مغرب کا خون سفید کیسے ہوا؟

بیرسٹر حمید باشانی

مغرب کے خاندانی نظام پراکثر ہمارے ہاں گفتگوہوتی ہے۔ لکھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر ہمارے ہاں کئی فکری مغالطے پائے جاتے ہیں۔ ایک مغالطہ یہ ہے کہ مغربی لوگ خاندان اور رشتوں کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ا ن کا خون سفید ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے مغرب میں خاندانی نظام یعنی فیملی سسٹم دم توڑ گیا ہے۔ یہ ایک عام مغالطہ ہے ، جو ہمارے کچھ دانشور بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ مغرب کے خلاف گمراہ کن تصورات پھیلانے والوں کے ہاتھ میں یہ ایک مہلک ہتھیار ہے۔ وہ اس ہتھیار کو بڑی چلاکی سے مغرب کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ 

یہ مغالطہ پھیلانے والے اس کے حق میں کئی مثالیں دیتے ہیں۔ ایک مقبول عام مثال یہ ہے کہ مغرب میں بچے جوان ہونے سے پہلے ہی اپنے والدین کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ الگ رہنے لگتے ہیں۔ کبھی کبھار اس مثال کو ا لٹا کراس طرح بھی پیش کیا جاتا ہے کہ مغرب میں بچے جوں ہی بڑے ہوتے ہیں والدین انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں۔ 

ہمارا مغرب دشمن دانشور ان مثالوں کو جس نیت سے پیش کرتا ہے وہ غلط ہے۔ جس انداز میں پیش کرتا ہے وہ غلط ہے۔ اس کی جو وجہ بتاتا ہے غلط ہے۔ اور اس سے جو نتیجہ اخذکرتا ہے وہ بھی غلط ہے۔ گھر چھوڑ دینے یا گھر سے نکال دئیے جانے کا خود غرضی یا خونی رشتوں سے لاپروائی کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ 

مغرب میں خاندانی نظام کا ٹوٹنا یا اس کی نئی تشکیل کسی خود غرضی یا خون سفید ہونے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک ٹھوس ارتقائی عمل تھا۔ اس پر شعوری سطح پر طویل مباحث ہوئے۔ انیسویں صدی میں اس پر بہت تحقیق ہوئی۔ بہت کچھ لکھا گیا۔ کئی کتابیں چھپی۔ یہاں کے اخبارات سے لیکر سکول۔ کالج اور چرچ تک میں خاندانی نظام کی بدلتی ہوئی شکلوں پر ایک مدت تک مکالمہ ہوتا رہا۔ خاندان کی موجودہ شکل ایک طویل ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جسے یہاں کے انسان نے شعوری طور پر قبول کیا ہے۔

مغرب میں قدیم یوٹوپیائی خاندانی نظام کی جگہ موجودہ دور کے جدید خاندانی نظام تک کے تاریخی ارتقائی عمل پر ہزاروں کی تعداد میں ریسرچ پیپرز اور کتابیں موجود ہیں۔ لیکن ہمارے دانشور جو اس موضوع پر فکری کنفیوژن کا شکار ہیں وہ اگر صرف دو کتابیں ہی پڑھ لیں توخاندانی نظام کے تاریخی ارتقا پر ان کا یہ کنٖفیوژن دور ہو سکتا ہے۔ ان میں سے ایک کتاب ممتاز امریکی دانشور لیوئس ہینری مورگن کی ہے جو 1877 میں لندن میں چھپی ۔دوسری فیڈرک اینگلس کی ہے جو اس نے 1884 میں خاندان کی ابتدا، نجی ملکیت اور ریاست کے نام سے لکھی تھی ، جس میں اس نے مورگن اور مارکس سے استفادہ کیا ۔

مغرب میں معاشی اور سماجی طور پرترقی یافتہ ہونے سے پہلے بالکل ہماری طرح کا مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ ایک ہی خاندان کی تین تین نسلیں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔ یہ ایک خاص طرز زندگی تھا جس کی وجہ اس وقت کے معاشی حالات تھے۔ یہ معاشی حالات وقت کے سماجی رشتوں کا تعین کرتے تھے۔ ثقافت کی تشکیل کرتے تھے۔

شکار اور زراعت کے زمانے کے انسان کی بقا کی اپنی ضروریات تھیں۔ وہ اپنی ضروریات کے لیے خاندان اور برادری پر انحصار کرتا تھا۔ چنانچہ ان ادوار کے انسان کو اپنی ضروریات کے لیے خاص قسم کے سماجی و ثقافتی رشتوں کی ضرورت تھی۔ صنعتی انقلاب کے بعد مغرب میں ایک نیا معاشی نظام آیا۔ اس نظام میں نئے سماجی اور ثقافتی رشتے قائم ہوئے۔ اس نظام کے اندر انسان نے اپنے روزگار اور تحفظ کے لیے خاندان کے بجائے سماج کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی اپنے خاندان سے محبت کم ہو گئی یا خاندانی رشتوں میں محبت میں کمی آگئی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات کے لیے خاندان پر انحصارسے آزاد ہوگیا۔

اس نئے سماج کے اندر نئے سماجی روئیے سامنے آئے۔ ا ن میں ایک رویہ اپنے ہاتھوں سے کام کرنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا تھا۔ اس طرح نئے سماج میں بچے زمانہ طالب علمی میں ہی یعنی ہائی سکول کے دوران زندگی کی دوڑ میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ انہوں نے جز وقتی کام کرنا شروع کر دیا۔ آغاز جوانی میں ہی یہ لوگ ایک آزاد و خود مختار زندگی گزارنے لگے۔ ا ن میں خود انحصاری کے تصوارات پیدا ہوئے۔ اس طرح نوجوان اپنے والدین کے گھروں اور بیسمنٹ یعنی تہہ خانے سے نکل کر اپنے طور پر رہنا شروع ہوئے۔ 

اوائل جوانی میں کام کرنے کا رحجان رفتہ رفتہ نوجوانوں میں فیشن یا سٹیٹس سمبل بن گیا۔ اس طرح جو نوجوان زیادہ سمارٹ یا تیز ہوتا وہ زیادہ جلدی اور آسانی سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا۔ یہ عمل والدین کے لیے پریشانی کے بجائے خوشی اور مسرت کا باعث سمجھا جانے لگاکہ ان کے بچے کس طرح سماج میں ایک کامیاب زندگی کا آغاز کر تے ہیں۔ والدین نے اس پر ناراضگی کے بجائے اس عمل کی حوصلہ افزائی کی۔ اس طرح جو بچہ اس دوڑ میں کچھ پیچھے رہ جاتا ہے یعنی جوان ہونے کے باوجود والدین پر انحصار کرتا ہے ۔اسے نوجوانوں کی کمیونٹی میں ایک طرح کا لوزر سمجھا جاتا ہے جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ 

مغرب میں والدین اور بچوں کے رشتے میں اتنی ہی محبت اور پیار ہے جتنا ہمارے ہاں ہے۔ بلکہ بعض حالات میں یہ ہم سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ انسان جتنا زیادہ معاشی طور پر آسودہ ہوتا ہے۔ سماجی طور پر آزاد ہوتا ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بے فکر ہوتا ہے ، وہ اتنا ہی زیادہ پیار محبت اور زہنی آسودگی جیسی جذباتی ضروریات پر توجہ دیتا ہے۔ جہاں انسان کی زندگی دو وقت کی روٹی، سر چھپانے کی جگہ، یا زندگی کی بقا کے لیے مسلسل حالت جنگ میں ہو وہاں پیار و محبت اس کی زندگی کی پہلی ترجیع نہیں ہوتی۔ جیلوں میں بند لوگوں کے آپس میں بڑے قریبی تعلق، رشتے ، محبتیں اور جذباتی وابستگیاں ہوتی ہیں۔ مگر ان کا موازنہ ایک آزاد سماج میں رہنے والے خوش حال لوگوں سے کیسے کیا جا سکتا ہے جو کسی لالچ و خوف کے بغیر آزادانہ و شعوری پیار و محبت کے رشتے بناتے ہیں۔

جاننے کی بات یہ ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام تاریخ کے ایک مخصوص دور اور پیداواری رشتوں کا مظہرہے۔ ان پیداوری رشتوں کے بدلنے کے ساتھ ساتھ سماجی نظام اور سماجی رشتوں کا بدلنا نا گزیر ہے۔ یہ ایک خود کار عمل ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔ خاندانی نظام کے حوالے سے جس تجربے سے آج مغرب گزر رہاہے، کل ہم بھی اس سے گزریں گے۔ یہ کوئی شیطان کی کارستانی نہیں ہے۔ یہ مادر فطرت کی منشا ہے۔ یہ ایک ارتقائی عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔

One Comment

  1. خون کسی قوم کا سفید ہو یا نہ ہو ہماری قوموں کا ضرور سفید ہے۔
    ٭پنچابی شرک برداشت کر لیتے ہیں لیکن “شریکوں” کی خوشیوں میں شریک ہونا ہر گز نہیں۔شریکے کا ساڑا پنجابی کے دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کئے رکھتا ہے۔واضح رہے کہ شریکوں کا ڈی این اے مشترک ہوتا ہے۔
    ٭ بلوچی اپنے گھر کی خواتین کو زندہ دفن کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔2008 میں ایک ظالمانہ واقعہ کا دفاع کرتے ہوئے ایک بلوچی سینیٹر نے بلوچستان میں پانچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کے واقعے کو مبینہ طور پر (تین ہزارسالہ قابل فخر) قبائلی روایات کی پاسداری قرار دیا تھا(بی بی سی اردو)۔بلوچستان میں مبینہ طور پرجائداد بچانے کی خاطر اپنی معصوم سگی بچیوں کا نکاح قرآن سے بلکہ مرغے تک سے پڑھوا دیا جاتا ہے۔
    ٭پشتون “تربور”(چچا کے بیٹے) کے ایسے دشمن ہوتے ہیں کہ الاماں و الحفیظ۔سگے باپ کی اولاد ہوکر خون کے سفید ہوجانے کی ایسی مثال دنیا کی کوئی قوم نہیں دکھا سکتی۔پشتو محاورہ ہے کہ د تربور غاښ په تربور ماتېږي (کزن کا دانت اس کے کزن سے ہی ٹوٹتا ہے)۔معروف شاعر اور قومی رہنما خوشحال خان خٹک کا سگا بیٹا اس کی جان کے درپے رہا اور اسے دوسرے قبیلے میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔
    ٭ سندھی کاروکاری کا الزام لگا کر اپنے خون اور جگر گوشوں کے سر تن سے جدا کرنے کے لئے کلہاڑی ہر دم تیز رکھتا ہے۔گوروں کی چمڑی سفید ہے خون سفیدنہیں۔ہماری چمڑی کالی،دل کالے،زبان کالی،نظر کالی اور خون سفید ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *