فوجی گملے میں اُگے سیاستدان اور کھارے کھوہ

مسعود قمر

آج کل سیاستدانوں کو دو ناموں سے گالیاں دی جاتی ہیں ۔ اصل میں مطلب ان سیاستدانوں کو گالیاں دینا نہیں ہے بلکہ سیاست کو گالی بنانا ہے، ایک گروہ کا سربراہ شیخ رشید ہے جس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ہر سیاستدان فوجی گملے میں اُگا ہے ۔

مزے کے بات یہ ہے فوجی گملے سے اگا سیاستدان جب تناور درخت بن جاتا ہے اور فوج اجازت دے دیتی ہے تو پھر یہی شیخ رشید اسی فوجی گملے میں اُگے سیاستدانوں کی شاخوں پہ بیٹھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ 

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ پاکستان کا ہر سیاستدان جاگیر دار اور سرمایہ دار ہے اور ان سب سیاستدانوں کی دولت غیر ملکی بنکوں میں پڑی ہے اور جب یہ کہیں آتے جاتے ہیں تو دو دو سو گاڑیاں ان کے ارد گرد ہوتی ہیں ان کو مثال بنا کر لوگوں کو سیاست سے نفرت دلائی جاتی ہے ۔

یہ ایسے ہی ہے کہ آدمی ہیرا منڈی جا کر عورت سے وفا کی امید کرے ۔

مگر کیا سیاستدانوں کا نام لیتے کبھی مرزا ابراہیم کا نام لیا گیا جو پاکستان بننے سے پہلے انڈیا کی پوری ریلوے یونین کا جنرل سیکرٹری تھا اور اس یونین کا صدر بعد میں انڈیا کا صدر بنا تھا کیا وہ سیاستدان نہیں تھا ۔

کیا کبھی اس کی مثال دی گئی ۔ 

کیا حسن ناصر سیاستدان نہیں تھا۔

کیا نذیر عباسی سیاستدان نہیں تھا جو فوجی گملوں میں اُگنے کی بجائے فوجی ٹارچر سیلوں میں مارد دئیے گئے ، کیا وہ سیاستدان نہیں تھے۔
کیا حمید بلوچ سیاستدان نہیں تھا جس کی گردن لمبی کر دی گئی ۔ 

کیا  چوہدریحسن رفیق سیاستدان نہیں تھا جس نے ساری زندگی 4 مزنگ روڈ لاہور میں پارٹی کے دفتر میں اس رضائی میں گزار دی جو آدھی روئی سے خالی تھی ۔ 

کیا ڈاکٹر اعزاز نذیر سیاستدان نہیں تھا ، جو ہوائی چپل میں سندھ سے پنجاب آتا تھا ۔ 

کیا غفار خان فوجی گملے میں اگا تھا ۔

کیا امام نازش سیاستدان نہیں تھا جو بغیر دوائی کے بستر مرگ پہ پڑا رہا ۔

کیا سی آر اسلم سیاست دان نہیں تھا۔

کتنی بار عابد حسین منٹو کو ٹاک شوز میں بلایا جاتا ہے۔

کیا کبھی چوہدری فتح محمد کی مثال دی جو اپنی انتخابی مہم سائیکل پہ چلاتا تھا۔ 

ان سب کا نام اس لیے نہیں لیا جاتا کہ کہیں لوگوں کو ان کی زندگیوں کئے بارے پتہ نہ چل جائے اور لوگ کہیں سیاسی نہ بن جائیں۔ 

جب ملک میں صرف پرنٹ میڈیا اور ایک ہی سرکاری ٹی وی تھا اس وقت بھی سیاست کو اسی طرح گالیاں دی جاتی تھیں۔

اس وقت بھی ان سیاست دانوں کا نام نہیں لیا جاتا تھا جنھوں نے اس ملک میں بسنے والوں کے سیاسی معاشی حقوق لڑتے ہو ئے اپنی جانیں دے دیں اگر کبھی ان کا نام لیا بھی گیا تو غدار ملک دشمن کہہ کر نام لیا گیا ۔

مگر آج جب سوشل میڈیا وجود میں آچکا ہے جہاں ہر کوئی جو کہنا چاہے کہہ سکتا ہے آج سیاستدانوں کو پہلے سے زیادہ گالیاں مل رہی ہیں۔آج سیاست کو ایک غلیظ ترین گالی بنا دیا گیا ہے ۔

مگر حیرانگی تو ان دانشوروں پہ ہے جو یا تو بولتے ہیں نہیں اگر بولتے ہیں تو اپنی پچھلی زندگی پہ توبہ کرتے نظر آتے ہیں اور کچھ تو ان مفاد پرستوں سے بھی بڑھ کر سیاست کو گالیاں دیتے ہیں ۔

مگر پچھلے دنوں سید احمد نے ایک نظم لکھی ہے جس میں ایک انقلابی کی تصویر کشی کی گئی ہےجسے پڑھ کر حوصلہ ہوا ہے ۔ 

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو سیاسی اور معاشی حقوق حاصل ہوں تو ان پارٹیوں اور ان لوگوں کا انتخاب کریں جو آپکے طبقے کی ہیں ۔

کھارے کھو، نہ مٹھے ہوندے ،پہاویں لکھاں من گُڑ پائیے

2 Comments

  1. یہ ایسے ہی ہے کہ آدمی ہیرا منڈی جا کر عورت سے وفا کی امید کرے..this sentence is not right and fair.

  2. Bitter reality.
    But “billee ke galley main ghantee kon bhandey ga”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *