اعلیٰ تعلیمی ادارے مذہبی انتہا پسندی کے مراکز بن چکے ہیں

لیاقت علی

جب سے یہ  انکشاف ہوا ہے کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث ملزموں کا تعلق کراچی یونیورسٹی اور شہر کے دیگراعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہے توہمارے حکومتی اہلکاروں اور ریاستی اداروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئےہیں۔

 ارباب اختیار تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اوردہشت گردی سے رغبت کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے نئے نئے ٹوٹکے تجویز کررہے ہیں کچھ کہتے ہیں کہ داخلہ دینے سےقبل طالب علموں کا کریمنل ریکارڈچیک کیا جائے کچھ کہتے ہیں کہ داخلے کے خواہش مند طالب علموں کے لےپولیس سے کریکٹرسرٹیفکیٹ لینا لازمی قرار دیا جائے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ جن تعلیمی اداروں کو ہم اعلیٰ تعلیمی ادارے کہنا پسند کرتے ہیں سے فارغ التحصیل افراد دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ صفورا گارڈن کے مجرم بھی تو انہی مین سٹریم اداروں ہی کے پڑھے ہوئے تھے۔ ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث اور سزائے موت کا ملزم عمر سعید شیخ ایچی سن کالج اور لندن اسکول آف اکنامکس کا پڑھا ہوا ہے۔ایمن الزواری میڈیکل ڈاکٹر ہے۔

اصل بات یہ نہیں کہ آپ کون سے کالج اور یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں اصل بات تو یہ ہے کہ آپ نے پڑھا کیا ہے؟ ہمارے تعلیمی اداروں کا نصاب دینیات سے شروع ہو کر دینیات پر ختم ہوجاتا ہے۔ ہمارا تصور اسلام قرون وسطی سے تعلق رکھتا ہے ۔ ہم اپنے سکولوں کالجوں میں سرسید کو علیحد ہ مسلم مملکت کا اابتدائی بانی تو قرار دیتے ہیں لیکن سرسید کے مذہبی مضامین اپنے طالب علموں کو نہیں پڑھا سکتے۔ کسی کالج اور یونیورسٹی کے تعلیمی نصاب میں سرسید کے مذہبی اور فلسفیا نہ مضامین نصاب کا حصہ نہیں ہیں۔ہم سرسید کی قرآن کی تفسیر اور سیرت النبی پڑھانے سے انکاری ہیں۔ ہم ڈپٹی نذیر احمد کے ناول تو نصاب میں شامل کر لیتے ہیں لیکن ان کی لکھی ہوئی کتاب امہات الامہ پر پابندی لگاتے ہیں۔

کیا ہماری یونیورسٹیوں میں ریاستی پالیسیوں سے ہٹ کر کسی موضو ع پر کوئی مباحثہ ، مذاکرہ یا سیمینار ممکن ہے؟ سواے حکومتی دانشوروں کے تعلیمی اداروں میں کسی آزاد خیال پروفیسر یا ماہر تعلیم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے؟ یہاں تو غامدی جیسا مذہبی اسکالر نہیں رہ سکتا۔حالت یہ ہے کہ سائنس کے پروفیسر اپنا مضمون کم اور اسلام پر اظہار خیال زیادہ کرتے ہیں۔لاہور کی لمز یونیورسٹی کی آئی ٹی کی فیکلٹی کے آدھے پروفیسر تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں۔

وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ اکتوبر 1987 میں جو اسلامک سائنس کانفرنس منعقد ہوئی اس میں ستر کے لگ بھگ مقالے پڑھے گئے۔ چھیاسٹھ لاکھ روپے کا صرفہ حکومتِ سعودی عرب نے برداشت کیا۔ اس کانفرنس میں جرمنی سے تشریف لائے ایک ماہرِ ریاضی نے فرشتوں کی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔خلائی ریسرچ کے ادارے سپارکو کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم محمود کے مقالے کا موضوع تھا۔ آئین اسٹائن کا نظریہِ اضافت اور واقعہِ معراج۔ جب کہ قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ایم ایم قریشی نے وہ طریقہ بتایا جس کے ذریعے ایک نماز کا ثواب کیسے کیلکولیٹ کیا جا سکتا ہے “۔

مولانا وحید الدین کی کتاب شتم رسول کی مسئلہ : قران و حدیث کی روشنی میں، پر ہمارے ہاں پابندی عائد ہے۔اس کتاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں توہین مذہب کے قوانین کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مذہب تو رکھیے ایک طرف کیونکہ یہ ایک حساس موضوع ہے جس پر گفتگو کرنا مشکل ہے گو ہمارے اکابرین ماضی میں اس موضوع پر بھی عالمانہ مباحث کر چکے ہیں جواگر چھا پ دیئے جائیں تو توہین مذہب کا الزام لگنے کا احتمال ہوسکتا ہے۔

ایک دہائی پہلے روزنامہ پاکستان نے شبلی نعمانی کی سیر ت النبی سے کوئی اقتباس شائع کر دیا تو تھانہ ریس کورس میں مولانہ شبلی نعمانی پر بھی پرچہ درج ہوگیا تھا اور تفتیشی افسراس اخبار کے دفتر پہنچ گیا تھا جس نے ان کی ایک کتاب سے ایک اقتباس چھاپا تھا جب تفتیشی افسر کو بتا یا گیا کہ مولانا کو فوت ہوئےایک صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے تو اس نے جوابا کہا کہ دیکھیں جی اگر وہ مر چکے ہیں تو آپ ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کردیں تاکہ میں فائل کو داخل دفتر کردوں بصورت دیگر فائل چلتی رہے گی۔

ہماری ریاست نے گذشتہ سترسال سے جو کشمیرپالیسی چلائی ہوئی اس بارے ہمارے تعلیمی اداروں میں کوئی معروضی مطالعہ ہوسکتا ہے؟۔ جس میں اس پالیسی کے حق اورمخالفت میں خیالات کا اظہارممکن ہو۔

پنجاب یونیورسٹی میں ایک ڈیپارٹمنٹ ساؤتھ ایشین سڈی سنٹر کے نام سے قائم ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ میں بھارت کی اقلیتوں کے بارے میں تو ریسرچ جو ریسرچ سے زیادہ پراپیگنڈا میٹریل ہوتا ہے ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں اقلیتوں کی کیا صورت حال ہے؟ اس بارے میں کچھ کام نہیں ہوسکتا۔ بنگلہ دیش کے قیام میں ہماری سیاسی قیادت اور فوجی ایسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کا کتنا دخل تھا اس بارے میں کوئی کتاب نہیں لکھی جاسکتی ہے؟ سوائے اس کے بنگلہ دیشں کا قیام ایک بین الاقوامی سازش تھی جس کوبھارت نے عملی جامہ پہنچایا۔

تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے انتظامی سے زیادہ کھلی اکیڈیمک فضا کی بنانے کی ضرورت ہے۔ جہاں طالب علم اور اساتذہ بغیر کسی ڈر خوف کے اپنے خیالات اور نظریات بیان کر سکیں ان پر بحث و مباحثہ کر سکیں۔ ایک ایسی فضا بنائی جائے جہاں ٹیچر اورطالب علم باہم مکالمہ کرسکیں۔ تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جس میں کسی کواس کے خیالات کی بنا پر قتل کی دھمکیا ں، ادارے سے اخراج یا ملازمت سے نکالنے کا ڈرخوف نہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *