میں —کتابوں سے فلموں تک

راجندر سنگھ بیدی

کبھی میں نے اس لیے لکھنا شروع کیا تھا کہ مجھے کچھ کہنا تھا معاشرے کے بارے میں ، زمانے کے بارے میں ،حالات کے بارے میں، خود اپنے بارے میں ۔ میں نے سوچا تھا کہ اپنی تصانیف کے ذریعے معاشرے کے زخموں کو دکھاؤں ،تاکہ جو لوگ ان پر مرہم لگا سکتے ہیں، وہ لگائیں ،یا اُن چھوٹی چھوٹی باتوں کا بیان کروں ،جو زندگی کی بڑی بڑی مصیبتیں بن جاتی ہیں ۔

پھر،میں کتابی زندگی سے نکل کر فلمی زندگی میں آیا اور میں نے محسوس کیا کہ ہر فلم ساز میری طرف ایسے دیکھ رہا ہے جیسے شیش محل میں کو ئی کتّا گھس آیا ہو ۔ہر شخص مجھے سمجھانے کی کو شش کرتا کہ فلمی کہانی اصل میں کیا ہوتی ہے اور کیسے لکھی جاتی ہے ۔کامیاب فلم سازوں کی تقریریں سننا میں گورا کر بھی لیتا ،لیکن ان کے چیلے چانٹے ،جنھیں فلمی زبان میں ’’چمچے‘‘ کہا جاتا ہے ، وہ بھی مجھے سمجھاتے کہ فلمی کہانی اصل میں ایسی ہونی چاہیے ، اس میں فلاں فلاں باتوںکا خیال رکھنا چاہیے، اور کہنے کا انداز ایسا ہونا چاہیے۔

میں ان باتوں میں ایسا جکڑ گیا کہ کبھی کبھی سوچنے لگتا کہ ادبی کہانی اور فلمی کہانی اصل میں دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔او ر پھرجب میں نے فلمی کہانیاں لکھیں تو ان پر بھی ویسی ہی نکتہ چینی ہوئی ،جو ادبی کہانیوں پر ہوتی تھی۔ ان میں بھی وہی جھول نظر آئے جو ادبی کہانیوں میں دکھائی دیتے تھے ۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ فلم ساز مجھے زبان اور لکھنے کا انداز اور جملے بنانا تک سکھانے لگے۔

میں ان کی غلط باتوں پر جھنجھلاتا ،آخر ایک بار اُس زمانے کے ایک بہت بڑے فلم ساز سے میں یہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا ۔’’آپ نے کون سی کتاب لکھی ہے ؟‘‘اور اُس کے بتانے پر کہ اس نے کوئی کتاب نہیں لکھی ،میں نے کہا ’’میری تین کتابیں چھپ چکی ہیں !اور اُن میں میں نے کسی ہندوستانی یا غیر ملکی فلم سے کچھ نہیں چرایا ہے ۔‘پھر جو سین وہ مجھ سے سات بار لکھوا چکا تھا ، اُسے آٹھویں بار لکھنے کی بجائے ،کاغذوں کے پُرزے پُرزے کر کے اس کی میز پر پھینک کر چلا آیا ۔

ہمارے اسٹوڈیوبہت بڑے اصطبل ہیں ۔ ان میں کیمرے اور ساؤنڈریکارڈنگ کا سامان پچھلی صدی کا ہے ،مگر مہنگائی کی وجہ سے ان کا کرایا دوگنا ہے ۔پھر ، انگڑائی لے کر جاگے مزدور اور ان کی یونین ہے ۔ صبح کی شفٹ میں کام کرنے والوں کو بھی پروڈیو سر کو دوپہر کا کھانا دینا پڑتا ہے اور شام کی شفٹ میں کام کر نے والوں کو بھی ۔لنچ تو لنچ ہوا ہی، مگر ڈنر بھی لنچ ،اور بریک فاسٹ بھی لنچ اور پھر نام میں کیا رکھا ہے ۔

گلاب کے پھول کو آک کہہ دیجیے تو کیا وہ گلاب نہیں رہتا ؟ خاص کر جب لنچ کا مطلب دال روٹی نہ ہو کر صرف پیسا ہوا ور پیسا بھی چھ یا آٹھ گنا ۔فلم کی پوری دنیا ایک اُلٹا استرا ہے جس سے پروڈیوسر کے سر کی حجامت کی جاتی ہے۔ لاکھوں روپئے لینے کے باوجود آپ کا ہیرو، کار کے پیڑول کے پیسے نہ مانگے تو وہ بہت اچھا اور مقبول ہیرو مانا جاتا ہے، مگر ڈرائیور کے دس روپئے کے بھتّے کے لیے وہ بھی بگڑجاتا ہے ۔

پھر اس کی شرطیں کہ میک اپ مین اس کا اپنا ہوگا، مگر اس کی تنخواہ پروڈیوسر کو دینی پڑے گی ۔اسی طرح ہیروئن کو بھی انار ،انگور ،موسمی کے رس اور بھنے ہوئے مرغ مسلّم کے علاوہ بڑھیا شراب بھی چاہیے۔ اگر کوئی شرط نہیں ہے تو پروڈیوسر کی نہیں ۔

جلا بھُنا میں ایک روز بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اور پروڈیوسر آگیا ۔وہ جیسے بھول ہی گیا کہ میں اب ادیب نہیں رہا ۔ اور کہنے لگا ’’بیدی صاحب ،میں ’’چھینا جھپٹی ‘‘نام کی ایک فلم بنارہا ہوں ۔ آپ میرے لیے ڈائیلاگ لکھ دیں گے ؟‘‘
’’
ضرور لکھ دوں گا ، مگر میری ایک شرط ہے ۔‘‘
’’
بتایے‘‘
’’
ہیئر ڈریسر میرا اپنا ہوگا ۔‘‘

میں ایک نئی کشمکش میں گرفتار ہو گیا تھا ۔ کئی موقعوں پر میں نے دیکھا کہ ہدایت کار اور فلم ساز کی پسند الگ الگ ہے اور وہ ایک دوسرے کے برعکس رائے دیتے ہیں ۔دونوں کو مطمئن کرنے کا جو ایک طریقہ مجھے سوجھا ،وہ تھا کہ ایک ہی سین کو دو الگ الگ طریقوں سے لکھوں او ر پھر یہ فیصلہ ان دونوں پر چھوڑ دوں کہ انھیں کون سا سین پسند آیا ۔

یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ ایک شکایت اندر ہی اندر مجھے پریشان کرنے لگی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ میں نے کسی ناشر کے کہنے پر اس کی مرضی کے مطابق لکھا ہو ۔بلکہ میں نے جو کچھ اپنی مرضی سے لکھا ،وہی ناشر نے قبول کیا ۔لیکن اب میں مجبور تھا کہ یا تو فلم ساز کی مرضی کے مطابق لکھوں یا فلم کے ہدایت کار کی پسند کو ذہن میں رکھوں ۔ مجھے ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہونے لگی۔ اور فلم ساز اور ہدایت کار دونوں ہی کی شکایتیں سننی پڑتیں ۔

ان شکایتوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ میں خود ہی ہدایت کار بن جاؤں، لیکن ایسا کوئی فلم ساز نہ ملا جو ایک مکالمہ نگار کو بطور ہدایت کار فلم دینے کو تیار ہو جائے ۔ آخر مجبور ہو کر مجھے خود ہی فلم ساز اور ہدایت کار بنناپڑا ۔
ب ، سب سے پہلا سوال آیا پیسے کا ۔فلم کے لیے پیسا کہاں سے آئے گا ؟آخر کون پیسا دے گا مجھے ؟جب کوئی بھی پیسا دینے والا نہ ملاتو ’’فلم فائنانس کارپوریشن ‘‘کی طرف نظر گئی، جس سے نپی تلی رقم ہی مل سکتی تھی ۔

اس رقم کو دھیان میں رکھ کر میں نے اپنی کہانیوں اور ساتھ ہی اُن ڈراموں پر نظر گئی، جو میں نے کبھی آل انڈیا ریڈیو کے لیے لکھے تھے اور ’’سات کھیل ‘‘کے نام سے شائع ہو چکے تھے۔ اُن ڈراموں میں سے میں نے ’’نقل ِمکانی ‘‘نامی ڈرامے کو منتخب کر لیا کیونکہ اُس کے لیے ایک ہی سیٹ کافی ہو سکتا تھا ۔

تب میں نے ڈرامے کو فلم کے نقطۂ نظر سے لکھا اور اس پر ’’دستک ‘‘نامی فلم بنائی ۔اس فلم نے اس سال کی بہترین فلم کا قومی انعام حاصل کیا اور ’’باکس آفس‘‘پر بھی کامیاب رہی ۔اس طرح اُس نے یہ ثابت کر دکھایا کہ ایک ادبی کہانی ،فلمی کہانی بھی ہو سکتی ہے اور ایک ادبی ادیب ،فلم ہدایت کار بھی بن سکتا ہے ۔

کلیات بیدی: انتخاب:لیاقت علی ایڈووکیٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *