جماعت الدعوۃ کی جہادی تجارت اور پاکستانی ریاست کی خاموشی

یوسف صدیقی

جماعۃ الدعوۃ ایک قدیم پس منظر رکھنے والی جہادی جماعت ہے ۔یہ جماعت ’’مرکز الدعوۃ ولارشاد اُور اِس کے بعد ’’لشکرِ طیبہ ‘‘ کے ٹائٹل کو اِستعمال کرتے ہوئے موجودہ شکل تک پہنچی ہے۔اِس وقت پاکستانی رِیاست ظاہری طور پر جماعۃ الدعوۃ پر پابندی لگا چکی ہے ۔علاوہ اَزیں جماعۃ الدعوۃ کو اقوامِ متحدہ نے بھی ’’کالعدم‘‘ قرار دیا ہوا ہے ۔

اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعۃ الدعوۃ حقیقت میں ’’ بین‘‘ ہو گئی ہے ۔یا محض ’’خانہ پرُی‘‘ کے لیے جماعت کی قیادت کو جوہر ٹاؤن کے بنگلوں میں پرُ آسائش زِندگی فراہم کی گئی ہے ۔اِس سوال پر ہمارے دانشور اور قومی سلامتی کے ’’ذمہ دار ‘ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جماعۃ الدعوۃ نہ پہلے کبھی ’’بین‘‘ ہوئی ہے۔ اُور نہ اَب اِس پر پابندی ہے ۔جماعت کے ’’مسؤل بھائی ‘‘ آج بھی پاکستان کی سڑکوں پر جہادی مصنوعات فروخت کرتے پھر رہے ہیں ۔

ظاہری طور پر حافظ سعید کی نظر بندی جماعۃ الدعوۃکے لیے ’’رَحمت ‘‘ثابت ہو رہی ہے ۔کیونکہ حافظ سعید کی نظر بندی کی وجہ سے جماعۃ الدعوۃ ’’مظلوم‘‘ بھی بنی ہوئی ہے۔ اُور اَپنی جہادی مصنوعات بھی دیدہ دلیری سے عام لوگوں تک پہنچا رہی ہے ۔حیرت ہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی کے رِیاستی فیصلے کے خلاف جماعت نے عدالت سے رجو ع نہیں کیا،یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ رِیاست اُور جماعت کے درمیان ’’خاموش مفاہمت ‘‘چل رہی ہے ۔

ابھی حال میں پاکستانی ریاست نے حافظ سعید کی نظر بندی میں مزیددو ماہ کا اضافہ کر دیا ہے، مگر جماعت خاموش ہے ۔اِس وقت جماعۃ الدعوۃ کے چند ارکان کے علاوہ باقی تمام کارکن اوردرمیانے دَرجے کی قیادت حافظ عبد الرحمن مکی کی قیادت میں ’’جہادی تجارت‘‘ میں مصروف ہے ۔حافظ عبد الرحمن مکی کا پس منظر یہ ہے کہ یہ آدمی حافظ سعید کے’’ سسر‘‘ اور’’ ماموں ‘‘حافظ عبد اللہ بہاولپو ری کابیٹا ہے ۔حافظ عبد اللہ بہاولپوری برسوں صوبہ پنجاب میں جہادی مصنوعات فروخت کر تا رہا ہے۔

عبد اللہ بہاولپوری کے باپ ’’نور محمد‘‘ کا تعلق مشرق پنجاب کے ضلع انبالہ کی تحصیل ’’روپڑ‘‘ کے گاؤں’’ڈگری‘‘ سے تھا ۔نور محمد کی جب عمر چالیس برس ہوئی تو اس سے ایک آدمی قتل ہوگیا ۔بقول نور محمد کے کہ اِس قتل کے نتیجے میں اُس کی دنیا ہی ’’بدل ‘‘ گئی ۔نور محمد نے اپنے بیٹے ’’عبد اللہ بہاولپوری ‘‘ کی تربیت ’’قدیم سلفی منہج‘‘ کے زاویوں پر کی ،اور بعد میں حافظ عبد اللہ بہاولپوری نے حافظ سعید اُور عبد الرحمن مکی کی تربیت بھی ’’ قدیم جہادی نصب العین ‘‘کے مطابق کی ۔

عبد اللہ بہاولپوری صادق ایجرٹن ایس ۔ای کالج بہاولپور میں بطور لیکچرار کافی عرصہ جہادو قتال کی تشریح و توضیح کرتا رہا ۔آخرکار اِسے فوجی دور میں راولپنڈی اور سول دور میں مظفر گڑھ میں بھیج دیا گیا ،لیکن ریاست کی ’’مذہبی بریگیڈ‘‘ اپنے اِس چہیتے فرزندِ ارجمند کو دوبارہ بہاولپور میں لاتی رہی ۔ایک اندازے کے مطابق بہاولپور میں اس شخص نے کم از کم 38سال ’’جہادی مصنوعات ‘‘ کا کاروبار کیا ۔

اس طرح جماعت کی مرکزی قیادت خود کو عوام میں قابل قبول بنانے کے لیے طرح طرح کے حیلے اختیار کرتی رہتی ہے ۔کبھی تحریک حرمت رسول،کبھی دفاع پاکستان کونسل ،کبھی ملی یکجہتی کونسل اور کبھی تحریک تحفظِ حرمین کے نام سے جلسے،جلوس کرنا ان کا شیوہ ہے ۔اِس وقت عبد الرحمن مکی کو ریاست نے نظر بند نہیں کیا ، اوریہ ’’ملاں‘‘ کھلے عام ’غزوہ ہند کانفرنسز‘ سے خطاب کرتا پھر رہا ہے ۔اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ابھی کچھ دن پہلے اسلام آباد میں عبد الرحمن مکی نے ’’دفاع پاکستان کونسل‘‘ کے ایک اجلاس میں ایک جہادی سوداگر صلاح الدین کو سرعام ’’تلوار‘‘ کا تحفہ دے کر پاکستانی ریاست کی نام نہاد ’’رِٹ‘‘ کا مذاق اُڑایا ہے ۔

یہ چیز ہماری ریاست ،فوج حکومت اور سماج کی باشعور پرتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ جماعۃ الدعوۃ کی جہادی مصنوعات میں ایک حصہ ’’جہادی لٹریچر ‘‘ کا بھی ہے ۔منگولوں کے خلاف لڑائی لڑنے والے قدیم دور کے سلفی عالم دین ’’ابنِ قیم ‘‘ کے اَزکارِ رَفتہ جہادی لٹریچرکو از سرِ نو شائع کر نے کے ساتھ ساتھ اَب جماعۃ الدعوۃ والے اپنے رَسالے اُور اخبار بھی شائع کر رہے ہیں ۔وہ یہ کام پہلے بھی کر رہے تھے اُور اَب بھی کر رہے ہیں ،مگر فرق صرف یہ ہے کہ رسالوں اُور اخباروں کا نام بدل دیا گیا ۔

جماعۃ الدعوۃ کے لٹریچر میں ’’تذکرہ شہدا‘‘ کے عنوان سے اِنتہائی بھڑکیلے ’’جہادی اقعات ‘‘بیان کیے جاتے ہیں ۔ہمارے سماج میں اِن واقعات کو پڑھ کر کشمیر میں جا کر ’’شہید‘‘ ہونے کی تمنا کر نے والوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد موجود ہے ۔جماعۃ الدعوۃ نے پاکستانی عوام سے پیسے بٹورنے کے لیے سب سے پہلے ایک نام نہاد فلاحی ادارہ’’خدمت خلق فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے بنایا۔جب اِس پر پابندی لگ گئی توپھر اُنھوں نے ’’فلاحِ اِنسانیت فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا ۔اِس طرح یہ لوگ جہادی مصنوعات کو عام کر رہے ہیں ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کو سعودی عرب سے بھی فنڈز ملتے ہیں۔سعوی عرب کے تحفظ کے لیے ’’تحفظ الحرمین کانفرنسز ‘‘ کا انعقاد کرکے یہ لوگ ان فنڈز کو ’’حلال‘‘ بھی کر رہے ہیں۔پہلے سعودی پیسہ جماعت اسلامی کو ملتا تھا ۔مگر اُب جماعت والوں کو ثانوی اہمیت حاصل ہو گئی ہے ۔اَبھی کچھ دنوں پہلے سعودی عرب میں بادشاہت تبدیل ہوئی ہے ۔اِس چیز کو جماعۃ الدعوۃ والے بہت بڑھا چڑھا کر بیان کرر ہے ہیں۔سعودی عرب کی معاشی حالت جو کہ بہت ہی خستہ حال ہو چکی ہے ۔مگر جماعۃ الدعوۃ والوں کو اِس ملک کی معیشت میں ’’خدائی برکت‘‘ نظر آ رہی ہے ۔

حاجی اقبال نامی ایک پاکستانی سلفی بزنس مین کے کاروباری اثاثے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی زَد میں بھی آچکے ہیں ۔یہ شخص جماعۃ الدعوۃ کے شعبہ مالیا ت کا انچارج ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس شخص سے ہمارے ’’خفیہ والے ‘‘ باز پرس نہیں کر رہے کہ یہ اپنی دولت دہشت گردی کے لیے کیوں استعمال کر تا ہے ؟۔۔ جماعۃ الدعوۃ نے ہمیشہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے گریز کیا ہے ۔یہ لوگ ’’نظامِ خلافت‘‘ کوجہادو قتال کے ذریعے نافذ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

لیکن ابھی حال میں ہی جہادی مصنوعات کی سیاسی میدان میں نمائش کے لیے جماعۃالدعوۃ مرکزی رہنماء سیف اللہ خالد اور طلبہ جماعۃ الدعوۃ کے سابق مسؤل مزمل ہاشمی نے ’’ملی مسلم لیگ ‘‘ نامی ایک سیاسی جماعت بنائی ہے ۔نظامِ خلافت کو جہاد کے ذریعے قائم کر نے کے متمنی ان ملاؤں نے اَب حالات سے سمجھوتا کر کے خود کو قابل قبول بنانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیے ہیں ۔ اِن جہادی سوداگروں کو جہادی مصنوعات کے فروخت کے لیے نئی منڈیاں بھی درکار ہیں۔اس لیے اِن لوگوں نے ملی مسلم لیگ بنائی ہے تاکہ سیاست کے میدان میں بھی جہادی مصنوعات فروخت ہو سکیں۔

کشمیر ،افغانستان ،سربیا،عراق اور برما میں ہونے والی کاروائیوں کی تشہیر کرنے کے بعد وہاں تباہ حال لوگوں کے نام پر ’’چندہ ‘‘ مانگنے والے اِن رجعتی فقیروں کو اس وقت پاکستانی رِیاست کی مکمل اور غیر مشروط سرپرستی حاصل ہے ۔جب تک ان کو ریاست کی سرپرستی حاصل رہے گی ،اس وقت تک پاکستان میں سے دہشت گردی ،انتہاپسندی اور عسکریت پسندی ختم نہیں ہو سکتی ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جہادی مصنوعات کے سوداگروں کو نکیل ڈالی جائے اور ان کی جہادی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *