سنہ 1857ء کا مجبور “قائد اعظم “اورمجبور نمک حرام

طارق احمدمرزا

ہم دیسی لوگ بھی عجیب ہیں۔ماضی کے گڑے مردے اکھاڑنا اور اس کی خاطر اپنے حال ، مستقبل اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو زندہ زمین میں گاڑناہمیں تسکین دیتا ہے۔حال ہی میں نریندرمودی کی میانمار یاترا اور آخری مغل تاجداربہادر شاہ ظفرؔ کے مزار پر ان کی حاضری نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑدی ہے کہ ہندوستان میں اٹھارہ سو ستاون میں رونما ہونے والی ہنگامہ آرائی کوغدر کہا جائے یا جنگ آزادی؟۔ان کا آغاز کرنے والے نمک حرام تھے یا مجاہدین آزادی؟۔

بہادر شاہ ظفراس جنگ آزادی کا ایک محب الوطن ہیرو تھا یا بلوائیوں کا سرغنہ اور کمپنی بہادر کا نمک حرام؟۔انگریزوں کے حکم پر بغاوت فرو کرنے میں حصہ لینے والے دیسی فوجی ابن الوقت اور سرزمین ہندوستان کے باغی اور نمک حرام تھے یا ہنگامہ آرائی کا آغاز کر کے شاہ دہلی کے تمام ممکنہ ولی عہدلڑکوں کے سر تن سے جدا کروانے والے ،بہادر شاہ ظفر کو جلاوطن اور ہندوستان کو تاج برطانیہ کی براہ راست غلامی میں لے آنے والے نام نہاد حریت پسند اس سرزمین کے غدار اور نمک حرام تھے؟۔وغیرہ وغیرہ۔ 

ابوظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر سابق شاہِ دہلیکے خلاف بعد ازگرفتاری غداری کا مقدمہ چلا یا گیا تھاجس کے پہلے روز مؤرخہ 27جنوری 1858 ء کو ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انہیں اس عدالت کے پریذیڈنٹ اور ممبران جیوری میں سے کسی پراعتراض تو نہیں تو انہوں نے جواباً کہا کہ نہیں اس عدالت کے کسی ممبر پر انہیں کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں جس کے بعد استغاثہ کی طرف سے ان پر عائد کردہ جوفردجرم پڑھ کر سنائی گئی اس کی فردقرارداد سوم مندرجہ ذیل تھی:۔

یہ کہ سلطنت برطانیہ کی رعایا ہونے کے باوجود انہوں نے خود گورنمنٹ کی وفاداری نہیں کی جو کہ ان کا فرض تھا،اور دہلی میں 11مئی 1857ء یا اس کے قریب قریب اپنے تئیں بادشاہ ہند مشہور کیا اور شہر دہلی پر ناجائز طور سے قبضہ کر لیا اور10 مئی تا یکم اکتوبر1857ء کے درمیان مرزامغل ،اپنے فرزند،محافظ بخت خاں صوبہ دار توپخانہ سے سازش کی اور علم بغاوت بلند کیا۔

،برطانیہ عظمیٰ کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ ہوئے گورنمنٹ برطانیہ کا تختہ الٹ دینے کی غرض سے ہتھیار بند سپاہیوں کو مغویانہ دہلی میں جمع کرکے متذکرہ سلطنت کے خلاف لڑنے کے لئے آمادہ کیا‘‘۔چار قراردادوں پر مشتمل فرد جرم سنائے جانے کے بعدڈپٹی جج ایڈووکیٹ جنرل و وکیل سرکارکے اس سوال پر کہ’’ بموجب بیان مذکورہ آیا آپ مجرم ہیں یا نہیں؟‘‘ بہادر شاہ ظفر نے جواب دیا کہ میں مجرم نہیں ہوں۔

مقدمہ کے اکیسویں روزمؤرخہ 9 مارچ1858ء کودیوان خاص قلعہ دہلی میں لگنے والی اس عدالت کے سامنے ملزم بہادر شاہ ظفر کا تفصیلی تحریری حلفیہ بیان پڑھ کر سنایا گیاجس میں انہوں نے انقلابیوں کو واضح الفاظ میں باغی،نمک حراماورمفسد بلوائیقرار دیا۔چنانچہ آپ نے غدر کے پہلے دن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتا یا کہ کس طرح یہ باغی سپاہ قلعہ میں داخل ہو کر دیوان خاص میں گھس آئی،عبادت خانے میں بھی ہرطرف پھیل گئی اور مجھے چاروں طرف سے گھیر کر پہرہ لگا دیا ۔میں نے ان کا مطلب دریافت کیا اور چلے جانے کے لئے کہا جس کے جواب میں انہوں نے خاموش کھڑے رہنے کو کہا اور کہا کہ جب انہوں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے تو اب اپنی طاقت کے موافق سب کچھ کر کے چھوڑیں گے۔خوف کھا کر کہ میں کہیں قتل نہ کردیا جاؤں،میں نے اُف تک نہ کی اور چپ چاپ اپنے کمرہ میں چلا گیا ۔

بہادر شاہ ظفر نے بتایا کہ بعدمیں کس طرح باغی سپاہ مرزا مغل کی سرکردگی میں انہیں ڈرا دھمکا کر ان سے شاہی فرامین لکھواتے رہے یا خود ہی احکامات لکھ کر ان سے زبردستی شاہی مہر ثبت کرواتے تھے۔ان باغیوں کی طرف سے ملکہ زینت محل اور ان کے وفادار ملازموں پر غداری اور انگریزوں کے حمایتی بن کر باغیوں کے خلاف سازش کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا اور کہتے تھے کہ ا گر ایسا ثابت ہوا تو ہم ان کو مار ڈالیں گے۔ بہادر شاہ نے یہ بھی بتا یاکہ کس طرح باغی محلوں کے اندر اور شہر میں لوٹ کھسوٹ کرتے رہے۔آپ نے کہا کہ جو کچھ گزرا ہے وہ سب مفسدہ پرداز فوج کا کیا دھرا ہے،میں ان کے قابو میں تھا۔۔میں لاچار تھا اور دہشت زدہ جو انہوں نے کہا میں نے کیا،ورنہ انہوں نے مجھے کبھی کا قتل کر ڈالا ہوتا۔

مزید کہا کہ باغیوں نے کبھی مجھے سلام تک نہیں کیا۔نہ میرا کسی قسم کا ادب یا لحاظ کیا۔میں ان فوجوں پر کیا اعتبار کرتا جنہوں نے اپنے ذاتی آقاؤں کو قتل کردیا ہو۔جس طرح انہوں نے ان کو قتل کیامجھے بھی مقید کرلیا،مجھ پرجور کئے،مجھے حکم میں رکھا اور میرے نام سے فائدہ اٹھایاتا کہ میرے نام سے ان کے افعال مقبول ہوں۔

بہادر شاہ ظفر نے کئی صفحات پر مشتمل اس تفصیلی عدالتی بیان میں بتا یا کہ بالآخر جب حکومت کے وفا دارفوجیوں نے بغاوت پر قابو پا لیا اور جب یہ (باغی) فوجیں فرار ہونے پر آمادہ ہوئیں تو میں چپ چاپ قلعہ کے پھاٹک سے نکلا اور مقبرہ ہمایوں میں جا کر ٹھہرگیا۔اس جگہ سے میں ضمانتاً طلب کیا گیا کہ میری جان محفوظ رہے گی اور میں نے فوراً اپنے آپ کو لیفٹیننٹ گورنر کی حفاظت میں دے دیا۔باغی فوجیں مجھے اپنے ہمراہ لے جانا چاہتی تھیں مگر میں نہ گیا۔

آخر پہ لکھا کہ مذکورہ بالا جواب میرا خود تحریر کیا ہوا ہے اور بلا مبالغہ ہے،حق سے اصلاً انحراف نہیں کیا ہے،خدا میرا عالم وشاہد ہے کہ جو کچھ بالکل صحیح تھا اور جو کچھ مجھے یلو تھا وہ میں نے لکھا ہے۔(دستخط بہادر شاہ )۔

برصغیر کے مشہور سجادہ نشین خواجہ حسن نظامی دہلوی نے اس پرآشوب زمانہ کے تمام حالات اور بہادر شاہ ظفر پر چلائے جانے والے مقدمہ کی تفصیل اپنی کتاب ’’مقدمہ بہادر شاہ‘‘ میں درج کئے تھے،مندرجہ بالا اقتباسات اسی کتاب کے ایڈیشن دوم (مطبوعہ ستمبر1923شائع کردہ کارکن حلقۂ مشائخ بکڈپودہلی )سے منقول ہیں۔افسوس کہ عدالت نے بہادر شاہ کے بیان کے مطابق ان کا بے قصور ہوناتسلیم نہ کیا اور انہیں حکومت وقت کا باغی مجرم قرار دے کرانہیں ہر قسم کی مراعات سے محروم کرکے ملک بدر کر دینے کی سزا سنا دی۔

بہادر شاہ کے حلفیہ بیان اور اس مقدمہ کی روداد اوراس کے فیصلہ کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہادر شاہ ظفرکی نظر میں انقلابی فوجی باغی اور نمک حرام تھے،جبکہ باغی فوجیوں کو شک تھا کہ بہادر شاہ ،ملکہ زینت محل اور ان کے خاص مصاحبین درپردہ ان کے برپا کردہ انقلاب کے باغی اور نمک حرام تھے اور انگریزوں کے نزدیک بہادرشاہ ظفر اور باغی سپاہ دونوں ہی حکومت وقت کے باغی اور نمک حرام تھے۔

لیکن نمک حراموں کی اس فہرست میں ایسے نمک حراموں کا ذکر شامل نہیں جو اس تمام مدت میں قلعہ کے اندر موجود رہے باغیوں کے بھی رازدار اور تابعدار رہے اور شاہ کے بھی واقف حال اور وفادارلیکن جب باغی پسپا ہو گئے اور شاہ گرفتار تو انگریز کی عدالت میں بہادر شاہ کے خلاف گواہی دی کہ انہوں نے تو غدر کے روزاول سے ہی دربار لگانا شروع کر دیا تھا۔

میرے خیال میں نمک حراموں کی یہ قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے۔اس قسم کے نمک حرام موجودہ پاکستان کے ہر صوبے کی ہر قوم میں پل رہے ہیں،جو سب کے نمک حرام ہیں اور کسی کے سگے نہیں۔لیکن شاید میری یہ سوچ غلط ہو۔کسی کی مجبوری کو نمک حرامی قرار دینا بھی تو درست نہیں۔انگریز مجبور تھا،باغی مجبور،حکومت کے حامی فوجی مجبور،بہادر شاہ بھی مجبور اور سرکاری گواہ بھی مجبور ۔آپ کا کیا خیال ہے؟۔

خواجہ حسن نظامی صاحب نے1920 میں لکھی اپنی اس کتاب کے چھٹے ایڈیشن (مطبوعہ 1947ء) میں اپنے ہی اس بیان (اورحقیقت )کو کہ بہادر شاہ ظفر کو کیا ہندو اور کیامسلمان دونوں دل ہی دل میں ہندوستان کا اصل اور جائز حکمران سمجھتے تھے، اوریہ کہ غدر میں بے مثال ہندومسلم اتحاد قائم ہوگیاتھا، رد کرتے ہوئے بہادر شاہ ظفر کو 1857 کی پرانی مسلم لیگ کا قائد اعظم قرار دے دیا تھا۔شاید1920ء میں ان کی مجبوری کچھ اور تھی اور1947 میں کچھ اور!۔

7 Comments

  1. امیرنواز says:

    اس مضمون کی بنیاد خواجہ حسن نظامی کی کتاب ہے۔ خواجہ حسن نظامی کوئی تاریخ دان نہیں تھے بلکہ اپنے وقت کے نسیم حجازی تھے جو اپنی تحریروں میں معروضیت کی بجائے جذباتیت اور مبالغہ آمیزی بہت کرتے تھے۔۔۔۔ کوئی بھی تاریخ دان ان کی لکھی تحریر پر اعتبار نہیں کرتا۔۔۔۔۔ مگر آپ نے پورا مضمون باندھ دیا ہے اور نیا زمانہ نے شائع بھی کر دیا ہے۔۔۔۔۔

    • تاریخ دان؟۔کون ہے تاریخ دان ؟۔ مضمون میں اگر کوئی بات تاریخی حقائق کے خلاف درج ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی فرمائیں۔ جناب نے صرف خواجہ حسن نظامی کے بارہ میں اپنے ذہن میں بٹھائے تصور کا اظہارہی کیا ہے ۔
      اگرخواجہ صاحب کا اعتبار نہیں تو پھر
      The Last Mughal: The Fall of a Dynasty, Delhi 1857
      by William Dalrymple
      پڑھ لیں۔مگر انہیں آپ شیکپئر قرار دے دیں تو اس کا کیا علاج۔

  2. “انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں”

  3. امیرنواز says:

    کاشغری صاحب
    مصنف کو تو غصہ نہیں آیا آپ کوغصہ آگیا ہے۔۔۔۔
    میں نے تو خواجہ حسن نظامی کی کتاب پر تنقید کی ہے انگریزی کتاب کا تو آپ نے حوالا ہی نہیں دیا تھا۔

  4. طارق مرزا says:

    اصل میں خواجہ حسن نظامی صاحب کی محولہ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔شروع میں آپ نے مقدمہ کی کارروائی کی انگریزی میں دستیاب سرکاری دستاویزات ،خطوط وغیرہ کا اردو ترجمہ لکھا ہے اور پھر اس کے بعد اپنا نکتہ نظراور تجزیہ الگ سے بیان کیا ہے۔ ترجمہ شدہ حصۃ میں جہاں ان سے رہا نہیں جا سکا تھا انہوں نے بریکٹ وغیرہ ڈال کر لکھا کہ میرے نزدیک اس کی وجہ فلاں فلاں تھی۔ میں نے ان کی کتاب سے استفادہ کرتے وقت یہ دونوں پہلومدنظر رکھے تھے۔
    ۔William Dalrymple نے بھی خواجہ حسن نظامی کے کرانیکلز سے استفادہ کیا ہے۔ اس لئے خواجہ صاحب اتنے”نسیم حجازی” بھی نہیں۔حسن نظامی اپنے جذبات کا اظہار کھل کرکرتے تھے اور اسی لئے “مصور فطرت” کہلاتے تھے۔لیکن جہاں تک مجھے علم ہے وہ من گھڑت قصوں کو تاریخ بنا کر یش نہیں کرتے تھے۔
    مضمون لکھنے کا اصل محرک یہ سوال تھا کہ کیا بہادر شاہ ظفر خود بھی اپنے آپ کو اس مبینہ “تحریک آزادی ” کا سربراہ سمجھتے تھے یا نہیں؟َ۔گودلوں کے حال تو ہم نہیں جانتے۔عدالت نے بہادرشاہ ظفر کا حلفیہ بیان مسترد کر دیا تھا ،انہیں “جنگ آزادی” کاہیرو قرار دینے والے بھی عملاً ان کے حلفیہ بیان کومسترد کرتے نظر آتے ہیں۔میرے نزدیک ان کا حلفیہ بیان قابل قدراور قابل قبول ہے۔کوئی یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے یہ “جھوٹا” بیان بوجہ مجبوری عدالت میں جمع کروایا تھا۔(ایک اور مجبوری !)۔بہرحال خیال اپنا اپنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *