شراب پر پابندی

لیاقت علی

جالب نے لکھا تھا:۔

بہت کم ظرف تھا جو کر گیا محفلیں ویران
نہ پوچھو حال یاراں جب شام کے سائے ڈھلتے ہیں

لاہور کے تمام پانچ ستارہ ہوٹلوں میں شراب کی دکانیں ہیں۔ اگرچہ کہا یہ جاتا ہے کہ یہ دکانیں غیر مسلم پاکستانیوں کو پرمٹ پر شراب فروخت کر تی ہیں لیکن ان دکانوں پر مجمع ہمارے مسلمان ہم وطنوں کا ہوتا ہے۔ ان ہوٹلوں کے علاوہ لاہور کچھ کلب بھی ایسے ہیں جہاں شراب آسانی سے ملتی ہے گو کہ تھوڑی مہنگی ہوتی ہے۔ ان کلبوں میں بار رومز بنے ہوئے ہیں جہاں اراکین کلب اور ان کے مہمان اپنا شوق پورا کرتے ہیں۔

سندھ میں پانچ ستارہ ہوٹلوں کے علاوہ دکانیں موجود ہیں جہاں سے شراب خریدی جاسکتی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں 120 کے قریب دکانیں شراب فروخت کرتی ہیں۔ بہانہ یہی ہے کہ یہ ہوٹل اور دکانیں صرف غیر مسلم پاکستانیوں کو شراب فروخت کرتی ہیں۔

شراب کے اس نام نہاد قانونی بزنس کے ساتھ ساتھ لانچوں کے غیر ملکی شراب بھی بلیک مارکیٹ میں موجود ہے جو ہماری اشرافیہ بخوشی بھاری بھرکم قیمت خریدتی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں شراب کی فروخت اور کھپت کے حوالے سے صورت حال پنجاب اور سندھ سے مختلف نہیں ہے۔ 

شراب نوشی اور فروخت پر پابندی بھٹو نے 1977 میں مولویوں کو خوش کرنے کے لیے اور قومی اتحاد کے دبا ؤپر لگائی تھی اب اس پابندی کو تقریبا چار دہائیاں ہونے کو آئی ہیں۔ پابندی کے باوجود شراب پینے والوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے ۔شراب نوشی کے بارے میں ایک قانون موجود ہے۔

لیکن اگر اعداد و شمار اکٹھے کئے جائیں تو شاید پورےسال میں شراب نوشی کے چند مقدمات درج ہوتے ہوں گے اور وہ ان افراد کے خلاف جو ناکے پر موجود پولیس والوں سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں یا انھیں مناسب رشوت دینے سے انکاری ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں پولیس کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ شراب نوشی کے الزام میں پرچہ دے دے ۔

لیکن جونہی ملزم عدالت میں جاتا ہے عدالت اسی وقت اس کی ضمانت لے لیتی ہے گذشتہ کم از اکم دس سالوں میں کوئی بہت ہی بد قسمت ہوگا جسے شراب نوشی کے الزام میں سزا ہوئی ہوگی۔ اس سب کے باوجود شراب کی فروخت اور پینے پر پابندی کیوں؟

دراصل یہ پابندی ہمارے سماج اور ریاست و حکومت کی عمومی منافقت اور دو نمبری کا اظہار ہے۔ وہ لوگ بھی جو روزانہ شراب پیتے اور پلاتے ہیں اگر ان سے بھی پوچھا جائے کہ شراب پر پابندی ختم ہونی چاہیے تو ان کا جواب ہوگا نہیں کیونکہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا اور اگر جواب میں یہ پوچھ لیا جائے کہ اگر مذہب اجازت نہیں دیتا تو آپ کیوں پیتے ہو تو جواب ہوتا ہے کہ ہم تو ٹھہرے گنہگار اور اللہ تعالی کی ذات بڑی غفور الرحیم ہے۔ یہ عمومی سماجی رویہ ہے کہ منافات بھری زندگی کا جواز مذہب اور اس کی تعلیمات میں تلاش کیا جائے۔

شراب کی فروخت کا کوئی جواز نہیں ہے اس کی قانونی فروخت سے حکومت کو ریونیو ملے گا اور آئےدن جعلی شراب پینے سے جو نوجوان مرتے ہیں ایسے حادثات اگر ختم نہیں ہوں گے تو کمی ضرور آئے گی ۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں شراب کی سینکڑوں دکانیں ہیں کیا سب بھارتی شہری شرابی ہیں۔

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بھارتی شہریوں کی بھاری اکثریت شراب نہیں پیتی۔ منافقت چھوڑ کر سیدھے سبھاو شراب پر پابندی ہٹاو تاکہ جو پینا چاہتا ہے پیے اور جو نہیں پینا چاہتا وہ اعتراض نہ کرتے تاآنکہ شرابی کسی سماجی خرابی کا باعث بنے۔

2 Comments

  1. N.S.Kashghary says:

    پیتے نہیں، بنتی ہے تو پھر جاتی کہاں ہے؟
    یہ ذہن میں اٹھتے ہیں سوالات مسلسل

    عبیر ابو زری

  2. N.S.Kashghary says:

    ذوالفقار علی بھٹو سے جب مطالبہ کیا گیا تھا کہ شراب پر پابندی لگاؤ تو اس نے کیا خوب جواب دیا کہ شراب پر پابندی تو قرآن مجید نے کب سے لگائی ہوئی ہے میرے پابندی لگانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔جو خدا کا حکم نہیں مان رہا کیا وہ میرا حکم مانےگا؟َ۔

    کافی عرصہ پہلے بیرون ملک ایک ایرانی سے ملاقات ہوئی ۔میں نے پوچھا کہ آیت اللہ خمینی کے برپاکردہ انقلاب کا تم لوگوں کی زندگیوں، رویوں ،طوراطواروغیرہ پہ کیا اثر پڑا ہے تو اس نےکہا کہ “بہت اثر پڑا ہے۔ انقلاب سے قبل ہم گھروں میں نمازیں پڑھا کرتے اور باہر جا کرسرعام شراب پیتے تھے،انقلاب کے بعد سے ہم باہر جا کرسرعام نمازیں پڑھتے ہیں اور شراب پینے کے لئے گھروں میں آ جاتے ہیں !”۔

    رہی واعظ کی شراب طہور ، اس کا تو اپنا جام ومینا بانگِ قلقل سے عاری و خالی ہے
    ؎
    واعظ نہ پی سکو نہ کسی کو پلا سکو ۔ کیا بات ہےتمہاری شرابِ طہور کی !۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *