علامہ اقبال اور قادیانیت : تعلق اور لا تعلقی

انتخاب و تلخیص :لیاقت علی ایڈووکیٹ

علامہ اقبال نے 1911 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘ کے عنوان سے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے جماعت احمدیہ کو اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ قرار دیا تھا۔انہوں نے اپنی اس تقریر میں مسلمانان ہند کے مختلف اسالیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا ’ پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں ۔

یہ تقریر انگریزی میں لکھی گئی تھی اور اس کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خاں نے کیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دنوں ظفر علی خان کو بھی جماعت احمدیہ کے بارے میں علامہ اقبال کی اس رائے سے اختلاف نہیں تھا۔ حالانکہ علامہ اقبال کی اس تقریر سے بہت پہلے جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد اپنے عقائد اور دعاوی کا برملا اظہا رکر چکے تھے ۔

علامہ اقبال نے یہ تقریر مرزا غلام احمد کے انتقال (1908) کے تین سال بعد کی تھی۔ مرزا غلام احمد نے مارچ 1882 میں دعوی کیا تھا کہ انہیں الہام ہوا ہے اور اللہ تعالی نے اسے ایک خاص مقصد تفویض کیا ہے دوسرے لفظوں میں گویا وہ مامور من اللہ ہے۔ مرزا غلام احمد کی زندگی ہی میں ان کو پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد کی تائید حاصل ہوگئی تھی۔ متعدد ممتاز اور ذی اثر افراد ان کے پیروکاروں میں شامل ہوگئے تھے۔

سنہ1908میں جب مرز ا غلام احمد کا انتقال ہوا تو حکیم نورالدین ان کے ’’خلیفہ اول‘‘ مقرر ہو ئے تھے۔علامہ اقبال کی مذکورہ بالا تقریر وہ انہی ’’خلیفہ اول‘‘ کے عہد میں کی گئی تھی۔اس ’’خلیفہ اول‘‘ کا انتقال 1914 میں ہوا تھا اور ان کی جگہ مرز ا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود ’’ خلیفہ ثانی‘‘ مقرر ہو ئے تھے۔

جانشینی کے تنازعہ کو لے کر جماعت احمدیہ میں پھوٹ پڑگئی تھی۔ جماعت کا ایک حصہ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی کی سر کردگی میں الگ ہوگیا تھا اور ایک علیحدہ جماعت ’’لاہوری پارٹی‘ ‘وجود میں آگئی تھی۔ جماعت پر قبضے کی لڑائی کو بعد ازاں نظریاتی رنگ دے دیا گیا ۔لاہور ی پارٹی مرزا غلام احمد کو زیادہ سے زیادہ سے مجدد کا درجہ دینے کو تیار تھی جب کہ قادیانی جماعت کے نزدیک وہ ’’ نبی‘ ‘ تھے۔ لاہوری جماعت ہنوز موجود اور انجمن اشاعت اسلام کے نام سے کام کر رہی ہے۔

بظاہر احمدیت کے بارے میں اپنی رائے پر علامہ اقبال 1931-32 تک قائم رہے تھے کیونکہ اس سے قبل انہوں نے اس جماعت پر کبھی نکتہ چینی نہیں کی تھی۔نیاز فتح پوری کے بیان کے مطابق علامہ کی اس رائے میں بنیادی تبدیلی 1933 کے بعد آئی تھی جب ’ ’احرار کی شورش سے مرعوب ہوکر اپنی جان چھڑانے کے لئے وہ ایک بیان دینے پر مجبور ہوگئے تھے‘‘۔

لیکن ایس ۔ایم ۔اکرام اور بعض دیگر مورخین اشاروں کنایوں میں لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال کی قادیانی فرقہ پر تنقید محض ’احرار کی شورش‘ سے جان چھڑانے کی بنا پر نہیں تھی بلکہ قادیانیت سے بے زاری کے پس پشت ذاتی اور سیاسی وجوہات بھی کار فرما تھیں۔ ان کے نزدیک 1931میں کے اواخر میں علامہ اقبال اور جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کے مابین کشمیر کمیٹی جس کے علامہ اقبال سیکرٹری اور مرزا بشیر الدین محمود صدر تھے اور جو کشمیری مسلمانوں کو ڈوگرہ راج کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے قائم کی گئی تھی کے طریقہ کار اور مقاصد کے سوال پر اختلاف رائے پید ا ہوچکا تھالیکن اصل و جہ نزاع 1932 میں پیدا ہوئی تھی جب وائسرائے لارڈ ولنگڈن نے سر ظفراللہ خان کو ایگزیکٹو کونسل میں عارضی رکن مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سنہ1932میں میاں فضل حسین نے علالت کے باعث وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے چار ماہ کی رخصت لی تھی اور ساتھ ہی وائسرائے لارڈ ولنگڈن سے سفارش کی تھی کہ ان کی جگہ مختصر مدت کے لئے ظفر اللہ خان کا بطور رکن تقرر کر دیا جائے ۔ وائسرائے نے میاں فضل حسین کی سفار ش کو مانتے ہوئے ظفراللہ خان کو یگزیکٹو کونسل میں عارضی رکن کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ۔

ظفرا للہ خان کی وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں تقرری علامہ اقبال کے لئے کسی صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ وہ خود کو ظفراللہ کی نسبت اس عہدے کا زیادہ حقدار اور اہل سمجھتے تھے ۔ علامہ اقبال کی نہ صرف یہ خواہش تھی بلکہ انھیں یقین تھا کہ میاں فضل حسین اپنی جگہ ان کی تقرری کی سفارش کریں گے کیونکہ علامہ اقبال کا شمار میاں فضل حسین کے دوستوں میں ہوتا تھا ۔ دونوں گورنمنٹ کالج میں زمانہ طالب علمی سے دوست تھے اور پنجاب کی سیاست کے حوالے سے بھی دونوں کا نکتہ نظر ایک تھا ۔

نہ صرف علامہ اقبال کو یقین تھا کہ وہ یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے بلکہ پنجاب کے شہری مسلمانوں کو بھی امید تھی کہ آئندہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں کوئی اسامی خالی ہوئی اس پر علامہ اقبال کا تقرر یقینی ہے۔چنانچہ لاہور کے معتبر اخبار روزنامہ ٹربیون میں یہ خبر بھی شائع ہوگئی تھی کہ سر فضل حسین کی رخصت کے دوران ان کی جگہ ڈاکٹر اقبال کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن نامزد کیا جائے گا ۔

لیکن یہ امیدیں اس وقت خاک میں مل گئیں جب علامہ اقبال کی بجائے ظفر اللہ خان کو نامزد کر دیا گیا۔ میاں فضل حسین کی بے وفائی علامہ اقبال کے لئے بہت زیادہ مایوسی کا باعث بنی تھی ۔ ظفراللہ خان کا تعلق چونکہ جماعت احمدیہ سے تھا اس لئے انھوں نے اپنے غصے کا ہدف میاں فضل حسین کی بجائے جماعت احمدیہ کا بنالیا اور اس کے خلا ف مضامین کی ایک سیریز لکھی جن میں جماعت احمدیہ کے عقائد پر تنقید و تنقیض کی گئی تھی ۔

سنہ1932 میں سر ظفر اللہ خان کی وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں عارضی رکن کے طور پر تقرری سے قبل علامہ اقبال نے اپنی کسی تقریر یا تحریر میں کبھی مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت احمدیہ پر نکتہ چینی نہیں کی تھی اور اس کا ذکر مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی کتاب سیرت المہدی مطبوعہ 1939میں کیا تھا۔

خود علامہ اقبال نے بھی 1897 میں مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ان کا نام 313 مقلدین میں شامل تھا۔ 1930-31تک وہ لاہوری جماعت کے تتبع میں مرز ا غلام احمد کو مجدد سمجھتے تھے اور ان کے بڑے بیٹے آفتاب اقبال نے کئی سال تک قادیان میں تعلیم حاصل کی تھی ۔

کتاب : مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا

از : زاہد چودھری 
تکمیل ترتیب : حسن جعفر زیدی 
ادارہ مطالعہ تاریخ واپڈا ٹاون لاہور

6 Comments

  1. تاریخی حقائق پر مشتمل معلوماتی تحریر ہے۔ ہمارا معاشرہ عموماً تاریخ کو جذبات اورجذبات کو مبالغہ اور مبالغہ کو افراط وتفریط کی بھینٹ چڑھانے کا عادی ہو چکا ہے ۔
    اگر پاکستان اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چئرمین اقبالؔ کے ہم عصر ہوتے تو انہیں “مرتد” قرار دے کرکسی “مناسب سزا” کا حقدارقراردے دیتے۔اس وقت تو کوئی طاہر اشرفی بھی نہ تھا جو محمد خاں شیرانی کا ہاتھ روک کراقبال کا بچاؤ کرتا۔

  2. یوسف صدیقی says:

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ اقبال اپنے آپ کو بہت بڑا فلسفی و دانشور سمجھتے تھے۔۔۔ اور وہ سمجھتے تھے کہ جماعت میں میری بھی سنی جائے۔ لہذا ایک نیام میں دو تلواریں کیسے رہ سکتے ہیں۔جب کسی بھی جماعت کے اثاثے بننے شروع ہوجائیں تو پھر اقتدار کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔۔۔۔لہذآ جماعت میں پھوٹ پڑنی ہی تھی۔ ۔جماعت احمدیہ میں بھی خلافت کا یہی حال ہے۔۔۔ اب یہ اتنے جمہوری ہوگئے ہیں کہ خلافت خاندان سے باہر جا ہی نہیں سکتی۔

  3. موروثیت متحدہ پنجاب کا بڑا مسئلہ ہے جو اب سیاست میں اپنی جڑیں مستحکم کر رہا ہے ۔

  4. ” اب یہ اتنے جمہوری ہوگئے ہیں کہ خلافت خاندان سے باہر جا ہی نہیں سکتی”

    پچھلی خلافت کے بارے کیا خیال ہے؟ ابّا نہیں تھے تو سسر ابو بکر خلیفہ بنے- بیٹا نہیں تھا تو داماد عمر اور عثمان خلیفہ بنے- بھائی نہیں تھا تو کزن علی خلیفہ بنے- ان میں سے کونسا خاندان سے باہر کا تھا اور سب سے قریبی نہیں تھا؟

    صرف جمامت احمدیہ سے تعصب میں بغیر سوچے سمجہے اعتراض کر دینا ہوتا ہے-

  5. دکھ تو واقعی ہوا ہوگا کہ ان پر ایک ۔۔کل کے لونڈے۔۔ ظفراللہ خان کو ترجیح دی گئی ۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ دکھ اتنا گہرا نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی بیعت اور حضرت مرزا صاحب کی مجالس اور انکے علم و عرفان کو بھول جاتے۔ مجھے لگتا ہے کہ علامہ اقبال کو انکی حیثیت کچھ ایسے ایسے انداز سے بتائی گئی کہ بالآخر وہ ۔۔پھٹ پڑے۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *