ابوالاثرحفیظ جالندھری کرشن کنہیاکے حضور

طارق احمد مرزا

ہندؤں کے نزدیک کرشن کنہیّا کا وجوداُن کے خداوشنو کا اس زمین پر آٹھواں ظہور تھا۔ان کا جنم دن (جنم اشٹمی)ہندو کیلنڈر کے مطابق گھٹتے چاند کی آٹھویں تاریخ (کرشنا پاشا)کو ہوا تھا۔چاند کی تاریخوں کے مطابق یہ جنم دن جولائی یا اگست میں منایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ کرشنا کا مطلب کالا ہوتاہے ۔چونکہ ان کے ظہور سے شر کی طاقت زائل اور ماند ہوکراس کا منہ کالا پڑگیا تھا اس لئے کرشنا کہلائے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی سیاہی مائل سانولی رنگت کی بنا پربھی کرشنا کا نام پایا ہو۔
چنانچہ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کے مطابق کَانَ فِی الھندِ نبیّا۔ اَسْوَد اللّونِ۔اِسْمُہ کاھِناً(بحوالہ تاریخ ہمدان دیلمی باب الکاف)۔یعنی ہندوستان میں ایک نبی تھا جس کا رنگ کالا تھا۔اور اس کا نام کاہن تھا۔حضرت خواجہ غلام فرید نے رام چندر جی اور کرشن جی کے بارہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایاتھا کہ تمام اوتاراور رشّی لوگ اپنے اپنے وقت کے پیغمبر اورنبی تھے‘‘۔(المقابیس المجالس صفحہ ۳۴۰۔)۔
دو برس پیشتر جمیعت العلمأاسلام ہند کے مفتی محمد الیاس صاحب کے اس بیان پر بڑی لے دے ہوئی تھی جس میں انہوں نے فرمایا تھا،کہ ہم بھی ہندو ہیں (اس لئے کہ ہندوستان میں رہتے ہیں)،شنکر جی ہمارے اسلام دھرم کے پہلے نبی ہیں،انہیں ہم آدم ؑ کا نام دیتے ہیں جو پہلے لنکا میں آئے تھے۔ہندوستان ہمارا جنم بھومی بھی ہے اور دھرم بھومی بھی ہے۔

ا س سال حضرت کرشن جی کا جنم دن چودہ اگست کوتھا جبکہ پاکستان کا سترواں یوم آزادی پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں دھوم دھام ،جوش وخروش (اور گرما گرم بحث مباحثوں )کے ذریعہ منایا گیا۔اس دلچسپ توارد کے حوالہ سے کچھ ہندو بھارتی مبصرین پاکستان کے سترویں جنم دن کو کرشن اشٹمی کے دن منعقد ہونے کو بھی اپنی طرف سے کچھ گہرے رنگ اور مفہوم و معانی عطا کرتے نظر آئے۔ایک صاحب نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری صاحب کی ایک نظم کے حوالہ سے لکھا کہ انہیں ہندؤں کے خدا کرشن میں جلوۂ الوہیت دکھائی دیا تھا اور انہوں نے اپنی اس کیفیت کوا س نظم کے پڑھنے والوں یا سننے والوں نہیں بلکہ ’’دیکھنے والوں‘‘ کے لئے قلمبند کیا جو انہی کی کیفیت کو اپنے اوپر وارد کرکے ان کے ساتھ کرشن جی کا ’’درشن‘‘ کرسکنے کے اہل ہو سکیں۔ (ڈان آن لائن۔اشاعت 30 اگست 2017)۔

مندرجہ بالا تمام حقائق و واقعات (اور اتفاقات)پر کوئی تبصرہ کئے بغیرحفیظ جالندھری کی مذکورہ نظم’’کرشن کنہیا‘‘ کی قلبی وجدانی کیفیات منتخب اشعارکی شکل میں قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ہندو روایات کے مطابق آخری زمانہ کلجگ میں کرشن جی مہاراج کا ظہور ثانی ایک کلنکی اوتار کی صورت بھی ہندوستان میں ہونا بیان کیاجاتا ہے۔جناب ابوالاثر بھارت میں آزادی کے اجالے کی آشا لئے اسی کلنکی اوتار کو ’’آجا میرے کالے‘‘ کی التجا کرکے پکار رہے تھے تا بیکس کی لاج رہ جائے۔ ؂

اے دیکھنے والو،۔۔اس حسن کودیکھو،۔۔اس راز کو سمجھو!
یہ نقشِ خیالی۔یہ فکرتِ عالی
یہ پیکرِ تنویر۔یہ کرشن کی تصویر
معنی ہے کہ صورت۔صنعت ہے کہ فطرت
ظاہر ہے کہ مستور،۔۔نزدیک ہے کہ دور،۔۔یہ ناز ہے یا نور!
**

دنیا سے نرالا،۔۔یہ بانسری والا،۔۔گوکل کا گوالا!
ہے سحر کہ اعجاز؟۔کھلتا ہی نہیں راز
کیا شان ہے واللہ۔کیا آن ہے واللہ
حیراں ہوں یہ کیا ہے؟۔اک شانِ خدا ہے
بتخانے کے اندر،۔۔خود حسن کا بت گر،۔۔بُت بن گیا آکر!
**

بنسی میں جو لے ہے،۔۔نشہ ہے نہ لے ہے،۔۔کچھ اور ہی شئے ہے!
اک روح ہے رقصاں۔اک کیف ہے لرزاں
اک عقل ہے مے جوش۔اک ہوش ہے مدہوش
اک خندہ ہے سیّال۔اک گریہ ہے خوشحال
اک عشق ہے مغرور،۔۔اک حُسن ہے مجبور،۔۔اک سحر ہے مسحور !۔
**

دربار میں تنہا،۔۔لاچار ہے کرشنا،۔۔آشیام ادھر آ !
سب اہل خصومت۔ہیں درپئے عزت
یہ راج دلارے۔بزدل ہوئے سارے
پروانہ ہو تاراج۔بیکس کی رہے لاج
آجا میرے کالے،۔۔بھارت کے اجالے،۔۔دامن میں چھپا لے !

3 Comments

  1. کلیم اللہ ملک says:

    پاکستان بننے کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے لکھاری دوسرے مذاہب کی تعریف اور خوبیاں بیان کرنے سے معذور ہوگئے۔۔۔۔۔ جن معاشروں میں کثیر المذاہب لوگ اکٹھے رہتے ہیں وہاں ایک تو ذہن روشن خیال ہوتا ہے اور دوسروں کے خیالات کو بھی جگہ دیتا ہے۔۔۔۔۔ اگر کوئی ہندو نعت لکھے تو ہم واہ واہ کرتے ہیں اور اگر کوئی مسلمان ہندوؤں یا مسیحوں کے کسی بزرگ کی تعریف کر دے تو ہم لعنت ملامت کرتے ہیں۔
    علامہ اقبال نے بھی سارے جہاں سے اچھا ہندوستان لکھا تھا ۔۔۔ لیکن پتہ نہیں شاہین کیسے غالب آگیا۔۔

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      اقبال نے عرصہ دراز تک شاہین کونو لفٹ رکھی ہوئی تھی۔
      1918 میں لاہور کے ٹاون ہال میں سر مائیکل اوڈائر گورنر پنجاب کی صدارت میں ایک جلسہ ہوا اس جلسہ کے انعقاد کا مقصد یہ تها کہ مصارف جنگ کیلئے پیسہ جمع کیا جائے اور پنجاب سے کم از کم دو لاکھ نوجوان میں بهرتی کئے جائیں۔اس موقع پر علامہ اقبال نے ایک نظم پڑهی جس کے دو اشعار میں چکور کے حق میں اور شاہین کے خلاف دعائے پر خلوص ملاحظہ ہو۔
      جب تک نسیمِ صبح عنادل کو راس ہے
      جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے
      قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح
      دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح

  2. Hamid A Mian, MD says:

    Nothing wrong with appreciating other’s religious leaders while you are part of the society. You are not following the commandments of that religion. You are just adoring a pious human.
    Nothing wrong in it.
    You can do that to Zoroaster, Rama, Socrates, Juses, Moses etc. We should not disrespect any human specially high caliber leader because we can hurt many humans by doing that.
    We are human first. Every human (not only Muslim) is dignified and respected as per Quran. We always have to think collectively.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *