ڈونلڈ ٹرمپ کا ہیرو جنرل پرشنگ

طارق احمد مرزا

بارسلونا سپین میں ہونے والی حالیہ افسوسناک دہشت گردی کے رد عمل میں امریکی صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھریہ مشورہ دیا ہے کہ (مسلمان) دہشت گردوں سے نبٹنے کی ایک موٗثراور کامیاب طریق جنرل پرشنگ کی کامیاب حکمت عملی کو اپنانا ثابت ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پرشنگ کے انوکھے طریقہ کار کے نتیجے میں فلپائن میں جاری مسلم دہشت گردی ایسی ختم ہوئی کہ وہاں تیس برس تک امن قائم ہوگیا۔اس سے کچھ عرصہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ ہی کے مطابق یہ امن تیس نہیں بلکہ بیس برس تک قائم رہا تھا پتہ نہیں ان کی کون سی بات درست ہے۔

جنرل پرشنگ کا ذکرسن دوہزار ایک کے’’ نائن الیون اٹیک ‘‘ کے بعدسے امریکہ میں وقتاً فوقتاًہوتا چلایا ہے اور اکثر اوقات اس کا نام لئے بغیر ’’پَگ بلڈ بلٹ‘‘ یعنی سوٗر کے خون میں ڈبوئی ہوئی گولی،یا پِگ کفن یعنی سوٗر کی کھال سے بنے ہوئے کفن کی بات کرکے جنرل پرشنگ سے منسوب ایک بے بنیاد روایت دہرا کر مسلم دہشت گردوں کا علاج کرنے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔جنرل پرشنگ کون تھا اور اس سے منسوب ’’پِگ بلڈ بلٹ‘‘ یا ’’پگ کفن‘‘ کا یہ کیا قصہ ہے اس بارہ میں بعض حقائق مختصراً پیش ہیں ۔

جنرل پرشنگ المعروف ’’بلیک جیک‘‘ جنگ عظیم اول کے زمانہ کا ایک امریکی فوجی جرنیل اور کمانڈر تھا۔اس سے قبل 1899 میں امریکی فلپینو جنگ میں فلپائینی حریت پسندوں اور نو آبادیاتی تسلط سے نجات کی تحریک ٓزادی سے نبٹنے کا فریضہ بھی اسے سونپا گیا تھا۔ امریکی افواج کو اس جنگ میں سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا جنوب فلپائن میں آباد مسلمانوں کی طرف سے کرنا پڑا تھا جو پاکستان کے قبائیلی علاقہ جات کے باشندوں کی طرح کبھی بھی کسی بیرونی حملہ آور یا نوآبادیاتی قوت کے سامنے سرتسلیم خم کرنا نہیں جانتے تھے۔امریکہ سے قبل وہ اس علاقہ پر قابض ہسپانوی افواج کے دانت کھٹے کرتے رہے۔

آج تک اسی علاقہ کے مسلمانوں کی نئی نسل بھی اپنی مسلح اور گوریلا کارروائیوں کی وجہ سے موجودہ حکومت کے لئے بھی درد سر بنی ہوئی ہے۔بہرحال جنرل پرشنگ کے بارہ میں یہ بات مشہور ہے کہ اس نے وہاں کچھ مسلمان جنگجو گرفتار کرکے ایک قطار میں کھڑا کردئے اور پھر خنزیر کے خون میں گولیاں ڈبو کرسوائے ایک کے ، باقی سب کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔جس قیدی کو اس نے زندہ رہنے دیااسے کہا کے تم اب واپس اپنے لوگوں میں جاوٗ اور انہیں بتادو کہ دیکھو تمہارے ساتھی چونکہ سوٗر کے خون میں ڈبوئی گولیوں سے مارے گئے ہیں لہٰذہ اب وہ جنت کے اندر داخل نہیں ہو سکیں گے کیونکہ ان کے جسم میں حرام اورنجس داخل ہو چکا ہے۔اور تم میں سے جس جس کو بھی اس طرح سوٗر کے خون میں ڈبوئی گولی لگے گی اس کی عاقبت اسی طرح خراب ہوتی جائے گی۔

کچھ لوگوں نے زیب داستاں بڑھاتے ہوئے یہ بھی بیان کیا ہے کہ مارے جانے والے ’’مجاہدین‘‘ کوسوٗر کی کھال سے بنے کفن بھی پہنائے گئے اور انہیں قبر میں اوندھے منہ دفن کیا گیا تاکہ انہیں قبر میں سے خانہ کعبہ نظر نہ آسکے ،یہی نہیں بلکہ ان کی قبر میں ان کی نعشوں کے ساتھ مرے ہوئے سوٗر بھی ساتھ میں دفن کئے گئے تاکہ جنت کی حوریں جو بصورت دیگران ’’شہدا‘‘کی منتظر تھیں وہ ان سے سخت کراہت زدہ ہوجائیں اور ان کا خدا بھی انہیں اس قسم کا ’’اجر‘‘ تو کیا انہیں جنت کے گیٹ کے قریب بھی نہ پھٹکنے دے ۔

مبینہ طور پر جنرل پرشنگ کی یہ ترکیب نہایت کارگر ثابت ہوئی اور مسلمان جنگجو امریکی افواج کے خلاف اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو گئے،یہ سوچ کر کہ واقعی خنزیر کا گولی لگے گا تو جنت میں کیسے جائے گا اور حور کو کیسے گلے لگائے گا؟،کیسا !۔آج جناب ڈونلڈ ٹرمپ اکیسویں صدی کے جدید امریکہ کے جدید صدر کی حیثیت سے دنیا بھر میں جاری مذہب اسلام کے نام پر ہونے والی دہشتگردی کے قلع قمع کے لئے جنرل پرشنگ سے منسوب اسی تیر بہدف نسخہ کو استعمال کرنے کی تلقین کا اعادہ فرما رہے ہیں۔تاریخ یامذہبی اصول کی فلاسفی تو بہت دور کی بات ہے اس پلندۂ لغویات کا تو کامن سینس سے بھی کوئی علاقہ نظر نہیں آتا۔

کہا جاتا ہے کہ اصل میں امریکی افواج کو اگر اس علاقہ میں کوئی امن نصیب ہوا تھا تو وہ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوم کے تعاون اور مدد سے نصیب ہوا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر امریکہ کی درخواست پر فلپائنی (مورو،سولو) مسلمانوں کے سلطان کو ایک خط میں امریکی افواج کے خلاف محاذ جنگ کھولنے سے باز رہنے ا ور شورش پسندوں کا ساتھ نہ دینے کی نصیحت اور مشورہ دیا تھا۔افسوس کہ آج داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں پھر سے اس علاقہ کے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا کر عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔افغانستان،شام اور عراق کے ساتھ نام نہاد’’جہاد فلپائن‘‘بھی جاری ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں مقامی افراد موت کے گھاٹ اتر چکے اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

اخبارات کے مطابق فلپائین کے موجودہ صدر نے پیش کش کی ہے کہ وہ داعش کے دہشت گردوں کے خاتمہ کی شرط پر مقامی مسلمانوں کو خودمختار صوبہ بنا کر دینے کے لئے تیار ہیں ۔ان کے بیان کے ساتھ مورواسلامک لبریشن فرنٹ اور حکومت کے درمیان ایک عبوری سمجھوتے پر بھی دستخط ہوچکے ہیں۔یہاں یہ بیان کرنا بھی مناسب ہوگا کہ بعض محققین کے مطابق اس علاقہ کے مسلمانوں نے سپین کی طرف سے جاری کردہ ایک دستاویز کے غلط ترجمہ کی وجہ سے یہ سمجھ لیا تھا کہ سپین نے انہیں خودمختار آزادی عطا کردی ہے،چنانچہ جب سپینش امریکی معاہدہ کے مطابق اس علاقہ میں امریکی افواج داخل ہوئیں تویہ مسلمان قبائلی سمجھے کہ امریکہ نے ان کی آزادی،خودمختاری اور داخلی سلامتی پر حملہ کردیا ہے اور انہوں نے اپنے اس’’وطن‘‘ کے دفاع میں امریکیوں کے خلاف مسلح جدوجہدکا آغاز کردیا جس میں وہ خود کو منطقی طور پر حق بجانب سمجھتے تھے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہیرو جنرل پرشنگ سے منسوب ان قصوں کی،ٹیکساس یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے ایک ممتاز پروفیسر برین ایم لین نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندہ کو بتا یا کہ’’ اس قسم کے کسی بھی واقعہ کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں۔یہ محض ایک من گھڑت قصہ ہے اور (اتنا من گھڑت کہ) اس حقیقت کا باربار اعادہ کرنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ورنہ بتائیں کب اور کہاں اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا تھا؟‘‘۔(واشنگٹن پوسٹ اشاعت 2017/08/18)۔

واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار الیکس ہارٹن کے مطابق جنرل پرشنگ کوئی کم عقل قسم کا شخص نہیں تھا جو اس طرح کی الٹی سیدھی حرکتیں کر کے مزید مصیبت مول لیتا۔اس نے کمال حکمت عملی سے فلپائن کے ان قبائلی مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر اور افہام وتفہیم سے کام لیا۔ان کے کلچر ،ماضی اور روایات کا گہرا علم حاصل کرنے کے علاوہ اسلام اور قرآن مجید کا بھی مطالعہ کیا جن کی روشنی نے اس کی پرحکمت صلاحیتوں کو جلا بخشی جس کی بدولت وہ ان آزاد منش قبائلیوں سے دیر پا پر امن معاہدے کرنے کے قابل ہو سکا۔یہاں تک کہ انہی فلپائینی مورو مسلمانوں نے اسے اعزازی موروچیف کے اعزاز سے بھی نوازا۔

ایک امریکی ملٹری تاریخ دان لانس جنڈا کے مطابق جنرل پرشنگ نے مقامی افراد کے دلوں اور دماغوں کو جیتاتھا۔کاش کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے محبوب ہیرو کی کامیاب حکمت عملی کے اس اصل پس منظر اور تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے اور اسے اپنانے اور عام کرنے کی زحمت گوارا کرتے تو نہ صرف پوری دنیا کو اپنی جگ ہنسائی کا موقع نہ دیتے اورساتھ ہی اپنے ہیرو کی اس طرح تذلیل اور تخفیف نہ کرتے بلکہ آج کی دنیا میں قیام امن کے اس واحد حل یعنی دلوں اور دماغوں کو جیتنے کی بات کر کے سب کے دل جیت سکتے تھے ۔ 

نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی حالیہ اشاعت میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ سرخی جمائی ہے کہ ٹرمپ کہتا ہے پرشنگ کو پڑھیں،پرشنگ کو پڑھیں لیکن پرشنگ کو پڑھنے سے کہانی بنتی نظر نہیںآتی ۔اخبار کی رپورٹرمصنفہ لنڈا کیو نے بتا یا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بیان کی ہوئی کہانی کو دنیا کے نو نامور مؤرخین نے کلتیاً مستردکیا ہے ان میں مذکورہ بالا مورو قبائل اور ان کی برپا کی ہوئی جنگوں کے بارہ میں تاریخی اور تحقیقی کتاب کے مصنف مسٹر جیمز آرنلڈ بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ قطع نظر اس کے کہ جنرل پرشنگ نے اپنے وقت میں کیا کیا تھا اور کیا نہیں،آج کے دور میں جنرل پرشنگ سے منسوب کسی سچی یا جھوٹی کہانی کا حوالہ دینا ایک ہاتھ میں گاجر اور دوسرے میں ڈنڈا پکڑ کر کھڑے ہوجانے کی بات ہے ۔

یہ فارمولا آج کے ہماری اس دنیاکو درپیش عالمی دہشت گردی کے مسائل کے خاتمہ میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔مسٹر آرنلڈ کا کہنا ہے کہ جنرل پرشنگ نے اپنے دورکے ایک بڑے معرکہ میں بہت سے معصوم بچوں اور عورتوں کا خون بھی تو بہایاتھا،اس کا نمونہ اس لحاظ سے بھی ہرگزمثالی نہیں۔ان کے مطابق جنرل پرشنگ کو اس زمانہ میں وہاں قیام امن کی کوششوں میں اس لئے کامیابی ملنا ممکن ہوا تھا کہ امریکی فوجوں نے قبائلی جنگجووؤں کو ایک چھوٹے سے جزیرے میں محدود ہوکر رہ جانے پرمجبور کر دیا تھا اور ان کو اسلحہ وغیرہ یا افرادی کمک پہنچنے کا کوئی بھی راستہ نہیں رہنے دیا گیا تھا کیونکہ بھاری تعداد میں امریکی فوجوں نے جزیرے کا چاروں طرف سے مکمل محاصرہ کرکے جزیرے کے اندر موجود تمام مورو جنگجؤں کو غیر مسلح کردیا تھا۔اور پھر انہیں غیر مسلح کرنے کے بعد بھی امریکی افواج نے اس جزیرے کا محاصرہ لمبا عرصہ برقرار برکھا اور یوں اس جزیرے سمیت سارے علاقہ میں امن قائم ہو گیا‘‘۔
(https://www.nytimes.com/2017/08/17/us/politics)
۔

مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ غالباً نہیں جانتے کہ آج کی دنیا بجائے خود ایک چھوٹا ساجزیرہ بن چکی ہے۔اگر وہ حسن نیت اور خلوص دل سے چاہیں تو اس جزیرے میں موجود تمام نبرد آزما جنگ جوؤں کو غیر مسلح کر سکتے ہیں کیونکہ سبھی جانتے ہیں کو ن کس کو اسلحہ ،وسائل و اسباب کی مسلسل کمک پہنچائے جارہا ہے۔بصورت دیگر خدشہ ہے کہ اسی قسم کے بیانات جاری کرتے کرتے انہیں کہیں خود اپنی ذات کے جزیرے تک ہی محدود ہونا نہ پڑ جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *