازن قبیلوں پر چرھائی کر دی۔

طبری نے اپنی تاریخ میں خالد بن ولید کے حج یا عمرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسلامی لشکر شام کے شہر الفراد سے عراق کے شہر الحرہ کی طرف مارچ کر رہا تھا۔ خالد بن ولید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ لشکر کو چھوڑ کر حج یا عمرے کے لئے مکّہچلے گئے۔ حج یا عمرے کی رسومات ادا کرکے وہ الحرہ میں لشکر سےآ ملے۔ اب نقشے پر ایک نظر ڈالیں۔ شام سے پترا صرف ٢٩٥ میل دور ہے جبکہ مکّہ ٩٣٢۔ نیز مکّہ کا سفر کرنے کی صورت میں انھیں مدینہ کے پاس سے گزرنا پڑتا۔ صاف ظاہر ہے کہ خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں نے حج یا عمرہ پترا میں کیا۔

تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے جب ابن زبیر نے مکّہمیں اپنی خلافت کا اعلان کیا تو اموی افواج نے مکّہ کا محاصرہ کر لیا۔ مکّہ ایک کھلی جگہ پر ہے اور اندر جانے اور باہر نکلنے کے بیشمار راستے۔ لہذا مکّہ کا محاصرہ ممکن نہیں۔ پترا چونکہ وادی میں ہے وہاں اندر جانے اور باہر نکلنے کے دو ہی راستے ہیں۔ نیز روایات موجود ہیں کہ جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم مکّہمیں داخل ہوتے تھے تو ایک راستہ اختیار کرتے تھے اور باہر جاتے وقت دوسرا۔ نیز حجاج بن یوسف نے منجیق سے خانہ کعبہ پر پتھر برسائے۔ منجیق سے برسائے گئے یہ پتھر آج بھی پترا میں موجود ہیں۔ مکّہ میں منجیق کا ایک بھی پتھر نہیں۔

دور نبوی اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے سو سال بعد تک جتنی مسجدیں تعمیر ہوئیں ان کا رخ نہ تو یروشلم یعنی بیت المقدس کی طرف تھا اور نہ ہی موجودہ مکّہ کی طرف۔ ان کا رخ پترا کی طرف تھا۔

حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کا زمانہ ٢٠٠٠ سال قبل مسیح کا ہے۔ اس وقت نہ تو مکّہ کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی یروشلم یا بیت المقدس کا۔ یروشلم کی بنیاد ١٠٠٠ قبل مسیح میں رکھی گئی جب کئی عرب اور اسرائیلی قبیلے یمن اور جنوبی عرب سے ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہونا شروع ہوئے۔ لہذا ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کبھی مکّہ نہیں آئے۔ جب وہ مکّہ آئے ہی نہیں تو وہاں خانہ کعبہ کیسے تعمیر کر سکتے تھے؟

جب ابو مسلم خراسانی امویوں کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہا تھا تو اسے رسول پاک کے خاندان سے کسی فرد کی تلاش ہوئی جو اس بغاوت کی قیادت کر سکے۔ بالاخر اسے پترا کے نزدیک ایک گاؤں میں ابو العباس السفاح مل گئے جو کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے چچا عباس کی اولاد سے تھے۔ عباس خاندان کے آبائی مکانات کے آثار آج بھی پترا کے نزدیک موجود ہیں۔

قرآن کے قدیم نسخوں میں تبدیلی قبلہ کی آیات موجود نہیں بلکہ بعض میں تو پوری سورہ البقرہ غائب ہے۔ قرآن کے یہ پرانے نسخے یمن کی مسجدوں سے برآمد ہوئے ہیں۔

کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ جب شامیوں اور ابن زبیر کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی میں پترا میں موجود اصلی خانہ کعبہ تباہ ہو گیا تو ابن زبیر نے مکّہ میں نیا کعبہ تعمیر کر دیا۔ غالب امکان یہ ہے کہ مکّہ اور وہاں خانہ کعبہ کی تعمیر عباسی خلیفہ مامون کے دور میں ہوئی۔ انہوں نے مکّہ میں پانی لانے کے لئے نہر زبیدہ کھود دی اور جب مکّہ کی بے آب و گیاہ زمین میں پانی آ گیا تو اسے آب زمزم کا نام دے دیا۔ صفا اور مروا کے ٹیلے بنا دئیے۔ مکّہ کے قریب طائف کی بستی میں بنا دی اور بنو ہوازن اور بنو سقیف کو وہاں آباد کر دیا۔ غرض عباسیوں نے موجودہ مکّہ اور کعبہ کو اصلی ثابت کرنے کے لئے اسلامی تاریخ حتیٰ کہ قرآن کی آیات تک بدل دیں۔ نیزانہوں نے پترا میں کعبہ کے تمام نشانات مٹا دئیے بلکہ پترا کو تاریخ کی کتابوں سے ہی خارج کر دیا۔

کچھ عرب قبیلوں کو عباسیوں کی یہ جعل سازی پسند نہیں آئ اور انہوں نے طاہر قرامطی کی قیادت میں مکّہ پر چڑھائی کر دی، حاجیوں کو قتل کر دیا اور زمزم کے کنویں کو ان کی لاشوں سے پاٹ دیا، کعبہ کو مسمار کر دیا، اور حجر اسود کو اکھاڑ کر ساتھ لے گئے۔ حجر اسود ٢٣ سال تک قرامطیوں کے قبضے میں رہا اور اس دوران مکّہ میں حج نہ ہو سکا۔ عباسی خلیفہ نے بھاری تاوان ادا کرکے حجر اسود کو واپس لیا۔ لیکن واپسی سے پہلے قرامطیوں نے حجر اسود کے ایک درجن ٹکڑے کر دئیے۔

12 Comments

  1. interesting…can you please refer any book / articles for further details? thanks

  2. Very interesting history of Ka’aaba sacred mosque of Muslims’s pilgrimage where every year on 9th of Zulhaj, the eleventh month of Islamic loner year, million of Muslims from all over the world come here for pilgrimage and celebrate Islamic ritual, the fifth RUKAN of Islam.

  3. At present I would recommend the following books.
    1. Quranic Geography by Dan Gibson
    2. Meccan Trade & The Rise of Islam by Patricia Crone
    3. Hagarism: Making of The Islamic World
    by P Crone & Michael Cook

  4. Also read the following for historical and scientific evidence
    https://www.mukaalma.com/8021
    https://www.mukaalma.com/7749
    Ka’bah As A Place Of Worship In The History
    http://www.islamic-awareness.org/History/kaaba.html
    The Qibla Of ly Mosques://www.islamic-awareness.org/History/Islam/Dome_Of_The_Rock/qibla.html

  5. This is stupid. Our Holy Prophet Peace Be Upon HIM has performed HAJJ in MAKKAH. Only Stupids and Idiots can believe this false story.

  6. so funny . شرم تم کو مگر نہین آتی . آپ نے کہا اور ھم نے مان لیا دن دن نہین رات ھے جب سورج نکلتا ہے تو دراصل وہ ھر طرف اندھیرا پھیلا رہا ھوتا ھے جسے ناسمجھ لوگ روشنی سمجھ بیٹھتے ھین .ایسا ہی ھےنا؟

  7. March 7, 2014 at 4:28am

    NASA says about Kaaba ->

    Kaaba, God’s house a million miss visiting the Muslim Ummah and a guest – guest of God the supreme creator. Kiblatnya (direction) to perform their prayers in the Muslim ummah, from any country all worship pray facing this direction.

    Glossary Kaaba is the language of al Quran of the word “ka’bu” which means “ankle” or place of leg spin move for move. Al-Quran verses 5/6dalam define the term dg “Ka’bain” which means “two eyes legs’ and Paragraph 5/95-96 contain the term ‘temple’ which means a real “eye of the earth” or “the axis of the earth” or the north pole of the earth rotation.

    Neil Armstrong has proven that the city of Mecca is the center of the planet Earth. This fact has been examined through a scientific study.

    When Neil Armstrong for the first time to travel into space and take pictures of the planet Earth, he said, “Planet Earth was hanging in a very dark area, who hung it?.”

    The astronauts have discovered that the planet Earth, it issued a kind of radiation, they officially announce it on the Internet, but unfortunately it 21 days later the website there seems to be missing a hidden reason behind the elimination of the website.

    After doing further research, it turns out radiation was centered in the city of Mecca, precisely derived from the Kaaba. What is surprising is that radiation is infinite (not endless ), This is proven when they take pictures of Mars, the radiation is still ongoing.

    Muslim Researchers believe that this radiation has the characteristics and connections between the Kaaba on the planet Earth with the Kaaba in the netherworld.

    MECCA CENTER OF THE EARTH :
    Prof. Hussain Kamel discovered a surprising fact that Mecca is the center of the earth. At first he was researching a way to determine the direction of Qibla in the big cities in the world.

    For this purpose, he drew lines on maps, and after that he studied carefully the position of the seven continents of Makkah and distance respectively. He began to draw parallel lines just to facilitate the projection of longitude and latitude.

    After two years of hard work and heavy, he was aided by computer programs to determine the correct distances and different variations, as well as many other things. He was impressed with what was found, that Mecca is the center of the earth.

    He realized the possibility of drawing a circle with Mecca as its center point, and the line outside the circle that is continent-benuanya. And at the same time, he moves along with the outer circumference of the continent-continent. (Al-Arabiyyah Magazine, issue 237, August 1978).

    Satellite Pictures, which appeared later in the 90’s, emphasized the same results when the studies further lead to the layers of Earth’s topography and geography of the land when it was created.

    Has become an established scientific theory that the earth plates are formed during the long geological ages, moving regularly around the Arabian plate. These plates constantly converge towards it as if pointing to Mecca.

    Scientific studies was carried out for different purposes, not meant to prove that Mecca is the center of the earth. However, the study published in many scientific magazines in the West.

    ALLAH SAYS IN THE QUR’AN AL-KARIM AS FOLLOWS :

    ‘Thus We have revealed to the Holy Qur’an in Arabic that ye may give warning to the Umm Al-Qura (Mecca residents) and population (countries) around it .. ‘ (Ash-Shura: 7)

    The word ‘Umm Al-Qura’ means the host for other cities, and towns around it shows Makkah is the center for other cities, and the other is just being around him. More than that, said Umm (mother) has significance in Islamic culture.

    As a mother is the source of the seed, then Mecca is also the source of all other lands, as described at the beginning of this study. In addition, the word ‘mother’ gave Makkah superiority over all other cities.

    MECCA OR GREENWICH

    Based on careful considerations that Mecca was the center of the earth as is corroborated by studies and geological images produced satellites, it truly believed that the Holy City of Mecca, not Greenwich, should be a reference world time. This will end the long controversy that began four decades ago.

    There are many arguments scientifically to prove that Mecca is a square zero region through the holy city, and he was not through Greenwich in England. GMT imposed on the world when the majority of the country in the world under the British colony. If the Mecca that is applied, it is easy for everyone to find time to pray.

    MAKKAH IS THE CENTER OF THE LAYERS OF HEAVEN
    There are a few verses and Hadith Nabawi that imply this fact. Allah says, ‘Hi class of jinn and men, if you are able to penetrate the (crossing) over the heavens and the earth, then lintasilah, you can not penetrate it but with strength. ” (Ar-Rahman: 33)

    Aqthar word is the plural of the word ‘qutr’ which means the diameter, and he refers to the heavens and the earth that have a lot of the diameter.

    From this verse and of some hadith can be understood that the diameter of the layers of the sky above the earth’s diameter (seven plates of the earth). If Mecca was in the midst of the earth, then it means that Mecca is also located in the middle layers of the sky.

    In addition there are hadith which says that the Grand Mosque in Mecca, where the Kaaba is that there is in the midst of the seven heavens and seven layers earth (meaning seven layers forming the earth).
    The Prophet said, ‘O people of Mecca, O people of Quraish, in fact you are under the middle of the sky.

    Detailed Video Link :: https://www.facebook.com/razialiakbar/videos/254834511363509/

  8. Verily, the first House among all marked for the worship o, the people is that which is in Mecca abounding inblessing and a guide of all world. Therein are clear signs; the place where Ibraham stood and whosoever enters it, is in security. And for thesake of Allah, the people is to perform pilgrimage to this House, who could find a way thither. And who denies,then Allah is independent of entire world. [ Surah Al-i’Imran ] And when We informed Abraham the right place of the House, ordained, associate anything with Me, and keepMy House clean for persons making round of it and those who bow and prostrate.And proclaim among people the pilgrimage. They will come to you on foot and on every lean camel comingfrom every distant track.’That they may pet their own benefits of it and may mention the name of Allah during the known days over themute quadrupeds that He has provided for them. So eat yourself there-of and feed the distressed needy. ..Then let them cleanse their dirt, fulfil their vows, and make round of the free House…[Surah Al-Hajj]
    And recall! When We made this house a place of assembly for the people and a place of safety, and make thestation of Ibrahim a place of prayer and We enjoined strictly upon Ibrahim and Ismail to purify well My housefor those who go around it and those who stay therein for devotion and those who bow down and prostrate…And when Ibrahim submitted “O my Lord make this City a region of peace and feed the inhabitants of it withvaried fruits to such of them who believe in Allah and the Last Day,’ said He, “and who became unbeliever, tohim also I will give a little to use, and then shall force him towards the torment of the hell and that is an evilplace of return. And when Ibrahim was raising the foundations of this house and Ismail (too) praying, O Our Lord accept fromus, undoubtedly, You alone Hear and Know’.,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,Those whom We gave the Book recognise this prophet as man recognises his sons and no doubt, a group ofthem conceal the truth knowingly.

  9. قرآن اس شہر مکہ کو ‘بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ’ کہتا ہے مگر تم جیسوں کو قرآن سے زیادہ اپنے متعصب یورپی مؤرخین پر ایمان ہے،کذب بیانی اور دھوکہ دہی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے

  10. Writer of this vicious piece is an evil-minded, malicious non-Muslim so-called secularist. He seems to be promulagting the agenda given to him by his masters, viz. to spread confusion and doubt among Muslin believers and deride all religious thought and beliefs.

    In the name of modernism and liberalism, they want all humanity to follow the path of worshipping one’s desires.

    Let me tell you. This experiment has been done by your masters in the West and miserably failed.

    Don’t drag us into this filth-filled ditch.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *