دہشت گردوں تک ہتھیار کیسے پہنچتے ہیں؟

دنیا بھر میں فروخت ہونے والی جرمن بندوقیں آخر کار جاتی کہاں ہیں؟ جرمن حکومت اب یہ جاننا چاہتی ہے کہ ان کے فروخت کردہ ہتھیار دہشت گرد گروپوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ لیکن کیا جرمن حکومت کا یہ منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟

جرمن حکومت نے ابتدائی طور پر ایک ایسے دو سالہ منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ جرمن ہتھیار اسی ملک میں ہی رہتے ہیں، جسے یہ فروخت کیے جاتے ہیں یا پھر یہ کہیں دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔

جرمنی میں اقتصادی امور اور ایکسپورٹ کنٹرول کے وفاقی دفتر (بی اے ایف اے) کے صدر آندریاس اوبر شٹیلر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہتھیار خریدنے والے ممالک سے جرمن ہتھیاروں کے بارے میں پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے خاص طور پر نیٹو اور یورپی یونین سے باہر کے ممالک یعنی ترقی پذیر ممالک سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔

جرمنی نے ہینڈگنز اور رائفلوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ آندریاس اوبر شٹیلر کا کہنا تھا، ’’ہم یہ معلوم کر رہے ہیں کہ آیا یہ ہتھیار انہی ممالک کے پاس ہیں، جن کو فروخت کیے گئے تھے۔‘‘۔

ڈی ڈبلیو کی ایک ای میل کا جواب دیتے ہوئے ’بی اے ایف اے‘ نے بتایا ہے کہ فی الحال بھارت کو فروخت کی گئیں 30 اسنائپر رائفلوں کا پتا چلا ہے اور یہ وہاں ہی ہیں، جہاں انہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس دفتر کا کہنا تھا کہ فی الحال بہت سے ممالک کے ساتھ ان کی خط و کتابت چل رہی ہے۔

اس دو سالہ منصوبے کا آغاز 2016 میں کیا گیا تھا۔ اس برس جرمنی نے ریکارڈ آٹھ عشاریہ بائیس ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے، جس کے بعد اس وقت کے وزیر اقتصادیات اور موجودہ وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے کہا تھا کہ جرمن ہتھیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جانا ضروری ہے۔

ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر نظر رکھنے والے سویڈن کے ادارے سپری کے مطابق جرمنی دنیا میں ہتھیار فروخت کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔

رائفلیں دنیا بھر میں جاری تنازعات میں اہم تصور کی جاتی ہیں اور گزشتہ ساٹھ برسوں میں جرمنی کی بنی ہوئی بندوقیں متعدد ملیشیا اور دہشت گرد گروپوں کے پاس سے بھی ملی ہیں۔ ریڈ آرمی فریکشن سے لے کر داعش اور بوکو حرام تک کے جنگجو جرمن رائفلیں استعمال کرتے رہے ہیں۔

جرمنی میں بائیں بازو کے سیاستدان ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ صرف مخصوص ممالک کو ہتھیار فروخت کیے جائیں اور اگر کوئی ملک ان کا ٹریکنگ ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے تو جرمانے کے طور پر اسے مزید ہتھیاروں کی فروخت بند کر دی جائے۔

اسرائیل اور امریکا کی طرح جرمنی بھی ہتھیاروں کو ٹریک اور کنٹرول کرنے کا معاہدہ کم ہی کرتا ہے۔ اسرائیل اور امریکا تو اس حوالے سے دوسرے ممالک میں اپنے وفود بھیجنے اور فروخت کردہ ہتھیاروں سے متعلق چھان بین کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن جرمنی ایسا نہیں کر سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جرمنی ہتھیاروں کی فروخت سے پہلے ایسی سخت شرائط رکھتا ہے تو بہت سے معاہدے ناکام ہو جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ترکی نے ایم پی فائیو مشین گنیں مشرق وسطیٰ اور انڈونیشیا کو فروخت کی تھیں اور یہ جرمنی کی بنی ہوئی تھیں۔

اسی طرح ستر کی دہائی میں ایک جرمن کمپنی ہیکلر اینڈ کوخ نے سعودی عرب کو جی تھری بندوقیں فروخت کی تھیں اور پھر یہ صومالیہ کی خانہ جنگی میں استعمال ہوئیں۔ افغانستان میں طالبان کے پاس بھی جرمن ہتھیار موجود ہیں۔ مبینہ طور پر یہ ہتھیار طالبان نے حکومتی فورسز سے حاصل کیے ہیں۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *