بہادرشاہ ظفر محب وطن تھے، جدوجہد آزادی شروع کی تھی

لکھنؤ ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر دنیش شرما نے کہا کہ مغل شہنشاہ بابر اور اورنگ زیب کو ہمارے آبا و اجداد نہیں بلکہ لٹیرے تھے اور یہ الزام عائد کیا کہ وہ ہندوستانی اقدار کا احترام نہیں کیا کرتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی بورڈ کی تاریخ پر مبنی درسی کتابیں آزاد مورخین کے ایک پینل کی طرف سے دوبارہ لکھی جائیں گی۔

ڈپٹی چیف منسٹر دنیش شرما نے جن کے پاس وزارت ثانوی و اعلیٰ تعلیم کے قلمدان بھی ہیں، دعویٰ کیا کہ بابر اور اورنگ زیب نے عوام کو ہراساں اور مظالم کا ارتکاب کیا تھا لیکن بہادر شاہ ظفر ایک محب وطن تھے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کیلئے جدوجہد شروع کیا تھا اور یہی وجہ ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ مائنمار (سابق برما) کے موضع پر رنگون (یانگون) میں واقع بہادر شاہ ظفر کے مقبرہ پر حاضری دیتے ہوئے بطور خراج عقیدت پھول چڑھائے تھے۔

شرما نے لکھنؤ میں دہلی میں واقع ایک میڈیا ہاؤز کے ’’صفائی گری‘‘ ایوارڈ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ دنیش شرما نے مزید کہا کہ شہنشاہ اکبر کے مظالم ہندوستانی تاریخ کا حصہ نہیں بنائے جائیں گے لیکن بیربل کے ساتھ ان کے اچھے واقعات کتابوں میں شامل کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’تاحال یوروپی، ترکی، منگولیائی، چینی اور کمیونسٹ مؤرخین نے ہندوستانی تاریخ لکھی ہے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ تاریخ دوبارہ رقم کرنے کیلئے ہندوستانی مؤرخین کا ایک پینل تشکیل دیا جائے گا‘‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وتیغ بہادر سنگھ، مہارانا پرتاپ سنگھ، گرو گوونند سنگھ اور شیواجی کو درسی کتابوں میں ڈاکوؤں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ان سب چیزوں کو تبدیل کیا جائے گا۔ دنیش شرما نے جونپور میں اپنے خانگی دورہ کے موقع پر کہا کہ ’’ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور دیویوں کی پوجا کے علاوہ میں مزاروں، گردواروں اور گرجاگھر کو بھی جایا کرتا ہوں‘‘۔

ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ’’ایک ایسا کلچر جس میں ایک بیٹا تخت و تاج کیلئے اپنے باپ کا قتل کرتا ہے اور تاج محل کے معمار کے ہاتھ قلم کئے جاتے ہیں یہ ہمارا کلچر نہیں ہوسکتا۔ ہمارا کلچر فنکاروں اور سائنسدانوں کا احترام کرتا ہے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو کامیاب نیوکلیئر تجربہ کا کریڈٹ دیا گیا اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں‘‘۔

روزنامہ سیاست، حیدرآباد انڈیا

2 Comments

  1. یہ حب الوطنی کا تصور کہاں سے آگیا۔
    ملک قوم اور حب الوطنی عہد جدید کے تصورات ہیں۔ بہادر شاہ ظفر تو تردید کرتا رہا کہ اس کا بغاوت کرنے والے شر پسندوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    ویسے اسے تحریک آزادی بھی بیسویں صدی کے اوائل میں اس وقت قرار دیا گیا تھا جب قوم پرستی کی تحریک نے زور پکڑا تھا اس سے پہلے تو اسے غدر کہا جاتا تھا۔ اسی طرح شیوا جی کو کوئی پوچھتا نہیں تھالیکن ہندو قوم پرستی کی بدولت اس کو آسمان پر چڑھا دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *